chalne ka hausla nahin rukna muhal kar diya ishq ke is safar ne to mujh ko nidhal kar diya ai miri gul-zamin tujhe chaah thi ik kitab ki ahl-e-kitab ne magar kya tira haal kar diya milte hue dilon ke biich aur tha faisla koi us ne magar bichhadte vaqt aur saval kar diya ab ke hava ke saath hai daman-e-yar muntazir banu-e-shab ke haath men rakhna sambhal kar diya mumkina faislon men ek hijr ka faisla bhi tha ham ne to ek baat ki us ne kamal kar diya mere labon pe mohr thi par mere shisha-ru ne to shahr ke shahr ko mira vaqif-e-hal kar diya chehra o naam ek saath aaj na yaad aa sake vaqt ne kis shabih ko khvab o khayal kar diya muddaton baad us ne aaj mujh se koi gila kiya mansab-e-dilbari pe kya mujh ko bahal kar diya chalne ka hausla nahin rukna muhaal kar diya ishq ke is safar ne to mujh ko nidhaal kar diya ai meri gul-zamin tujhe chah thi ek kitab ki ahl-e-kitab ne magar kya tera haal kar diya milte hue dilon ke bich aur tha faisla koi us ne magar bichhadte waqt aur sawal kar diya ab ke hawa ke sath hai daman-e-yar muntazir banu-e-shab ke hath mein rakhna sambhaal kar diya mumkina faislon mein ek hijr ka faisla bhi tha hum ne to ek baat ki us ne kamal kar diya mere labon pe mohr thi par mere shisha-ru ne to shahr ke shahr ko mera waqif-e-haal kar diya chehra o nam ek sath aaj na yaad aa sake waqt ne kis shabih ko khwab o khayal kar diya muddaton baad us ne aaj mujh se koi gila kiya mansab-e-dilbari pe kya mujh ko bahaal kar diya
Related Ghazal
ستم ڈھاتے ہوئے سوچا کروگے ہمارے ساتھ جاناں ایسا کروگے انگوٹھی تو مجھے لوٹا رہے ہوں انگوٹھی کے نشان کا کیا کروگے ہے وہ ہے وہ ہے وہ جاناں سے اب تمنائیں بھی نہیں ہوں تو کیا ا سے بات پر جھگڑا کروگے میرا دامن تمہیں تھامے ہوئے ہوں میرا دامن تمہیں میلا کروگے بتاؤ وعدہ کر کے آوگے نا کے پچھلی بار کے جیسا کروگے حقیقت دلہن بن کے رخصت ہوں گئی ہے ک ہاں تک کار کا پیچھا کروگے مجھے ب سے یوں ہی جاناں سے پوچھنا تھا ا گر ہے وہ ہے وہ مر گیا تو تو کیا کروگے
Zubair Ali Tabish
140 likes
چلا ہے سلسلہ کیسا یہ راتوں کو منانے کا تمہیں حق دے دیا ک سے نے دیوں کے دل دکھانے کا ارادہ چھوڑیے اپنی حدوں سے دور جانے کا زما لگ ہے زمانے کی نگا ہوں ہے وہ ہے وہ لگ آنے کا ک ہاں کی دوستی کن دوستوں کی بات کرتے ہوں میاں دشمن نہیں ملتا کوئی اب تو ٹھکانے کا نگا ہوں ہے وہ ہے وہ کوئی بھی دوسرا چہرہ نہیں آیا بھروسا ہی کچھ ایسا تھا تمہارے لوٹ آنے کا یہ ہے وہ ہے وہ ہی تھا بچا کے خود کو لے آیا کنارے تک سمندر نے بے حد موقع دیا تھا ڈوب جانے کا
Waseem Barelvi
103 likes
ہاتھ خالی ہیں تری شہر سے جاتے جاتے جان ہوتی تو مری جان لٹاتے جاتے اب تو ہر ہاتھ کا پتھر ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ پہچانتا ہے عمر گزری ہے تری شہر ہے وہ ہے وہ آتے جاتے اب کے مایو سے ہوا یاروں کو رخصت کر کے جا رہے تھے تو کوئی زخم لگاتے جاتے رینگنے کی بھی اجازت نہیں ہم کو ور لگ ہم جدھر جاتے نئے پھول کھلاتے جاتے ہے وہ ہے وہ ہے وہ تو جلتے ہوئے صحراؤں کا اک پتھر تھا جاناں تو دریا تھے مری پیا سے بجھاتے جاتے مجھ کو رونے کا سلیقہ بھی نہیں ہے شاید لوگ ہنستے ہیں مجھے دیکھ کے آتے جاتے ہم سے پہلے بھی مسافر کئی گزرے ہوں گے کم سے کم راہ کے پتھر تو ہٹاتے جاتے
Rahat Indori
102 likes
تری پیچھے ہوں گی دنیا پاگل بن کیا بولا ہے وہ ہے وہ نے کچھ سمجھا پاگل بن صحرا ہے وہ ہے وہ بھی ڈھونڈ لے دریا پاگل بن ورنا مر جائےگا پیاسا پاگل بن آدھا دا لگ آدھا پاگل نہیں نہیں نہیں اس کا کا کو پانا ہے تو پورا پاگل بن دانائی دکھلانے سے کچھ حاصل نہیں پاگل خا لگ ہے یہ دنیا پاگل بن دیکھیں تجھ کو لوگ تو پاگل ہوں جائیں اتنا عمدہ اتنا اعلیٰ پاگل بن لوگوں سے ڈر لگتا ہے تو گھر ہے وہ ہے وہ بیٹھ ج ہنستے ہے تو مری جیسا پاگل بن
Varun Anand
81 likes
خالی بیٹھے ہوں تو اک کام میرا کر دو نا مجھ کو اچھا سا کوئی زخم ادا کر دو نا دھیان سے پنچھیوں کو دیتے ہوں دا لگ پانی اتنے اچھے ہوں تو پنجرے سے رہا کر دو نا جب قریب آ ہی گئے ہوں تو اداسی کیسی جب دیا دے ہی رہے ہوں تو جلا کر دو نا
Zubair Ali Tabish
102 likes
More from Parveen Shakir
اب اتنی سادگی لائیں ک ہاں سے ز ہے وہ ہے وہ ہے وہ کی خیر مانگے آ سماں سے ا گر چاہیں تو حقیقت دیوار کر دیں ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ اب کچھ نہیں کہنا زبان سے ستارہ ہی نہیں جب ساتھ دیتا تو کشتی کام لے کیا بادباں سے بھٹکنے سے ملے فرصت تو پوچھیں پتا منزل کا برق سے برق برق کی حاصل رہی ہے سو ہے آزاد رازداں سے ہوا کو راز داں ہم نے بنایا اور اب ناراض خوشبو کے بیاں سے ضروری ہوں گئی ہے دل کی ظفر جلوے فنا فی ال عشق جاتے ہیں مکان سے خیرو ہونا چاہتے تھے م گر فرصت لگ تھی کار ج ہاں سے وگر لگ فصل گل کی دودمان کیا تھی بڑی حکمت ہے وابستہ اڑائے سے کسی نے بات کی تھی ہن سے کے شاید زمانے بھر سے ہیں ہم خود گماں سے ہے وہ ہے وہ ہے وہ اک اک تیر پہ خود ڈھال بنتی ا گر ہوتا حقیقت دشمن کی کماں سے جو سبزہ دیکھ کر خیمے لگائیں ا نہیں تکلیف کیوں پہنچے اڑائے سے جو اپنے پیڑ جلتے چھوڑ جائیں ا نہیں کیا حق کہ روٹھیں باغباں سے
Parveen Shakir
0 likes
اپنی رسوائی تری نام کا چرچا دیکھوں اک ذرا شعر ک ہوں اور ہے وہ ہے وہ کیا کیا دیکھوں نیند آ جائے تو کیا محفلیں برپا دیکھوں آنکھ کھل جائے تو تنہائی کا صحرا دیکھوں شام بھی ہوں گئی دھندلا گئیں آنکھیں بھی مری بھولنے والے ہے وہ ہے وہ کب تک ترا رستہ دیکھوں ایک اک کر کے مجھے چھوڑ گئیں سب سکھیاں آج ہے وہ ہے وہ خود کو تری یاد ہے وہ ہے وہ تنہا دیکھوں کاش صندل سے مری مانگ اجالے آ کر اتنے غیروں ہے وہ ہے وہ وہی ہاتھ جو اپنا دیکھوں تو میرا کچھ نہیں لگتا ہے م گر جان حیات جانے کیوں تری لیے دل کو دھڑکنا دیکھوں بند کر کے مری آنکھیں حقیقت شرارت سے ہنسے بوجھے جانے کا ہے وہ ہے وہ ہر روز تماشا دیکھوں سب زدیں ا سے کی ہے وہ ہے وہ پوری کروں ہر بات سنوں ایک بچے کی طرح سے اسے ہنستا دیکھوں مجھ پہ چھا جائے حقیقت برسات کی خوشبو کی طرح انگ انگ اپنا اسی رت ہے وہ ہے وہ مہکتا دیکھوں پھول کی طرح مری جسم کا ہر لب کھل جائے پھکڑی پھکڑی ان ہونٹوں کا سایہ دیکھوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ نے ج سے لمحے کو پوجا ہے اسے ب سے اک بار خواب ب
Parveen Shakir
2 likes
بچھڑا ہے جو اک بار تو ملتے نہیں دیکھا ا سے زخم کو ہم نے کبھی سلتے نہیں دیکھا اک بار جسے چاٹ گئی دھوپ کی خواہش پھروں شاخ پہ ا سے پھول کو کھلتے نہیں دیکھا یک لخت گرا ہے تو جڑیں تک نکل آئیں ج سے پیڑ کو آندھی ہے وہ ہے وہ بھی ہلتے نہیں دیکھا کانٹوں ہے وہ ہے وہ گھیرے پھول کو چوم آوےگی عشق دل لیکن تتلی کے پروں کو کبھی چھیلتے نہیں دیکھا ک سے طرح مری روح خا لگ وحدت پسند کر گیا تو آخر حقیقت زہر جسے جسم ہے وہ ہے وہ کھلتے نہیں دیکھا
Parveen Shakir
1 likes
اب اتنی سادگی لائیں ک ہاں سے ز ہے وہ ہے وہ ہے وہ کی خیر مانگے آ سماں سے ا گر چاہیں تو حقیقت دیوار کر دیں ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ اب کچھ نہیں کہنا زبان سے ستارہ ہی نہیں جب ساتھ دیتا تو کشتی کام لے کیا بادباں سے بھٹکنے سے ملے فرصت تو پوچھیں پتا منزل کا برق سے برق برق کی حاصل رہی ہے سو ہے آزاد رازداں سے ہوا کو راز داں ہم نے بنایا اور اب ناراض خوشبو کے بیاں سے ضروری ہوں گئی ہے دل کی ظفر جلوے فنا فی ال عشق جاتے ہیں مکان سے خیرو ہونا چاہتے تھے م گر فرصت لگ تھی کار ج ہاں سے وگر لگ فصل گل کی دودمان کیا تھی بڑی حکمت ہے وابستہ اڑائے سے کسی نے بات کی تھی ہن سے کے شاید زمانے بھر سے ہیں ہم خود گماں سے ہے وہ ہے وہ ہے وہ اک اک تیر پہ خود ڈھال بنتی ا گر ہوتا حقیقت دشمن کی کماں سے جو سبزہ دیکھ کر خیمے لگائیں ا نہیں تکلیف کیوں پہنچے اڑائے سے جو اپنے پیڑ جلتے چھوڑ جائیں ا نہیں کیا حق کہ روٹھیں باغباں سے
Parveen Shakir
0 likes
بجا کہ آنکھ ہے وہ ہے وہ نیندوں کے سلسلے بھی نہیں شکست خواب کے اب مجھ ہے وہ ہے وہ حوصلے بھی نہیں نہیں نہیں یہ خبر دشمنوں نے دی ہوں گی حقیقت آئی آ کے چلے بھی گئے ملے بھی نہیں یہ کون لوگ اندھیروں کی بات کرتے ہیں ابھی تو چاند تری یاد کے ڈھلے بھی نہیں ابھی سے مری رفو گر کے ہاتھ تھکنے لگے ابھی تو چاک مری زخم کے صلے بھی نہیں خفا اگرچہ ہمیشہ ہوئے م گر اب کے حقیقت برہمی ہے کہ ہم سے ا نہیں گلے بھی نہیں
Parveen Shakir
7 likes
Similar Writers
Our suggestions based on Parveen Shakir.
Similar Moods
More moods that pair well with Parveen Shakir's ghazal.







