دل دے رہا تھا جو اسے بے دل بنا دیا آسان کام آپ نے مشکل بنا دیا ہر سان سے ایک شعلہ ہے ہر شعلہ ایک برق کیا تو نے مجھ کو اے تپش دل بنا دیا ا سے حسن زن پہ ہم سفروں کے ہوں پا ب گل مجھ بے خبر کو رہبر منزل بنا دیا اندھا ہے شوق پھروں نظر امکان پر ہوں کیوں کام اپنا دل نے آپ ہی مشکل بنا دیا دوڑا لہو رگوں ہے وہ ہے وہ بندھی زندگی کی آ سے یہ بھی برا نہیں ہے جو بسم اللہ بنا دیا غرق و عبور دونوں کا حاصل ہے ختم کار مجبوریوں نے موج کو ساحل بنا دیا ا سے شان عاجزی کے فدا ج سے نے آرزو ہر ناز ہر غرور کے قابل بنا دیا
Related Ghazal
اسی جگہ پر ج ہاں کئی راستے ملیںگے پلٹ کے آئی تو سب سے پہلے تجھے ملیںگے ا گر کبھی تری نام پر جنگ ہوں گئی تو ہم ایسے بزدل بھی پہلی صف ہے وہ ہے وہ کھڑے ملیںگے تجھے یہ سڑکیں مری توسط سے جانتی ہیں تجھے ہمیشہ یہ سب اشارے کھلے ملیںگے
Tehzeeb Hafi
465 likes
چاند ستارے تم پھول پرندے شام سویرہ ایک طرف ساری دنیا ا سے کا چربہ ا سے کا چہرہ ایک طرف حقیقت لڑکر بھی سو جائے تو ا سے کا ماتھا چوموں ہے وہ ہے وہ ہے وہ ا سے سے محبت ایک طرف ہے ا سے سے جھگڑا ایک طرف ج سے اجازت پر حقیقت انگلی رکھ دے اس کا کو حقیقت دلوانی ہے ا سے کی خوشیاں سب سے اول سستا مہنگا ایک طرف زخموں پر مرہم لگواو لیکن ا سے کے ہاتھوں سے چارسازی ایک طرف ہے ا سے کا چھونا ایک طرف ساری دنیا جو بھی بولے سب کچھ شور شرابا ہے سب کا کہنا ایک طرف ہے ا سے کا کہنا ایک طرف ا سے نے ساری دنیا مانگی ہے وہ ہے وہ نے اس کا کو مانگا ہے ا سے کے سپنے ایک طرف ہے میرا سپنا ایک طرف
Varun Anand
406 likes
یہ غم کیا دل کی عادت ہے نہیں تو کسی سے کچھ شکایت ہے نہیں تو ہے حقیقت اک خواب بے تعبیر ا سے کو بھلا دینے کی نیت ہے نہیں تو کسی کے بن کسی کی یاد کے بن جیے جانے کی ہمت ہے نہیں تو کسی صورت بھی دل لگتا نہیں ہاں تو کچھ دن سے یہ حالت ہے نہیں تو تری ا سے حال پر ہے سب کو حیرت تجھے بھی ا سے پہ حیرت ہے نہیں تو ہم آہنگی نہیں دنیا سے تیری تجھے ا سے پر ندامت ہے نہیں تو ہوا جو کچھ یہی مقسوم تھا کیا یہی ساری مقسوم ہے نہیں تو اذیت ناک اذیت ناک سے تجھ کو اماں پانے کی حسرت ہے نہیں تو تو رہتا ہے خیال و خواب ہے وہ ہے وہ گم تو ا سے کی وجہ فرصت ہے نہیں تو سبب جو ا سے جدائی کا بنا ہے حقیقت مجھ سے خوبصورت ہے نہیں تو
Jaun Elia
355 likes
چلا ہے سلسلہ کیسا یہ راتوں کو منانے کا تمہیں حق دے دیا ک سے نے دیوں کے دل دکھانے کا ارادہ چھوڑیے اپنی حدوں سے دور جانے کا زما لگ ہے زمانے کی نگا ہوں ہے وہ ہے وہ لگ آنے کا ک ہاں کی دوستی کن دوستوں کی بات کرتے ہوں میاں دشمن نہیں ملتا کوئی اب تو ٹھکانے کا نگا ہوں ہے وہ ہے وہ کوئی بھی دوسرا چہرہ نہیں آیا بھروسا ہی کچھ ایسا تھا تمہارے لوٹ آنے کا یہ ہے وہ ہے وہ ہی تھا بچا کے خود کو لے آیا کنارے تک سمندر نے بے حد موقع دیا تھا ڈوب جانے کا
Waseem Barelvi
103 likes
تیری مشکل لگ چھپاؤں گا چلا جاؤں گا خوشی آنکھوں ہے وہ ہے وہ آؤں گا چلا جاؤں گا اپنی دہلیز پہ کچھ دیر پڑا رہنے دے چنو ہی ہوش ہے وہ ہے وہ لگاؤں گا چلا جاؤں گا خواب لینے کوئی آئی کہ لگ آئی کوئی ہے وہ ہے وہ ہے وہ تو آواز رلاؤں گا چلا جاؤں گا چند یادیں مجھے بچوں کی طرح پیاری ہیں ان کو سینے سے لگاؤں گا چلا جاؤں گا مدتوں بعد ہے وہ ہے وہ آیا ہوں پرانی گھر ہے وہ ہے وہ ہے وہ خود کو جی بھر کے نیت شوق چلا جاؤں گا ا سے جزیرے ہے وہ ہے وہ زیادہ نہیں رہنا اب تو آجکل ناو بناؤں گا چلا جاؤں گا تہذیب کی طرح لوٹ کے آؤںگا حسن ہر طرف پھول کھلاؤں گا چلا جاؤں گا
Hasan Abbasi
235 likes
More from Arzoo Lakhnavi
بھولے بن کر حال لگ پوچھو بہتے ہیں خوشی تو بہنے دو ج سے سے بڑھے بےچینی دل کی ایسی تسلی رہنے دو ر سے ہے وہ ہے وہ ہے وہ ا سے اندھیر ن گر کی نئی نہیں یہ پرانی ہیں مہر پہ ڈالو رات کا پردہ تنخواہ کو روشن رہنے دو روح نکل کر باغ ج ہاں سے باغ جناں ہے وہ ہے وہ جا پہنچے چہرے پہ اپنے مری نگاہیں اتنی دیر تو رہنے دو خندہ گل بلبل ہے وہ ہے وہ ہوگا گل ہے وہ ہے وہ نغمہ بلبل کا قصہ ایک زبانیں دو ہیں آپ کہو یا کہنے دو اتنا جنون شوق دیا کیوں خوف جو تھا رسوائی کا بات کروں خود قابل شکوا الٹے مجھ کو رہنے دو
Arzoo Lakhnavi
0 likes
معصوم نظر کا بھولا پن للچا کے لبھانا کیا جانے دل آپ نشا لگ بنتا ہے حقیقت تیر چلانا کیا جانے کہ جاتی ہے کیا حقیقت چین جبیں یہ آج سمجھ سکتے ہیں کہی کچھ سیکھا ہوا تو کام نہیں دل ناز اٹھانا کیا جانے چٹکی جو کلی کوئل کوکی الفت کی کہانی ختم ہوئی کیا ک سے نے کہی کیا ک سے نے سنی یہ بتا زما لگ کیا جانے تھا صاحب فن ہے وہ ہے وہ کیا رکھا ج سے سمت گیا تو ٹکرا کے پھرا ک سے پردے کے پیچھے ہے شعلہ اندھا پروا لگ کیا جانے یہ زورا زوری عشق کی تھی فطرت ہی ج سے نے بدل ڈالی جلتا ہوا دل ہوں کر پانی آنسو بن جانا کیا جانے سجدوں سے پڑا پتھر ہے وہ ہے وہ گھڑا لیکن لگ مٹا ماتھے کا لکھا کرنے کو غریب نے کیا لگ کیا تقدیر بنانا کیا جانے آنکھوں کی اندھی خود غرضی کاہے کو سمجھنے دےگی کبھی جو نیند ق سے ہے وہ ہے وہ ہے وہ دے راتوں کی حقیقت خواب ہے وہ ہے وہ آنا کیا جانے پتھر کی لکیر ہے نقش وفا آئی لگ لگ جانو تلووں کا لہریا کرے رنگیں شعلہ دل پلٹے خا لگ کیا جانے ج سے نالے سے دنیا بیکل ہے حقیقت جلتے دل کی مشعل ہے جو پہلا لوکا خود لگ سہے حقیقت آگ ل
Arzoo Lakhnavi
0 likes
آرام کے تھے ساتھی کیا کیا جب سمے پڑا تو کوئی نہیں سب دوست ہیں اپنے زار کے دنیا ہے وہ ہے وہ کسی کا کوئی نہیں گل گشت ہے وہ ہے وہ دامن منا پہ لگ لو نرگ سے سے حیا کیا ہے جاناں کو ا سے آنکھ سے پردہ کرتے ہوں ج سے آنکھ ہے وہ ہے وہ پردہ کوئی نہیں جو باغ تھا کل پھولوں سے بھرا اٹھکیلیوں سے چلتی تھی صبا اب سنبول و گل کا ذکر تو کیا خاک اڑتی ہے ا سے جا کوئی نہیں کل جن کو اندھیرے سے تھا حذر رہتا تھا چراغاں سانحے نظر اک شمع جلا دے تربت پر پوچھوں داغ اب اتنا کوئی نہیں جب بند ہوئیں آنکھیں تو کھلا دو روز کا تھا سارا جھگڑا تخت ا سے کا لگ اب ہے تاج ا سے کا اسکندر و دارا کوئی نہیں قتال ج ہاں معشوق جو تھے سونے پڑے ہیں مرقد ان کے یا مرنے والے لاکھوں تھے یا رونے والا کوئی نہیں اے آرزو اب تک اتنا پتا چلتا ہے تری بربا گرا کا ج سے سے لگ بگولے ہوں پیدا ا سے طرح کا صحرا کوئی نہیں
Arzoo Lakhnavi
2 likes
जिन रातों में नींद उड़ जाती है क्या क़हर की रातें होती हैं दरवाज़ों से टकरा जाते हैं दीवारों से बातें होती हैं आशोब-ए-जुदाई क्या कहिए अन-होनी बातें होती हैं आँखों में अँधेरा छाता है जब उजाली रातें होती हैं जब वो नहीं होते पहलू में और लंबी रातें होती हैं याद आ के सताती रहती है और दिल से बातें होती हैं घिर घिर के बादल आते हैं और बे-बरसे खुल जाते हैं उम्मीदों की झूटी दुनिया में सूखी बरसातें होती हैं उम्मीद का सूरज डूबा है आँखों में अँधेरा छाया है दुनिया-ए-फ़िराक़ में दिन कैसा रातें ही रातें होती हैं तय करना हैं झगड़े जीने के जिस तरह बने कहते सुनते बहरों से भी पाला पड़ता है गूँगों से भी बातें होती हैं आँखों में कहाँ रस की बूँदें कुछ है तो लहू की लाली है इस बदली हुई रुत में अब तो ख़ूनीं बरसातें होती हैं क़िस्मत जागे तो हम सोएँ क़िस्मत सोए तो हम जागें दोनों ही को नींद आए जिस में कब ऐसी रातें होती हैं जो कान लगा कर सुनते हैं क्या जानें रुमूज़ मोहब्बत के अब होंट नहीं हिलने पाते और पहरों बातें होती हैं जो नाज़ है वो अपनाता है जो ग़म्ज़ा है वो लुभाता है इन रंग-बिरंगी पर्दों में घातों पर घातें होती हैं हँसने में जो आँसू आते हैं नैरंग-ए-जहाँ बतलाते हैं हर रोज़ जनाज़े जाते हैं हर रोज़ बरातें होती हैं जो कुछ भी ख़ुशी से होता है ये दिल का बोझ न बन जाए पैमान-ए-वफ़ा भी रहने दो सब झूटी बातें होती हैं जब तक है दिलों में सच्चाई सब नाज़-ओ-नियाज़ वहीं तक हैं जब ख़ुद-ग़र्ज़ी आ जाती है जुल होते हैं घातें होती हैं हिम्मत किस की है जो पूछे ये 'आरज़ू'-ए-सौदाई से क्यूँँ साहब आख़िर अकेले में ये किस से बातें होती हैं
Arzoo Lakhnavi
1 likes
آج بے آپ ہوں گئے ہم بھی آپ کو پا کے کھو گئے ہم بھی دانے کم تھے دکھوں کی سمرن ہے وہ ہے وہ ہے وہ تھوڑے اندھیرا پیرو گئے ہم بھی دیر سے تھے حقیقت ج سے کے گھیرے ہے وہ ہے وہ ہے وہ اسی جھرمٹ ہے وہ ہے وہ کھو گئے ہم بھی جا کے ڈھونڈا ک ہاں ک ہاں لگ تمہیں جب لگ پایا تو کھو گئے ہم بھی نام جینے کا جاگنا رکھ کر آج بے نیند سو گئے ہم بھی روئیںگے گر تو جگ ہنسائی ہوں کرتے کیا چپ سے ہوں گئے ہم بھی ہاں یہ رے آرزو کی بے آسی آپ بے ب سے تھے رو گئے ہم بھی
Arzoo Lakhnavi
1 likes
Similar Writers
Our suggestions based on Arzoo Lakhnavi.
Similar Moods
More moods that pair well with Arzoo Lakhnavi's ghazal.







