غم کی دولت مفت لٹا دوں بلکل نہیں اشکوں ہے وہ ہے وہ یہ درد بہا دوں بلکل نہیں تو نے تو اوقات دکھا دی ہے اپنی ہے وہ ہے وہ ہے وہ اپنا گاہے گرا دوں بلکل نہیں ایک نجومی سب کو خواب دکھاتا ہے ہے وہ ہے وہ ہے وہ بھی اپنا ہاتھ دکھا دوں بلکل نہیں مری اندر اک خموشی چیختی ہے تو کیا ہے وہ ہے وہ بھی شور مچا دوں بلکل نہیں
Related Ghazal
خاموش لب ہیں جھکی ہیں پلکیں دلوں ہے وہ ہے وہ الفت نئی نئی ہے ابھی تکلف ہے گفتگو ہے وہ ہے وہ ابھی محبت نئی نئی ہے ابھی لگ آئیںگی نیند جاناں کو ابھی لگ ہم کو سکون ملےگا ابھی تو دھڑکے گا دل زیادہ ابھی محبت نئی نئی ہے بہار کا آج پہلا دن ہے چلو چمن ہے وہ ہے وہ ٹہل کے آئیں فضا ہے وہ ہے وہ خوشبو نئی نئی ہے گلوں ہے وہ ہے وہ رنگت نئی نئی ہے جو خاندانی رئی سے ہیں حقیقت مزاج رکھتے ہیں نرم اپنا تمہارا لہجہ بتا رہا ہے تمہاری دولت نئی نئی ہے ذرا سا قدرت نے کیا نوازا کے آکے بیٹھے ہوں پہلی صف ہے وہ ہے وہ ہے وہ ابھی کیوں اڑنے لگے ہوا ہے وہ ہے وہ ابھی تو شہرت نئی نئی ہے بموں کی برسات ہوں رہی ہے پرانی جانباز سو رہے ہیں غلام دنیا کو کر رہا ہے حقیقت ج سے کی طاقت نئی نئی ہے
Shabeena Adeeb
232 likes
یہ ہے وہ ہے وہ نے کب کہا کہ مری حق ہے وہ ہے وہ فیصلہ کرے ا گر حقیقت مجھ سے خوش نہیں ہے تو مجھے جدا کرے ہے وہ ہے وہ ہے وہ ا سے کے ساتھ ج سے طرح گزارتا ہوں زندگی اسے تو چاہیے کہ میرا شکریہ ادا کرے مری دعا ہے اور اک طرح سے بد دعا بھی ہے خدا تمہیں تمہارے جیسی بیٹیاں عطا کرے بنا چکا ہوں ہے وہ ہے وہ محبتوں کے درد کی دوا ا گر کسی کو چاہیے تو مجھ سے رابطہ کرے
Tehzeeb Hafi
292 likes
زبان تو کھول نظر تو ملا جواب تو دے ہے وہ ہے وہ ہے وہ کتنی بار لٹا ہوں مجھے حساب تو دے تری بدن کی ودھی ہے وہ ہے وہ ہے اتار لکھاوت ہے وہ ہے وہ ہے وہ تجھے کیسے چڑھاو مجھے کتاب تو دے تیرا سوال ہے ساقی کہ زندگی کیا ہے جواب دیتا ہوں پہلے مجھے شراب تو دے
Rahat Indori
190 likes
بیٹھے ہیں چین سے کہی جانا تو ہے نہیں ہم بے گھروں کا کوئی ہری تو ہے نہیں جاناں بھی ہوں بیتے سمے کے مانند ہوں بہو جاناں نے بھی یاد آنا ہے آنا تو ہے نہیں عہد وفا سے ک سے لیے خائف ہوں مری جان کر لو کہ جاناں نے عہد نبھانا تو ہے نہیں حقیقت جو ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ عزیز ہے کیسا ہے کون ہے کیوں پوچھتے ہوں ہم نے بتانا تو ہے نہیں دنیا ہم اہل عشق پہ کیوں پھینکتی ہے جال ہم نے تری فریب ہے وہ ہے وہ آنا تو ہے نہیں حقیقت عشق تو کرےگا م گر دیکھ بھال کے فار سے حقیقت تری جیسا دیوا لگ تو ہے نہیں
Rehman Faris
196 likes
اصولوں پر ج ہاں آنچ آئی ٹکرانا ضروری ہے جو زندہ ہوں تو پھروں زندہ نظر آنا ضروری ہے نئی عمروں کی خودمختاریوں کو کون سمجھائے ک ہاں سے بچ کے چلنا ہے ک ہاں جانا ضروری ہے تھکے ہارے پرندے جب بسیرے کے لیے لوٹیں سلیقہ مند شاخوں کا لچک جانا ضروری ہے بے حد بےباک آنکھوں ہے وہ ہے وہ تعلق ٹک نہیں پاتا محبت ہے وہ ہے وہ کشش رکھنے کو شرمانا ضروری ہے سلیقہ ہی نہیں شاید اسے محسو سے کرنے کا جو کہتا ہے خدا ہے تو نظر آنا ضروری ہے مری ہونٹوں پہ اپنی پیا سے رکھ دو اور پھروں سوچو کہ ا سے کے بعد بھی دنیا ہے وہ ہے وہ کچھ پانا ضروری ہے
Waseem Barelvi
107 likes
More from Mehshar Afridi
ہوا کے چلتے ہی بادل کا صاف ہوں جانا جو حب سے ٹوٹنا بارش خلاف ہوں جانا مری خمیر کی دہقانیت جتاتا ہے یہ جاناں سے مل کے میرا شین قاف ہوں جانا غرور حسن سے کوئی امید مت کرنا خطائیں کرنا تو خود ہی معاف ہوں جانا ہے وہ ہے وہ ہے وہ تیز دھوپ ہے وہ ہے وہ جل کر بھی یاد کرتا ہوں حقیقت سرد رات ہے وہ ہے وہ ا سے کا لحاف ہوں جانا مجھ ایسے بے وجہ کو روشن ضمیر کر دےگا حقیقت بے قرار ہے یہ انکشاف ہوں جانا
Mehshar Afridi
8 likes
عشق ہے وہ ہے وہ دان کرنا پڑتا ہے جاں کو ہلکان کرنا پڑتا ہے غضب مفت ہے وہ ہے وہ نہیں ملتا پہلے نقصان کرنا پڑتا ہے ا سے کی ہنہناتی گفتگو کے لیے آنکھ کو کان کرنا پڑتا ہے پھروں اداسی کے بھی تقاضے ہیں گھر کو ویران کرنا پڑتا ہے
Mehshar Afridi
37 likes
ہر اندھیرا روشنی ہے وہ ہے وہ لگ گیا تو ج سے کو دیکھو شاعری ہے وہ ہے وہ لگ گیا تو ہم کو مر جانے کی فرصت کب ملی سمے سارا زندگی ہے وہ ہے وہ لگ گیا تو اپنا مے خا لگ بنا سکتے تھے ہم اتنا بڑھانے میکشی ہے وہ ہے وہ لگ گیا تو خود سے اتنی دور جا نکلے تھے ہم اک زما لگ واپسی ہے وہ ہے وہ لگ گیا تو
Mehshar Afridi
53 likes
اتنا مجبور لگ کر بات بنانے لگ جائے ہم تری سر کی قسم جھوٹ ہی خانے لگ جائے اتنے سناٹے پیے مری سماعت نے کہ اب صرف آواز پہ چا ہوں تو نشانے لگ جائے ہے وہ ہے وہ ہے وہ ا گر اپنی جوانی کے سنا دوں قصے یہ جو افلاطون ہیں مری پاؤں دبانے لگ جائے
Mehshar Afridi
173 likes
چند گج کی شہریت ک سے کام کی اڑنا آتا ہے تو چھت ک سے کام کی جب تمہیں چہرے بدلنے کا ہے شوق پھروں تمہاری اصلیت ک سے کام کی پوچھنے والا نہیں کوئی مزاج ا سے دودمان بھی خیریت ک سے کام کی ہم بھی کپڑوں کو ا گر ترجیح دیں پھروں ہماری شخصیت ک سے کام کی
Mehshar Afridi
12 likes
Similar Writers
Our suggestions based on Mehshar Afridi.
Similar Moods
More moods that pair well with Mehshar Afridi's ghazal.







