بولے تو اچھا برا محسو سے ہوں ا سے کی خموشی سے کیا محسو سے ہوں ا سے طرح دیوار پر تصویر رکھ آدمی بیٹھا ہوا محسو سے ہوں دام منا مانگے ملیںگے اور نقد قتل لیکن حادثہ محسو سے ہوں رکھ لیا ذائقہ پیسوں کی جگہ تاکہ بٹوا کچھ بھرا محسو سے ہوں دیکھنا چا ہوں اسے تو ہر کوئی مری جانب دیکھتا محسو سے ہوں پا سے جانے پر کھلے پیاسے پہ ریت دور سے پانی کھڑا محسو سے ہوں
Related Ghazal
کیسے ا سے نے یہ سب کچھ مجھ سے چھپ کر بدلا چہرہ بدلا رستہ بدلا بعد ہے وہ ہے وہ گھر بدلا ہے وہ ہے وہ ہے وہ ا سے کے بارے ہے وہ ہے وہ یہ کہتا تھا لوگوں سے میرا نام بدل دینا حقیقت بے وجہ ا گر بدلا حقیقت بھی خوش تھا ا سے نے دل دے کر دل مانگا ہے ہے وہ ہے وہ ہے وہ بھی خوش ہوں ہے وہ ہے وہ نے پتھر سے پتھر بدلا ہے وہ ہے وہ ہے وہ نے کہا کیا مری خاطر خود کو بدلوگے اور پھروں ا سے نے نظریں بدلیں اور نمبر بدلا
Tehzeeb Hafi
435 likes
تماشا دیر و حرم دیکھتے ہیں تجھے ہر بہانے سے ہم دیکھتے ہیں ہماری طرف اب حقیقت کم دیکھتے ہیں حقیقت نظریں نہیں جن کو ہم دیکھتے ہیں زمانے کے کیا کیا ستم دیکھتے ہیں ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ جانتے ہیں جو ہم دیکھتے ہیں
Dagh Dehlvi
84 likes
خاموش لب ہیں جھکی ہیں پلکیں دلوں ہے وہ ہے وہ الفت نئی نئی ہے ابھی تکلف ہے گفتگو ہے وہ ہے وہ ابھی محبت نئی نئی ہے ابھی لگ آئیںگی نیند جاناں کو ابھی لگ ہم کو سکون ملےگا ابھی تو دھڑکے گا دل زیادہ ابھی محبت نئی نئی ہے بہار کا آج پہلا دن ہے چلو چمن ہے وہ ہے وہ ٹہل کے آئیں فضا ہے وہ ہے وہ خوشبو نئی نئی ہے گلوں ہے وہ ہے وہ رنگت نئی نئی ہے جو خاندانی رئی سے ہیں حقیقت مزاج رکھتے ہیں نرم اپنا تمہارا لہجہ بتا رہا ہے تمہاری دولت نئی نئی ہے ذرا سا قدرت نے کیا نوازا کے آکے بیٹھے ہوں پہلی صف ہے وہ ہے وہ ہے وہ ابھی کیوں اڑنے لگے ہوا ہے وہ ہے وہ ابھی تو شہرت نئی نئی ہے بموں کی برسات ہوں رہی ہے پرانی جانباز سو رہے ہیں غلام دنیا کو کر رہا ہے حقیقت ج سے کی طاقت نئی نئی ہے
Shabeena Adeeb
232 likes
حقیقت بےوفا ہے تو کیا مت کہو برا اس کا کو کہ جو ہوا سو ہوا خوش رکھے خدا اس کا کو نظر لگ آئی تو ا سے کی تلاش ہے وہ ہے وہ رہنا کہی ملے تو پلٹ کر لگ دیکھنا اس کا کو حقیقت سادہ خوں تھا زمانے کے خم سمجھتا کیا ہوا کے ساتھ چلا لے اڑی ہوا اس کا کو حقیقت اپنے بارے ہے وہ ہے وہ کتنا ہے خوش گماں دیکھو جب اس کا کو ہے وہ ہے وہ بھی لگ دیکھوں تو دیکھنا اس کا کو
Naseer Turabi
244 likes
अब के हम बिछड़े तो शायद कभी ख़्वाबों में मिलें जिस तरह सूखे हुए फूल किताबों में मिलें ढूँढ़ उजड़े हुए लोगों में वफ़ा के मोती ये ख़ज़ाने तुझे मुमकिन है ख़राबों में मिलें ग़म-ए-दुनिया भी ग़म-ए-यार में शामिल कर लो नशा बढ़ता है शराबें जो शराबों में मिलें तू ख़ुदा है न मिरा इश्क़ फ़रिश्तों जैसा दोनों इंसाँ हैं तो क्यूँँ इतने हिजाबों में मिलें आज हम दार पे खींचे गए जिन बातों पर क्या अजब कल वो ज़माने को निसाबों में मिलें अब न वो मैं न वो तू है न वो माज़ी है 'फ़राज़' जैसे दो शख़्स तमन्ना के सराबों में मिलें
Ahmad Faraz
130 likes
More from Nadir Ariz
دھندلا گیا تو ہوں دور کے منظر ہے وہ ہے وہ جا کے ہے وہ ہے وہ ہے وہ پچھتا رہا ہوں شہر سے قصبے ہے وہ ہے وہ آ کے ہے وہ ہے وہ ہے وہ اب ا سے کلی پہ صرف میرا حق ہے دوستو لوٹا ہوں ہاتھ پیڑ کو پہلے لگا کے ہے وہ ہے وہ ہے وہ شعلہ دیے کو زندگی دیتے ہی بجھ گیا تو منظر سے ہٹ گیا تو اسے منظر پہ لا کے ہے وہ ہے وہ ہے وہ صاحب یقین کیجیے چوری کی پربھاکر نہیں باغ آ گیا تو ہوں دوست کی باتوں ہے وہ ہے وہ آ کے ہے وہ ہے وہ ہے وہ ا سے در کے بند ہونے کا بدلا لیا ہے دوست جو بیچتا رہا ہوں دریچے بنا کے ہے وہ ہے وہ
Nadir Ariz
1 likes
کیسے ایمان نہیں لائیں گے ہم تری سر کی قسم کھائیں گے پھول پھینکیں گے ب سے آنے پہ مری اپنے بازو نہیں پھیلائیں گے اتنے برسوں کی جدائی ہے کہ اب اس کا کا کو سر و ساماں تو مر جائیں گے
Nadir Ariz
3 likes
اپنی خودداری تو پامال نہیں کر سکتے ا سے کا نمبر ہے م گر کال نہیں کر سکتے سیم جائےگا تو پھروں نقش ابھاریں گے کوئی کام دیوار پہ فیلحال نہیں کر سکتے رہ بھی سکتا ہے ترا نام کہی لکھا ہوا سارے جنگل کی تو پڑتال نہیں کر سکتے دوست تصویر بے حد دور سے کھینچی گئی ہے ہم اجا گر یہ خد و خال نہیں کر سکتے روتی آنکھوں پہ میاں ہاتھ تو رکھ سکتے ہیں پیش ا گر آپ کو رومال نہیں کر سکتے دے لگ دے کام کی اجرت یہ ہے مرضی ا سے کی پیشہ عشق ہے وہ ہے وہ ہڑتال نہیں کر سکتے دشت آئی جسے وحشت کی طلب ہوں نادر یہ غذا شہر ہم ارسال نہیں کر سکتے
Nadir Ariz
0 likes
ہے وہ ہے وہ اسے چاہنے والوں ہے وہ ہے وہ گھرا چھوڑ گیا تو زبان ا سے پیڑ کو اتنا ہی شوالہ چھوڑ گیا تو چیزیں گرتی گئیں رستے ہے وہ ہے وہ پھٹے تھیلے سے چور غفلت ہے وہ ہے وہ ٹھکانے کا پتا چھوڑ گیا تو واپ سے آنے کو تسلی دی لگ سینے سے لگا کوئی جاتے ہوئے دروازہ کھلا چھوڑ گیا تو صرف آتے ہوئے قدموں کے نشان ملتے ہیں خود ک ہاں ہے جو کنارے پہ گھڑا چھوڑ گیا تو ساتھ رکھا لگ پلٹنے دیا گھر کی جانب کوئی کشتی کو جزیرے سے لگا چھوڑ گیا تو
Nadir Ariz
1 likes
پیڑ پودھے ہیں تتلیاں نہیں ہیں کیسا قصبہ ہے لڑکیاں نہیں ہیں دیکھ کر پاؤں رکھنا پڑتا ہے ان پہاڑوں پہ سیڑھیاں نہیں ہیں مری انگوٹھے سے کھلےگا یہ لاک ا سے تجوری کی چا بیاں نہیں ہیں ناو کا ورنا مسئلہ نہیں تھا ا سے جزیرے پہ لکڑیاں نہیں ہیں بد دعا لگ گئی ہے کس کی اسے ا سے کلائی ہے وہ ہے وہ چوڑیاں نہیں ہیں بارش آئی تو بھیگ جائیں گے پیڑوں کے پا سے چھتریاں نہیں ہیں
Nadir Ariz
3 likes
Similar Writers
Our suggestions based on Nadir Ariz.
Similar Moods
More moods that pair well with Nadir Ariz's ghazal.







