ghazalKuch Alfaaz

دل میرا تیرا تاب فرمان ہے کیا کروں اب تیرا کفر ہی میرا ایمان ہے کیا کروں با ہوش ہوں م گر میرا دامن ہے چاک چاک عالم یہ دیکھ دیکھ کے حیران ہے کیا کروں ہر طرح کا سکون ہے ہر طرح کا ہے کیف پھروں بھی یہ میرا قلب پریشاں ہے کیا کروں کہتا نہیں ہوں اور زما لگ ہے با خبر چہرے سے دل کا حال نمائیں ہے کیا کروں دامن کروں لگ چاک یہ ممکن تو ہے م گر مضطر ہر ایک تار گریباں ہے کیا کروں سادہ سا اک ورق ہوں کتاب حیات کا حسرت سے اب لگ اب کوئی ارمان ہے کیا کروں ہر سمت پا رہا ہوں وہی رنگ دل فریب ہاتھوں ہے وہ ہے وہ کفر کے میرا ایمان ہے کیا کروں داغوں کا قلب زار سے ممکن تو ہے علاج ان کے ہی دم سے دل ہے وہ ہے وہ چراغاں ہے کیا کروں اک بے وفا کے واسطے سے سب کچھ لٹا دیا بہزاد اب لگ دین لگ ایمان ہے کیا کروں

Related Ghazal

تمہیں ب سے یہ بتانا چاہتا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ جاناں سے کیا چھپانا چاہتا ہوں کبھی مجھ سے بھی کوئی جھوٹ بولو ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہاں ہے وہ ہے وہ ہاں ملانا چاہتا ہوں یہ جو کھڑکی ہے نقشے ہے وہ ہے وہ تمہارے ی ہاں ہے وہ ہے وہ در بنانا چاہتا ہوں اداکاری بے حد دکھ دے رہی ہے ہے وہ ہے وہ ہے وہ سچ مچ مسکرانا چاہتا ہوں پروں ہے وہ ہے وہ تیر ہے پنجوں ہے وہ ہے وہ تنکے ہے وہ ہے وہ ہے وہ یہ چڑیا اڑانا چاہتا ہوں لیے بیٹھا ہوں گھنگرو پھول اندھیرا ترا ہنسنا بنانا چاہتا ہوں بیگا لگ غم عشق کی جاناں کو مبارک ہے وہ ہے وہ ہے وہ ب سے خا لگ کمانا چاہتا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ سارے شہر کی بیساخیوں کو تری در پر نرم گوئی چاہتا ہوں مجھے جاناں سے اندھیرا ہی پڑےگا ہے وہ ہے وہ ہے وہ جاناں کو یاد آنا چاہتا ہوں

Fahmi Badayuni

249 likes

سینا کچا رہا ہوں تو کیا چپ رہے کوئی کیوں چیخ چیخ کر لگ گلہ سروہا لے کوئی ثابت ہوا سکون دل و جاں کہی نہیں رشتوں ہے وہ ہے وہ ڈھونڈتا ہے تو ڈھونڈا کرے کوئی ترک تعلقات کوئی مسئلہ نہیں یہ تو حقیقت راستہ ہے کہ ب سے چل پڑے کوئی دیوار جانتا تھا جسے ہے وہ ہے وہ حقیقت دھول تھی اب مجھ کو اعتماد کی دعوت لگ دے کوئی ہے وہ ہے وہ ہے وہ خود یہ چاہتا ہوں کہ حالات ہوں خراب مری خلاف زہر اگلتا پھیرے کوئی اے بے وجہ اب تو مجھ کو سبھی کچھ قبول ہے یہ بھی قبول ہے کہ تجھے چھین لے کوئی ہاں ٹھیک ہے ہے وہ ہے وہ اپنی انا کا مریض ہوں آخر مری مزاج ہے وہ ہے وہ کیوں دخل دے کوئی اک بے وجہ کر رہا ہے ابھی تک وفا کا ذکر کاش ا سے زبان دراز کا منا نوچ لے کوئی

Jaun Elia

77 likes

زبان تو کھول نظر تو ملا جواب تو دے ہے وہ ہے وہ ہے وہ کتنی بار لٹا ہوں مجھے حساب تو دے تری بدن کی ودھی ہے وہ ہے وہ ہے اتار لکھاوت ہے وہ ہے وہ ہے وہ تجھے کیسے چڑھاو مجھے کتاب تو دے تیرا سوال ہے ساقی کہ زندگی کیا ہے جواب دیتا ہوں پہلے مجھے شراب تو دے

Rahat Indori

190 likes

ستم ڈھاتے ہوئے سوچا کروگے ہمارے ساتھ جاناں ایسا کروگے انگوٹھی تو مجھے لوٹا رہے ہوں انگوٹھی کے نشان کا کیا کروگے ہے وہ ہے وہ ہے وہ جاناں سے اب تمنائیں بھی نہیں ہوں تو کیا ا سے بات پر جھگڑا کروگے میرا دامن تمہیں تھامے ہوئے ہوں میرا دامن تمہیں میلا کروگے بتاؤ وعدہ کر کے آوگے نا کے پچھلی بار کے جیسا کروگے حقیقت دلہن بن کے رخصت ہوں گئی ہے ک ہاں تک کار کا پیچھا کروگے مجھے ب سے یوں ہی جاناں سے پوچھنا تھا ا گر ہے وہ ہے وہ مر گیا تو تو کیا کروگے

Zubair Ali Tabish

140 likes

مری لیے تو عشق کا وعدہ ہے شاعری آدھا سرور جاناں ہوں تو آدھا ہے شاعری رودراکش ہاتھ ہے وہ ہے وہ ہے تو سینے ہے وہ ہے وہ اوم ہے اندھیرا ہے میرا دل مری رادھا ہے شاعری اپنا تو میل جول ہی ب سے عاشقوں سے ہے درویش کا ب سے ایک لبادہ ہے شاعری ہوں آشنا کوئی تو مہ لقا ہے اپنا رنگ بے رموزیوں کے واسطے سادہ ہے شاعری جاناں سامنے ہوں اور مری دسترسی ہے وہ ہے وہ ہوں ا سے سمے مری دل کا ارادہ ہے شاعری بھگوان ہوں خدا ہوں محبت ہوں یا بدن ج سے سمت بھی چلو یہی زادہ ہے شاعری ا سے لیے بھی عشق ہی لکھتا ہوں ہے وہ ہے وہ علی میرا کسی سے آخری وعدہ ہے شاعری

Ali Zaryoun

70 likes

More from Behzad Lakhnavi

خدا کو ڈھونڈ رہا تھا کہی خدا لگ ملا زہے نصیب کہ بندے کو مدعا لگ ملا نگاہ شوق ہے وہ ہے وہ بے نوریوں کا رنگ بڑھا نگاہ شوق کو جب کوئی دوسرا لگ ملا ہم اپنی بے خو گرا شوق پر نثار رہے خو گرا کو ڈھونڈ لیا جب ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ خدا لگ ملا تمہاری بزم ہے وہ ہے وہ لب کھول کر ہوا خاموش حقیقت بد نصیب جسے کوئی آسرا لگ ملا ہر ایک زرے ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ خود تو آ رہا تھا نظر عجیب بات تمہارا کہی پتا لگ ملا ب سے اک سکون ہی ہم کو لگ مل سکا تا عمر وگر لگ تری تصدق ہے وہ ہے وہ ہم کو کیا لگ ملا تری نگاہ محبت نواز ہی کی قسم کہ آج تک تو ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ تجھ سا دوسرا لگ ملا ترا جمال فضاؤں ہے وہ ہے وہ منتشر تھا م گر نگاہ شوق کو پھروں بھی ترا پتا لگ ملا ہزار ٹھوکریں خائی ہزار سو بہزاد جہان حسن ہے وہ ہے وہ کوئی بھی با وفا لگ ملا

Behzad Lakhnavi

0 likes

محبت مستقل کیف آفرین معلوم ہوتی ہے خلش دل ہے وہ ہے وہ ج ہاں پر تھی وہیں معلوم ہوتی ہے تری جلووں سے ٹکرا کر نہیں معلوم ہوتی ہے نظر بھی ایک خا لگ ب جاں معلوم ہوتی ہے نقوش پا کے صدقے بندگی عشق کے قرباں مجھے ہر سمت اپنی ہی جبیں معلوم ہوتی ہے مری رگ رگ ہے وہ ہے وہ یوں تو دوڑتی ہے عشق کی بجلی کہی ظاہر نہیں ہوتی کہی معلوم ہوتی ہے یہ اعجاز نظر کب ہے یہ کب ہے حسن کی کاوش حسین جو چیز ہوتی ہے حسین معلوم ہوتی ہے نومی گرا توڑ دے مری دل مضطر خدا حافظ زبان حسن پر اب تک نہیں معلوم ہوتی ہے اسے کیوں مے کدہ کہتا ہے بتلا دے مری ساقی ی ہاں کی سر ز ہے وہ ہے وہ ہے وہ خلد بریں معلوم ہوتی ہے انتقامن اے چارہ گر ہاں ہاں خلش تو ج سے کو کہتا ہے یہ اجازت دل ہے وہ ہے وہ نہیں دل کے قریں معلوم ہوتی ہے کسی کے پا چھوؤں گا پر جھکی ہے اور نہیں اٹھتی مجھے بہزاد یہ اپنی جبیں معلوم ہوتی ہے

Behzad Lakhnavi

0 likes

ہے خرد من گرا یہی با ہوش دیوا لگ رہے ہے وہی اپنا کہ جو اپنے سے بیگا لگ رہے کفر سے یہ الت جائیں کر رہا ہوں بار بار جاؤں تو کعبہ م گر رکھ سو مے خا لگ رہے شمع سوزاں کچھ خبر بھی ہے تجھے و مست غم حسن محفل ہے جبیں جب تک کہ پروا لگ رہے زخم دل اے زخم دل ناسور کیوں بنتا نہیں لطف تو جب ہے کہ افسانے ہے وہ ہے وہ افسا لگ رہے ہم کو واعظ کا بھی دل رکھنا ہے ساقی کا بھی دل ہم تو توبہ کر کے بھی پابند مے خا لگ رہے آخرش کب تک رہیں گی حسن کی نادانیاں حسن سے پوچھو کہ کب تک عشق دیوا لگ رہے فیض راہ عشق ہے یا فیض جذب عشق ہے ہم تو منزل پا کے بھی منزل سے بیگا لگ رہے مختلف ہے وہ ہے وہ ہم دعائیں کر رہے ہیں بار بار ا سے طرف بھی چشم مست پیر مے خا لگ رہے آج تو ساقی سے یہ بہزاد نے باندھا ہے عہد لب پہ توبہ ہوں م گر ہاتھوں ہے وہ ہے وہ پیما لگ رہے

Behzad Lakhnavi

0 likes

اک بےوفا کو درد کا درماں بنا لیا ہم نے تو آہ کفر کو ایمان بنا لیا دل کی خلش پسندیاں ہیں کہ اللہ کی پناہ تیر نظر کو جان رگ جاں بنا لیا مجھ کو خبر نہیں مری دل کو خبر نہیں ک سے کی نظر نے بندہ احسان بنا لیا محسو سے کر کے ہم نے محبت کا ہر الم خواب سبک کو خواب پریشاں بنا لیا دست جنوں کی عقدہ کشائی تو دیکھیے دامن کو بے نیاز گریباں بنا لیا تسکین دل کی ہم نے بھی پرواہ چھوڑ دی ہر موج غم کو حاصل طوفان بنا لیا جب ان کا نام آ گیا تو ہم مضطرب ہوئے آ ہوں کو اپنی آب و زیست کا عنوان بنا لیا ہم نے تو اپنے دل ہے وہ ہے وہ حقیقت غم ہوں کہ ہوں الم جو کوئی آ گیا تو اسے مہمان بنا لیا آئی لگ دیکھنے کی ضرورت لگ تھی کوئی اپنے کو خود ہی آپ نے حیران بنا لیا اک بے وفا پہ کر کے تصدق دل و ج گر بہزاد ہم نے خود کو پریشاں بنا لیا

Behzad Lakhnavi

0 likes

دیوانہ بنانا ہے تو دیوانہ بنا دے ورنہ کہیں تقدیر تماشا نہ بنا دے اے دیکھنے والو مجھے ہنس ہنس کے نہ دیکھو تم کو بھی محبت کہیں مجھ سا نہ بنا دے میں ڈھونڈ رہا ہوں مری وہ شمع کہاں ہے جو بزم کی ہر چیز کو پروانہ بنا دے آخر کوئی صورت بھی تو ہو خانہ دل کی کعبہ نہیں بنتا ہے تو بت خانہ بنا دے بہزاد ہر اک گام پہ اک سجدہ مستی ہر ذرّے کو سنگ در جانانا بنا دے

Behzad Lakhnavi

32 likes

Similar Writers

View All ›

Our suggestions based on Behzad Lakhnavi.

Similar Moods

View All ›

More moods that pair well with Behzad Lakhnavi's ghazal.