ghazalKuch Alfaaz

چند گج کی شہریت ک سے کام کی اڑنا آتا ہے تو چھت ک سے کام کی جب تمہیں چہرے بدلنے کا ہے شوق پھروں تمہاری اصلیت ک سے کام کی پوچھنے والا نہیں کوئی مزاج ا سے دودمان بھی خیریت ک سے کام کی ہم بھی کپڑوں کو ا گر ترجیح دیں پھروں ہماری شخصیت ک سے کام کی

Related Ghazal

یہ ہے وہ ہے وہ نے کب کہا کہ مری حق ہے وہ ہے وہ فیصلہ کرے ا گر حقیقت مجھ سے خوش نہیں ہے تو مجھے جدا کرے ہے وہ ہے وہ ہے وہ ا سے کے ساتھ ج سے طرح گزارتا ہوں زندگی اسے تو چاہیے کہ میرا شکریہ ادا کرے مری دعا ہے اور اک طرح سے بد دعا بھی ہے خدا تمہیں تمہارے جیسی بیٹیاں عطا کرے بنا چکا ہوں ہے وہ ہے وہ محبتوں کے درد کی دوا ا گر کسی کو چاہیے تو مجھ سے رابطہ کرے

Tehzeeb Hafi

292 likes

حقیقت منہ لگاتا ہے جب کوئی کام ہوتا ہے جو اس کا کا ہوتا ہے سمجھو غلام ہوتا ہے کسی کا ہوں کے دوبارہ نہ آنا میری طرف محبتوں ہے وہ ہے وہ حلالہ حرام ہوتا ہے اسے بھی گنتے ہیں ہم لوگ اہل خانہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہمارے یاں تو شجر کا بھی نام ہوتا ہے تجھ ایسے بے وجہ کے ہوتے ہیں ضرب سے دوست بہت تجھ ایسا بے وجہ بہت جلد آم ہوتا ہے کبھی لگی ہے تمہیں کوئی شام آخری شام ہمارے ساتھ یہ ہر ایک شام ہوتا ہے

Umair Najmi

81 likes

خالی بیٹھے ہوں تو اک کام میرا کر دو نا مجھ کو اچھا سا کوئی زخم ادا کر دو نا دھیان سے پنچھیوں کو دیتے ہوں دا لگ پانی اتنے اچھے ہوں تو پنجرے سے رہا کر دو نا جب قریب آ ہی گئے ہوں تو اداسی کیسی جب دیا دے ہی رہے ہوں تو جلا کر دو نا

Zubair Ali Tabish

102 likes

ہے وہ ہے وہ نے جو کچھ بھی سوچا ہوا ہے ہے وہ ہے وہ حقیقت سمے آنے پہ کر جاؤں گا جاناں مجھے زہر لگتے ہوں اور ہے وہ ہے وہ کسی دن تمہیں پی کے مر جاؤں گا تو تو بینائی ہے مری تری علاوہ مجھے کچھ بھی دکھتا نہیں ہے وہ ہے وہ ہے وہ نے تجھ کو ا گر تری گھر پہ اتارا تو ہے وہ ہے وہ کیسے گھر جاؤں گا چاہتا ہوں تمہیں اور بے حد چاہتا ہوں تمہیں خود بھی معلوم ہے ہاں ا گر مجھ سے پوچھا کسی نے تو ہے وہ ہے وہ سیدھا منا پر مکر جاؤں گا تری دل سے تری شہر سے تری گھر سے تیری آنکھ سے تری در سے تیری گلیوں سے تری وطن سے نکالا ہوا ہوں کدھر جاؤں گا

Tehzeeb Hafi

241 likes

ی ہاں جاناں دیکھنا رتبہ ہمارا ہماری ریت ہے دریا ہمارا کسی سے کل پتا جی کہ رہے تھے محبت کھا گئی لڑکا ہمارا تعلق ختم کرنے جا رہی ہے کہی گروہ لگ دے بچہ ہمارا

Kushal Dauneria

67 likes

More from Mehshar Afridi

ہوا کے چلتے ہی بادل کا صاف ہوں جانا جو حب سے ٹوٹنا بارش خلاف ہوں جانا مری خمیر کی دہقانیت جتاتا ہے یہ جاناں سے مل کے میرا شین قاف ہوں جانا غرور حسن سے کوئی امید مت کرنا خطائیں کرنا تو خود ہی معاف ہوں جانا ہے وہ ہے وہ ہے وہ تیز دھوپ ہے وہ ہے وہ جل کر بھی یاد کرتا ہوں حقیقت سرد رات ہے وہ ہے وہ ا سے کا لحاف ہوں جانا مجھ ایسے بے وجہ کو روشن ضمیر کر دےگا حقیقت بے قرار ہے یہ انکشاف ہوں جانا

Mehshar Afridi

8 likes

عشق ہے وہ ہے وہ دان کرنا پڑتا ہے جاں کو ہلکان کرنا پڑتا ہے غضب مفت ہے وہ ہے وہ نہیں ملتا پہلے نقصان کرنا پڑتا ہے ا سے کی ہنہناتی گفتگو کے لیے آنکھ کو کان کرنا پڑتا ہے پھروں اداسی کے بھی تقاضے ہیں گھر کو ویران کرنا پڑتا ہے

Mehshar Afridi

37 likes

غم کی دولت مفت لٹا دوں بلکل نہیں اشکوں ہے وہ ہے وہ یہ درد بہا دوں بلکل نہیں تو نے تو اوقات دکھا دی ہے اپنی ہے وہ ہے وہ ہے وہ اپنا گاہے گرا دوں بلکل نہیں ایک نجومی سب کو خواب دکھاتا ہے ہے وہ ہے وہ ہے وہ بھی اپنا ہاتھ دکھا دوں بلکل نہیں مری اندر اک خموشی چیختی ہے تو کیا ہے وہ ہے وہ بھی شور مچا دوں بلکل نہیں

Mehshar Afridi

49 likes

ہر اندھیرا روشنی ہے وہ ہے وہ لگ گیا تو ج سے کو دیکھو شاعری ہے وہ ہے وہ لگ گیا تو ہم کو مر جانے کی فرصت کب ملی سمے سارا زندگی ہے وہ ہے وہ لگ گیا تو اپنا مے خا لگ بنا سکتے تھے ہم اتنا بڑھانے میکشی ہے وہ ہے وہ لگ گیا تو خود سے اتنی دور جا نکلے تھے ہم اک زما لگ واپسی ہے وہ ہے وہ لگ گیا تو

Mehshar Afridi

53 likes

بغیر اس کا کو بتائے نبھانا پڑتا ہے یہ عشق راز ہے اس کا کو چھپانا پڑتا ہے ہے وہ ہے وہ ہے وہ اپنے ذہن کی ضد سے بے حد پریشاں ہوں تری خیال کی چوکھٹ پہ آنا پڑتا ہے تری بغیر ہی اچھے تھے کیا مصیبت ہے یہ کیسا پیار ہے ہر دن جتانا پڑتا ہے

Mehshar Afridi

73 likes

Similar Writers

View All ›

Our suggestions based on Mehshar Afridi.

Similar Moods

View All ›

More moods that pair well with Mehshar Afridi's ghazal.