دل لگا کر لگ گیا ان کو بھی تنہا بیٹھنا بارے اپنی بےکسی کی ہم نے پائی داد یاں ہیں زوال آمادہ اجزا آفرینش کے تمام مہر گردوں ہے چراغ رہگزار باد یاں ہے ترحم آفریں آرائش بے داد یاں اشک چشم دام ہے ہر دانہ صیاد یاں ہے گداز موم انداز چکیدن ہا خون نیش زنبور اصل ہے نشتر فساد یاں ناگوارا ہے ہمیں احسان صاحب دولتاں ہے زر گل بھی نظر میں جوہر فولاد یاں جنبش دل سے ہوئے ہیں عقدہ ہا کار وا کم ترین مزدور سنگیں دست ہے فرہاد یاں قطرہ ہا خون بسمل زیب داماں ہیں سرسری ہے تماشا تاب شوخی دیدار دوست گل چینی جلاد یاں
Related Ghazal
اسی جگہ پر ج ہاں کئی راستے ملیںگے پلٹ کے آئی تو سب سے پہلے تجھے ملیںگے ا گر کبھی تری نام پر جنگ ہوں گئی تو ہم ایسے بزدل بھی پہلی صف ہے وہ ہے وہ کھڑے ملیںگے تجھے یہ سڑکیں مری توسط سے جانتی ہیں تجھے ہمیشہ یہ سب اشارے کھلے ملیںگے
Tehzeeb Hafi
465 likes
چاند ستارے تم پھول پرندے شام سویرہ ایک طرف ساری دنیا ا سے کا چربہ ا سے کا چہرہ ایک طرف حقیقت لڑکر بھی سو جائے تو ا سے کا ماتھا چوموں ہے وہ ہے وہ ہے وہ ا سے سے محبت ایک طرف ہے ا سے سے جھگڑا ایک طرف ج سے اجازت پر حقیقت انگلی رکھ دے اس کا کو حقیقت دلوانی ہے ا سے کی خوشیاں سب سے اول سستا مہنگا ایک طرف زخموں پر مرہم لگواو لیکن ا سے کے ہاتھوں سے چارسازی ایک طرف ہے ا سے کا چھونا ایک طرف ساری دنیا جو بھی بولے سب کچھ شور شرابا ہے سب کا کہنا ایک طرف ہے ا سے کا کہنا ایک طرف ا سے نے ساری دنیا مانگی ہے وہ ہے وہ نے اس کا کو مانگا ہے ا سے کے سپنے ایک طرف ہے میرا سپنا ایک طرف
Varun Anand
406 likes
یہ غم کیا دل کی عادت ہے نہیں تو کسی سے کچھ شکایت ہے نہیں تو ہے حقیقت اک خواب بے تعبیر ا سے کو بھلا دینے کی نیت ہے نہیں تو کسی کے بن کسی کی یاد کے بن جیے جانے کی ہمت ہے نہیں تو کسی صورت بھی دل لگتا نہیں ہاں تو کچھ دن سے یہ حالت ہے نہیں تو تری ا سے حال پر ہے سب کو حیرت تجھے بھی ا سے پہ حیرت ہے نہیں تو ہم آہنگی نہیں دنیا سے تیری تجھے ا سے پر ندامت ہے نہیں تو ہوا جو کچھ یہی مقسوم تھا کیا یہی ساری مقسوم ہے نہیں تو اذیت ناک اذیت ناک سے تجھ کو اماں پانے کی حسرت ہے نہیں تو تو رہتا ہے خیال و خواب ہے وہ ہے وہ گم تو ا سے کی وجہ فرصت ہے نہیں تو سبب جو ا سے جدائی کا بنا ہے حقیقت مجھ سے خوبصورت ہے نہیں تو
Jaun Elia
355 likes
تیری مشکل لگ چھپاؤں گا چلا جاؤں گا خوشی آنکھوں ہے وہ ہے وہ آؤں گا چلا جاؤں گا اپنی دہلیز پہ کچھ دیر پڑا رہنے دے چنو ہی ہوش ہے وہ ہے وہ لگاؤں گا چلا جاؤں گا خواب لینے کوئی آئی کہ لگ آئی کوئی ہے وہ ہے وہ ہے وہ تو آواز رلاؤں گا چلا جاؤں گا چند یادیں مجھے بچوں کی طرح پیاری ہیں ان کو سینے سے لگاؤں گا چلا جاؤں گا مدتوں بعد ہے وہ ہے وہ آیا ہوں پرانی گھر ہے وہ ہے وہ ہے وہ خود کو جی بھر کے نیت شوق چلا جاؤں گا ا سے جزیرے ہے وہ ہے وہ زیادہ نہیں رہنا اب تو آجکل ناو بناؤں گا چلا جاؤں گا تہذیب کی طرح لوٹ کے آؤںگا حسن ہر طرف پھول کھلاؤں گا چلا جاؤں گا
Hasan Abbasi
235 likes
اتنا مجبور لگ کر بات بنانے لگ جائے ہم تری سر کی قسم جھوٹ ہی خانے لگ جائے اتنے سناٹے پیے مری سماعت نے کہ اب صرف آواز پہ چا ہوں تو نشانے لگ جائے ہے وہ ہے وہ ہے وہ ا گر اپنی جوانی کے سنا دوں قصے یہ جو افلاطون ہیں مری پاؤں دبانے لگ جائے
Mehshar Afridi
173 likes
More from Mirza Ghalib
حریف زار مشکل نہیں فسوں نیاز دعا قبول ہوں یا رب کہ خیرو دراز لگ ہوں بہرزا بیابان نورد وہم وجود ہنوز تری تصور ہے وہ ہے وہ ہے نشیب و فراز وصال جلوہ تماشا ہے پر دماغ ک ہاں کہ دیجئے آئی لگ انتظار کو پرداز ہر ایک ذرہ عاشق ہے آفتاب پرست گئی لگ خاک ہوئے پر ہوا جلوہ ناز لگ پوچھ وسعت مے خا لگ جنوں تاکتے ج ہاں یہ کاسہ گردوں ہے ایک خاک انداز فریب صنعت ایجاد کا تماشا دیکھ نگاہ عک سے فروش و خیال آئی لگ ساز زی ب سے کہ جلوہ صیاد حیرت آرا ہے اڑی ہے صفحہ خاطر سے صورت پرواز ہجوم فکر سے دل مثل موج لرزے ہے کہ شیشہ چھوؤں گا و صہبا آبگین گداز سرسری سے ترک وفا کا گماں حقیقت معنی ہے کہ کھینچیے پر طائر سے صورت پرواز ہنوز اے اثر دید ننگ رسوائی نگاہ فت لگ خرام و در دو عالم باز
Mirza Ghalib
0 likes
दिल मिरा सोज़-ए-निहाँ से बे-मुहाबा जल गया आतिश-ए-ख़ामोश की मानिंद गोया जल गया दिल में ज़ौक़-ए-वस्ल ओ याद-ए-यार तक बाक़ी नहीं आग इस घर में लगी ऐसी कि जो था जल गया मैं अदम से भी परे हूँ वर्ना ग़ाफ़िल बार-हा मेरी आह-ए-आतिशीं से बाल-ए-अन्क़ा जल गया अर्ज़ कीजे जौहर-ए-अंदेशा की गर्मी कहाँ कुछ ख़याल आया था वहशत का कि सहरा जल गया दिल नहीं तुझ को दिखाता वर्ना दाग़ों की बहार इस चराग़ाँ का करूँँ क्या कार-फ़रमा जल गया मैं हूँ और अफ़्सुर्दगी की आरज़ू 'ग़ालिब' कि दिल देख कर तर्ज़-ए-तपाक-ए-अहल-ए-दुनिया जल गया ख़ानमान-ए-आशिक़ाँ दुकान-ए-आतिश-बाज़ है शो'ला-रू जब हो गए गर्म-ए-तमाशा जल गया ता कुजा अफ़सोस-ए-गरमी-हा-ए-सोहबत ऐ ख़याल दिल बा-सोज़-ए-आतिश-ए-दाग़-ए-तमन्ना जल गया है 'असद' बेगाना-ए-अफ़्सुर्दगी ऐ बेकसी दिल ज़-अंदाज़-ए-तपाक-ए-अहल-ए-दुनिया जल गया दूद मेरा सुंबुलिस्ताँ से करे है हम-सरी बस-कि शौक़-ए-आतिश-गुल से सरापा जल गया शम्अ-रूयाँ की सर-अंगुश्त-ए-हिनाई देख कर ग़ुंचा-ए-गुल पर-फ़िशाँ परवाना-आसा जल गया
Mirza Ghalib
0 likes
رفتار عمر قطع رہ اضطراب ہے ا سے سال کے حساب کو برق آفتاب ہے مینا مے ہے سرو نشاط بہار سے بال تدررو جلوہ موج شراب ہے اڑھائی ہوا ہے پاشنا پا ثبات کا نے بھاگنے کی گوں زیر مزار لگ اقامت کی تاب ہے جاداد بادہ نوشی رنداں ہے شش جہت غافل گماں کرے ہے کہ گیتی خراب ہے نہظارہ کیا حریف ہوں ا سے برق حسن کا جوش بہار رکے کو ج سے کے نقاب ہے ہے وہ ہے وہ ہے وہ نامراد دل کی تسلی کو کیا کروں مانا کہ تری رکھ سے نگہ کامیاب ہے گزرا سرسری مسرت پیغام یار سے شکایت پہ مجھ کو رشک سوال و جواب ہے ظاہر ہے طرز قید سے صیاد کی غرض جو دا لگ دام ہے وہ ہے وہ ہے سو خوشی کباب ہے ب چشم دل لگ کر ہوں سے سیر لالہ زار زبان یہ ہر ورق ورق انتخاب ہے
Mirza Ghalib
1 likes
حسد سے دل ا گر افسردہ ہے گرم تماشا ہوں کہ چشم تنگ شاید کثرت نظارہ سے وا ہوں بقدر حسرت دل چاہیے ذوق معاصی بھی بھروں یک گوشہ دامن گر آب ہفت دریا ہوں ا گر حقیقت بے گل مراد گرم خرام ناز آ جاوے کف ہر خاک گلشن شکل قمری نالہ فرسا ہوں بہم بالیدن سنگ و گل صحرا یہ چاہے ہے کہ تار زادہ بھی کوہسار کو زنار مینا ہوں حریف وحشت ناز نسیم عشق جب آؤں کہ مثل غنچہ ساز یک گلستاں دل مہیا ہوں بجائے دا لگ خرمن فرش پا انداز بیضا قمری میرا حاصل حقیقت نسخہ ہے کہ ج سے سے خاک پیدا ہوں کرے کیا ساز بینش حقیقت شہید درد آگاہی جسے مو دماغ بے خو گرا خواب زلیخا ہوں دل جوں شمع بہر دعوت نظارہ لایانی نگہ لبریز خوشی و سینا معمور تمنا ہوں لگ دیکھیں رو یک دل سرد غیر از شمع کافوری خدایا ا سے دودمان بزم قسمیں گرم تماشا ہوں
Mirza Ghalib
0 likes
ہوں سے کو ہے نشاط کار کیا کیا لگ ہوں مرنا تو جینے کا مزہ کیا تجاہل پیشگی سے مدعا کیا ک ہاں تک اے سرپا ناز کیا کیا نوازش ہا بے جا دیکھتا ہوں شکایت ہا رنگیں کا گلہ کیا نگاہ بے مہابا چاہتا ہوں ت غافل ہا تمکین آزما کیا فروغ شعلہ خ سے یک نف سے ہے ہوں سے کو پا سے نامو سے وفا کیا نف سے موج محیط بے خو گرا ہے ت غافل ہا ساقی کا گلہ کیا دماغ عطر پیراہن نہیں ہے غم آوارگی ہا صبا کیا دل ہر قطرہ ہے ساز انل بحر ہم ا سے کے ہیں ہمارا پوچھنا کیا مہابا کیا ہے ہے وہ ہے وہ ضامن ادھر دیکھ شہیدان نگہ کا خوں بہا کیا سن اے غارت گر جن سے وفا سن شکست شیشہ دل کی صدا کیا کیا ک سے نے ج گر داری کا دعویٰ شکیب خاطر عاشق بھلا کیا یہ قاتل وعدہ دل پامال آزما کیوں یہ کافر فت لگ طاقت ربا کیا بلا جاں ہے تاکتے ا سے کی ہر بات عبارت کیا اشارت کیا ادا کیا
Mirza Ghalib
0 likes
Similar Writers
Our suggestions based on Mirza Ghalib.
Similar Moods
More moods that pair well with Mirza Ghalib's ghazal.







