معصوم نظر کا بھولا پن للچا کے لبھانا کیا جانے دل آپ نشا لگ بنتا ہے حقیقت تیر چلانا کیا جانے کہ جاتی ہے کیا حقیقت چین جبیں یہ آج سمجھ سکتے ہیں کہی کچھ سیکھا ہوا تو کام نہیں دل ناز اٹھانا کیا جانے چٹکی جو کلی کوئل کوکی الفت کی کہانی ختم ہوئی کیا ک سے نے کہی کیا ک سے نے سنی یہ بتا زما لگ کیا جانے تھا صاحب فن ہے وہ ہے وہ کیا رکھا ج سے سمت گیا تو ٹکرا کے پھرا ک سے پردے کے پیچھے ہے شعلہ اندھا پروا لگ کیا جانے یہ زورا زوری عشق کی تھی فطرت ہی ج سے نے بدل ڈالی جلتا ہوا دل ہوں کر پانی آنسو بن جانا کیا جانے سجدوں سے پڑا پتھر ہے وہ ہے وہ گھڑا لیکن لگ مٹا ماتھے کا لکھا کرنے کو غریب نے کیا لگ کیا تقدیر بنانا کیا جانے آنکھوں کی اندھی خود غرضی کاہے کو سمجھنے دےگی کبھی جو نیند ق سے ہے وہ ہے وہ ہے وہ دے راتوں کی حقیقت خواب ہے وہ ہے وہ آنا کیا جانے پتھر کی لکیر ہے نقش وفا آئی لگ لگ جانو تلووں کا لہریا کرے رنگیں شعلہ دل پلٹے خا لگ کیا جانے ج سے نالے سے دنیا بیکل ہے حقیقت جلتے دل کی مشعل ہے جو پہلا لوکا خود لگ سہے حقیقت آگ ل
Related Ghazal
کیسے ا سے نے یہ سب کچھ مجھ سے چھپ کر بدلا چہرہ بدلا رستہ بدلا بعد ہے وہ ہے وہ گھر بدلا ہے وہ ہے وہ ہے وہ ا سے کے بارے ہے وہ ہے وہ یہ کہتا تھا لوگوں سے میرا نام بدل دینا حقیقت بے وجہ ا گر بدلا حقیقت بھی خوش تھا ا سے نے دل دے کر دل مانگا ہے ہے وہ ہے وہ ہے وہ بھی خوش ہوں ہے وہ ہے وہ نے پتھر سے پتھر بدلا ہے وہ ہے وہ ہے وہ نے کہا کیا مری خاطر خود کو بدلوگے اور پھروں ا سے نے نظریں بدلیں اور نمبر بدلا
Tehzeeb Hafi
435 likes
خاموش لب ہیں جھکی ہیں پلکیں دلوں ہے وہ ہے وہ الفت نئی نئی ہے ابھی تکلف ہے گفتگو ہے وہ ہے وہ ابھی محبت نئی نئی ہے ابھی لگ آئیںگی نیند جاناں کو ابھی لگ ہم کو سکون ملےگا ابھی تو دھڑکے گا دل زیادہ ابھی محبت نئی نئی ہے بہار کا آج پہلا دن ہے چلو چمن ہے وہ ہے وہ ٹہل کے آئیں فضا ہے وہ ہے وہ خوشبو نئی نئی ہے گلوں ہے وہ ہے وہ رنگت نئی نئی ہے جو خاندانی رئی سے ہیں حقیقت مزاج رکھتے ہیں نرم اپنا تمہارا لہجہ بتا رہا ہے تمہاری دولت نئی نئی ہے ذرا سا قدرت نے کیا نوازا کے آکے بیٹھے ہوں پہلی صف ہے وہ ہے وہ ہے وہ ابھی کیوں اڑنے لگے ہوا ہے وہ ہے وہ ابھی تو شہرت نئی نئی ہے بموں کی برسات ہوں رہی ہے پرانی جانباز سو رہے ہیں غلام دنیا کو کر رہا ہے حقیقت ج سے کی طاقت نئی نئی ہے
Shabeena Adeeb
232 likes
حقیقت بےوفا ہے تو کیا مت کہو برا اس کا کو کہ جو ہوا سو ہوا خوش رکھے خدا اس کا کو نظر لگ آئی تو ا سے کی تلاش ہے وہ ہے وہ رہنا کہی ملے تو پلٹ کر لگ دیکھنا اس کا کو حقیقت سادہ خوں تھا زمانے کے خم سمجھتا کیا ہوا کے ساتھ چلا لے اڑی ہوا اس کا کو حقیقت اپنے بارے ہے وہ ہے وہ کتنا ہے خوش گماں دیکھو جب اس کا کو ہے وہ ہے وہ بھی لگ دیکھوں تو دیکھنا اس کا کو
Naseer Turabi
244 likes
چل دیے پھیر کر نظر جاناں بھی غیر تو غیر تھے م گر جاناں بھی یہ گلی مری دلربا کی ہے دوستوں خیریت ادھر جاناں بھی مجھ پہ لوگوں کے ساتھ ہنستے ہوں لوگ روئیںگے خاص کر جاناں بھی مجھ کو ٹھکرا دیا ہے دنیا نے ہے وہ ہے وہ ہے وہ تو مر جاؤں گا ا گر جاناں بھی ا سے کی گاڑی تو جا چکی تابش اب اٹھو جاؤ اپنے گھر جاناں بھی
Zubair Ali Tabish
58 likes
अब के हम बिछड़े तो शायद कभी ख़्वाबों में मिलें जिस तरह सूखे हुए फूल किताबों में मिलें ढूँढ़ उजड़े हुए लोगों में वफ़ा के मोती ये ख़ज़ाने तुझे मुमकिन है ख़राबों में मिलें ग़म-ए-दुनिया भी ग़म-ए-यार में शामिल कर लो नशा बढ़ता है शराबें जो शराबों में मिलें तू ख़ुदा है न मिरा इश्क़ फ़रिश्तों जैसा दोनों इंसाँ हैं तो क्यूँँ इतने हिजाबों में मिलें आज हम दार पे खींचे गए जिन बातों पर क्या अजब कल वो ज़माने को निसाबों में मिलें अब न वो मैं न वो तू है न वो माज़ी है 'फ़राज़' जैसे दो शख़्स तमन्ना के सराबों में मिलें
Ahmad Faraz
130 likes
More from Arzoo Lakhnavi
بھولے بن کر حال لگ پوچھو بہتے ہیں خوشی تو بہنے دو ج سے سے بڑھے بےچینی دل کی ایسی تسلی رہنے دو ر سے ہے وہ ہے وہ ہے وہ ا سے اندھیر ن گر کی نئی نہیں یہ پرانی ہیں مہر پہ ڈالو رات کا پردہ تنخواہ کو روشن رہنے دو روح نکل کر باغ ج ہاں سے باغ جناں ہے وہ ہے وہ جا پہنچے چہرے پہ اپنے مری نگاہیں اتنی دیر تو رہنے دو خندہ گل بلبل ہے وہ ہے وہ ہوگا گل ہے وہ ہے وہ نغمہ بلبل کا قصہ ایک زبانیں دو ہیں آپ کہو یا کہنے دو اتنا جنون شوق دیا کیوں خوف جو تھا رسوائی کا بات کروں خود قابل شکوا الٹے مجھ کو رہنے دو
Arzoo Lakhnavi
0 likes
دل دے رہا تھا جو اسے بے دل بنا دیا آسان کام آپ نے مشکل بنا دیا ہر سان سے ایک شعلہ ہے ہر شعلہ ایک برق کیا تو نے مجھ کو اے تپش دل بنا دیا ا سے حسن زن پہ ہم سفروں کے ہوں پا ب گل مجھ بے خبر کو رہبر منزل بنا دیا اندھا ہے شوق پھروں نظر امکان پر ہوں کیوں کام اپنا دل نے آپ ہی مشکل بنا دیا دوڑا لہو رگوں ہے وہ ہے وہ بندھی زندگی کی آ سے یہ بھی برا نہیں ہے جو بسم اللہ بنا دیا غرق و عبور دونوں کا حاصل ہے ختم کار مجبوریوں نے موج کو ساحل بنا دیا ا سے شان عاجزی کے فدا ج سے نے آرزو ہر ناز ہر غرور کے قابل بنا دیا
Arzoo Lakhnavi
2 likes
آرام کے تھے ساتھی کیا کیا جب سمے پڑا تو کوئی نہیں سب دوست ہیں اپنے زار کے دنیا ہے وہ ہے وہ کسی کا کوئی نہیں گل گشت ہے وہ ہے وہ دامن منا پہ لگ لو نرگ سے سے حیا کیا ہے جاناں کو ا سے آنکھ سے پردہ کرتے ہوں ج سے آنکھ ہے وہ ہے وہ پردہ کوئی نہیں جو باغ تھا کل پھولوں سے بھرا اٹھکیلیوں سے چلتی تھی صبا اب سنبول و گل کا ذکر تو کیا خاک اڑتی ہے ا سے جا کوئی نہیں کل جن کو اندھیرے سے تھا حذر رہتا تھا چراغاں سانحے نظر اک شمع جلا دے تربت پر پوچھوں داغ اب اتنا کوئی نہیں جب بند ہوئیں آنکھیں تو کھلا دو روز کا تھا سارا جھگڑا تخت ا سے کا لگ اب ہے تاج ا سے کا اسکندر و دارا کوئی نہیں قتال ج ہاں معشوق جو تھے سونے پڑے ہیں مرقد ان کے یا مرنے والے لاکھوں تھے یا رونے والا کوئی نہیں اے آرزو اب تک اتنا پتا چلتا ہے تری بربا گرا کا ج سے سے لگ بگولے ہوں پیدا ا سے طرح کا صحرا کوئی نہیں
Arzoo Lakhnavi
2 likes
آج بے آپ ہوں گئے ہم بھی آپ کو پا کے کھو گئے ہم بھی دانے کم تھے دکھوں کی سمرن ہے وہ ہے وہ ہے وہ تھوڑے اندھیرا پیرو گئے ہم بھی دیر سے تھے حقیقت ج سے کے گھیرے ہے وہ ہے وہ ہے وہ اسی جھرمٹ ہے وہ ہے وہ کھو گئے ہم بھی جا کے ڈھونڈا ک ہاں ک ہاں لگ تمہیں جب لگ پایا تو کھو گئے ہم بھی نام جینے کا جاگنا رکھ کر آج بے نیند سو گئے ہم بھی روئیںگے گر تو جگ ہنسائی ہوں کرتے کیا چپ سے ہوں گئے ہم بھی ہاں یہ رے آرزو کی بے آسی آپ بے ب سے تھے رو گئے ہم بھی
Arzoo Lakhnavi
1 likes
آنے ہے وہ ہے وہ جھجھک ملنے ہے وہ ہے وہ حیا جاناں اور کہی ہم اور کہی اب عہد وفا ٹوٹا کہ رہا جاناں اور کہی ہم اور کہی بے آپ خوشی سے ایک ادھر کچھ کھویا ہوا سا ایک ادھر ظاہر ہے وہ ہے وہ بہم باطن ہے وہ ہے وہ جدا جاناں اور کہی ہم اور کہی آئی تو خوشامد سے آئی بیٹھے تو مروت سے بیٹھے ملنا ہی یہ کیا جب دل لگ ملا جاناں اور کہی ہم اور کہی وعدہ بھی کیا تو کی لگ وفا آتا ہے تمہیں چرکوں ہے وہ ہے وہ مزہ چھوڑو بھی یہ ضد لطف ا سے ہے وہ ہے وہ ہے کیا جاناں اور کہی ہم اور کہی برگشتہ نصیب کا یوں ہونا سونا بھی تو اک کروٹ سونا کب تک یہ جدائی کا رونا جاناں اور کہی ہم اور کہی دل ملنے پہ بھی پہلو لگ ملا دشمن تو بغل ہی ہے وہ ہے وہ ہے چھپا قاتل ہے محبت کی یہ حیا جاناں اور کہی ہم اور کہی یکسوئی دل مرغوب ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ بربا گرا دل مطلوب تمہیں ا سے ضد کا ہے اور انجام ہی کیا جاناں اور کہی ہم اور کہی دل سے ہے ا گر قائم رشتہ تو دور و قریب کی بحث ہی کیا ہے یہ بھی نگا ہوں کا دھوکہ جاناں اور کہی ہم اور کہی سن رکھو قبل عہد وفا قول آرزو شیدائ
Arzoo Lakhnavi
0 likes
Similar Writers
Our suggestions based on Arzoo Lakhnavi.
Similar Moods
More moods that pair well with Arzoo Lakhnavi's ghazal.







