تو سمجھتا ہے تیرا ہجر بے شرط کر کے بیٹھ جائیں گے محبت سے کنارہ کر کے خود کشی کرنے نہیں دی تیری آنکھوں نے مجھے لوٹ آیا ہوں ہے وہ ہے وہ دریا کا نظارہ کر کے جی تو کرتا ہے اسے پاؤں تلے خیرو کو چھوڑ دیتا ہوں مقدر کا ستارہ کر کے کرنا ہوں ترک تعلق تو کچھ ایسے کرنا ہم کو تکلیف لگ ہوں ذکر تمہارا کر کے ا سے لیے اس کا کو دلاتا ہوں ہے وہ ہے وہ غصہ تابش تاکہ دیکھوں ہے وہ ہے وہ اسے اور بھی پیارا کر کے
Related Ghazal
مری ب سے ہے وہ ہے وہ نہیں ورنا قدرت کا لکھا ہوا کاٹتا تری حصے ہے وہ ہے وہ آئی برے دن کوئی دوسرا کاٹتا لاریوں سے زیادہ بہاؤ تھا تری ہر اک لفظ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ اشارہ نہیں کاٹ سکتا تیری بات کیا کاٹتا ہے وہ ہے وہ ہے وہ نے بھی زندگی اور شب اے ہجر کاٹی ہے سب کی طرح ویسے بہتر تو یہ تھا کے ہے وہ ہے وہ کم سے کم کچھ نیا کاٹتا تری ہوتے ہوئے موم بتی بجھائی کسی اور نے کیا خوشی رہ گئی تھی جنم دن کی ہے وہ ہے وہ کیک کیا کاٹتا کوئی بھی تو نہیں جو مری بھوکے رہنے پہ ناراض ہوں جیل ہے وہ ہے وہ تیری تصویر ہوتی تو ہنسکر سزا کاٹتا
Tehzeeb Hafi
456 likes
تمہیں ب سے یہ بتانا چاہتا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ جاناں سے کیا چھپانا چاہتا ہوں کبھی مجھ سے بھی کوئی جھوٹ بولو ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہاں ہے وہ ہے وہ ہاں ملانا چاہتا ہوں یہ جو کھڑکی ہے نقشے ہے وہ ہے وہ تمہارے ی ہاں ہے وہ ہے وہ در بنانا چاہتا ہوں اداکاری بے حد دکھ دے رہی ہے ہے وہ ہے وہ ہے وہ سچ مچ مسکرانا چاہتا ہوں پروں ہے وہ ہے وہ تیر ہے پنجوں ہے وہ ہے وہ تنکے ہے وہ ہے وہ ہے وہ یہ چڑیا اڑانا چاہتا ہوں لیے بیٹھا ہوں گھنگرو پھول اندھیرا ترا ہنسنا بنانا چاہتا ہوں بیگا لگ غم عشق کی جاناں کو مبارک ہے وہ ہے وہ ہے وہ ب سے خا لگ کمانا چاہتا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ سارے شہر کی بیساخیوں کو تری در پر نرم گوئی چاہتا ہوں مجھے جاناں سے اندھیرا ہی پڑےگا ہے وہ ہے وہ ہے وہ جاناں کو یاد آنا چاہتا ہوں
Fahmi Badayuni
249 likes
تری پیچھے ہوں گی دنیا پاگل بن کیا بولا ہے وہ ہے وہ نے کچھ سمجھا پاگل بن صحرا ہے وہ ہے وہ بھی ڈھونڈ لے دریا پاگل بن ورنا مر جائےگا پیاسا پاگل بن آدھا دا لگ آدھا پاگل نہیں نہیں نہیں اس کا کا کو پانا ہے تو پورا پاگل بن دانائی دکھلانے سے کچھ حاصل نہیں پاگل خا لگ ہے یہ دنیا پاگل بن دیکھیں تجھ کو لوگ تو پاگل ہوں جائیں اتنا عمدہ اتنا اعلیٰ پاگل بن لوگوں سے ڈر لگتا ہے تو گھر ہے وہ ہے وہ بیٹھ ج ہنستے ہے تو مری جیسا پاگل بن
Varun Anand
81 likes
حقیقت بےوفا ہے تو کیا مت کہو برا اس کا کو کہ جو ہوا سو ہوا خوش رکھے خدا اس کا کو نظر لگ آئی تو ا سے کی تلاش ہے وہ ہے وہ رہنا کہی ملے تو پلٹ کر لگ دیکھنا اس کا کو حقیقت سادہ خوں تھا زمانے کے خم سمجھتا کیا ہوا کے ساتھ چلا لے اڑی ہوا اس کا کو حقیقت اپنے بارے ہے وہ ہے وہ کتنا ہے خوش گماں دیکھو جب اس کا کو ہے وہ ہے وہ بھی لگ دیکھوں تو دیکھنا اس کا کو
Naseer Turabi
244 likes
زبان تو کھول نظر تو ملا جواب تو دے ہے وہ ہے وہ ہے وہ کتنی بار لٹا ہوں مجھے حساب تو دے تری بدن کی ودھی ہے وہ ہے وہ ہے اتار لکھاوت ہے وہ ہے وہ ہے وہ تجھے کیسے چڑھاو مجھے کتاب تو دے تیرا سوال ہے ساقی کہ زندگی کیا ہے جواب دیتا ہوں پہلے مجھے شراب تو دے
Rahat Indori
190 likes
More from Abbas Tabish
ٹوٹتے عشق ہے وہ ہے وہ کچھ ہاتھ بٹاتے جاتے سارا ملبا مری اوپر لگ گراتے جاتے اتنی عجلت ہے وہ ہے وہ بھی کیا آنکھ سے اوجھل ہونا جا رہے تھے تو مجھے جاناں نظر آتے جاتے کم سے کم رکھتا پلٹنے کی توقع جاناں سے ہاتھ ہے وہ ہے وہ ہاتھ لیا تھا تو دباتے جاتے کن اندھیروں ہے وہ ہے وہ مجھے چھوڑ دیا ہے جاناں نے ا سے سے بہتر تھا مجھے آگ لگاتے جاتے ہے وہ ہے وہ ہے وہ بھی ہوتا تری رستے کے درختوں ہے وہ ہے وہ درخت ا سے طرح دیکھ تو لیتا تجھے آتے جاتے
Abbas Tabish
12 likes
کوئی ٹکرا کے جمال دنیا بھی تو ہوں سکتا ہے مری تعمیر ہے وہ ہے وہ پتھر بھی تو ہوں سکتا ہے کیوں لگ اے بے وجہ تجھے ہاتھ لگا کر دیکھوں تو مری وہم سے بڑھ کر بھی تو ہوں سکتا ہے تو ہی تو ہے تو پھروں اب جملہ خیرو تیرا شک اور کسی پر بھی تو ہوں سکتا ہے یہ جو ہے پھول ہتھیلی پہ اسے پھول لگ جان میرا دل جسم سے باہر بھی تو ہوں سکتا ہے شاخ پر بیٹھے پرندے کو اڑانے والے پیڑ کے ہاتھ ہے وہ ہے وہ پتھر بھی تو ہوں سکتا ہے کیا ضروری ہے کہ باہر ہی نمو ہوں مری میرا کھلنا مری اندر بھی تو ہوں سکتا ہے یہ جو ہے ریت کا ٹیلا مری قدموں کے تلے کوئی دم ہے وہ ہے وہ مری اوپر بھی تو ہوں سکتا ہے کیا ضروری ہے کہ ہم ہار کے جیتیں تابش عشق کا کھیل برابر بھی تو ہوں سکتا ہے
Abbas Tabish
8 likes
جاناں ہوں تو قریب اور قریب رگ جاں ہوں پھروں کیوں یہ مجھے پوچھنا پڑتا ہے ک ہاں ہوں ممکن ہے کہ ا سے باغ ہے وہ ہے وہ دم گھٹنے کا باعث خوشبو جسے کہتے ہیں حقیقت پھولوں کا دھواں ہوں جاناں سے تو پڑھی جاتی نہیں اشکوں کی سطرے چنو یہ کسی اور ج ہاں کی زبان ہوں ا سے طرح سر فرش عزا بیٹھی ہے تابش چنو یہ اداسی کسی مقتول کی ماں ہوں ماں تھی تو مجھے رات نہیں پڑتی تھی باہر اب کوئی نہیں پوچھتا عبا سے ک ہاں ہوں
Abbas Tabish
7 likes
اب دلائیں کرنے کی بھی آسانی نہیں کون سی سی جا ہے ج ہاں ہے وہ ہے وہ زیر نگرانی نہیں بات کر اے خوبصورت بے وجہ کوئی بات کر اور ثابت کر تجھے کوئی پریشانی نہیں ہم گزارش پر گزارا کر رہے ہے ان دنوں تجھ سے تجھ کو چھین لینے کی ابھی ٹھانی نہیں
Abbas Tabish
12 likes
لگ پوچھ کتنے ہے بیتاب دیکھنے کے لیے ہم ایک ساتھ کئیں خواب دیکھنے کے لیے ہے وہ ہے وہ ہے وہ اپنے آپ سے باہر نکل کے بیٹھ گیا تو کہ آج آئیں گے احباب دیکھنے کے لیے زمانے بعد بل آخر حقیقت رات آ گئی ہے کہ لوگ نکلے ہے مہتاب دیکھنے کے لیے سنہری لڑ کیوں ان کو ملو ملو لگ ملو غریب ہوتے ہے ب سے خواب دیکھنے کے لیے مجھے یقی ہے کہ جاناں آئی لگ بھی دیکھوگے مری شکست کے اسباب دیکھنے کے لیے
Abbas Tabish
16 likes
Similar Writers
Our suggestions based on Abbas Tabish.
Similar Moods
More moods that pair well with Abbas Tabish's ghazal.







