بولتا ہے تو پتا لگتا ہے زخم ا سے کا بھی ہرا لگتا ہے را سے آ جاتی ہے تنہائی بھی ایک دو روز برا لگتا ہے کتنی ظالم ہے مہذب دنیا گھر سے نکلو تو پتا لگتا ہے آج بھی حقیقت نہیں آنے والا آج کا دن بھی گیا تو لگتا ہے بوجھ سینے پہ بے حد ہے لیکن مسکرا دینے ہے وہ ہے وہ کیا لگتا ہے موڈ اچھا ہوں تو سب اچھا ہے ور لگ ہنسنا بھی برا لگتا ہے
Related Ghazal
حقیقت منہ لگاتا ہے جب کوئی کام ہوتا ہے جو اس کا کا ہوتا ہے سمجھو غلام ہوتا ہے کسی کا ہوں کے دوبارہ نہ آنا میری طرف محبتوں ہے وہ ہے وہ حلالہ حرام ہوتا ہے اسے بھی گنتے ہیں ہم لوگ اہل خانہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہمارے یاں تو شجر کا بھی نام ہوتا ہے تجھ ایسے بے وجہ کے ہوتے ہیں ضرب سے دوست بہت تجھ ایسا بے وجہ بہت جلد آم ہوتا ہے کبھی لگی ہے تمہیں کوئی شام آخری شام ہمارے ساتھ یہ ہر ایک شام ہوتا ہے
Umair Najmi
81 likes
ا گر تو بےوفا ہے دھیان رکھنا مجھے سب کچھ پتا ہے دھیان رکھنا بچھڑتے سمے ہم نے کہ دیا تھا ہمارا دل دکھا ہے دھیان رکھنا خدا ج سے کی محبت ہے وہ ہے وہ بنی ہوں حقیقت کئیوں کا خدا ہے دھیان رکھنا جسے جاناں دوست کیول جانتی ہوں حقیقت جاناں کو چاہتا ہے دھیان رکھنا
Anand Raj Singh
54 likes
چلا ہے سلسلہ کیسا یہ راتوں کو منانے کا تمہیں حق دے دیا ک سے نے دیوں کے دل دکھانے کا ارادہ چھوڑیے اپنی حدوں سے دور جانے کا زما لگ ہے زمانے کی نگا ہوں ہے وہ ہے وہ لگ آنے کا ک ہاں کی دوستی کن دوستوں کی بات کرتے ہوں میاں دشمن نہیں ملتا کوئی اب تو ٹھکانے کا نگا ہوں ہے وہ ہے وہ کوئی بھی دوسرا چہرہ نہیں آیا بھروسا ہی کچھ ایسا تھا تمہارے لوٹ آنے کا یہ ہے وہ ہے وہ ہی تھا بچا کے خود کو لے آیا کنارے تک سمندر نے بے حد موقع دیا تھا ڈوب جانے کا
Waseem Barelvi
103 likes
سینا کچا رہا ہوں تو کیا چپ رہے کوئی کیوں چیخ چیخ کر لگ گلہ سروہا لے کوئی ثابت ہوا سکون دل و جاں کہی نہیں رشتوں ہے وہ ہے وہ ڈھونڈتا ہے تو ڈھونڈا کرے کوئی ترک تعلقات کوئی مسئلہ نہیں یہ تو حقیقت راستہ ہے کہ ب سے چل پڑے کوئی دیوار جانتا تھا جسے ہے وہ ہے وہ حقیقت دھول تھی اب مجھ کو اعتماد کی دعوت لگ دے کوئی ہے وہ ہے وہ ہے وہ خود یہ چاہتا ہوں کہ حالات ہوں خراب مری خلاف زہر اگلتا پھیرے کوئی اے بے وجہ اب تو مجھ کو سبھی کچھ قبول ہے یہ بھی قبول ہے کہ تجھے چھین لے کوئی ہاں ٹھیک ہے ہے وہ ہے وہ اپنی انا کا مریض ہوں آخر مری مزاج ہے وہ ہے وہ کیوں دخل دے کوئی اک بے وجہ کر رہا ہے ابھی تک وفا کا ذکر کاش ا سے زبان دراز کا منا نوچ لے کوئی
Jaun Elia
77 likes
ہے وہ ہے وہ بھی جاناں جیسا ہوں اپنے سے جدا مت سمجھو آدمی ہی مجھے رہنے دو خدا مت سمجھو یہ جو ہے وہ ہے وہ ہوش ہے وہ ہے وہ رہتا نہیں جاناں سے مل کر یہ میرا عشق ہے جاناں اس کا کو نشہ مت سمجھو را سے آتا نہیں سب کو یہ محبت کا مرض مری بیماری کو جاناں اپنی دوا مت سمجھو
Shakeel Azmi
51 likes
More from Shakeel Jamali
کوئی بہانا کوئی کہانی نہیں چلےگی محبتوں ہے وہ ہے وہ غلط بیانی نہیں چلےگی اندھیرا پر وفا کا تمغہ نہیں سجےگا خراب کپڑے پہ کامدانی نہیں چلےگی ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ یہ دنیا خراب سمجھے یہ ا سے کی مرضی م گر ثبوتوں سے چھیڑخانی نہیں چلےگی بڑوں کے عاشق شیدائی پہ بچے لگ چل سکوگے پرانی پٹری پہ راجدهانی نہیں چلےگی ا گر حقیقت اپنی زری کی ساڑی پہن کے نکلی تو یار لوگوں پہ شیروانی نہیں چلےگی حقیقت محفلیں جو بغیر اجرت کی خدمتیں ہیں تو کیا و ہاں بھی غزل پرانی نہیں چلےگی بے حد زیادہ بھی مطمئن مت دکھائی دینا بچھڑتے لمحوں ہے وہ ہے وہ شادوانی نہیں چلےگی
Shakeel Jamali
10 likes
الٹے سیدھے سپنے پالے بیٹھے ہیں سب پانی ہے وہ ہے وہ کانٹا ڈالے بیٹھے ہیں اک بیمار وصیت کرنے والا ہے رشتے کم عقل جیبھ نکالے بیٹھے ہیں ابھی لگ جانے کتنا ہنسنا رونا ہے ابھی تو ہم سے پہلے والے بیٹھے ہیں صاحب زادہ پچھلی رات سے غائب ہے گھر کے اندر رشتے والے بیٹھے ہیں اندر ڈوری ٹوٹ رہی ہے سانسوں کی باہر بیمہ کرنے والے بیٹھے ہیں
Shakeel Jamali
9 likes
لوگ کہتے ہیں کہ ا سے کھیل ہے وہ ہے وہ سر جاتے ہیں عشق ہے وہ ہے وہ اتنا خسارہ ہے تو گھر جاتے ہیں موت کو ہم نے کبھی کچھ نہیں سمجھا م گر آج اپنے بچوں کی طرف دیکھ کے ڈر جاتے ہیں زندگی ایسے بھی حالات بنا دیتی ہے لوگ سانسوں کا کفن اوڑھ کے مر جاتے ہیں پاؤں ہے وہ ہے وہ اب کوئی زنجیر نہیں ڈالتے ہم دل جدھر ٹھیک سمجھتا ہے ادھر جاتے ہیں کیا جنوں خیز مسافت تھی تری کوچے کی اور اب یوں ہے کہ خاموش گزر جاتے ہیں یہ محبت کی علامت تو نہیں ہے کوئی تیرا چہرہ نظر آتا ہے جدھر جاتے ہیں
Shakeel Jamali
5 likes
وفاداروں پہ آفت آ رہی ہے میاں لے لو جو قیمت آ رہی ہے ہے وہ ہے وہ ہے وہ ا سے سے اتنے نازکی کر چکا ہوں مجھے ا سے بار غیرت آ رہی ہے لگ جانے مجھ ہے وہ ہے وہ کیا دیکھا ہے ا سے نے مجھے ا سے پر محبت آ رہی ہے بدلتا جا رہا ہے جھوٹ سچ ہے وہ ہے وہ ہے وہ کہانی ہے وہ ہے وہ اپناپن آ رہی ہے میرا جھگڑا زمانے سے نہیں ہے مری آڑے محبت آ رہی ہے ابھی روشن ہوا جاتا ہے رستہ حقیقت دیکھو ایک عورت آ رہی ہے مجھے ا سے کی اداسی نے بتایا بچھڑ جانے کی ساعت آ رہی ہے بڑوں کے درمیان بیٹھا ہوا ہوں نصیحت پر نصیحت آ رہی ہے
Shakeel Jamali
7 likes
دل ا سے کی محبت ہے وہ ہے وہ پریشان تو ہوگا اب آگ سے کھیلوگے تو نقصان تو ہوگا وعدے پہ لگ آوگے تو تفتیش تو ہوں گی قانون کو توڑوگے تو چالان تو ہوگا ہم نے تو اسے ایک انگوٹھی بھی نہیں دی حقیقت تاج محل دیکھ کے حیران تو ہوگا
Shakeel Jamali
11 likes
Similar Writers
Our suggestions based on Shakeel Jamali.
Similar Moods
More moods that pair well with Shakeel Jamali's ghazal.







