ghazalKuch Alfaaz

bichhda hai jo ik baar to milte nahin dekha is zakhm ko ham ne kabhi silte nahin dekha ik baar jise chaat gai dhuup ki khvahish phir shakh pe us phuul ko khilte nahin dekha yak-lakht gira hai to jaden tak nikal aaiin jis ped ko andhi men bhi hilte nahin dekha kanton men ghire phuul ko chuum aaegi lekin titli ke paron ko kabhi chhilte nahin dekha kis tarah miri ruuh hari kar gaya akhir vo zahr jise jism men khilte nahin dekha bichhda hai jo ek bar to milte nahin dekha is zakhm ko hum ne kabhi silte nahin dekha ek bar jise chat gai dhup ki khwahish phir shakh pe us phul ko khilte nahin dekha yak-lakht gira hai to jaden tak nikal aain jis ped ko aandhi mein bhi hilte nahin dekha kanton mein ghire phul ko chum aaegi lekin titli ke paron ko kabhi chhilte nahin dekha kis tarah meri ruh hari kar gaya aakhir wo zahr jise jism mein khilte nahin dekha

Related Ghazal

یہی اپنی کہانی تھی میاں پہلے بے حد پہلے حقیقت لڑکی جاں ہماری تھی میاں پہلے بے حد پہلے وہم مجھ کو یہ بھاتا ہے,अभी مری دیوانی ہے م گر مری دیوانی تھی میاں پہلے بے حد پہلے رقیب آ کر بتاتے ہیں ی ہاں تل ہے و ہاں تل ہے ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ یہ جانکاری تھی میاں پہلے بے حد پہلے ادب سے مانگ کر مافی بھری محفل یہ کہتا ہوں حقیقت لڑکی خاندانی تھی میاں پہلے بے حد پہلے

Anand Raj Singh

526 likes

اسی جگہ پر ج ہاں کئی راستے ملیںگے پلٹ کے آئی تو سب سے پہلے تجھے ملیںگے ا گر کبھی تری نام پر جنگ ہوں گئی تو ہم ایسے بزدل بھی پہلی صف ہے وہ ہے وہ کھڑے ملیںگے تجھے یہ سڑکیں مری توسط سے جانتی ہیں تجھے ہمیشہ یہ سب اشارے کھلے ملیںگے

Tehzeeb Hafi

465 likes

چاند ستارے تم پھول پرندے شام سویرہ ایک طرف ساری دنیا ا سے کا چربہ ا سے کا چہرہ ایک طرف حقیقت لڑکر بھی سو جائے تو ا سے کا ماتھا چوموں ہے وہ ہے وہ ہے وہ ا سے سے محبت ایک طرف ہے ا سے سے جھگڑا ایک طرف ج سے اجازت پر حقیقت انگلی رکھ دے اس کا کو حقیقت دلوانی ہے ا سے کی خوشیاں سب سے اول سستا مہنگا ایک طرف زخموں پر مرہم لگواو لیکن ا سے کے ہاتھوں سے چارسازی ایک طرف ہے ا سے کا چھونا ایک طرف ساری دنیا جو بھی بولے سب کچھ شور شرابا ہے سب کا کہنا ایک طرف ہے ا سے کا کہنا ایک طرف ا سے نے ساری دنیا مانگی ہے وہ ہے وہ نے اس کا کو مانگا ہے ا سے کے سپنے ایک طرف ہے میرا سپنا ایک طرف

Varun Anand

406 likes

یہ غم کیا دل کی عادت ہے نہیں تو کسی سے کچھ شکایت ہے نہیں تو ہے حقیقت اک خواب بے تعبیر ا سے کو بھلا دینے کی نیت ہے نہیں تو کسی کے بن کسی کی یاد کے بن جیے جانے کی ہمت ہے نہیں تو کسی صورت بھی دل لگتا نہیں ہاں تو کچھ دن سے یہ حالت ہے نہیں تو تری ا سے حال پر ہے سب کو حیرت تجھے بھی ا سے پہ حیرت ہے نہیں تو ہم آہنگی نہیں دنیا سے تیری تجھے ا سے پر ندامت ہے نہیں تو ہوا جو کچھ یہی مقسوم تھا کیا یہی ساری مقسوم ہے نہیں تو اذیت ناک اذیت ناک سے تجھ کو اماں پانے کی حسرت ہے نہیں تو تو رہتا ہے خیال و خواب ہے وہ ہے وہ گم تو ا سے کی وجہ فرصت ہے نہیں تو سبب جو ا سے جدائی کا بنا ہے حقیقت مجھ سے خوبصورت ہے نہیں تو

Jaun Elia

355 likes

تیری مشکل لگ چھپاؤں گا چلا جاؤں گا خوشی آنکھوں ہے وہ ہے وہ آؤں گا چلا جاؤں گا اپنی دہلیز پہ کچھ دیر پڑا رہنے دے چنو ہی ہوش ہے وہ ہے وہ لگاؤں گا چلا جاؤں گا خواب لینے کوئی آئی کہ لگ آئی کوئی ہے وہ ہے وہ ہے وہ تو آواز رلاؤں گا چلا جاؤں گا چند یادیں مجھے بچوں کی طرح پیاری ہیں ان کو سینے سے لگاؤں گا چلا جاؤں گا مدتوں بعد ہے وہ ہے وہ آیا ہوں پرانی گھر ہے وہ ہے وہ ہے وہ خود کو جی بھر کے نیت شوق چلا جاؤں گا ا سے جزیرے ہے وہ ہے وہ زیادہ نہیں رہنا اب تو آجکل ناو بناؤں گا چلا جاؤں گا تہذیب کی طرح لوٹ کے آؤںگا حسن ہر طرف پھول کھلاؤں گا چلا جاؤں گا

Hasan Abbasi

235 likes

More from Parveen Shakir

بجا کہ آنکھ ہے وہ ہے وہ نیندوں کے سلسلے بھی نہیں شکست خواب کے اب مجھ ہے وہ ہے وہ حوصلے بھی نہیں نہیں نہیں یہ خبر دشمنوں نے دی ہوں گی حقیقت آئی آ کے چلے بھی گئے ملے بھی نہیں یہ کون لوگ اندھیروں کی بات کرتے ہیں ابھی تو چاند تری یاد کے ڈھلے بھی نہیں ابھی سے مری رفو گر کے ہاتھ تھکنے لگے ابھی تو چاک مری زخم کے صلے بھی نہیں خفا اگرچہ ہمیشہ ہوئے م گر اب کے حقیقت برہمی ہے کہ ہم سے ا نہیں گلے بھی نہیں

Parveen Shakir

7 likes

اب اتنی سادگی لائیں ک ہاں سے ز ہے وہ ہے وہ ہے وہ کی خیر مانگے آ سماں سے ا گر چاہیں تو حقیقت دیوار کر دیں ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ اب کچھ نہیں کہنا زبان سے ستارہ ہی نہیں جب ساتھ دیتا تو کشتی کام لے کیا بادباں سے بھٹکنے سے ملے فرصت تو پوچھیں پتا منزل کا برق سے برق برق کی حاصل رہی ہے سو ہے آزاد رازداں سے ہوا کو راز داں ہم نے بنایا اور اب ناراض خوشبو کے بیاں سے ضروری ہوں گئی ہے دل کی ظفر جلوے فنا فی ال عشق جاتے ہیں مکان سے خیرو ہونا چاہتے تھے م گر فرصت لگ تھی کار ج ہاں سے وگر لگ فصل گل کی دودمان کیا تھی بڑی حکمت ہے وابستہ اڑائے سے کسی نے بات کی تھی ہن سے کے شاید زمانے بھر سے ہیں ہم خود گماں سے ہے وہ ہے وہ ہے وہ اک اک تیر پہ خود ڈھال بنتی ا گر ہوتا حقیقت دشمن کی کماں سے جو سبزہ دیکھ کر خیمے لگائیں ا نہیں تکلیف کیوں پہنچے اڑائے سے جو اپنے پیڑ جلتے چھوڑ جائیں ا نہیں کیا حق کہ روٹھیں باغباں سے

Parveen Shakir

0 likes

اب بھلا چھوڑ کے گھر کیا کرتے شام کے سمے سفر کیا کرتے تیری مصروفیتیں جانتے ہیں اپنے آنے کی خبر کیا کرتے جب ستارے تم ہی نہیں مل پائے لے کے ہم شم سے و قمر کیا کرتے حقیقت مسافر ہی کھلی دھوپ کا تھا سائے پھیلا کے شجر کیا کرتے خاک ہی اول و آخر ٹھہری کر کے زرے کو گوہر کیا کرتے رائے پہلے سے بنا لی تو نے دل ہے وہ ہے وہ اب ہم تری گھر کیا کرتے عشق نے سارے سلیقے بخشی حسن سے کسب ہنر کیا کرتے

Parveen Shakir

1 likes

اب بھلا چھوڑ کے گھر کیا کرتے شام کے سمے سفر کیا کرتے تیری مصروفیتیں جانتے ہیں اپنے آنے کی خبر کیا کرتے جب ستارے تم ہی نہیں مل پائے لے کے ہم شم سے و قمر کیا کرتے حقیقت مسافر ہی کھلی دھوپ کا تھا سائے پھیلا کے شجر کیا کرتے خاک ہی اول و آخر ٹھہری کر کے زرے کو گوہر کیا کرتے رائے پہلے سے بنا لی تو نے دل ہے وہ ہے وہ اب ہم تری گھر کیا کرتے عشق نے سارے سلیقے بخشی حسن سے کسب ہنر کیا کرتے

Parveen Shakir

1 likes

اگرچہ تجھ سے بے حد اختلاف بھی لگ ہوا م گر یہ دل تری جانب سے صاف بھی لگ ہوا تعلقات کے وارث ہے وہ ہے وہ ہی رکھا مجھ کو حقیقت مری حق ہے وہ ہے وہ لگ تھا اور خلاف بھی لگ ہوا غضب تھا جرم محبت کہ ج سے پہ دل نے مری سزا بھی پائی نہیں اور معاف بھی لگ ہوا صورت انسان ہے وہ ہے وہ ک ہاں سان سے لے سکوگے حقیقت لوگ کہ جن سے کو کہوں کا بے پیرہن بھی لگ ہوا غضب نہیں ہے کہ دل پر جمی ملی کائی بے حد دنوں سے تو یہ حوض صاف بھی لگ ہوا ہوا دہر ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ک سے لیے بجھاتی ہے ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ تو تجھ سے کبھی اختلاف بھی لگ ہوا

Parveen Shakir

4 likes

Similar Writers

View All ›

Our suggestions based on Parveen Shakir.

Similar Moods

View All ›

More moods that pair well with Parveen Shakir's ghazal.