ghazalKuch Alfaaz

کوئی ٹکرا کے جمال دنیا بھی تو ہوں سکتا ہے مری تعمیر ہے وہ ہے وہ پتھر بھی تو ہوں سکتا ہے کیوں لگ اے بے وجہ تجھے ہاتھ لگا کر دیکھوں تو مری وہم سے بڑھ کر بھی تو ہوں سکتا ہے تو ہی تو ہے تو پھروں اب جملہ خیرو تیرا شک اور کسی پر بھی تو ہوں سکتا ہے یہ جو ہے پھول ہتھیلی پہ اسے پھول لگ جان میرا دل جسم سے باہر بھی تو ہوں سکتا ہے شاخ پر بیٹھے پرندے کو اڑانے والے پیڑ کے ہاتھ ہے وہ ہے وہ پتھر بھی تو ہوں سکتا ہے کیا ضروری ہے کہ باہر ہی نمو ہوں مری میرا کھلنا مری اندر بھی تو ہوں سکتا ہے یہ جو ہے ریت کا ٹیلا مری قدموں کے تلے کوئی دم ہے وہ ہے وہ مری اوپر بھی تو ہوں سکتا ہے کیا ضروری ہے کہ ہم ہار کے جیتیں تابش عشق کا کھیل برابر بھی تو ہوں سکتا ہے

Related Ghazal

سینا کچا رہا ہوں تو کیا چپ رہے کوئی کیوں چیخ چیخ کر لگ گلہ سروہا لے کوئی ثابت ہوا سکون دل و جاں کہی نہیں رشتوں ہے وہ ہے وہ ڈھونڈتا ہے تو ڈھونڈا کرے کوئی ترک تعلقات کوئی مسئلہ نہیں یہ تو حقیقت راستہ ہے کہ ب سے چل پڑے کوئی دیوار جانتا تھا جسے ہے وہ ہے وہ حقیقت دھول تھی اب مجھ کو اعتماد کی دعوت لگ دے کوئی ہے وہ ہے وہ ہے وہ خود یہ چاہتا ہوں کہ حالات ہوں خراب مری خلاف زہر اگلتا پھیرے کوئی اے بے وجہ اب تو مجھ کو سبھی کچھ قبول ہے یہ بھی قبول ہے کہ تجھے چھین لے کوئی ہاں ٹھیک ہے ہے وہ ہے وہ اپنی انا کا مریض ہوں آخر مری مزاج ہے وہ ہے وہ کیوں دخل دے کوئی اک بے وجہ کر رہا ہے ابھی تک وفا کا ذکر کاش ا سے زبان دراز کا منا نوچ لے کوئی

Jaun Elia

77 likes

اب مری ساتھ نہیں ہے سمجھے نا سمجھانے کی بات نہیں ہے سمجھے نا جاناں مانگوگے اور تمہیں مل جائےگا پیار ہے یہ خیرات نہیں ہے سمجھے نا ہے وہ ہے وہ ہے وہ بادل ہوں ج سے پر چا ہوں برسوں گا مری کوئی ذات نہیں ہے سمجھے نا اپنا خالی ہاتھ مجھے مت دکھلاؤ ا سے ہے وہ ہے وہ ہے وہ میرا ہاتھ نہیں ہے سمجھے نا

Zubair Ali Tabish

66 likes

حقیقت بےوفا ہے تو کیا مت کہو برا اس کا کو کہ جو ہوا سو ہوا خوش رکھے خدا اس کا کو نظر لگ آئی تو ا سے کی تلاش ہے وہ ہے وہ رہنا کہی ملے تو پلٹ کر لگ دیکھنا اس کا کو حقیقت سادہ خوں تھا زمانے کے خم سمجھتا کیا ہوا کے ساتھ چلا لے اڑی ہوا اس کا کو حقیقت اپنے بارے ہے وہ ہے وہ کتنا ہے خوش گماں دیکھو جب اس کا کو ہے وہ ہے وہ بھی لگ دیکھوں تو دیکھنا اس کا کو

Naseer Turabi

244 likes

کیسے ا سے نے یہ سب کچھ مجھ سے چھپ کر بدلا چہرہ بدلا رستہ بدلا بعد ہے وہ ہے وہ گھر بدلا ہے وہ ہے وہ ہے وہ ا سے کے بارے ہے وہ ہے وہ یہ کہتا تھا لوگوں سے میرا نام بدل دینا حقیقت بے وجہ ا گر بدلا حقیقت بھی خوش تھا ا سے نے دل دے کر دل مانگا ہے ہے وہ ہے وہ ہے وہ بھی خوش ہوں ہے وہ ہے وہ نے پتھر سے پتھر بدلا ہے وہ ہے وہ ہے وہ نے کہا کیا مری خاطر خود کو بدلوگے اور پھروں ا سے نے نظریں بدلیں اور نمبر بدلا

Tehzeeb Hafi

435 likes

آنکھ کو آئی لگ سمجھتے ہوں جاناں بھی سب کی طرح سمجھتے ہوں دوست اب کیوں نہیں سمجھتے جاناں جاناں تو کہتے تھے نا سمجھتے ہوں اپنا غم جاناں کو کیسے سمجھاؤں سب سے ہارا ہوا سمجھتے ہوں مری دنیا اجڑ گئی ا سے ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ جاناں اسے حادثہ سمجھتے ہوں آخری راستہ تو باقی ہے آخری راستہ سمجھتے ہوں

Himanshi babra KATIB

76 likes

More from Abbas Tabish

ٹوٹتے عشق ہے وہ ہے وہ کچھ ہاتھ بٹاتے جاتے سارا ملبا مری اوپر لگ گراتے جاتے اتنی عجلت ہے وہ ہے وہ بھی کیا آنکھ سے اوجھل ہونا جا رہے تھے تو مجھے جاناں نظر آتے جاتے کم سے کم رکھتا پلٹنے کی توقع جاناں سے ہاتھ ہے وہ ہے وہ ہاتھ لیا تھا تو دباتے جاتے کن اندھیروں ہے وہ ہے وہ مجھے چھوڑ دیا ہے جاناں نے ا سے سے بہتر تھا مجھے آگ لگاتے جاتے ہے وہ ہے وہ ہے وہ بھی ہوتا تری رستے کے درختوں ہے وہ ہے وہ درخت ا سے طرح دیکھ تو لیتا تجھے آتے جاتے

Abbas Tabish

12 likes

یہ بتا یوم محبت کا سماں ہے کہ نہیں شہر کا شہر گلابوں کی دکان ہے کہ نہیں عادتن ا سے کے لیے پھول خریدے ورنا نہیں معلوم حقیقت ا سے بار ی ہاں ہے کہ نہیں یہ تری بعد جو لیتا ہوں ہے وہ ہے وہ لمبی سانسیں مجھ کو یہ جاننا ہے جسم ہے وہ ہے وہ جاں ہے کہ نہیں ہم تو پھولوں کے عوض پھول لیا کرتے ہیں کیا خبر ا سے رواج آپ کے ی ہاں ہے کہ نہیں ا سے گلی کا تو پتا ٹھیک بتایا تو نے یہ بتا ا سے ہے وہ ہے وہ حقیقت دلدار مکان ہے کہ نہیں پہلے تو مجھ کو دلاتے ہے حقیقت غصہ تابش اور پھروں پوچھتے ہے منا ہے وہ ہے وہ زبان ہے کہ نہیں

Abbas Tabish

13 likes

جاناں ہوں تو قریب اور قریب رگ جاں ہوں پھروں کیوں یہ مجھے پوچھنا پڑتا ہے ک ہاں ہوں ممکن ہے کہ ا سے باغ ہے وہ ہے وہ دم گھٹنے کا باعث خوشبو جسے کہتے ہیں حقیقت پھولوں کا دھواں ہوں جاناں سے تو پڑھی جاتی نہیں اشکوں کی سطرے چنو یہ کسی اور ج ہاں کی زبان ہوں ا سے طرح سر فرش عزا بیٹھی ہے تابش چنو یہ اداسی کسی مقتول کی ماں ہوں ماں تھی تو مجھے رات نہیں پڑتی تھی باہر اب کوئی نہیں پوچھتا عبا سے ک ہاں ہوں

Abbas Tabish

7 likes

दश्त में प्यास बुझाते हुए मर जाते हैं हम परिंदे कहीं जाते हुए मर जाते हैं हम हैं सूखे हुए तालाब पे बैठे हुए हंस जो तअल्लुक़ को निभाते हुए मर जाते हैं घर पहुँचता है कोई और हमारे जैसा हम तेरे शहर से जाते हुए मर जाते हैं किस तरह लोग चले जाते हैं उठ कर चुप -चाप हम तो ये ध्यान में लेट हुए मर जाते हैं उन के भी क़त्ल का इल्ज़ाम हमारे सर है जो हमें ज़हर पिलाते हुए मर जाते हैं ये मोहब्बत की कहानी नहीं मरती लेकिन लोग किरदार निभाते हुए मर जाते हैं हम हैं वो टूटी हुई कश्तियों वाले 'ताबिश ' जो किनारों को मिलाते हुए मर जाते हैं

Abbas Tabish

21 likes

مری تنہائی بڑھاتے ہیں چلے جاتے ہیں ہن سے تالاب پہ آتے ہیں چلے جاتے ہیں ا سے لیے اب ہے وہ ہے وہ کسی کو نہیں جانے دیتا جو مجھے چھوڑ کے جاتے ہیں چلے جاتے ہیں مری آنکھوں سے بہا کرتی ہے ان کی خوشبو رفتگاں خواب ہے وہ ہے وہ آتے ہیں چلے جاتے ہیں شا گرا ای مارگ کا ماحول بنا رہتا ہے آپ آتے ہیں رلاتے ہیں چلے جاتے ہیں کب تمہیں عشق پہ مجبور کیا ہے ہم نے ہم تو ب سے یاد دلاتے ہیں چلے جاتے ہیں آپ کو کون تماشائی سمجھتا ہے ی ہاں آپ تو آگ لگتے ہیں چلے جاتے ہیں ہاتھ پتھر کو بھاوں تو سگن ای دنیا حیرتی بن کے دکھتے ہیں چلے جاتے ہیں

Abbas Tabish

6 likes

Similar Writers

View All ›

Our suggestions based on Abbas Tabish.

Similar Moods

View All ›

More moods that pair well with Abbas Tabish's ghazal.