دھندلا گیا تو ہوں دور کے منظر ہے وہ ہے وہ جا کے ہے وہ ہے وہ ہے وہ پچھتا رہا ہوں شہر سے قصبے ہے وہ ہے وہ آ کے ہے وہ ہے وہ ہے وہ اب ا سے کلی پہ صرف میرا حق ہے دوستو لوٹا ہوں ہاتھ پیڑ کو پہلے لگا کے ہے وہ ہے وہ ہے وہ شعلہ دیے کو زندگی دیتے ہی بجھ گیا تو منظر سے ہٹ گیا تو اسے منظر پہ لا کے ہے وہ ہے وہ ہے وہ صاحب یقین کیجیے چوری کی پربھاکر نہیں باغ آ گیا تو ہوں دوست کی باتوں ہے وہ ہے وہ آ کے ہے وہ ہے وہ ہے وہ ا سے در کے بند ہونے کا بدلا لیا ہے دوست جو بیچتا رہا ہوں دریچے بنا کے ہے وہ ہے وہ
Related Ghazal
تمہیں ب سے یہ بتانا چاہتا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ جاناں سے کیا چھپانا چاہتا ہوں کبھی مجھ سے بھی کوئی جھوٹ بولو ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہاں ہے وہ ہے وہ ہاں ملانا چاہتا ہوں یہ جو کھڑکی ہے نقشے ہے وہ ہے وہ تمہارے ی ہاں ہے وہ ہے وہ در بنانا چاہتا ہوں اداکاری بے حد دکھ دے رہی ہے ہے وہ ہے وہ ہے وہ سچ مچ مسکرانا چاہتا ہوں پروں ہے وہ ہے وہ تیر ہے پنجوں ہے وہ ہے وہ تنکے ہے وہ ہے وہ ہے وہ یہ چڑیا اڑانا چاہتا ہوں لیے بیٹھا ہوں گھنگرو پھول اندھیرا ترا ہنسنا بنانا چاہتا ہوں بیگا لگ غم عشق کی جاناں کو مبارک ہے وہ ہے وہ ہے وہ ب سے خا لگ کمانا چاہتا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ سارے شہر کی بیساخیوں کو تری در پر نرم گوئی چاہتا ہوں مجھے جاناں سے اندھیرا ہی پڑےگا ہے وہ ہے وہ ہے وہ جاناں کو یاد آنا چاہتا ہوں
Fahmi Badayuni
249 likes
بیٹھے ہیں چین سے کہی جانا تو ہے نہیں ہم بے گھروں کا کوئی ہری تو ہے نہیں جاناں بھی ہوں بیتے سمے کے مانند ہوں بہو جاناں نے بھی یاد آنا ہے آنا تو ہے نہیں عہد وفا سے ک سے لیے خائف ہوں مری جان کر لو کہ جاناں نے عہد نبھانا تو ہے نہیں حقیقت جو ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ عزیز ہے کیسا ہے کون ہے کیوں پوچھتے ہوں ہم نے بتانا تو ہے نہیں دنیا ہم اہل عشق پہ کیوں پھینکتی ہے جال ہم نے تری فریب ہے وہ ہے وہ آنا تو ہے نہیں حقیقت عشق تو کرےگا م گر دیکھ بھال کے فار سے حقیقت تری جیسا دیوا لگ تو ہے نہیں
Rehman Faris
196 likes
زبان تو کھول نظر تو ملا جواب تو دے ہے وہ ہے وہ ہے وہ کتنی بار لٹا ہوں مجھے حساب تو دے تری بدن کی ودھی ہے وہ ہے وہ ہے اتار لکھاوت ہے وہ ہے وہ ہے وہ تجھے کیسے چڑھاو مجھے کتاب تو دے تیرا سوال ہے ساقی کہ زندگی کیا ہے جواب دیتا ہوں پہلے مجھے شراب تو دے
Rahat Indori
190 likes
ستم ڈھاتے ہوئے سوچا کروگے ہمارے ساتھ جاناں ایسا کروگے انگوٹھی تو مجھے لوٹا رہے ہوں انگوٹھی کے نشان کا کیا کروگے ہے وہ ہے وہ ہے وہ جاناں سے اب تمنائیں بھی نہیں ہوں تو کیا ا سے بات پر جھگڑا کروگے میرا دامن تمہیں تھامے ہوئے ہوں میرا دامن تمہیں میلا کروگے بتاؤ وعدہ کر کے آوگے نا کے پچھلی بار کے جیسا کروگے حقیقت دلہن بن کے رخصت ہوں گئی ہے ک ہاں تک کار کا پیچھا کروگے مجھے ب سے یوں ہی جاناں سے پوچھنا تھا ا گر ہے وہ ہے وہ مر گیا تو تو کیا کروگے
Zubair Ali Tabish
140 likes
یہی اپنی کہانی تھی میاں پہلے بے حد پہلے حقیقت لڑکی جاں ہماری تھی میاں پہلے بے حد پہلے وہم مجھ کو یہ بھاتا ہے,अभी مری دیوانی ہے م گر مری دیوانی تھی میاں پہلے بے حد پہلے رقیب آ کر بتاتے ہیں ی ہاں تل ہے و ہاں تل ہے ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ یہ جانکاری تھی میاں پہلے بے حد پہلے ادب سے مانگ کر مافی بھری محفل یہ کہتا ہوں حقیقت لڑکی خاندانی تھی میاں پہلے بے حد پہلے
Anand Raj Singh
526 likes
More from Nadir Ariz
کیسے ایمان نہیں لائیں گے ہم تری سر کی قسم کھائیں گے پھول پھینکیں گے ب سے آنے پہ مری اپنے بازو نہیں پھیلائیں گے اتنے برسوں کی جدائی ہے کہ اب اس کا کا کو سر و ساماں تو مر جائیں گے
Nadir Ariz
3 likes
ہے وہ ہے وہ اسے چاہنے والوں ہے وہ ہے وہ گھرا چھوڑ گیا تو زبان ا سے پیڑ کو اتنا ہی شوالہ چھوڑ گیا تو چیزیں گرتی گئیں رستے ہے وہ ہے وہ پھٹے تھیلے سے چور غفلت ہے وہ ہے وہ ٹھکانے کا پتا چھوڑ گیا تو واپ سے آنے کو تسلی دی لگ سینے سے لگا کوئی جاتے ہوئے دروازہ کھلا چھوڑ گیا تو صرف آتے ہوئے قدموں کے نشان ملتے ہیں خود ک ہاں ہے جو کنارے پہ گھڑا چھوڑ گیا تو ساتھ رکھا لگ پلٹنے دیا گھر کی جانب کوئی کشتی کو جزیرے سے لگا چھوڑ گیا تو
Nadir Ariz
1 likes
پیڑ پودھے ہیں تتلیاں نہیں ہیں کیسا قصبہ ہے لڑکیاں نہیں ہیں دیکھ کر پاؤں رکھنا پڑتا ہے ان پہاڑوں پہ سیڑھیاں نہیں ہیں مری انگوٹھے سے کھلےگا یہ لاک ا سے تجوری کی چا بیاں نہیں ہیں ناو کا ورنا مسئلہ نہیں تھا ا سے جزیرے پہ لکڑیاں نہیں ہیں بد دعا لگ گئی ہے کس کی اسے ا سے کلائی ہے وہ ہے وہ چوڑیاں نہیں ہیں بارش آئی تو بھیگ جائیں گے پیڑوں کے پا سے چھتریاں نہیں ہیں
Nadir Ariz
3 likes
اپنی خودداری تو پامال نہیں کر سکتے ا سے کا نمبر ہے م گر کال نہیں کر سکتے سیم جائےگا تو پھروں نقش ابھاریں گے کوئی کام دیوار پہ فیلحال نہیں کر سکتے رہ بھی سکتا ہے ترا نام کہی لکھا ہوا سارے جنگل کی تو پڑتال نہیں کر سکتے دوست تصویر بے حد دور سے کھینچی گئی ہے ہم اجا گر یہ خد و خال نہیں کر سکتے روتی آنکھوں پہ میاں ہاتھ تو رکھ سکتے ہیں پیش ا گر آپ کو رومال نہیں کر سکتے دے لگ دے کام کی اجرت یہ ہے مرضی ا سے کی پیشہ عشق ہے وہ ہے وہ ہڑتال نہیں کر سکتے دشت آئی جسے وحشت کی طلب ہوں نادر یہ غذا شہر ہم ارسال نہیں کر سکتے
Nadir Ariz
0 likes
بولے تو اچھا برا محسو سے ہوں ا سے کی خموشی سے کیا محسو سے ہوں ا سے طرح دیوار پر تصویر رکھ آدمی بیٹھا ہوا محسو سے ہوں دام منا مانگے ملیںگے اور نقد قتل لیکن حادثہ محسو سے ہوں رکھ لیا ذائقہ پیسوں کی جگہ تاکہ بٹوا کچھ بھرا محسو سے ہوں دیکھنا چا ہوں اسے تو ہر کوئی مری جانب دیکھتا محسو سے ہوں پا سے جانے پر کھلے پیاسے پہ ریت دور سے پانی کھڑا محسو سے ہوں
Nadir Ariz
3 likes
Similar Writers
Our suggestions based on Nadir Ariz.
Similar Moods
More moods that pair well with Nadir Ariz's ghazal.







