ghazalKuch Alfaaz

پیڑ پودھے ہیں تتلیاں نہیں ہیں کیسا قصبہ ہے لڑکیاں نہیں ہیں دیکھ کر پاؤں رکھنا پڑتا ہے ان پہاڑوں پہ سیڑھیاں نہیں ہیں مری انگوٹھے سے کھلےگا یہ لاک ا سے تجوری کی چا بیاں نہیں ہیں ناو کا ورنا مسئلہ نہیں تھا ا سے جزیرے پہ لکڑیاں نہیں ہیں بد دعا لگ گئی ہے کس کی اسے ا سے کلائی ہے وہ ہے وہ چوڑیاں نہیں ہیں بارش آئی تو بھیگ جائیں گے پیڑوں کے پا سے چھتریاں نہیں ہیں

Nadir Ariz3 Likes

Related Ghazal

یہی اپنی کہانی تھی میاں پہلے بے حد پہلے حقیقت لڑکی جاں ہماری تھی میاں پہلے بے حد پہلے وہم مجھ کو یہ بھاتا ہے,अभी مری دیوانی ہے م گر مری دیوانی تھی میاں پہلے بے حد پہلے رقیب آ کر بتاتے ہیں ی ہاں تل ہے و ہاں تل ہے ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ یہ جانکاری تھی میاں پہلے بے حد پہلے ادب سے مانگ کر مافی بھری محفل یہ کہتا ہوں حقیقت لڑکی خاندانی تھی میاں پہلے بے حد پہلے

Anand Raj Singh

526 likes

اسی جگہ پر ج ہاں کئی راستے ملیںگے پلٹ کے آئی تو سب سے پہلے تجھے ملیںگے ا گر کبھی تری نام پر جنگ ہوں گئی تو ہم ایسے بزدل بھی پہلی صف ہے وہ ہے وہ کھڑے ملیںگے تجھے یہ سڑکیں مری توسط سے جانتی ہیں تجھے ہمیشہ یہ سب اشارے کھلے ملیںگے

Tehzeeb Hafi

465 likes

یہ غم کیا دل کی عادت ہے نہیں تو کسی سے کچھ شکایت ہے نہیں تو ہے حقیقت اک خواب بے تعبیر ا سے کو بھلا دینے کی نیت ہے نہیں تو کسی کے بن کسی کی یاد کے بن جیے جانے کی ہمت ہے نہیں تو کسی صورت بھی دل لگتا نہیں ہاں تو کچھ دن سے یہ حالت ہے نہیں تو تری ا سے حال پر ہے سب کو حیرت تجھے بھی ا سے پہ حیرت ہے نہیں تو ہم آہنگی نہیں دنیا سے تیری تجھے ا سے پر ندامت ہے نہیں تو ہوا جو کچھ یہی مقسوم تھا کیا یہی ساری مقسوم ہے نہیں تو اذیت ناک اذیت ناک سے تجھ کو اماں پانے کی حسرت ہے نہیں تو تو رہتا ہے خیال و خواب ہے وہ ہے وہ گم تو ا سے کی وجہ فرصت ہے نہیں تو سبب جو ا سے جدائی کا بنا ہے حقیقت مجھ سے خوبصورت ہے نہیں تو

Jaun Elia

355 likes

تیری مشکل لگ چھپاؤں گا چلا جاؤں گا خوشی آنکھوں ہے وہ ہے وہ آؤں گا چلا جاؤں گا اپنی دہلیز پہ کچھ دیر پڑا رہنے دے چنو ہی ہوش ہے وہ ہے وہ لگاؤں گا چلا جاؤں گا خواب لینے کوئی آئی کہ لگ آئی کوئی ہے وہ ہے وہ ہے وہ تو آواز رلاؤں گا چلا جاؤں گا چند یادیں مجھے بچوں کی طرح پیاری ہیں ان کو سینے سے لگاؤں گا چلا جاؤں گا مدتوں بعد ہے وہ ہے وہ آیا ہوں پرانی گھر ہے وہ ہے وہ ہے وہ خود کو جی بھر کے نیت شوق چلا جاؤں گا ا سے جزیرے ہے وہ ہے وہ زیادہ نہیں رہنا اب تو آجکل ناو بناؤں گا چلا جاؤں گا تہذیب کی طرح لوٹ کے آؤںگا حسن ہر طرف پھول کھلاؤں گا چلا جاؤں گا

Hasan Abbasi

235 likes

مری ب سے ہے وہ ہے وہ نہیں ورنا قدرت کا لکھا ہوا کاٹتا تری حصے ہے وہ ہے وہ آئی برے دن کوئی دوسرا کاٹتا لاریوں سے زیادہ بہاؤ تھا تری ہر اک لفظ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ اشارہ نہیں کاٹ سکتا تیری بات کیا کاٹتا ہے وہ ہے وہ ہے وہ نے بھی زندگی اور شب اے ہجر کاٹی ہے سب کی طرح ویسے بہتر تو یہ تھا کے ہے وہ ہے وہ کم سے کم کچھ نیا کاٹتا تری ہوتے ہوئے موم بتی بجھائی کسی اور نے کیا خوشی رہ گئی تھی جنم دن کی ہے وہ ہے وہ کیک کیا کاٹتا کوئی بھی تو نہیں جو مری بھوکے رہنے پہ ناراض ہوں جیل ہے وہ ہے وہ تیری تصویر ہوتی تو ہنسکر سزا کاٹتا

Tehzeeb Hafi

456 likes

More from Nadir Ariz

کیسے ایمان نہیں لائیں گے ہم تری سر کی قسم کھائیں گے پھول پھینکیں گے ب سے آنے پہ مری اپنے بازو نہیں پھیلائیں گے اتنے برسوں کی جدائی ہے کہ اب اس کا کا کو سر و ساماں تو مر جائیں گے

Nadir Ariz

3 likes

دھندلا گیا تو ہوں دور کے منظر ہے وہ ہے وہ جا کے ہے وہ ہے وہ ہے وہ پچھتا رہا ہوں شہر سے قصبے ہے وہ ہے وہ آ کے ہے وہ ہے وہ ہے وہ اب ا سے کلی پہ صرف میرا حق ہے دوستو لوٹا ہوں ہاتھ پیڑ کو پہلے لگا کے ہے وہ ہے وہ ہے وہ شعلہ دیے کو زندگی دیتے ہی بجھ گیا تو منظر سے ہٹ گیا تو اسے منظر پہ لا کے ہے وہ ہے وہ ہے وہ صاحب یقین کیجیے چوری کی پربھاکر نہیں باغ آ گیا تو ہوں دوست کی باتوں ہے وہ ہے وہ آ کے ہے وہ ہے وہ ہے وہ ا سے در کے بند ہونے کا بدلا لیا ہے دوست جو بیچتا رہا ہوں دریچے بنا کے ہے وہ ہے وہ

Nadir Ariz

1 likes

اپنی خودداری تو پامال نہیں کر سکتے ا سے کا نمبر ہے م گر کال نہیں کر سکتے سیم جائےگا تو پھروں نقش ابھاریں گے کوئی کام دیوار پہ فیلحال نہیں کر سکتے رہ بھی سکتا ہے ترا نام کہی لکھا ہوا سارے جنگل کی تو پڑتال نہیں کر سکتے دوست تصویر بے حد دور سے کھینچی گئی ہے ہم اجا گر یہ خد و خال نہیں کر سکتے روتی آنکھوں پہ میاں ہاتھ تو رکھ سکتے ہیں پیش ا گر آپ کو رومال نہیں کر سکتے دے لگ دے کام کی اجرت یہ ہے مرضی ا سے کی پیشہ عشق ہے وہ ہے وہ ہڑتال نہیں کر سکتے دشت آئی جسے وحشت کی طلب ہوں نادر یہ غذا شہر ہم ارسال نہیں کر سکتے

Nadir Ariz

0 likes

ہے وہ ہے وہ اسے چاہنے والوں ہے وہ ہے وہ گھرا چھوڑ گیا تو زبان ا سے پیڑ کو اتنا ہی شوالہ چھوڑ گیا تو چیزیں گرتی گئیں رستے ہے وہ ہے وہ پھٹے تھیلے سے چور غفلت ہے وہ ہے وہ ٹھکانے کا پتا چھوڑ گیا تو واپ سے آنے کو تسلی دی لگ سینے سے لگا کوئی جاتے ہوئے دروازہ کھلا چھوڑ گیا تو صرف آتے ہوئے قدموں کے نشان ملتے ہیں خود ک ہاں ہے جو کنارے پہ گھڑا چھوڑ گیا تو ساتھ رکھا لگ پلٹنے دیا گھر کی جانب کوئی کشتی کو جزیرے سے لگا چھوڑ گیا تو

Nadir Ariz

1 likes

بولے تو اچھا برا محسو سے ہوں ا سے کی خموشی سے کیا محسو سے ہوں ا سے طرح دیوار پر تصویر رکھ آدمی بیٹھا ہوا محسو سے ہوں دام منا مانگے ملیںگے اور نقد قتل لیکن حادثہ محسو سے ہوں رکھ لیا ذائقہ پیسوں کی جگہ تاکہ بٹوا کچھ بھرا محسو سے ہوں دیکھنا چا ہوں اسے تو ہر کوئی مری جانب دیکھتا محسو سے ہوں پا سے جانے پر کھلے پیاسے پہ ریت دور سے پانی کھڑا محسو سے ہوں

Nadir Ariz

3 likes

Similar Writers

View All ›

Our suggestions based on Nadir Ariz.

Similar Moods

View All ›

More moods that pair well with Nadir Ariz's ghazal.