محبت مستقل کیف آفرین معلوم ہوتی ہے خلش دل ہے وہ ہے وہ ج ہاں پر تھی وہیں معلوم ہوتی ہے تری جلووں سے ٹکرا کر نہیں معلوم ہوتی ہے نظر بھی ایک خا لگ ب جاں معلوم ہوتی ہے نقوش پا کے صدقے بندگی عشق کے قرباں مجھے ہر سمت اپنی ہی جبیں معلوم ہوتی ہے مری رگ رگ ہے وہ ہے وہ یوں تو دوڑتی ہے عشق کی بجلی کہی ظاہر نہیں ہوتی کہی معلوم ہوتی ہے یہ اعجاز نظر کب ہے یہ کب ہے حسن کی کاوش حسین جو چیز ہوتی ہے حسین معلوم ہوتی ہے نومی گرا توڑ دے مری دل مضطر خدا حافظ زبان حسن پر اب تک نہیں معلوم ہوتی ہے اسے کیوں مے کدہ کہتا ہے بتلا دے مری ساقی ی ہاں کی سر ز ہے وہ ہے وہ ہے وہ خلد بریں معلوم ہوتی ہے انتقامن اے چارہ گر ہاں ہاں خلش تو ج سے کو کہتا ہے یہ اجازت دل ہے وہ ہے وہ نہیں دل کے قریں معلوم ہوتی ہے کسی کے پا چھوؤں گا پر جھکی ہے اور نہیں اٹھتی مجھے بہزاد یہ اپنی جبیں معلوم ہوتی ہے
Related Ghazal
تو سمجھتا ہے تیرا ہجر بے شرط کر کے بیٹھ جائیں گے محبت سے کنارہ کر کے خود کشی کرنے نہیں دی تیری آنکھوں نے مجھے لوٹ آیا ہوں ہے وہ ہے وہ دریا کا نظارہ کر کے جی تو کرتا ہے اسے پاؤں تلے خیرو کو چھوڑ دیتا ہوں مقدر کا ستارہ کر کے کرنا ہوں ترک تعلق تو کچھ ایسے کرنا ہم کو تکلیف لگ ہوں ذکر تمہارا کر کے ا سے لیے اس کا کو دلاتا ہوں ہے وہ ہے وہ غصہ تابش تاکہ دیکھوں ہے وہ ہے وہ اسے اور بھی پیارا کر کے
Abbas Tabish
31 likes
ہاتھ خالی ہیں تری شہر سے جاتے جاتے جان ہوتی تو مری جان لٹاتے جاتے اب تو ہر ہاتھ کا پتھر ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ پہچانتا ہے عمر گزری ہے تری شہر ہے وہ ہے وہ آتے جاتے اب کے مایو سے ہوا یاروں کو رخصت کر کے جا رہے تھے تو کوئی زخم لگاتے جاتے رینگنے کی بھی اجازت نہیں ہم کو ور لگ ہم جدھر جاتے نئے پھول کھلاتے جاتے ہے وہ ہے وہ ہے وہ تو جلتے ہوئے صحراؤں کا اک پتھر تھا جاناں تو دریا تھے مری پیا سے بجھاتے جاتے مجھ کو رونے کا سلیقہ بھی نہیں ہے شاید لوگ ہنستے ہیں مجھے دیکھ کے آتے جاتے ہم سے پہلے بھی مسافر کئی گزرے ہوں گے کم سے کم راہ کے پتھر تو ہٹاتے جاتے
Rahat Indori
102 likes
حقیقت منہ لگاتا ہے جب کوئی کام ہوتا ہے جو اس کا کا ہوتا ہے سمجھو غلام ہوتا ہے کسی کا ہوں کے دوبارہ نہ آنا میری طرف محبتوں ہے وہ ہے وہ حلالہ حرام ہوتا ہے اسے بھی گنتے ہیں ہم لوگ اہل خانہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہمارے یاں تو شجر کا بھی نام ہوتا ہے تجھ ایسے بے وجہ کے ہوتے ہیں ضرب سے دوست بہت تجھ ایسا بے وجہ بہت جلد آم ہوتا ہے کبھی لگی ہے تمہیں کوئی شام آخری شام ہمارے ساتھ یہ ہر ایک شام ہوتا ہے
Umair Najmi
81 likes
ہم نے کب چاہا کہ حقیقت بے وجہ ہمارا ہوں جائے اتنا دکھ جائے کہ آنکھوں کا گزارا ہوں جائے ہم جسے پا سے بٹھا لیں حقیقت بچھڑ جاتا ہے جاناں جسے ہاتھ لگا دو حقیقت تمہارا ہوں جائے جاناں کو لگتا ہے کہ جاناں جیت گئے ہوں مجھ سے ہے یہی بات تو پھروں کھیل دوبارہ ہوں جائے ہے محبت بھی غضب طرز تجارت کہ ی ہاں ہر دکاں دار یہ چاہے کہ خسارہ ہوں جائے
Yasir Khan
92 likes
پوچھ لیتے حقیقت ب سے مزاج میرا کتنا آسان تھا علاج میرا چارہ گر کی نظر بتاتی ہے حال اچھا نہیں ہے آج میرا ہے وہ ہے وہ ہے وہ تو رہتا ہوں دشت ہے وہ ہے وہ مصروف قی سے کرتا ہے کام کاج میرا کوئی کاسا مدد کو بھیج اللہ مری ب سے ہے وہ ہے وہ نہیں ہے تاج میرا ہے وہ ہے وہ ہے وہ محبت کی بادشاہت ہوں مجھ پہ چلتا نہیں ہے راج میرا
Fahmi Badayuni
96 likes
More from Behzad Lakhnavi
ہے خرد من گرا یہی با ہوش دیوا لگ رہے ہے وہی اپنا کہ جو اپنے سے بیگا لگ رہے کفر سے یہ الت جائیں کر رہا ہوں بار بار جاؤں تو کعبہ م گر رکھ سو مے خا لگ رہے شمع سوزاں کچھ خبر بھی ہے تجھے و مست غم حسن محفل ہے جبیں جب تک کہ پروا لگ رہے زخم دل اے زخم دل ناسور کیوں بنتا نہیں لطف تو جب ہے کہ افسانے ہے وہ ہے وہ افسا لگ رہے ہم کو واعظ کا بھی دل رکھنا ہے ساقی کا بھی دل ہم تو توبہ کر کے بھی پابند مے خا لگ رہے آخرش کب تک رہیں گی حسن کی نادانیاں حسن سے پوچھو کہ کب تک عشق دیوا لگ رہے فیض راہ عشق ہے یا فیض جذب عشق ہے ہم تو منزل پا کے بھی منزل سے بیگا لگ رہے مختلف ہے وہ ہے وہ ہم دعائیں کر رہے ہیں بار بار ا سے طرف بھی چشم مست پیر مے خا لگ رہے آج تو ساقی سے یہ بہزاد نے باندھا ہے عہد لب پہ توبہ ہوں م گر ہاتھوں ہے وہ ہے وہ پیما لگ رہے
Behzad Lakhnavi
0 likes
خدا کو ڈھونڈ رہا تھا کہی خدا لگ ملا زہے نصیب کہ بندے کو مدعا لگ ملا نگاہ شوق ہے وہ ہے وہ بے نوریوں کا رنگ بڑھا نگاہ شوق کو جب کوئی دوسرا لگ ملا ہم اپنی بے خو گرا شوق پر نثار رہے خو گرا کو ڈھونڈ لیا جب ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ خدا لگ ملا تمہاری بزم ہے وہ ہے وہ لب کھول کر ہوا خاموش حقیقت بد نصیب جسے کوئی آسرا لگ ملا ہر ایک زرے ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ خود تو آ رہا تھا نظر عجیب بات تمہارا کہی پتا لگ ملا ب سے اک سکون ہی ہم کو لگ مل سکا تا عمر وگر لگ تری تصدق ہے وہ ہے وہ ہم کو کیا لگ ملا تری نگاہ محبت نواز ہی کی قسم کہ آج تک تو ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ تجھ سا دوسرا لگ ملا ترا جمال فضاؤں ہے وہ ہے وہ منتشر تھا م گر نگاہ شوق کو پھروں بھی ترا پتا لگ ملا ہزار ٹھوکریں خائی ہزار سو بہزاد جہان حسن ہے وہ ہے وہ کوئی بھی با وفا لگ ملا
Behzad Lakhnavi
0 likes
خوشی محسو سے کرتا ہوں لگ غم محسو سے کرتا ہوں م گر ہاں دل ہے وہ ہے وہ کچھ کچھ زیر و بم محسو سے کرتا ہوں محبت کی یہ نیرنگی بھی دنیا سے نرالی ہے الم کوئی نہیں لیکن الم محسو سے کرتا ہوں مری دی ہے وہ ہے وہ اب باقی نہیں ہے ذوق کفر و دیں ہے وہ ہے وہ ہے وہ اک مرکز پہ اب صاحب فن محسو سے کرتا ہوں جو لطف زندگی مل رہا تھا گھٹتا جاتا ہے خلش جو دل ہے وہ ہے وہ رہتی تھی حقیقت کم محسو سے کرتا ہوں تمہارے ذکر پر کب منحصر ہے دل کی بے تابی کسی کا ذکر ہوں ہے وہ ہے وہ چشم نم محسو سے کرتا ہوں کبھی پاتا ہوں دل ہے وہ ہے وہ ایک حشر درد بیتابی کبھی ہے وہ ہے وہ اپنے دل ہے وہ ہے وہ درد و غم محسو سے کرتا ہوں زبان پر مری شکوہ آ نہیں سکتا زمانے کا کہ ہر عالم کو ہے وہ ہے وہ ان کا کرم محسو سے کرتا ہوں یہ دل ہے وہ ہے وہ ہے جو گھبراہٹ یہ آنکھوں ہے وہ ہے وہ ہے جو آنسو ا سے احسان کو بھی بالا کرم محسو سے کرتا ہوں خوشی کی مجھ کو اب بہزاد کچھ حاجت نہیں باقی کہ غم کو بھی ہے وہ ہے وہ اب ان کا کرم محسو سے کرتا ہوں
Behzad Lakhnavi
0 likes
اک بےوفا کو درد کا درماں بنا لیا ہم نے تو آہ کفر کو ایمان بنا لیا دل کی خلش پسندیاں ہیں کہ اللہ کی پناہ تیر نظر کو جان رگ جاں بنا لیا مجھ کو خبر نہیں مری دل کو خبر نہیں ک سے کی نظر نے بندہ احسان بنا لیا محسو سے کر کے ہم نے محبت کا ہر الم خواب سبک کو خواب پریشاں بنا لیا دست جنوں کی عقدہ کشائی تو دیکھیے دامن کو بے نیاز گریباں بنا لیا تسکین دل کی ہم نے بھی پرواہ چھوڑ دی ہر موج غم کو حاصل طوفان بنا لیا جب ان کا نام آ گیا تو ہم مضطرب ہوئے آ ہوں کو اپنی آب و زیست کا عنوان بنا لیا ہم نے تو اپنے دل ہے وہ ہے وہ حقیقت غم ہوں کہ ہوں الم جو کوئی آ گیا تو اسے مہمان بنا لیا آئی لگ دیکھنے کی ضرورت لگ تھی کوئی اپنے کو خود ہی آپ نے حیران بنا لیا اک بے وفا پہ کر کے تصدق دل و ج گر بہزاد ہم نے خود کو پریشاں بنا لیا
Behzad Lakhnavi
0 likes
دیوانہ بنانا ہے تو دیوانہ بنا دے ورنہ کہیں تقدیر تماشا نہ بنا دے اے دیکھنے والو مجھے ہنس ہنس کے نہ دیکھو تم کو بھی محبت کہیں مجھ سا نہ بنا دے میں ڈھونڈ رہا ہوں مری وہ شمع کہاں ہے جو بزم کی ہر چیز کو پروانہ بنا دے آخر کوئی صورت بھی تو ہو خانہ دل کی کعبہ نہیں بنتا ہے تو بت خانہ بنا دے بہزاد ہر اک گام پہ اک سجدہ مستی ہر ذرّے کو سنگ در جانانا بنا دے
Behzad Lakhnavi
32 likes
Similar Writers
Our suggestions based on Behzad Lakhnavi.
Similar Moods
More moods that pair well with Behzad Lakhnavi's ghazal.







