ghazalKuch Alfaaz

بھولے بن کر حال لگ پوچھو بہتے ہیں خوشی تو بہنے دو ج سے سے بڑھے بےچینی دل کی ایسی تسلی رہنے دو ر سے ہے وہ ہے وہ ہے وہ ا سے اندھیر ن گر کی نئی نہیں یہ پرانی ہیں مہر پہ ڈالو رات کا پردہ تنخواہ کو روشن رہنے دو روح نکل کر باغ ج ہاں سے باغ جناں ہے وہ ہے وہ جا پہنچے چہرے پہ اپنے مری نگاہیں اتنی دیر تو رہنے دو خندہ گل بلبل ہے وہ ہے وہ ہوگا گل ہے وہ ہے وہ نغمہ بلبل کا قصہ ایک زبانیں دو ہیں آپ کہو یا کہنے دو اتنا جنون شوق دیا کیوں خوف جو تھا رسوائی کا بات کروں خود قابل شکوا الٹے مجھ کو رہنے دو

Related Ghazal

خاموش لب ہیں جھکی ہیں پلکیں دلوں ہے وہ ہے وہ الفت نئی نئی ہے ابھی تکلف ہے گفتگو ہے وہ ہے وہ ابھی محبت نئی نئی ہے ابھی لگ آئیںگی نیند جاناں کو ابھی لگ ہم کو سکون ملےگا ابھی تو دھڑکے گا دل زیادہ ابھی محبت نئی نئی ہے بہار کا آج پہلا دن ہے چلو چمن ہے وہ ہے وہ ٹہل کے آئیں فضا ہے وہ ہے وہ خوشبو نئی نئی ہے گلوں ہے وہ ہے وہ رنگت نئی نئی ہے جو خاندانی رئی سے ہیں حقیقت مزاج رکھتے ہیں نرم اپنا تمہارا لہجہ بتا رہا ہے تمہاری دولت نئی نئی ہے ذرا سا قدرت نے کیا نوازا کے آکے بیٹھے ہوں پہلی صف ہے وہ ہے وہ ہے وہ ابھی کیوں اڑنے لگے ہوا ہے وہ ہے وہ ابھی تو شہرت نئی نئی ہے بموں کی برسات ہوں رہی ہے پرانی جانباز سو رہے ہیں غلام دنیا کو کر رہا ہے حقیقت ج سے کی طاقت نئی نئی ہے

Shabeena Adeeb

232 likes

अब के हम बिछड़े तो शायद कभी ख़्वाबों में मिलें जिस तरह सूखे हुए फूल किताबों में मिलें ढूँढ़ उजड़े हुए लोगों में वफ़ा के मोती ये ख़ज़ाने तुझे मुमकिन है ख़राबों में मिलें ग़म-ए-दुनिया भी ग़म-ए-यार में शामिल कर लो नशा बढ़ता है शराबें जो शराबों में मिलें तू ख़ुदा है न मिरा इश्क़ फ़रिश्तों जैसा दोनों इंसाँ हैं तो क्यूँँ इतने हिजाबों में मिलें आज हम दार पे खींचे गए जिन बातों पर क्या अजब कल वो ज़माने को निसाबों में मिलें अब न वो मैं न वो तू है न वो माज़ी है 'फ़राज़' जैसे दो शख़्स तमन्ना के सराबों में मिलें

Ahmad Faraz

130 likes

کیا بادلوں ہے وہ ہے وہ سفر زندگی بھر ز ہے وہ ہے وہ ہے وہ پر بنایا لگ گھر زندگی بھر سبھی زندگی کے مزے لوٹتے ہیں لگ آیا ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ یہ ہنر زندگی بھر محبت رہی چار دن زندگی ہے وہ ہے وہ ہے وہ رہا چار دن کا اثر زندگی بھر

Anwar Shaoor

95 likes

اسی جگہ پر ج ہاں کئی راستے ملیںگے پلٹ کے آئی تو سب سے پہلے تجھے ملیںگے ا گر کبھی تری نام پر جنگ ہوں گئی تو ہم ایسے بزدل بھی پہلی صف ہے وہ ہے وہ کھڑے ملیںگے تجھے یہ سڑکیں مری توسط سے جانتی ہیں تجھے ہمیشہ یہ سب اشارے کھلے ملیںگے

Tehzeeb Hafi

465 likes

یہی اپنی کہانی تھی میاں پہلے بے حد پہلے حقیقت لڑکی جاں ہماری تھی میاں پہلے بے حد پہلے وہم مجھ کو یہ بھاتا ہے,अभी مری دیوانی ہے م گر مری دیوانی تھی میاں پہلے بے حد پہلے رقیب آ کر بتاتے ہیں ی ہاں تل ہے و ہاں تل ہے ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ یہ جانکاری تھی میاں پہلے بے حد پہلے ادب سے مانگ کر مافی بھری محفل یہ کہتا ہوں حقیقت لڑکی خاندانی تھی میاں پہلے بے حد پہلے

Anand Raj Singh

526 likes

More from Arzoo Lakhnavi

دل دے رہا تھا جو اسے بے دل بنا دیا آسان کام آپ نے مشکل بنا دیا ہر سان سے ایک شعلہ ہے ہر شعلہ ایک برق کیا تو نے مجھ کو اے تپش دل بنا دیا ا سے حسن زن پہ ہم سفروں کے ہوں پا ب گل مجھ بے خبر کو رہبر منزل بنا دیا اندھا ہے شوق پھروں نظر امکان پر ہوں کیوں کام اپنا دل نے آپ ہی مشکل بنا دیا دوڑا لہو رگوں ہے وہ ہے وہ بندھی زندگی کی آ سے یہ بھی برا نہیں ہے جو بسم اللہ بنا دیا غرق و عبور دونوں کا حاصل ہے ختم کار مجبوریوں نے موج کو ساحل بنا دیا ا سے شان عاجزی کے فدا ج سے نے آرزو ہر ناز ہر غرور کے قابل بنا دیا

Arzoo Lakhnavi

2 likes

معصوم نظر کا بھولا پن للچا کے لبھانا کیا جانے دل آپ نشا لگ بنتا ہے حقیقت تیر چلانا کیا جانے کہ جاتی ہے کیا حقیقت چین جبیں یہ آج سمجھ سکتے ہیں کہی کچھ سیکھا ہوا تو کام نہیں دل ناز اٹھانا کیا جانے چٹکی جو کلی کوئل کوکی الفت کی کہانی ختم ہوئی کیا ک سے نے کہی کیا ک سے نے سنی یہ بتا زما لگ کیا جانے تھا صاحب فن ہے وہ ہے وہ کیا رکھا ج سے سمت گیا تو ٹکرا کے پھرا ک سے پردے کے پیچھے ہے شعلہ اندھا پروا لگ کیا جانے یہ زورا زوری عشق کی تھی فطرت ہی ج سے نے بدل ڈالی جلتا ہوا دل ہوں کر پانی آنسو بن جانا کیا جانے سجدوں سے پڑا پتھر ہے وہ ہے وہ گھڑا لیکن لگ مٹا ماتھے کا لکھا کرنے کو غریب نے کیا لگ کیا تقدیر بنانا کیا جانے آنکھوں کی اندھی خود غرضی کاہے کو سمجھنے دےگی کبھی جو نیند ق سے ہے وہ ہے وہ ہے وہ دے راتوں کی حقیقت خواب ہے وہ ہے وہ آنا کیا جانے پتھر کی لکیر ہے نقش وفا آئی لگ لگ جانو تلووں کا لہریا کرے رنگیں شعلہ دل پلٹے خا لگ کیا جانے ج سے نالے سے دنیا بیکل ہے حقیقت جلتے دل کی مشعل ہے جو پہلا لوکا خود لگ سہے حقیقت آگ ل

Arzoo Lakhnavi

0 likes

آرام کے تھے ساتھی کیا کیا جب سمے پڑا تو کوئی نہیں سب دوست ہیں اپنے زار کے دنیا ہے وہ ہے وہ کسی کا کوئی نہیں گل گشت ہے وہ ہے وہ دامن منا پہ لگ لو نرگ سے سے حیا کیا ہے جاناں کو ا سے آنکھ سے پردہ کرتے ہوں ج سے آنکھ ہے وہ ہے وہ پردہ کوئی نہیں جو باغ تھا کل پھولوں سے بھرا اٹھکیلیوں سے چلتی تھی صبا اب سنبول و گل کا ذکر تو کیا خاک اڑتی ہے ا سے جا کوئی نہیں کل جن کو اندھیرے سے تھا حذر رہتا تھا چراغاں سانحے نظر اک شمع جلا دے تربت پر پوچھوں داغ اب اتنا کوئی نہیں جب بند ہوئیں آنکھیں تو کھلا دو روز کا تھا سارا جھگڑا تخت ا سے کا لگ اب ہے تاج ا سے کا اسکندر و دارا کوئی نہیں قتال ج ہاں معشوق جو تھے سونے پڑے ہیں مرقد ان کے یا مرنے والے لاکھوں تھے یا رونے والا کوئی نہیں اے آرزو اب تک اتنا پتا چلتا ہے تری بربا گرا کا ج سے سے لگ بگولے ہوں پیدا ا سے طرح کا صحرا کوئی نہیں

Arzoo Lakhnavi

2 likes

آج بے آپ ہوں گئے ہم بھی آپ کو پا کے کھو گئے ہم بھی دانے کم تھے دکھوں کی سمرن ہے وہ ہے وہ ہے وہ تھوڑے اندھیرا پیرو گئے ہم بھی دیر سے تھے حقیقت ج سے کے گھیرے ہے وہ ہے وہ ہے وہ اسی جھرمٹ ہے وہ ہے وہ کھو گئے ہم بھی جا کے ڈھونڈا ک ہاں ک ہاں لگ تمہیں جب لگ پایا تو کھو گئے ہم بھی نام جینے کا جاگنا رکھ کر آج بے نیند سو گئے ہم بھی روئیںگے گر تو جگ ہنسائی ہوں کرتے کیا چپ سے ہوں گئے ہم بھی ہاں یہ رے آرزو کی بے آسی آپ بے ب سے تھے رو گئے ہم بھی

Arzoo Lakhnavi

1 likes

जिन रातों में नींद उड़ जाती है क्या क़हर की रातें होती हैं दरवाज़ों से टकरा जाते हैं दीवारों से बातें होती हैं आशोब-ए-जुदाई क्या कहिए अन-होनी बातें होती हैं आँखों में अँधेरा छाता है जब उजाली रातें होती हैं जब वो नहीं होते पहलू में और लंबी रातें होती हैं याद आ के सताती रहती है और दिल से बातें होती हैं घिर घिर के बादल आते हैं और बे-बरसे खुल जाते हैं उम्मीदों की झूटी दुनिया में सूखी बरसातें होती हैं उम्मीद का सूरज डूबा है आँखों में अँधेरा छाया है दुनिया-ए-फ़िराक़ में दिन कैसा रातें ही रातें होती हैं तय करना हैं झगड़े जीने के जिस तरह बने कहते सुनते बहरों से भी पाला पड़ता है गूँगों से भी बातें होती हैं आँखों में कहाँ रस की बूँदें कुछ है तो लहू की लाली है इस बदली हुई रुत में अब तो ख़ूनीं बरसातें होती हैं क़िस्मत जागे तो हम सोएँ क़िस्मत सोए तो हम जागें दोनों ही को नींद आए जिस में कब ऐसी रातें होती हैं जो कान लगा कर सुनते हैं क्या जानें रुमूज़ मोहब्बत के अब होंट नहीं हिलने पाते और पहरों बातें होती हैं जो नाज़ है वो अपनाता है जो ग़म्ज़ा है वो लुभाता है इन रंग-बिरंगी पर्दों में घातों पर घातें होती हैं हँसने में जो आँसू आते हैं नैरंग-ए-जहाँ बतलाते हैं हर रोज़ जनाज़े जाते हैं हर रोज़ बरातें होती हैं जो कुछ भी ख़ुशी से होता है ये दिल का बोझ न बन जाए पैमान-ए-वफ़ा भी रहने दो सब झूटी बातें होती हैं जब तक है दिलों में सच्चाई सब नाज़-ओ-नियाज़ वहीं तक हैं जब ख़ुद-ग़र्ज़ी आ जाती है जुल होते हैं घातें होती हैं हिम्मत किस की है जो पूछे ये 'आरज़ू'-ए-सौदाई से क्यूँँ साहब आख़िर अकेले में ये किस से बातें होती हैं

Arzoo Lakhnavi

1 likes

Similar Writers

View All ›

Our suggestions based on Arzoo Lakhnavi.

Similar Moods

View All ›

More moods that pair well with Arzoo Lakhnavi's ghazal.