ghazalKuch Alfaaz

दश्त में प्यास बुझाते हुए मर जाते हैं हम परिंदे कहीं जाते हुए मर जाते हैं हम हैं सूखे हुए तालाब पे बैठे हुए हंस जो तअल्लुक़ को निभाते हुए मर जाते हैं घर पहुँचता है कोई और हमारे जैसा हम तेरे शहर से जाते हुए मर जाते हैं किस तरह लोग चले जाते हैं उठ कर चुप -चाप हम तो ये ध्यान में लेट हुए मर जाते हैं उन के भी क़त्ल का इल्ज़ाम हमारे सर है जो हमें ज़हर पिलाते हुए मर जाते हैं ये मोहब्बत की कहानी नहीं मरती लेकिन लोग किरदार निभाते हुए मर जाते हैं हम हैं वो टूटी हुई कश्तियों वाले 'ताबिश ' जो किनारों को मिलाते हुए मर जाते हैं

Abbas Tabish21 Likes

Related Ghazal

تمہیں ب سے یہ بتانا چاہتا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ جاناں سے کیا چھپانا چاہتا ہوں کبھی مجھ سے بھی کوئی جھوٹ بولو ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہاں ہے وہ ہے وہ ہاں ملانا چاہتا ہوں یہ جو کھڑکی ہے نقشے ہے وہ ہے وہ تمہارے ی ہاں ہے وہ ہے وہ در بنانا چاہتا ہوں اداکاری بے حد دکھ دے رہی ہے ہے وہ ہے وہ ہے وہ سچ مچ مسکرانا چاہتا ہوں پروں ہے وہ ہے وہ تیر ہے پنجوں ہے وہ ہے وہ تنکے ہے وہ ہے وہ ہے وہ یہ چڑیا اڑانا چاہتا ہوں لیے بیٹھا ہوں گھنگرو پھول اندھیرا ترا ہنسنا بنانا چاہتا ہوں بیگا لگ غم عشق کی جاناں کو مبارک ہے وہ ہے وہ ہے وہ ب سے خا لگ کمانا چاہتا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ سارے شہر کی بیساخیوں کو تری در پر نرم گوئی چاہتا ہوں مجھے جاناں سے اندھیرا ہی پڑےگا ہے وہ ہے وہ ہے وہ جاناں کو یاد آنا چاہتا ہوں

Fahmi Badayuni

249 likes

زبان تو کھول نظر تو ملا جواب تو دے ہے وہ ہے وہ ہے وہ کتنی بار لٹا ہوں مجھے حساب تو دے تری بدن کی ودھی ہے وہ ہے وہ ہے اتار لکھاوت ہے وہ ہے وہ ہے وہ تجھے کیسے چڑھاو مجھے کتاب تو دے تیرا سوال ہے ساقی کہ زندگی کیا ہے جواب دیتا ہوں پہلے مجھے شراب تو دے

Rahat Indori

190 likes

بیٹھے ہیں چین سے کہی جانا تو ہے نہیں ہم بے گھروں کا کوئی ہری تو ہے نہیں جاناں بھی ہوں بیتے سمے کے مانند ہوں بہو جاناں نے بھی یاد آنا ہے آنا تو ہے نہیں عہد وفا سے ک سے لیے خائف ہوں مری جان کر لو کہ جاناں نے عہد نبھانا تو ہے نہیں حقیقت جو ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ عزیز ہے کیسا ہے کون ہے کیوں پوچھتے ہوں ہم نے بتانا تو ہے نہیں دنیا ہم اہل عشق پہ کیوں پھینکتی ہے جال ہم نے تری فریب ہے وہ ہے وہ آنا تو ہے نہیں حقیقت عشق تو کرےگا م گر دیکھ بھال کے فار سے حقیقت تری جیسا دیوا لگ تو ہے نہیں

Rehman Faris

196 likes

پاگل کیسے ہوں جاتے ہیں دیکھو ایسے ہوں جاتے ہیں خوابوں کا دھندہ کرتی ہوں کتنے پیسے ہوں جاتے ہیں دنیا سا ہونا مشکل ہے تری چنو ہوں جاتے ہیں مری کام خدا کرتا ہے تری ویسے ہوں جاتے ہیں

Ali Zaryoun

158 likes

ستم ڈھاتے ہوئے سوچا کروگے ہمارے ساتھ جاناں ایسا کروگے انگوٹھی تو مجھے لوٹا رہے ہوں انگوٹھی کے نشان کا کیا کروگے ہے وہ ہے وہ ہے وہ جاناں سے اب تمنائیں بھی نہیں ہوں تو کیا ا سے بات پر جھگڑا کروگے میرا دامن تمہیں تھامے ہوئے ہوں میرا دامن تمہیں میلا کروگے بتاؤ وعدہ کر کے آوگے نا کے پچھلی بار کے جیسا کروگے حقیقت دلہن بن کے رخصت ہوں گئی ہے ک ہاں تک کار کا پیچھا کروگے مجھے ب سے یوں ہی جاناں سے پوچھنا تھا ا گر ہے وہ ہے وہ مر گیا تو تو کیا کروگے

Zubair Ali Tabish

140 likes

More from Abbas Tabish

ٹوٹتے عشق ہے وہ ہے وہ کچھ ہاتھ بٹاتے جاتے سارا ملبا مری اوپر لگ گراتے جاتے اتنی عجلت ہے وہ ہے وہ بھی کیا آنکھ سے اوجھل ہونا جا رہے تھے تو مجھے جاناں نظر آتے جاتے کم سے کم رکھتا پلٹنے کی توقع جاناں سے ہاتھ ہے وہ ہے وہ ہاتھ لیا تھا تو دباتے جاتے کن اندھیروں ہے وہ ہے وہ مجھے چھوڑ دیا ہے جاناں نے ا سے سے بہتر تھا مجھے آگ لگاتے جاتے ہے وہ ہے وہ ہے وہ بھی ہوتا تری رستے کے درختوں ہے وہ ہے وہ درخت ا سے طرح دیکھ تو لیتا تجھے آتے جاتے

Abbas Tabish

12 likes

یہ بتا یوم محبت کا سماں ہے کہ نہیں شہر کا شہر گلابوں کی دکان ہے کہ نہیں عادتن ا سے کے لیے پھول خریدے ورنا نہیں معلوم حقیقت ا سے بار ی ہاں ہے کہ نہیں یہ تری بعد جو لیتا ہوں ہے وہ ہے وہ لمبی سانسیں مجھ کو یہ جاننا ہے جسم ہے وہ ہے وہ جاں ہے کہ نہیں ہم تو پھولوں کے عوض پھول لیا کرتے ہیں کیا خبر ا سے رواج آپ کے ی ہاں ہے کہ نہیں ا سے گلی کا تو پتا ٹھیک بتایا تو نے یہ بتا ا سے ہے وہ ہے وہ حقیقت دلدار مکان ہے کہ نہیں پہلے تو مجھ کو دلاتے ہے حقیقت غصہ تابش اور پھروں پوچھتے ہے منا ہے وہ ہے وہ زبان ہے کہ نہیں

Abbas Tabish

13 likes

لگ پوچھ کتنے ہے بیتاب دیکھنے کے لیے ہم ایک ساتھ کئیں خواب دیکھنے کے لیے ہے وہ ہے وہ ہے وہ اپنے آپ سے باہر نکل کے بیٹھ گیا تو کہ آج آئیں گے احباب دیکھنے کے لیے زمانے بعد بل آخر حقیقت رات آ گئی ہے کہ لوگ نکلے ہے مہتاب دیکھنے کے لیے سنہری لڑ کیوں ان کو ملو ملو لگ ملو غریب ہوتے ہے ب سے خواب دیکھنے کے لیے مجھے یقی ہے کہ جاناں آئی لگ بھی دیکھوگے مری شکست کے اسباب دیکھنے کے لیے

Abbas Tabish

16 likes

کوئی ٹکرا کے جمال دنیا بھی تو ہوں سکتا ہے مری تعمیر ہے وہ ہے وہ پتھر بھی تو ہوں سکتا ہے کیوں لگ اے بے وجہ تجھے ہاتھ لگا کر دیکھوں تو مری وہم سے بڑھ کر بھی تو ہوں سکتا ہے تو ہی تو ہے تو پھروں اب جملہ خیرو تیرا شک اور کسی پر بھی تو ہوں سکتا ہے یہ جو ہے پھول ہتھیلی پہ اسے پھول لگ جان میرا دل جسم سے باہر بھی تو ہوں سکتا ہے شاخ پر بیٹھے پرندے کو اڑانے والے پیڑ کے ہاتھ ہے وہ ہے وہ پتھر بھی تو ہوں سکتا ہے کیا ضروری ہے کہ باہر ہی نمو ہوں مری میرا کھلنا مری اندر بھی تو ہوں سکتا ہے یہ جو ہے ریت کا ٹیلا مری قدموں کے تلے کوئی دم ہے وہ ہے وہ مری اوپر بھی تو ہوں سکتا ہے کیا ضروری ہے کہ ہم ہار کے جیتیں تابش عشق کا کھیل برابر بھی تو ہوں سکتا ہے

Abbas Tabish

8 likes

جدائی کا زما لگ یوں ٹھکانے لگ گیا تو تھا بچھڑ کر ا سے سے ہے وہ ہے وہ لکھنے لکھانے لگ گیا تو تھا تبھی تو زنگ آلودہ ہوئی تلوار مری ہے وہ ہے وہ ہے وہ دشمن پر محبت لگ گیا تو تھا ابھی سمجھا رہا تھا حقیقت مجھے بوسے کا زار کہ ہے وہ ہے وہ شہتوت کے ر سے ہے وہ ہے وہ نہانے لگ گیا تو تھا محبت ہوں نہیں پائی تو ا سے کا کیا کروں ہے وہ ہے وہ ہے وہ کہ ہے وہ ہے وہ تو ا سے گلی ہے وہ ہے وہ آنے جانے لگے گیا تو تھا تبھی تو مری آنکھوں کو نہیں رونے کی عادت ہے وہ ہے وہ ہے وہ چھوٹی عمر ہے وہ ہے وہ آنسو چھپانے لگ گیا تو تھا

Abbas Tabish

19 likes

Similar Writers

View All ›

Our suggestions based on Abbas Tabish.

Similar Moods

View All ›

More moods that pair well with Abbas Tabish's ghazal.