ghazalKuch Alfaaz

dil ko darun-e-khana hi bahlao ghar raho tum ko qasam hai bhiid men mat jaao ghar raho zinda rahe to yaar bahut mahfilen bahut filhal mere anjuman-arao! ghar raho maana ki iid milna bhi dastur hai magar sinon se lag ke maut na phailao ghar raho chaukhat na paar karna ki bahar hai qatl-e-am galiyon men chal rahi hai ajal daav ghar raho mahbub ko bhi le ke maroge tum apne saath gar ishq hai to ishq na jatlao ghar raho dariya-e-khun hai qariya-o-bazar men ravan tah kar ke rakh do yaaro abhi naav ghar raho ik mufti-e-sakhi ka hai fatva ki thiik hai ghar rah ke chahe mai hi piye jaao ghar raho faris! hamen bhi shauq-e-mulaqat hai magar puure karenge baad men sab chaav ghar raho dil ko darun-e-khana hi bahlao ghar raho tum ko qasam hai bhid mein mat jao ghar raho zinda rahe to yar bahut mahfilen bahut filhaal mere anjuman-arao! ghar raho mana ki id milna bhi dastur hai magar sinon se lag ke maut na phailao ghar raho chaukhat na par karna ki bahar hai qatl-e-am galiyon mein chal rahi hai ajal daw ghar raho mahbub ko bhi le ke maroge tum apne sath gar ishq hai to ishq na jatlao ghar raho dariya-e-khun hai qariya-o-bazar mein rawan tah kar ke rakh do yaro abhi naw ghar raho ek mufti-e-sakhi ka hai fatwa ki thik hai ghar rah ke chahe mai hi piye jao ghar raho faris! hamein bhi shauq-e-mulaqat hai magar pure karenge baad mein sab chaw ghar raho

Related Ghazal

اسی جگہ پر ج ہاں کئی راستے ملیںگے پلٹ کے آئی تو سب سے پہلے تجھے ملیںگے ا گر کبھی تری نام پر جنگ ہوں گئی تو ہم ایسے بزدل بھی پہلی صف ہے وہ ہے وہ کھڑے ملیںگے تجھے یہ سڑکیں مری توسط سے جانتی ہیں تجھے ہمیشہ یہ سب اشارے کھلے ملیںگے

Tehzeeb Hafi

465 likes

کیوں ڈریں زندگی ہے وہ ہے وہ کیا ہوگا کچھ لگ ہوگا تو غضب ہوگا ہنستی آنکھوں ہے وہ ہے وہ جھانک کر دیکھو کوئی آنسو کہی چھپا ہوگا ان دنوں نا امید سا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ شاید ا سے نے بھی یہ سنا ہوگا دیکھ کر جاناں کو سوچتا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ کیا کسی نے تمہیں چھوا ہوگا

Javed Akhtar

371 likes

چاند ستارے تم پھول پرندے شام سویرہ ایک طرف ساری دنیا ا سے کا چربہ ا سے کا چہرہ ایک طرف حقیقت لڑکر بھی سو جائے تو ا سے کا ماتھا چوموں ہے وہ ہے وہ ہے وہ ا سے سے محبت ایک طرف ہے ا سے سے جھگڑا ایک طرف ج سے اجازت پر حقیقت انگلی رکھ دے اس کا کو حقیقت دلوانی ہے ا سے کی خوشیاں سب سے اول سستا مہنگا ایک طرف زخموں پر مرہم لگواو لیکن ا سے کے ہاتھوں سے چارسازی ایک طرف ہے ا سے کا چھونا ایک طرف ساری دنیا جو بھی بولے سب کچھ شور شرابا ہے سب کا کہنا ایک طرف ہے ا سے کا کہنا ایک طرف ا سے نے ساری دنیا مانگی ہے وہ ہے وہ نے اس کا کو مانگا ہے ا سے کے سپنے ایک طرف ہے میرا سپنا ایک طرف

Varun Anand

406 likes

یہ غم کیا دل کی عادت ہے نہیں تو کسی سے کچھ شکایت ہے نہیں تو ہے حقیقت اک خواب بے تعبیر ا سے کو بھلا دینے کی نیت ہے نہیں تو کسی کے بن کسی کی یاد کے بن جیے جانے کی ہمت ہے نہیں تو کسی صورت بھی دل لگتا نہیں ہاں تو کچھ دن سے یہ حالت ہے نہیں تو تری ا سے حال پر ہے سب کو حیرت تجھے بھی ا سے پہ حیرت ہے نہیں تو ہم آہنگی نہیں دنیا سے تیری تجھے ا سے پر ندامت ہے نہیں تو ہوا جو کچھ یہی مقسوم تھا کیا یہی ساری مقسوم ہے نہیں تو اذیت ناک اذیت ناک سے تجھ کو اماں پانے کی حسرت ہے نہیں تو تو رہتا ہے خیال و خواب ہے وہ ہے وہ گم تو ا سے کی وجہ فرصت ہے نہیں تو سبب جو ا سے جدائی کا بنا ہے حقیقت مجھ سے خوبصورت ہے نہیں تو

Jaun Elia

355 likes

تیری مشکل لگ چھپاؤں گا چلا جاؤں گا خوشی آنکھوں ہے وہ ہے وہ آؤں گا چلا جاؤں گا اپنی دہلیز پہ کچھ دیر پڑا رہنے دے چنو ہی ہوش ہے وہ ہے وہ لگاؤں گا چلا جاؤں گا خواب لینے کوئی آئی کہ لگ آئی کوئی ہے وہ ہے وہ ہے وہ تو آواز رلاؤں گا چلا جاؤں گا چند یادیں مجھے بچوں کی طرح پیاری ہیں ان کو سینے سے لگاؤں گا چلا جاؤں گا مدتوں بعد ہے وہ ہے وہ آیا ہوں پرانی گھر ہے وہ ہے وہ ہے وہ خود کو جی بھر کے نیت شوق چلا جاؤں گا ا سے جزیرے ہے وہ ہے وہ زیادہ نہیں رہنا اب تو آجکل ناو بناؤں گا چلا جاؤں گا تہذیب کی طرح لوٹ کے آؤںگا حسن ہر طرف پھول کھلاؤں گا چلا جاؤں گا

Hasan Abbasi

235 likes

More from Rehman Faris

یہی دعا ہے یہی ہے سلام بخیر عشق رفقا کرام مری سبھی گزارشیں عشق رفقا کرام دیار ہجر کی سونی ادا سے گلیوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ پکارتا ہے کوئی صبح و شام عشق رفقا کرام ہے وہ ہے وہ ہے وہ کر رہا تھا دعا کی گزارشیں ا سے سے سو کہ گئی ہے اداسی کی شام عشق رفقا کرام بڑے عجیب ہیں باشندے کے بعد از سلام ہمیشہ کہتے ہیں غزل وار عشق رفقا کرام یہ رہ ضرور تمہارے ہی گھر کو جاتی ہے لکھا ہوا ہے ی ہاں گام گام عشق رفقا کرام نقص کی ہے داستان عشق داستان عشقسو ا سے کتاب کا رکھا ہے نام عشق رفقا کرام پیام عشق کے پار مجھے یاد کر رہا ہے کوئی ابھی ملا ہے ادھر سے تال میل رفقا کرام

Rehman Faris

2 likes

رات آ بیٹھی ہے پہلو ہے وہ ہے وہ ستارو تخلیہ اب ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ درکار ہے خلوت سو یاروں تخلیہ آنکھ وا ہے اور حسن یار ہے سانحے نظر شش جہت کے باقی ماندہ سب نظارہ تخلیہ دیکھنے والا تھا منظر جب کہا درویش نے کج کلاہو بادشاہو تاج دارو تخلیہ غم سے اب ہوں گی براہ راست مری گفتگو دوستو تیمار دارو غم گسارو تخلیہ چار جانب ہے ہجوم لگ شناایان لگ سخن آج ملائے گا زور سے فار سے پکارو تخلیہ

Rehman Faris

2 likes

ہے وہ ہے وہ کار آمد ہوں یا بے کار ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ م گر اے یار تیرا یار ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ جو دیکھا ہے کسی کو مت بتانا علاقے بھر ہے وہ ہے وہ عزت دار ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ خود اپنی ذات کے سرمائے ہے وہ ہے وہ بھی صفر فیصد کا حصے دار ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ اور اب کیوں بین کرتے آ گئے ہوں کہا تھا نا بے حد بیمار ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ مری تو ساری دنیا ب سے تمہیں ہوں غلط کیا ہے جو دنیا دار ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ کہانی ہے وہ ہے وہ جو ہوتا ہی نہیں ہے کہانی کا وہی کردار ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ یہ طے کرتا ہے دستک دینے والا ک ہاں در ہوں ک ہاں دیوار ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ کوئی سمجھائے مری دشمنوں کو ذرا سی دوستی کی مار ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ مجھے پتھر سمجھ کر پیش مت آ ذرا سا رحم کر جاں دار ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ ب سے اتنا سوچ کر کیجے کوئی حکم بڑا منا زور خدمت گار ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ کوئی شک ہے تو بے شک آزما لے ترا ہونے کا دعوے دار ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ ا گر ہر حال ہے وہ ہے وہ خوش رہنا فن ہے

Rehman Faris

5 likes

مجھے غرض ہے ستارے تم لگ ماہتاب کے ساتھ چمک رہا ہے یہ دل پوری آب و تاب کے ساتھ نپی تلی سی محبت لگا بودا سا کرم نبھا رہے ہوں تعلق بڑے حساب کے ساتھ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ا سے لیے نہیں تھکتا تری تعاقب سے مجھے یقین ہے کہ پانی بھی ہے سراب کے ساتھ سوال وصل پہ انکار کرنے والے سن سوال ختم نہیں ہوگا ا سے جواب کے ساتھ خاموش جھیل کے پانی ہے وہ ہے وہ حقیقت اداسی تھی کہ دل بھی ڈوب گیا تو رات ماہتاب کے ساتھ جتا دیا کہ محبت ہے وہ ہے وہ غم بھی ہوتے ہیں دیا گلاب تو کانٹے بھی تھے گلاب کے ساتھ ہے وہ ہے وہ ہے وہ لے اڑوں گا تری خد و خال سے تعبیر لگ دیکھ مری طرف چشم نیم خواب کے ساتھ انتقامن یہ صرف بہانا ہے بات کرنے کا مری مجال کہ جھگڑا کروں جناب کے ساتھ وصال و ہجر کی سرحد پہ جھٹپٹے ہے وہ ہے وہ کہی حقیقت بے حجاب ہوا تھا م گر حجاب کے ساتھ شکستہ آئی لگ دیکھا پھروں اپنا دل دیکھا دکھائی دی مجھے تعبیر خواب خواب کے ساتھ و ہاں گلنار ج ہاں دونوں سمے ملتے ہیں ہے وہ ہے وہ ہے وہ کم نصیب تری چنو کامیاب کے ساتھ دیار ہ

Rehman Faris

4 likes

نظر اٹھائیں تو کیا کیا فسا لگ بنتا ہے سو سانحے یار نگاہیں جھکانا بنتا ہے حقیقت لاکھ بے خبر و بے وفا صحیح لیکن طلب کیا ہے گر ا سے نے تو جانا بنتا ہے رگوں تلک اتر آئی ہے میسج شب غم سو اب چراغ نہیں دل جلانا بنتا ہے پرائی آگ میرا گھر جلا رہی ہے سو اب خاموش رہنا نہیں غل مچانا بنتا ہے قدم قدم پہ توازن کی بات مت کیجے یہ مے کدہ ہے ی ہاں لڑکھڑانا بنتا ہے چیزیں والے تجھے ک سے طرح بتاؤں ہے وہ ہے وہ ہے وہ کہ یاد آنا نہیں تیرا آنا بنتا ہے یہ دیکھ کر کہ تری عاشقوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ بھی ہوں جمال یار ترا مسکرانا بنتا ہے جنوں بھی صرف دکھاوا ہے وحشتیں بھی غلط دیوا لگ ہے نہیں فار سے دیوا لگ بنتا ہے

Rehman Faris

1 likes

Similar Writers

View All ›

Our suggestions based on Rehman Faris.

Similar Moods

View All ›

More moods that pair well with Rehman Faris's ghazal.