آنے ہے وہ ہے وہ جھجھک ملنے ہے وہ ہے وہ حیا جاناں اور کہی ہم اور کہی اب عہد وفا ٹوٹا کہ رہا جاناں اور کہی ہم اور کہی بے آپ خوشی سے ایک ادھر کچھ کھویا ہوا سا ایک ادھر ظاہر ہے وہ ہے وہ بہم باطن ہے وہ ہے وہ جدا جاناں اور کہی ہم اور کہی آئی تو خوشامد سے آئی بیٹھے تو مروت سے بیٹھے ملنا ہی یہ کیا جب دل لگ ملا جاناں اور کہی ہم اور کہی وعدہ بھی کیا تو کی لگ وفا آتا ہے تمہیں چرکوں ہے وہ ہے وہ مزہ چھوڑو بھی یہ ضد لطف ا سے ہے وہ ہے وہ ہے کیا جاناں اور کہی ہم اور کہی برگشتہ نصیب کا یوں ہونا سونا بھی تو اک کروٹ سونا کب تک یہ جدائی کا رونا جاناں اور کہی ہم اور کہی دل ملنے پہ بھی پہلو لگ ملا دشمن تو بغل ہی ہے وہ ہے وہ ہے چھپا قاتل ہے محبت کی یہ حیا جاناں اور کہی ہم اور کہی یکسوئی دل مرغوب ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ بربا گرا دل مطلوب تمہیں ا سے ضد کا ہے اور انجام ہی کیا جاناں اور کہی ہم اور کہی دل سے ہے ا گر قائم رشتہ تو دور و قریب کی بحث ہی کیا ہے یہ بھی نگا ہوں کا دھوکہ جاناں اور کہی ہم اور کہی سن رکھو قبل عہد وفا قول آرزو شیدائ
Related Ghazal
کیوں ڈریں زندگی ہے وہ ہے وہ کیا ہوگا کچھ لگ ہوگا تو غضب ہوگا ہنستی آنکھوں ہے وہ ہے وہ جھانک کر دیکھو کوئی آنسو کہی چھپا ہوگا ان دنوں نا امید سا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ شاید ا سے نے بھی یہ سنا ہوگا دیکھ کر جاناں کو سوچتا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ کیا کسی نے تمہیں چھوا ہوگا
Javed Akhtar
371 likes
اسی جگہ پر ج ہاں کئی راستے ملیںگے پلٹ کے آئی تو سب سے پہلے تجھے ملیںگے ا گر کبھی تری نام پر جنگ ہوں گئی تو ہم ایسے بزدل بھی پہلی صف ہے وہ ہے وہ کھڑے ملیںگے تجھے یہ سڑکیں مری توسط سے جانتی ہیں تجھے ہمیشہ یہ سب اشارے کھلے ملیںگے
Tehzeeb Hafi
465 likes
تیری مشکل لگ چھپاؤں گا چلا جاؤں گا خوشی آنکھوں ہے وہ ہے وہ آؤں گا چلا جاؤں گا اپنی دہلیز پہ کچھ دیر پڑا رہنے دے چنو ہی ہوش ہے وہ ہے وہ لگاؤں گا چلا جاؤں گا خواب لینے کوئی آئی کہ لگ آئی کوئی ہے وہ ہے وہ ہے وہ تو آواز رلاؤں گا چلا جاؤں گا چند یادیں مجھے بچوں کی طرح پیاری ہیں ان کو سینے سے لگاؤں گا چلا جاؤں گا مدتوں بعد ہے وہ ہے وہ آیا ہوں پرانی گھر ہے وہ ہے وہ ہے وہ خود کو جی بھر کے نیت شوق چلا جاؤں گا ا سے جزیرے ہے وہ ہے وہ زیادہ نہیں رہنا اب تو آجکل ناو بناؤں گا چلا جاؤں گا تہذیب کی طرح لوٹ کے آؤںگا حسن ہر طرف پھول کھلاؤں گا چلا جاؤں گا
Hasan Abbasi
235 likes
مری ب سے ہے وہ ہے وہ نہیں ورنا قدرت کا لکھا ہوا کاٹتا تری حصے ہے وہ ہے وہ آئی برے دن کوئی دوسرا کاٹتا لاریوں سے زیادہ بہاؤ تھا تری ہر اک لفظ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ اشارہ نہیں کاٹ سکتا تیری بات کیا کاٹتا ہے وہ ہے وہ ہے وہ نے بھی زندگی اور شب اے ہجر کاٹی ہے سب کی طرح ویسے بہتر تو یہ تھا کے ہے وہ ہے وہ کم سے کم کچھ نیا کاٹتا تری ہوتے ہوئے موم بتی بجھائی کسی اور نے کیا خوشی رہ گئی تھی جنم دن کی ہے وہ ہے وہ کیک کیا کاٹتا کوئی بھی تو نہیں جو مری بھوکے رہنے پہ ناراض ہوں جیل ہے وہ ہے وہ تیری تصویر ہوتی تو ہنسکر سزا کاٹتا
Tehzeeb Hafi
456 likes
اتنا مجبور لگ کر بات بنانے لگ جائے ہم تری سر کی قسم جھوٹ ہی خانے لگ جائے اتنے سناٹے پیے مری سماعت نے کہ اب صرف آواز پہ چا ہوں تو نشانے لگ جائے ہے وہ ہے وہ ہے وہ ا گر اپنی جوانی کے سنا دوں قصے یہ جو افلاطون ہیں مری پاؤں دبانے لگ جائے
Mehshar Afridi
173 likes
More from Arzoo Lakhnavi
معصوم نظر کا بھولا پن للچا کے لبھانا کیا جانے دل آپ نشا لگ بنتا ہے حقیقت تیر چلانا کیا جانے کہ جاتی ہے کیا حقیقت چین جبیں یہ آج سمجھ سکتے ہیں کہی کچھ سیکھا ہوا تو کام نہیں دل ناز اٹھانا کیا جانے چٹکی جو کلی کوئل کوکی الفت کی کہانی ختم ہوئی کیا ک سے نے کہی کیا ک سے نے سنی یہ بتا زما لگ کیا جانے تھا صاحب فن ہے وہ ہے وہ کیا رکھا ج سے سمت گیا تو ٹکرا کے پھرا ک سے پردے کے پیچھے ہے شعلہ اندھا پروا لگ کیا جانے یہ زورا زوری عشق کی تھی فطرت ہی ج سے نے بدل ڈالی جلتا ہوا دل ہوں کر پانی آنسو بن جانا کیا جانے سجدوں سے پڑا پتھر ہے وہ ہے وہ گھڑا لیکن لگ مٹا ماتھے کا لکھا کرنے کو غریب نے کیا لگ کیا تقدیر بنانا کیا جانے آنکھوں کی اندھی خود غرضی کاہے کو سمجھنے دےگی کبھی جو نیند ق سے ہے وہ ہے وہ ہے وہ دے راتوں کی حقیقت خواب ہے وہ ہے وہ آنا کیا جانے پتھر کی لکیر ہے نقش وفا آئی لگ لگ جانو تلووں کا لہریا کرے رنگیں شعلہ دل پلٹے خا لگ کیا جانے ج سے نالے سے دنیا بیکل ہے حقیقت جلتے دل کی مشعل ہے جو پہلا لوکا خود لگ سہے حقیقت آگ ل
Arzoo Lakhnavi
0 likes
دل دے رہا تھا جو اسے بے دل بنا دیا آسان کام آپ نے مشکل بنا دیا ہر سان سے ایک شعلہ ہے ہر شعلہ ایک برق کیا تو نے مجھ کو اے تپش دل بنا دیا ا سے حسن زن پہ ہم سفروں کے ہوں پا ب گل مجھ بے خبر کو رہبر منزل بنا دیا اندھا ہے شوق پھروں نظر امکان پر ہوں کیوں کام اپنا دل نے آپ ہی مشکل بنا دیا دوڑا لہو رگوں ہے وہ ہے وہ بندھی زندگی کی آ سے یہ بھی برا نہیں ہے جو بسم اللہ بنا دیا غرق و عبور دونوں کا حاصل ہے ختم کار مجبوریوں نے موج کو ساحل بنا دیا ا سے شان عاجزی کے فدا ج سے نے آرزو ہر ناز ہر غرور کے قابل بنا دیا
Arzoo Lakhnavi
2 likes
آرام کے تھے ساتھی کیا کیا جب سمے پڑا تو کوئی نہیں سب دوست ہیں اپنے زار کے دنیا ہے وہ ہے وہ کسی کا کوئی نہیں گل گشت ہے وہ ہے وہ دامن منا پہ لگ لو نرگ سے سے حیا کیا ہے جاناں کو ا سے آنکھ سے پردہ کرتے ہوں ج سے آنکھ ہے وہ ہے وہ پردہ کوئی نہیں جو باغ تھا کل پھولوں سے بھرا اٹھکیلیوں سے چلتی تھی صبا اب سنبول و گل کا ذکر تو کیا خاک اڑتی ہے ا سے جا کوئی نہیں کل جن کو اندھیرے سے تھا حذر رہتا تھا چراغاں سانحے نظر اک شمع جلا دے تربت پر پوچھوں داغ اب اتنا کوئی نہیں جب بند ہوئیں آنکھیں تو کھلا دو روز کا تھا سارا جھگڑا تخت ا سے کا لگ اب ہے تاج ا سے کا اسکندر و دارا کوئی نہیں قتال ج ہاں معشوق جو تھے سونے پڑے ہیں مرقد ان کے یا مرنے والے لاکھوں تھے یا رونے والا کوئی نہیں اے آرزو اب تک اتنا پتا چلتا ہے تری بربا گرا کا ج سے سے لگ بگولے ہوں پیدا ا سے طرح کا صحرا کوئی نہیں
Arzoo Lakhnavi
2 likes
بھولے بن کر حال لگ پوچھو بہتے ہیں خوشی تو بہنے دو ج سے سے بڑھے بےچینی دل کی ایسی تسلی رہنے دو ر سے ہے وہ ہے وہ ہے وہ ا سے اندھیر ن گر کی نئی نہیں یہ پرانی ہیں مہر پہ ڈالو رات کا پردہ تنخواہ کو روشن رہنے دو روح نکل کر باغ ج ہاں سے باغ جناں ہے وہ ہے وہ جا پہنچے چہرے پہ اپنے مری نگاہیں اتنی دیر تو رہنے دو خندہ گل بلبل ہے وہ ہے وہ ہوگا گل ہے وہ ہے وہ نغمہ بلبل کا قصہ ایک زبانیں دو ہیں آپ کہو یا کہنے دو اتنا جنون شوق دیا کیوں خوف جو تھا رسوائی کا بات کروں خود قابل شکوا الٹے مجھ کو رہنے دو
Arzoo Lakhnavi
0 likes
آج بے آپ ہوں گئے ہم بھی آپ کو پا کے کھو گئے ہم بھی دانے کم تھے دکھوں کی سمرن ہے وہ ہے وہ ہے وہ تھوڑے اندھیرا پیرو گئے ہم بھی دیر سے تھے حقیقت ج سے کے گھیرے ہے وہ ہے وہ ہے وہ اسی جھرمٹ ہے وہ ہے وہ کھو گئے ہم بھی جا کے ڈھونڈا ک ہاں ک ہاں لگ تمہیں جب لگ پایا تو کھو گئے ہم بھی نام جینے کا جاگنا رکھ کر آج بے نیند سو گئے ہم بھی روئیںگے گر تو جگ ہنسائی ہوں کرتے کیا چپ سے ہوں گئے ہم بھی ہاں یہ رے آرزو کی بے آسی آپ بے ب سے تھے رو گئے ہم بھی
Arzoo Lakhnavi
1 likes
Similar Writers
Our suggestions based on Arzoo Lakhnavi.
Similar Moods
More moods that pair well with Arzoo Lakhnavi's ghazal.







