ghazalKuch Alfaaz

حسد سے دل ا گر افسردہ ہے گرم تماشا ہوں کہ چشم تنگ شاید کثرت نظارہ سے وا ہوں بقدر حسرت دل چاہیے ذوق معاصی بھی بھروں یک گوشہ دامن گر آب ہفت دریا ہوں ا گر حقیقت بے گل مراد گرم خرام ناز آ جاوے کف ہر خاک گلشن شکل قمری نالہ فرسا ہوں بہم بالیدن سنگ و گل صحرا یہ چاہے ہے کہ تار زادہ بھی کوہسار کو زنار مینا ہوں حریف وحشت ناز نسیم عشق جب آؤں کہ مثل غنچہ ساز یک گلستاں دل مہیا ہوں بجائے دا لگ خرمن فرش پا انداز بیضا قمری میرا حاصل حقیقت نسخہ ہے کہ ج سے سے خاک پیدا ہوں کرے کیا ساز بینش حقیقت شہید درد آگاہی جسے مو دماغ بے خو گرا خواب زلیخا ہوں دل جوں شمع بہر دعوت نظارہ لایانی نگہ لبریز خوشی و سینا معمور تمنا ہوں لگ دیکھیں رو یک دل سرد غیر از شمع کافوری خدایا ا سے دودمان بزم قسمیں گرم تماشا ہوں

Related Ghazal

کیسے ا سے نے یہ سب کچھ مجھ سے چھپ کر بدلا چہرہ بدلا رستہ بدلا بعد ہے وہ ہے وہ گھر بدلا ہے وہ ہے وہ ہے وہ ا سے کے بارے ہے وہ ہے وہ یہ کہتا تھا لوگوں سے میرا نام بدل دینا حقیقت بے وجہ ا گر بدلا حقیقت بھی خوش تھا ا سے نے دل دے کر دل مانگا ہے ہے وہ ہے وہ ہے وہ بھی خوش ہوں ہے وہ ہے وہ نے پتھر سے پتھر بدلا ہے وہ ہے وہ ہے وہ نے کہا کیا مری خاطر خود کو بدلوگے اور پھروں ا سے نے نظریں بدلیں اور نمبر بدلا

Tehzeeb Hafi

435 likes

حقیقت بےوفا ہے تو کیا مت کہو برا اس کا کو کہ جو ہوا سو ہوا خوش رکھے خدا اس کا کو نظر لگ آئی تو ا سے کی تلاش ہے وہ ہے وہ رہنا کہی ملے تو پلٹ کر لگ دیکھنا اس کا کو حقیقت سادہ خوں تھا زمانے کے خم سمجھتا کیا ہوا کے ساتھ چلا لے اڑی ہوا اس کا کو حقیقت اپنے بارے ہے وہ ہے وہ کتنا ہے خوش گماں دیکھو جب اس کا کو ہے وہ ہے وہ بھی لگ دیکھوں تو دیکھنا اس کا کو

Naseer Turabi

244 likes

خاموش لب ہیں جھکی ہیں پلکیں دلوں ہے وہ ہے وہ الفت نئی نئی ہے ابھی تکلف ہے گفتگو ہے وہ ہے وہ ابھی محبت نئی نئی ہے ابھی لگ آئیںگی نیند جاناں کو ابھی لگ ہم کو سکون ملےگا ابھی تو دھڑکے گا دل زیادہ ابھی محبت نئی نئی ہے بہار کا آج پہلا دن ہے چلو چمن ہے وہ ہے وہ ٹہل کے آئیں فضا ہے وہ ہے وہ خوشبو نئی نئی ہے گلوں ہے وہ ہے وہ رنگت نئی نئی ہے جو خاندانی رئی سے ہیں حقیقت مزاج رکھتے ہیں نرم اپنا تمہارا لہجہ بتا رہا ہے تمہاری دولت نئی نئی ہے ذرا سا قدرت نے کیا نوازا کے آکے بیٹھے ہوں پہلی صف ہے وہ ہے وہ ہے وہ ابھی کیوں اڑنے لگے ہوا ہے وہ ہے وہ ابھی تو شہرت نئی نئی ہے بموں کی برسات ہوں رہی ہے پرانی جانباز سو رہے ہیں غلام دنیا کو کر رہا ہے حقیقت ج سے کی طاقت نئی نئی ہے

Shabeena Adeeb

232 likes

یہ ہے وہ ہے وہ نے کب کہا کہ مری حق ہے وہ ہے وہ فیصلہ کرے ا گر حقیقت مجھ سے خوش نہیں ہے تو مجھے جدا کرے ہے وہ ہے وہ ہے وہ ا سے کے ساتھ ج سے طرح گزارتا ہوں زندگی اسے تو چاہیے کہ میرا شکریہ ادا کرے مری دعا ہے اور اک طرح سے بد دعا بھی ہے خدا تمہیں تمہارے جیسی بیٹیاں عطا کرے بنا چکا ہوں ہے وہ ہے وہ محبتوں کے درد کی دوا ا گر کسی کو چاہیے تو مجھ سے رابطہ کرے

Tehzeeb Hafi

292 likes

ہے وہ ہے وہ نے جو کچھ بھی سوچا ہوا ہے ہے وہ ہے وہ حقیقت سمے آنے پہ کر جاؤں گا جاناں مجھے زہر لگتے ہوں اور ہے وہ ہے وہ کسی دن تمہیں پی کے مر جاؤں گا تو تو بینائی ہے مری تری علاوہ مجھے کچھ بھی دکھتا نہیں ہے وہ ہے وہ ہے وہ نے تجھ کو ا گر تری گھر پہ اتارا تو ہے وہ ہے وہ کیسے گھر جاؤں گا چاہتا ہوں تمہیں اور بے حد چاہتا ہوں تمہیں خود بھی معلوم ہے ہاں ا گر مجھ سے پوچھا کسی نے تو ہے وہ ہے وہ سیدھا منا پر مکر جاؤں گا تری دل سے تری شہر سے تری گھر سے تیری آنکھ سے تری در سے تیری گلیوں سے تری وطن سے نکالا ہوا ہوں کدھر جاؤں گا

Tehzeeb Hafi

241 likes

More from Mirza Ghalib

جھمکے تھی یہ شکل تجلی کو نور کی قسمت کھلی تری قد و رکھ سے ظہور کی اک خوں چکاں کفن ہے وہ ہے وہ کروڑوں حرف حکایات ہیں پڑتی ہے آنکھ تری شہیدوں پہ حور کی واعظ لگ جاناں پ یوں لگ کسی کو پلا سکو کیا بات ہے تمہاری شراب طہور کی لڑتا ہے مجھ سے حشر ہے وہ ہے وہ قاتل کہ کیوں اٹھا گویا ابھی سنی نہیں آواز شوق دید کی آمد بہار کی ہے جو بلبل ہے نغمہ سنج اڑتی سی اک خبر ہے زبانی طیور کی گو واں نہیں بچیں واں کے نکالے ہوئے تو ہیں کعبہ سے ان بتوں کو بھی نسبت ہے دور کی کیا فرض ہے کہ سب کو ملے ایک سا جواب آؤ لگ ہم بھی سیر کریں کوہ طور کی گرمی صحیح چھوؤں گا ہے وہ ہے وہ لیکن لگ ا سے دودمان کی ج سے سے بات ا سے نے شکایت ضرور کی تاکتے گر ا سے سفر ہے وہ ہے وہ مجھے ساتھ لے چلیں حج کا ثواب نذر کروں گا حضور کی

Mirza Ghalib

0 likes

ذکر میرا بب گرا بھی اسے جھمکے نہیں غیر کی بات بگڑ جائے تو کچھ دور نہیں وعدہ سیر گلستاں ہے خوشا طالع شوق مژدہ قتل مقدر ہے جو مذکور نہیں شاہد ہستی مطلق کی کمر تراش ہے عالم لوگ کہتے ہیں کہ ہے پر ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ جھمکے نہیں اللہ ری اپنا بھی حقیقت ہے وہ ہے وہ ہے دریا لیکن ہم کو تقلید تنک ظرفی منصور نہیں حسرت اے ذوق خرابی کہ حقیقت طاقت لگ رہی عشق پر عربدہ کی گوں زیر مزار تن رنجور نہیں ہے وہ ہے وہ ہے وہ جو کہتا ہوں کہ ہم لیںگے خوشگوار ہے وہ ہے وہ تمہیں ک سے رعونت سے حقیقت کہتے ہیں کہ ہم حور نہیں ظلم کر ظلم ا گر لطف دریغ آتا ہوں تو ت غافل ہے وہ ہے وہ کسی رنگ سے معذور نہیں صاف در گرا کش پیما لگ جم ہیں ہم لوگ وائے حقیقت بادہ کہ افشردہ انگور نہیں ہوں ظہوری کے مقابل ہے وہ ہے وہ خفائی تاکتے مری دعوی پہ یہ حجت ہے کہ مشہور نہیں

Mirza Ghalib

2 likes

غم نہیں ہوتا ہے نحیف و زار کو بیش از یک نہفس فکر آشیاں سے کرتے ہیں روشن شم ماتم خانہ ہم محفلیں برہم کرے ہے گنجفہ باز خیال ہیں ورق گردانی نہیرنگ یک بت خانہ ہم باوجود یک جہاں ہنگامہ پیدائی نہیں ہیں چراغان شبستان دل پروانہ ہم زوف سے ہے نے قناعت سے یہ ترک جستجو ہیں وبال تکیہ گاہ ہمت مردانہ ہم دائم الحبس اس میں ہیں لاکھوں تمناہیں سرسری جانتے ہیں سینہ پر خوں کو زندان خانہ ہم بس کہ ہیں بد مست بشکن بشکن مے خانہ ہم دیدہ ساغر کو سمجھتے ہیں خط پیمانہ ہم بس کہ ہر یک مو زلف افشاں سے ہے تار شعاع شانہ صفت کو سمجھے ہیں دست شانہ ہم مشک از خود رفتگی سے ہیں بگلزار خیال آشنا تعبیر خواب سبزہ بیگانہ ہم فرت بے خوابی سے ہیں شب ہا ہجر یار میں جوں زبان شمع داغ گرمی افسانہ ہم شام غم میں سوز عشق آتش رخسار سے پر فشاں سوختن ہیں صورت پروانہ ہم حسرت عرض تمنا یاں سے سمجھا چاہیے دو جہاں حشر زبان خشک ہیں جوں شانہ ہم کشتی عالم بطوفان تغافل دے کہ ہیں عالم آب گداز جوہر افسانہ ہم وحشت بے ربطی پیچ و خم ہستی

Mirza Ghalib

0 likes

ہم سے کھل جاؤ بوقت مے پرستی ایک دن ورنہ ہم چھیڑیں گے رکھ کر عذر مستی ایک دن غرہ اوج بنا نہ عالم نہ امکان نہ ہو اس کا کا بلندی کے نصیبوں میں ہے پستی ایک دن قرض کی پیتے تھے مے لیکن سمجھتے تھے کہ ہاں رنگ لاوےگی ہماری فاقہ مستی ایک دن نغمہ ہا غم کو بھی اے دل غنیمت جانیے بے صدا ہو جائےگا یہ ساز ہستی ایک دن دھول دھپا اس کا سراپا ناز کا شیوہ نہیں ہم ہی کر بیٹھے تھے غالب پیش دستی ایک دن

Mirza Ghalib

1 likes

ا سے بزم ہے وہ ہے وہ مجھے نہیں بنتی حیا کیے بیٹھا رہا اگرچہ اشارے ہوا کیے دل ہی تو ہے سیاست درباں سے ڈر گیا تو ہے وہ ہے وہ ہے وہ اور جاؤں در سے تری بن صدا کیے رکھتا پھروں ہوں خرقہ و سجادہ رہن مے مدت ہوئی ہے دعوت آب و ہوا کیے کنج طبیعت ہی گزرتی ہے ہوں گرچہ خیرو حضرت بھی کل کہی گے کہ ہم کیا کیا کیے مقدور ہوں تو خاک سے پوچھوں کہ اے لئیم تو نے حقیقت گنج ہا گراں مایہ کیا کیے ک سے روز تہمتیں لگ تراشا کیے عدو ک سے دن ہمارے سر پہ لگ آرے چلا کیے صحبت ہے وہ ہے وہ غیر کی لگ پڑی ہوں کہی یہ پربھاکر دینے لگا ہے بوسہ بغیر التجا کیے ضد کی ہے اور بات م گر پربھاکر بری نہیں بھولے سے ا سے نے سیکڑوں نازکی وفا کیے تاکتے تمہیں کہو کہ ملےگا جواب کیا مانا کہ جاناں کہا کیے اور حقیقت سنا کیے

Mirza Ghalib

1 likes

Similar Writers

View All ›

Our suggestions based on Mirza Ghalib.

Similar Moods

View All ›

More moods that pair well with Mirza Ghalib's ghazal.