ghazalKuch Alfaaz

ٹوٹتے عشق ہے وہ ہے وہ کچھ ہاتھ بٹاتے جاتے سارا ملبا مری اوپر لگ گراتے جاتے اتنی عجلت ہے وہ ہے وہ بھی کیا آنکھ سے اوجھل ہونا جا رہے تھے تو مجھے جاناں نظر آتے جاتے کم سے کم رکھتا پلٹنے کی توقع جاناں سے ہاتھ ہے وہ ہے وہ ہاتھ لیا تھا تو دباتے جاتے کن اندھیروں ہے وہ ہے وہ مجھے چھوڑ دیا ہے جاناں نے ا سے سے بہتر تھا مجھے آگ لگاتے جاتے ہے وہ ہے وہ ہے وہ بھی ہوتا تری رستے کے درختوں ہے وہ ہے وہ درخت ا سے طرح دیکھ تو لیتا تجھے آتے جاتے

Abbas Tabish12 Likes

Related Ghazal

یہی اپنی کہانی تھی میاں پہلے بے حد پہلے حقیقت لڑکی جاں ہماری تھی میاں پہلے بے حد پہلے وہم مجھ کو یہ بھاتا ہے,अभी مری دیوانی ہے م گر مری دیوانی تھی میاں پہلے بے حد پہلے رقیب آ کر بتاتے ہیں ی ہاں تل ہے و ہاں تل ہے ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ یہ جانکاری تھی میاں پہلے بے حد پہلے ادب سے مانگ کر مافی بھری محفل یہ کہتا ہوں حقیقت لڑکی خاندانی تھی میاں پہلے بے حد پہلے

Anand Raj Singh

526 likes

چاند ستارے تم پھول پرندے شام سویرہ ایک طرف ساری دنیا ا سے کا چربہ ا سے کا چہرہ ایک طرف حقیقت لڑکر بھی سو جائے تو ا سے کا ماتھا چوموں ہے وہ ہے وہ ہے وہ ا سے سے محبت ایک طرف ہے ا سے سے جھگڑا ایک طرف ج سے اجازت پر حقیقت انگلی رکھ دے اس کا کو حقیقت دلوانی ہے ا سے کی خوشیاں سب سے اول سستا مہنگا ایک طرف زخموں پر مرہم لگواو لیکن ا سے کے ہاتھوں سے چارسازی ایک طرف ہے ا سے کا چھونا ایک طرف ساری دنیا جو بھی بولے سب کچھ شور شرابا ہے سب کا کہنا ایک طرف ہے ا سے کا کہنا ایک طرف ا سے نے ساری دنیا مانگی ہے وہ ہے وہ نے اس کا کو مانگا ہے ا سے کے سپنے ایک طرف ہے میرا سپنا ایک طرف

Varun Anand

406 likes

یہ غم کیا دل کی عادت ہے نہیں تو کسی سے کچھ شکایت ہے نہیں تو ہے حقیقت اک خواب بے تعبیر ا سے کو بھلا دینے کی نیت ہے نہیں تو کسی کے بن کسی کی یاد کے بن جیے جانے کی ہمت ہے نہیں تو کسی صورت بھی دل لگتا نہیں ہاں تو کچھ دن سے یہ حالت ہے نہیں تو تری ا سے حال پر ہے سب کو حیرت تجھے بھی ا سے پہ حیرت ہے نہیں تو ہم آہنگی نہیں دنیا سے تیری تجھے ا سے پر ندامت ہے نہیں تو ہوا جو کچھ یہی مقسوم تھا کیا یہی ساری مقسوم ہے نہیں تو اذیت ناک اذیت ناک سے تجھ کو اماں پانے کی حسرت ہے نہیں تو تو رہتا ہے خیال و خواب ہے وہ ہے وہ گم تو ا سے کی وجہ فرصت ہے نہیں تو سبب جو ا سے جدائی کا بنا ہے حقیقت مجھ سے خوبصورت ہے نہیں تو

Jaun Elia

355 likes

اسی جگہ پر ج ہاں کئی راستے ملیںگے پلٹ کے آئی تو سب سے پہلے تجھے ملیںگے ا گر کبھی تری نام پر جنگ ہوں گئی تو ہم ایسے بزدل بھی پہلی صف ہے وہ ہے وہ کھڑے ملیںگے تجھے یہ سڑکیں مری توسط سے جانتی ہیں تجھے ہمیشہ یہ سب اشارے کھلے ملیںگے

Tehzeeb Hafi

465 likes

کیوں ڈریں زندگی ہے وہ ہے وہ کیا ہوگا کچھ لگ ہوگا تو غضب ہوگا ہنستی آنکھوں ہے وہ ہے وہ جھانک کر دیکھو کوئی آنسو کہی چھپا ہوگا ان دنوں نا امید سا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ شاید ا سے نے بھی یہ سنا ہوگا دیکھ کر جاناں کو سوچتا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ کیا کسی نے تمہیں چھوا ہوگا

Javed Akhtar

371 likes

More from Abbas Tabish

کوئی ٹکرا کے جمال دنیا بھی تو ہوں سکتا ہے مری تعمیر ہے وہ ہے وہ پتھر بھی تو ہوں سکتا ہے کیوں لگ اے بے وجہ تجھے ہاتھ لگا کر دیکھوں تو مری وہم سے بڑھ کر بھی تو ہوں سکتا ہے تو ہی تو ہے تو پھروں اب جملہ خیرو تیرا شک اور کسی پر بھی تو ہوں سکتا ہے یہ جو ہے پھول ہتھیلی پہ اسے پھول لگ جان میرا دل جسم سے باہر بھی تو ہوں سکتا ہے شاخ پر بیٹھے پرندے کو اڑانے والے پیڑ کے ہاتھ ہے وہ ہے وہ پتھر بھی تو ہوں سکتا ہے کیا ضروری ہے کہ باہر ہی نمو ہوں مری میرا کھلنا مری اندر بھی تو ہوں سکتا ہے یہ جو ہے ریت کا ٹیلا مری قدموں کے تلے کوئی دم ہے وہ ہے وہ مری اوپر بھی تو ہوں سکتا ہے کیا ضروری ہے کہ ہم ہار کے جیتیں تابش عشق کا کھیل برابر بھی تو ہوں سکتا ہے

Abbas Tabish

8 likes

یہ بتا یوم محبت کا سماں ہے کہ نہیں شہر کا شہر گلابوں کی دکان ہے کہ نہیں عادتن ا سے کے لیے پھول خریدے ورنا نہیں معلوم حقیقت ا سے بار ی ہاں ہے کہ نہیں یہ تری بعد جو لیتا ہوں ہے وہ ہے وہ لمبی سانسیں مجھ کو یہ جاننا ہے جسم ہے وہ ہے وہ جاں ہے کہ نہیں ہم تو پھولوں کے عوض پھول لیا کرتے ہیں کیا خبر ا سے رواج آپ کے ی ہاں ہے کہ نہیں ا سے گلی کا تو پتا ٹھیک بتایا تو نے یہ بتا ا سے ہے وہ ہے وہ حقیقت دلدار مکان ہے کہ نہیں پہلے تو مجھ کو دلاتے ہے حقیقت غصہ تابش اور پھروں پوچھتے ہے منا ہے وہ ہے وہ زبان ہے کہ نہیں

Abbas Tabish

13 likes

جدائی کا زما لگ یوں ٹھکانے لگ گیا تو تھا بچھڑ کر ا سے سے ہے وہ ہے وہ لکھنے لکھانے لگ گیا تو تھا تبھی تو زنگ آلودہ ہوئی تلوار مری ہے وہ ہے وہ ہے وہ دشمن پر محبت لگ گیا تو تھا ابھی سمجھا رہا تھا حقیقت مجھے بوسے کا زار کہ ہے وہ ہے وہ شہتوت کے ر سے ہے وہ ہے وہ نہانے لگ گیا تو تھا محبت ہوں نہیں پائی تو ا سے کا کیا کروں ہے وہ ہے وہ ہے وہ کہ ہے وہ ہے وہ تو ا سے گلی ہے وہ ہے وہ آنے جانے لگے گیا تو تھا تبھی تو مری آنکھوں کو نہیں رونے کی عادت ہے وہ ہے وہ ہے وہ چھوٹی عمر ہے وہ ہے وہ آنسو چھپانے لگ گیا تو تھا

Abbas Tabish

19 likes

مری تنہائی بڑھاتے ہیں چلے جاتے ہیں ہن سے تالاب پہ آتے ہیں چلے جاتے ہیں ا سے لیے اب ہے وہ ہے وہ کسی کو نہیں جانے دیتا جو مجھے چھوڑ کے جاتے ہیں چلے جاتے ہیں مری آنکھوں سے بہا کرتی ہے ان کی خوشبو رفتگاں خواب ہے وہ ہے وہ آتے ہیں چلے جاتے ہیں شا گرا ای مارگ کا ماحول بنا رہتا ہے آپ آتے ہیں رلاتے ہیں چلے جاتے ہیں کب تمہیں عشق پہ مجبور کیا ہے ہم نے ہم تو ب سے یاد دلاتے ہیں چلے جاتے ہیں آپ کو کون تماشائی سمجھتا ہے ی ہاں آپ تو آگ لگتے ہیں چلے جاتے ہیں ہاتھ پتھر کو بھاوں تو سگن ای دنیا حیرتی بن کے دکھتے ہیں چلے جاتے ہیں

Abbas Tabish

6 likes

لگ پوچھ کتنے ہے بیتاب دیکھنے کے لیے ہم ایک ساتھ کئیں خواب دیکھنے کے لیے ہے وہ ہے وہ ہے وہ اپنے آپ سے باہر نکل کے بیٹھ گیا تو کہ آج آئیں گے احباب دیکھنے کے لیے زمانے بعد بل آخر حقیقت رات آ گئی ہے کہ لوگ نکلے ہے مہتاب دیکھنے کے لیے سنہری لڑ کیوں ان کو ملو ملو لگ ملو غریب ہوتے ہے ب سے خواب دیکھنے کے لیے مجھے یقی ہے کہ جاناں آئی لگ بھی دیکھوگے مری شکست کے اسباب دیکھنے کے لیے

Abbas Tabish

16 likes

Similar Writers

View All ›

Our suggestions based on Abbas Tabish.

Similar Moods

View All ›

More moods that pair well with Abbas Tabish's ghazal.