ghazalKuch Alfaaz

اک بےوفا کو درد کا درماں بنا لیا ہم نے تو آہ کفر کو ایمان بنا لیا دل کی خلش پسندیاں ہیں کہ اللہ کی پناہ تیر نظر کو جان رگ جاں بنا لیا مجھ کو خبر نہیں مری دل کو خبر نہیں ک سے کی نظر نے بندہ احسان بنا لیا محسو سے کر کے ہم نے محبت کا ہر الم خواب سبک کو خواب پریشاں بنا لیا دست جنوں کی عقدہ کشائی تو دیکھیے دامن کو بے نیاز گریباں بنا لیا تسکین دل کی ہم نے بھی پرواہ چھوڑ دی ہر موج غم کو حاصل طوفان بنا لیا جب ان کا نام آ گیا تو ہم مضطرب ہوئے آ ہوں کو اپنی آب و زیست کا عنوان بنا لیا ہم نے تو اپنے دل ہے وہ ہے وہ حقیقت غم ہوں کہ ہوں الم جو کوئی آ گیا تو اسے مہمان بنا لیا آئی لگ دیکھنے کی ضرورت لگ تھی کوئی اپنے کو خود ہی آپ نے حیران بنا لیا اک بے وفا پہ کر کے تصدق دل و ج گر بہزاد ہم نے خود کو پریشاں بنا لیا

Related Ghazal

یہ غم کیا دل کی عادت ہے نہیں تو کسی سے کچھ شکایت ہے نہیں تو ہے حقیقت اک خواب بے تعبیر ا سے کو بھلا دینے کی نیت ہے نہیں تو کسی کے بن کسی کی یاد کے بن جیے جانے کی ہمت ہے نہیں تو کسی صورت بھی دل لگتا نہیں ہاں تو کچھ دن سے یہ حالت ہے نہیں تو تری ا سے حال پر ہے سب کو حیرت تجھے بھی ا سے پہ حیرت ہے نہیں تو ہم آہنگی نہیں دنیا سے تیری تجھے ا سے پر ندامت ہے نہیں تو ہوا جو کچھ یہی مقسوم تھا کیا یہی ساری مقسوم ہے نہیں تو اذیت ناک اذیت ناک سے تجھ کو اماں پانے کی حسرت ہے نہیں تو تو رہتا ہے خیال و خواب ہے وہ ہے وہ گم تو ا سے کی وجہ فرصت ہے نہیں تو سبب جو ا سے جدائی کا بنا ہے حقیقت مجھ سے خوبصورت ہے نہیں تو

Jaun Elia

355 likes

تیری مشکل لگ چھپاؤں گا چلا جاؤں گا خوشی آنکھوں ہے وہ ہے وہ آؤں گا چلا جاؤں گا اپنی دہلیز پہ کچھ دیر پڑا رہنے دے چنو ہی ہوش ہے وہ ہے وہ لگاؤں گا چلا جاؤں گا خواب لینے کوئی آئی کہ لگ آئی کوئی ہے وہ ہے وہ ہے وہ تو آواز رلاؤں گا چلا جاؤں گا چند یادیں مجھے بچوں کی طرح پیاری ہیں ان کو سینے سے لگاؤں گا چلا جاؤں گا مدتوں بعد ہے وہ ہے وہ آیا ہوں پرانی گھر ہے وہ ہے وہ ہے وہ خود کو جی بھر کے نیت شوق چلا جاؤں گا ا سے جزیرے ہے وہ ہے وہ زیادہ نہیں رہنا اب تو آجکل ناو بناؤں گا چلا جاؤں گا تہذیب کی طرح لوٹ کے آؤںگا حسن ہر طرف پھول کھلاؤں گا چلا جاؤں گا

Hasan Abbasi

235 likes

اتنا مجبور لگ کر بات بنانے لگ جائے ہم تری سر کی قسم جھوٹ ہی خانے لگ جائے اتنے سناٹے پیے مری سماعت نے کہ اب صرف آواز پہ چا ہوں تو نشانے لگ جائے ہے وہ ہے وہ ہے وہ ا گر اپنی جوانی کے سنا دوں قصے یہ جو افلاطون ہیں مری پاؤں دبانے لگ جائے

Mehshar Afridi

173 likes

مجھ کو دروازے پر ہی روک لیا جاتا ہے مری آنے سے بھلا آپ کا کیا جاتا ہے جاناں ا گر جانے لگے ہوں تو پلٹ کر مت دیکھو موت لکھکر تو توڑ دیا جاتا ہے تجھ کو بتلاتا م گر شرم بے حد آتی ہے تیری تصویر سے جو کام لیا جاتا ہے

Tehzeeb Hafi

90 likes

حقیقت تو اچھا ہے غزل تیرا سہارا ہے مجھے ور لگ فکروں نے تو ب سے گھیر کے مارا ہے مجھے ج سے کی تصویر ہے وہ ہے وہ کاغذ پہ بنا بھی لگ سکا ا سے نے مہن گرا سے ہتھیلی پہ اتارا ہے مجھے غیر کے ہاتھ سے مرہم مجھے جھمکے نہیں جاناں م گر زخم بھی دے دو تو بے شرط ہے مجھے

Abrar Kashif

54 likes

More from Behzad Lakhnavi

محبت مستقل کیف آفرین معلوم ہوتی ہے خلش دل ہے وہ ہے وہ ج ہاں پر تھی وہیں معلوم ہوتی ہے تری جلووں سے ٹکرا کر نہیں معلوم ہوتی ہے نظر بھی ایک خا لگ ب جاں معلوم ہوتی ہے نقوش پا کے صدقے بندگی عشق کے قرباں مجھے ہر سمت اپنی ہی جبیں معلوم ہوتی ہے مری رگ رگ ہے وہ ہے وہ یوں تو دوڑتی ہے عشق کی بجلی کہی ظاہر نہیں ہوتی کہی معلوم ہوتی ہے یہ اعجاز نظر کب ہے یہ کب ہے حسن کی کاوش حسین جو چیز ہوتی ہے حسین معلوم ہوتی ہے نومی گرا توڑ دے مری دل مضطر خدا حافظ زبان حسن پر اب تک نہیں معلوم ہوتی ہے اسے کیوں مے کدہ کہتا ہے بتلا دے مری ساقی ی ہاں کی سر ز ہے وہ ہے وہ ہے وہ خلد بریں معلوم ہوتی ہے انتقامن اے چارہ گر ہاں ہاں خلش تو ج سے کو کہتا ہے یہ اجازت دل ہے وہ ہے وہ نہیں دل کے قریں معلوم ہوتی ہے کسی کے پا چھوؤں گا پر جھکی ہے اور نہیں اٹھتی مجھے بہزاد یہ اپنی جبیں معلوم ہوتی ہے

Behzad Lakhnavi

0 likes

خدا کو ڈھونڈ رہا تھا کہی خدا لگ ملا زہے نصیب کہ بندے کو مدعا لگ ملا نگاہ شوق ہے وہ ہے وہ بے نوریوں کا رنگ بڑھا نگاہ شوق کو جب کوئی دوسرا لگ ملا ہم اپنی بے خو گرا شوق پر نثار رہے خو گرا کو ڈھونڈ لیا جب ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ خدا لگ ملا تمہاری بزم ہے وہ ہے وہ لب کھول کر ہوا خاموش حقیقت بد نصیب جسے کوئی آسرا لگ ملا ہر ایک زرے ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ خود تو آ رہا تھا نظر عجیب بات تمہارا کہی پتا لگ ملا ب سے اک سکون ہی ہم کو لگ مل سکا تا عمر وگر لگ تری تصدق ہے وہ ہے وہ ہم کو کیا لگ ملا تری نگاہ محبت نواز ہی کی قسم کہ آج تک تو ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ تجھ سا دوسرا لگ ملا ترا جمال فضاؤں ہے وہ ہے وہ منتشر تھا م گر نگاہ شوق کو پھروں بھی ترا پتا لگ ملا ہزار ٹھوکریں خائی ہزار سو بہزاد جہان حسن ہے وہ ہے وہ کوئی بھی با وفا لگ ملا

Behzad Lakhnavi

0 likes

ہے خرد من گرا یہی با ہوش دیوا لگ رہے ہے وہی اپنا کہ جو اپنے سے بیگا لگ رہے کفر سے یہ الت جائیں کر رہا ہوں بار بار جاؤں تو کعبہ م گر رکھ سو مے خا لگ رہے شمع سوزاں کچھ خبر بھی ہے تجھے و مست غم حسن محفل ہے جبیں جب تک کہ پروا لگ رہے زخم دل اے زخم دل ناسور کیوں بنتا نہیں لطف تو جب ہے کہ افسانے ہے وہ ہے وہ افسا لگ رہے ہم کو واعظ کا بھی دل رکھنا ہے ساقی کا بھی دل ہم تو توبہ کر کے بھی پابند مے خا لگ رہے آخرش کب تک رہیں گی حسن کی نادانیاں حسن سے پوچھو کہ کب تک عشق دیوا لگ رہے فیض راہ عشق ہے یا فیض جذب عشق ہے ہم تو منزل پا کے بھی منزل سے بیگا لگ رہے مختلف ہے وہ ہے وہ ہم دعائیں کر رہے ہیں بار بار ا سے طرف بھی چشم مست پیر مے خا لگ رہے آج تو ساقی سے یہ بہزاد نے باندھا ہے عہد لب پہ توبہ ہوں م گر ہاتھوں ہے وہ ہے وہ پیما لگ رہے

Behzad Lakhnavi

0 likes

دیوانہ بنانا ہے تو دیوانہ بنا دے ورنہ کہیں تقدیر تماشا نہ بنا دے اے دیکھنے والو مجھے ہنس ہنس کے نہ دیکھو تم کو بھی محبت کہیں مجھ سا نہ بنا دے میں ڈھونڈ رہا ہوں مری وہ شمع کہاں ہے جو بزم کی ہر چیز کو پروانہ بنا دے آخر کوئی صورت بھی تو ہو خانہ دل کی کعبہ نہیں بنتا ہے تو بت خانہ بنا دے بہزاد ہر اک گام پہ اک سجدہ مستی ہر ذرّے کو سنگ در جانانا بنا دے

Behzad Lakhnavi

32 likes

تجھ پر مری محبت قربان ہوں لگ جائے یہ کفر بڑھتے بڑھتے ایمان ہوں لگ جائے اللہ ری بے نقابی ا سے جان مدعا کی مری نگاہ حسرت حیران ہوں لگ جائے مری طرف لگ دیکھو اپنی نظر کو روکو دنیا کرنے والے ہے وہ ہے وہ ہیجان ہوں لگ جائے پلکوں پہ رک گیا تو ہے آ کر جو ایک آنسو یہ اللہ ری بڑھتے بڑھتے طوفان ہوں لگ جائے حد ستم تو ہے بھی حد وفا نہیں ہے ظالم ترا ستم بھی احسان ہوں لگ جائے ہوتی نہیں ہے وقعت ہوتی نہیں ہے عزت جب تک کہ کوئی انساں انسان ہوں لگ جائے ا سے سمے تک مکمل ہوتا نہیں ہے کوئی جب تک کہ خود کو اپنی پہچان ہوں لگ جائے بہزاد ا سے لیے ہے وہ ہے وہ کہتا نہیں ہوں دل کی ڈرتا ہوں سن کے دنیا حیران ہوں لگ جائے

Behzad Lakhnavi

0 likes

Similar Writers

View All ›

Our suggestions based on Behzad Lakhnavi.

Similar Moods

View All ›

More moods that pair well with Behzad Lakhnavi's ghazal.