لگ پوچھ کتنے ہے بیتاب دیکھنے کے لیے ہم ایک ساتھ کئیں خواب دیکھنے کے لیے ہے وہ ہے وہ ہے وہ اپنے آپ سے باہر نکل کے بیٹھ گیا تو کہ آج آئیں گے احباب دیکھنے کے لیے زمانے بعد بل آخر حقیقت رات آ گئی ہے کہ لوگ نکلے ہے مہتاب دیکھنے کے لیے سنہری لڑ کیوں ان کو ملو ملو لگ ملو غریب ہوتے ہے ب سے خواب دیکھنے کے لیے مجھے یقی ہے کہ جاناں آئی لگ بھی دیکھوگے مری شکست کے اسباب دیکھنے کے لیے
Related Ghazal
تمہیں ب سے یہ بتانا چاہتا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ جاناں سے کیا چھپانا چاہتا ہوں کبھی مجھ سے بھی کوئی جھوٹ بولو ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہاں ہے وہ ہے وہ ہاں ملانا چاہتا ہوں یہ جو کھڑکی ہے نقشے ہے وہ ہے وہ تمہارے ی ہاں ہے وہ ہے وہ در بنانا چاہتا ہوں اداکاری بے حد دکھ دے رہی ہے ہے وہ ہے وہ ہے وہ سچ مچ مسکرانا چاہتا ہوں پروں ہے وہ ہے وہ تیر ہے پنجوں ہے وہ ہے وہ تنکے ہے وہ ہے وہ ہے وہ یہ چڑیا اڑانا چاہتا ہوں لیے بیٹھا ہوں گھنگرو پھول اندھیرا ترا ہنسنا بنانا چاہتا ہوں بیگا لگ غم عشق کی جاناں کو مبارک ہے وہ ہے وہ ہے وہ ب سے خا لگ کمانا چاہتا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ سارے شہر کی بیساخیوں کو تری در پر نرم گوئی چاہتا ہوں مجھے جاناں سے اندھیرا ہی پڑےگا ہے وہ ہے وہ ہے وہ جاناں کو یاد آنا چاہتا ہوں
Fahmi Badayuni
249 likes
جو تری ساتھ رہتے ہوئے سوگوار ہوں خواب ہوں ایسے بے وجہ پہ اور بےشمار ہوں اب اتنی دیر بھی نا لگا یہ ہوں نا کہی تو آ چکا ہوں اور تیرا انتظار ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ پھول ہوں تو پھروں تری بالو ہے وہ ہے وہ کیوں نہیں ہوں تو تیر ہے تو مری کلیجے کے پار ہوں ایک آستین چڑھانے کی عادت کو چھوڑ کر حافی جاناں آدمی تو بے حد شاندار ہوں
Tehzeeb Hafi
268 likes
بیٹھے ہیں چین سے کہی جانا تو ہے نہیں ہم بے گھروں کا کوئی ہری تو ہے نہیں جاناں بھی ہوں بیتے سمے کے مانند ہوں بہو جاناں نے بھی یاد آنا ہے آنا تو ہے نہیں عہد وفا سے ک سے لیے خائف ہوں مری جان کر لو کہ جاناں نے عہد نبھانا تو ہے نہیں حقیقت جو ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ عزیز ہے کیسا ہے کون ہے کیوں پوچھتے ہوں ہم نے بتانا تو ہے نہیں دنیا ہم اہل عشق پہ کیوں پھینکتی ہے جال ہم نے تری فریب ہے وہ ہے وہ آنا تو ہے نہیں حقیقت عشق تو کرےگا م گر دیکھ بھال کے فار سے حقیقت تری جیسا دیوا لگ تو ہے نہیں
Rehman Faris
196 likes
تھوڑا لکھا اور زیادہ چھوڑ دیا آنے والوں کے لیے رستہ چھوڑ دیا جاناں کیا جانو ا سے دریا پر کیا گزری جاناں نے تو ب سے پانی بھرنا چھوڑ دیا لڑکیاں عشق ہے وہ ہے وہ کتنی پاگل ہوتی ہیں فون بجا اور چولہا جلتا چھوڑ دیا روز اک پتہ مجھ ہے وہ ہے وہ آ گرتا ہے جب سے ہے وہ ہے وہ نے جنگل جانا چھوڑ دیا ب سے کانوں پر ہاتھ رکھے تھے تھوڑی دیر اور پھروں ا سے آواز نے پیچھا چھوڑ دیے
Tehzeeb Hafi
262 likes
حقیقت منہ لگاتا ہے جب کوئی کام ہوتا ہے جو اس کا کا ہوتا ہے سمجھو غلام ہوتا ہے کسی کا ہوں کے دوبارہ نہ آنا میری طرف محبتوں ہے وہ ہے وہ حلالہ حرام ہوتا ہے اسے بھی گنتے ہیں ہم لوگ اہل خانہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہمارے یاں تو شجر کا بھی نام ہوتا ہے تجھ ایسے بے وجہ کے ہوتے ہیں ضرب سے دوست بہت تجھ ایسا بے وجہ بہت جلد آم ہوتا ہے کبھی لگی ہے تمہیں کوئی شام آخری شام ہمارے ساتھ یہ ہر ایک شام ہوتا ہے
Umair Najmi
81 likes
More from Abbas Tabish
کوئی ٹکرا کے جمال دنیا بھی تو ہوں سکتا ہے مری تعمیر ہے وہ ہے وہ پتھر بھی تو ہوں سکتا ہے کیوں لگ اے بے وجہ تجھے ہاتھ لگا کر دیکھوں تو مری وہم سے بڑھ کر بھی تو ہوں سکتا ہے تو ہی تو ہے تو پھروں اب جملہ خیرو تیرا شک اور کسی پر بھی تو ہوں سکتا ہے یہ جو ہے پھول ہتھیلی پہ اسے پھول لگ جان میرا دل جسم سے باہر بھی تو ہوں سکتا ہے شاخ پر بیٹھے پرندے کو اڑانے والے پیڑ کے ہاتھ ہے وہ ہے وہ پتھر بھی تو ہوں سکتا ہے کیا ضروری ہے کہ باہر ہی نمو ہوں مری میرا کھلنا مری اندر بھی تو ہوں سکتا ہے یہ جو ہے ریت کا ٹیلا مری قدموں کے تلے کوئی دم ہے وہ ہے وہ مری اوپر بھی تو ہوں سکتا ہے کیا ضروری ہے کہ ہم ہار کے جیتیں تابش عشق کا کھیل برابر بھی تو ہوں سکتا ہے
Abbas Tabish
8 likes
یہ بتا یوم محبت کا سماں ہے کہ نہیں شہر کا شہر گلابوں کی دکان ہے کہ نہیں عادتن ا سے کے لیے پھول خریدے ورنا نہیں معلوم حقیقت ا سے بار ی ہاں ہے کہ نہیں یہ تری بعد جو لیتا ہوں ہے وہ ہے وہ لمبی سانسیں مجھ کو یہ جاننا ہے جسم ہے وہ ہے وہ جاں ہے کہ نہیں ہم تو پھولوں کے عوض پھول لیا کرتے ہیں کیا خبر ا سے رواج آپ کے ی ہاں ہے کہ نہیں ا سے گلی کا تو پتا ٹھیک بتایا تو نے یہ بتا ا سے ہے وہ ہے وہ حقیقت دلدار مکان ہے کہ نہیں پہلے تو مجھ کو دلاتے ہے حقیقت غصہ تابش اور پھروں پوچھتے ہے منا ہے وہ ہے وہ زبان ہے کہ نہیں
Abbas Tabish
13 likes
مری تنہائی بڑھاتے ہیں چلے جاتے ہیں ہن سے تالاب پہ آتے ہیں چلے جاتے ہیں ا سے لیے اب ہے وہ ہے وہ کسی کو نہیں جانے دیتا جو مجھے چھوڑ کے جاتے ہیں چلے جاتے ہیں مری آنکھوں سے بہا کرتی ہے ان کی خوشبو رفتگاں خواب ہے وہ ہے وہ آتے ہیں چلے جاتے ہیں شا گرا ای مارگ کا ماحول بنا رہتا ہے آپ آتے ہیں رلاتے ہیں چلے جاتے ہیں کب تمہیں عشق پہ مجبور کیا ہے ہم نے ہم تو ب سے یاد دلاتے ہیں چلے جاتے ہیں آپ کو کون تماشائی سمجھتا ہے ی ہاں آپ تو آگ لگتے ہیں چلے جاتے ہیں ہاتھ پتھر کو بھاوں تو سگن ای دنیا حیرتی بن کے دکھتے ہیں چلے جاتے ہیں
Abbas Tabish
6 likes
ٹوٹتے عشق ہے وہ ہے وہ کچھ ہاتھ بٹاتے جاتے سارا ملبا مری اوپر لگ گراتے جاتے اتنی عجلت ہے وہ ہے وہ بھی کیا آنکھ سے اوجھل ہونا جا رہے تھے تو مجھے جاناں نظر آتے جاتے کم سے کم رکھتا پلٹنے کی توقع جاناں سے ہاتھ ہے وہ ہے وہ ہاتھ لیا تھا تو دباتے جاتے کن اندھیروں ہے وہ ہے وہ مجھے چھوڑ دیا ہے جاناں نے ا سے سے بہتر تھا مجھے آگ لگاتے جاتے ہے وہ ہے وہ ہے وہ بھی ہوتا تری رستے کے درختوں ہے وہ ہے وہ درخت ا سے طرح دیکھ تو لیتا تجھے آتے جاتے
Abbas Tabish
12 likes
جدائی کا زما لگ یوں ٹھکانے لگ گیا تو تھا بچھڑ کر ا سے سے ہے وہ ہے وہ لکھنے لکھانے لگ گیا تو تھا تبھی تو زنگ آلودہ ہوئی تلوار مری ہے وہ ہے وہ ہے وہ دشمن پر محبت لگ گیا تو تھا ابھی سمجھا رہا تھا حقیقت مجھے بوسے کا زار کہ ہے وہ ہے وہ شہتوت کے ر سے ہے وہ ہے وہ نہانے لگ گیا تو تھا محبت ہوں نہیں پائی تو ا سے کا کیا کروں ہے وہ ہے وہ ہے وہ کہ ہے وہ ہے وہ تو ا سے گلی ہے وہ ہے وہ آنے جانے لگے گیا تو تھا تبھی تو مری آنکھوں کو نہیں رونے کی عادت ہے وہ ہے وہ ہے وہ چھوٹی عمر ہے وہ ہے وہ آنسو چھپانے لگ گیا تو تھا
Abbas Tabish
19 likes
Similar Writers
Our suggestions based on Abbas Tabish.
Similar Moods
More moods that pair well with Abbas Tabish's ghazal.







