ghazalKuch Alfaaz

der tak uth na saka vaan se vo divana-e-dost chhid gaya jab ki kahin baith ke afsana-e-dost aaj uthe jaate hain darban ki jafa se lekin zindagi bhar kahin chhutta hai dar-e-khana-e-dost hijr men halat-e-dil ki hain vo ankhen nigaran dekhi thi jin se kabhi raunaq-e-kashana-e-dost rahbar shauq-e-dili sar pe ajal dil betab be-khabar yuun main chala huun taraf-e-khana-e-dost aaj kyuun had se siva dil ko khushi hai 'mahshar' kya bulae hue jaate ho su-e-khana-e-dost der tak uth na saka wan se wo diwana-e-dost chhid gaya jab ki kahin baith ke afsana-e-dost aaj uthe jate hain darban ki jafa se lekin zindagi bhar kahin chhutta hai dar-e-khana-e-dost hijr mein haalat-e-dil ki hain wo aankhen nigaran dekhi thi jin se kabhi raunaq-e-kashana-e-dost rahbar shauq-e-dili sar pe ajal dil betab be-khabar yun main chala hun taraf-e-khana-e-dost aaj kyun had se siwa dil ko khushi hai 'mahshar' kya bulae hue jate ho su-e-khana-e-dost

Related Ghazal

چلا ہے سلسلہ کیسا یہ راتوں کو منانے کا تمہیں حق دے دیا ک سے نے دیوں کے دل دکھانے کا ارادہ چھوڑیے اپنی حدوں سے دور جانے کا زما لگ ہے زمانے کی نگا ہوں ہے وہ ہے وہ لگ آنے کا ک ہاں کی دوستی کن دوستوں کی بات کرتے ہوں میاں دشمن نہیں ملتا کوئی اب تو ٹھکانے کا نگا ہوں ہے وہ ہے وہ کوئی بھی دوسرا چہرہ نہیں آیا بھروسا ہی کچھ ایسا تھا تمہارے لوٹ آنے کا یہ ہے وہ ہے وہ ہی تھا بچا کے خود کو لے آیا کنارے تک سمندر نے بے حد موقع دیا تھا ڈوب جانے کا

Waseem Barelvi

103 likes

اشک ناداں سے کہو بعد میں اڑائیں گے آپ گرکر میری آنکھوں سے کدھر جائیں گے اپنے لفظوں کو تکلم سے گرا کر جانا اپنے لہجے کی تھکاوٹ میں بکھر جائیں گے اک تیرا گھر تھا میری حد مسافت لیکن اب یہ سوچا ہے کہ ہم حد سے گزر جائیں گے اپنے افکار جلا ڈالیںگے کاغذ کاغذ سوچ مر جائے گی تو ہم آپ بھی مر جائیں گے اس سے پہلے کہ جدائی کی خبر تم سے ملے ہم نے سوچا ہے کہ ہم تم سے بچھڑ جائیں گے

Khalil Ur Rehman Qamar

50 likes

سینا کچا رہا ہوں تو کیا چپ رہے کوئی کیوں چیخ چیخ کر لگ گلہ سروہا لے کوئی ثابت ہوا سکون دل و جاں کہی نہیں رشتوں ہے وہ ہے وہ ڈھونڈتا ہے تو ڈھونڈا کرے کوئی ترک تعلقات کوئی مسئلہ نہیں یہ تو حقیقت راستہ ہے کہ ب سے چل پڑے کوئی دیوار جانتا تھا جسے ہے وہ ہے وہ حقیقت دھول تھی اب مجھ کو اعتماد کی دعوت لگ دے کوئی ہے وہ ہے وہ ہے وہ خود یہ چاہتا ہوں کہ حالات ہوں خراب مری خلاف زہر اگلتا پھیرے کوئی اے بے وجہ اب تو مجھ کو سبھی کچھ قبول ہے یہ بھی قبول ہے کہ تجھے چھین لے کوئی ہاں ٹھیک ہے ہے وہ ہے وہ اپنی انا کا مریض ہوں آخر مری مزاج ہے وہ ہے وہ کیوں دخل دے کوئی اک بے وجہ کر رہا ہے ابھی تک وفا کا ذکر کاش ا سے زبان دراز کا منا نوچ لے کوئی

Jaun Elia

77 likes

حقیقت تو اچھا ہے غزل تیرا سہارا ہے مجھے ور لگ فکروں نے تو ب سے گھیر کے مارا ہے مجھے ج سے کی تصویر ہے وہ ہے وہ کاغذ پہ بنا بھی لگ سکا ا سے نے مہن گرا سے ہتھیلی پہ اتارا ہے مجھے غیر کے ہاتھ سے مرہم مجھے جھمکے نہیں جاناں م گر زخم بھی دے دو تو بے شرط ہے مجھے

Abrar Kashif

54 likes

جو تری ساتھ رہتے ہوئے سوگوار ہوں خواب ہوں ایسے بے وجہ پہ اور بےشمار ہوں اب اتنی دیر بھی نا لگا یہ ہوں نا کہی تو آ چکا ہوں اور تیرا انتظار ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ پھول ہوں تو پھروں تری بالو ہے وہ ہے وہ کیوں نہیں ہوں تو تیر ہے تو مری کلیجے کے پار ہوں ایک آستین چڑھانے کی عادت کو چھوڑ کر حافی جاناں آدمی تو بے حد شاندار ہوں

Tehzeeb Hafi

268 likes

Similar Writers

View All ›

Our suggestions based on Mahshar Kazim Husain Lakhnavi.

Similar Moods

View All ›

More moods that pair well with Mahshar Kazim Husain Lakhnavi's ghazal.