ghazalKuch Alfaaz

خوشی محسو سے کرتا ہوں لگ غم محسو سے کرتا ہوں م گر ہاں دل ہے وہ ہے وہ کچھ کچھ زیر و بم محسو سے کرتا ہوں محبت کی یہ نیرنگی بھی دنیا سے نرالی ہے الم کوئی نہیں لیکن الم محسو سے کرتا ہوں مری دی ہے وہ ہے وہ اب باقی نہیں ہے ذوق کفر و دیں ہے وہ ہے وہ ہے وہ اک مرکز پہ اب صاحب فن محسو سے کرتا ہوں جو لطف زندگی مل رہا تھا گھٹتا جاتا ہے خلش جو دل ہے وہ ہے وہ رہتی تھی حقیقت کم محسو سے کرتا ہوں تمہارے ذکر پر کب منحصر ہے دل کی بے تابی کسی کا ذکر ہوں ہے وہ ہے وہ چشم نم محسو سے کرتا ہوں کبھی پاتا ہوں دل ہے وہ ہے وہ ایک حشر درد بیتابی کبھی ہے وہ ہے وہ اپنے دل ہے وہ ہے وہ درد و غم محسو سے کرتا ہوں زبان پر مری شکوہ آ نہیں سکتا زمانے کا کہ ہر عالم کو ہے وہ ہے وہ ان کا کرم محسو سے کرتا ہوں یہ دل ہے وہ ہے وہ ہے جو گھبراہٹ یہ آنکھوں ہے وہ ہے وہ ہے جو آنسو ا سے احسان کو بھی بالا کرم محسو سے کرتا ہوں خوشی کی مجھ کو اب بہزاد کچھ حاجت نہیں باقی کہ غم کو بھی ہے وہ ہے وہ اب ان کا کرم محسو سے کرتا ہوں

Related Ghazal

تمہیں ب سے یہ بتانا چاہتا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ جاناں سے کیا چھپانا چاہتا ہوں کبھی مجھ سے بھی کوئی جھوٹ بولو ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہاں ہے وہ ہے وہ ہاں ملانا چاہتا ہوں یہ جو کھڑکی ہے نقشے ہے وہ ہے وہ تمہارے ی ہاں ہے وہ ہے وہ در بنانا چاہتا ہوں اداکاری بے حد دکھ دے رہی ہے ہے وہ ہے وہ ہے وہ سچ مچ مسکرانا چاہتا ہوں پروں ہے وہ ہے وہ تیر ہے پنجوں ہے وہ ہے وہ تنکے ہے وہ ہے وہ ہے وہ یہ چڑیا اڑانا چاہتا ہوں لیے بیٹھا ہوں گھنگرو پھول اندھیرا ترا ہنسنا بنانا چاہتا ہوں بیگا لگ غم عشق کی جاناں کو مبارک ہے وہ ہے وہ ہے وہ ب سے خا لگ کمانا چاہتا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ سارے شہر کی بیساخیوں کو تری در پر نرم گوئی چاہتا ہوں مجھے جاناں سے اندھیرا ہی پڑےگا ہے وہ ہے وہ ہے وہ جاناں کو یاد آنا چاہتا ہوں

Fahmi Badayuni

249 likes

بیٹھے ہیں چین سے کہی جانا تو ہے نہیں ہم بے گھروں کا کوئی ہری تو ہے نہیں جاناں بھی ہوں بیتے سمے کے مانند ہوں بہو جاناں نے بھی یاد آنا ہے آنا تو ہے نہیں عہد وفا سے ک سے لیے خائف ہوں مری جان کر لو کہ جاناں نے عہد نبھانا تو ہے نہیں حقیقت جو ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ عزیز ہے کیسا ہے کون ہے کیوں پوچھتے ہوں ہم نے بتانا تو ہے نہیں دنیا ہم اہل عشق پہ کیوں پھینکتی ہے جال ہم نے تری فریب ہے وہ ہے وہ آنا تو ہے نہیں حقیقت عشق تو کرےگا م گر دیکھ بھال کے فار سے حقیقت تری جیسا دیوا لگ تو ہے نہیں

Rehman Faris

196 likes

زبان تو کھول نظر تو ملا جواب تو دے ہے وہ ہے وہ ہے وہ کتنی بار لٹا ہوں مجھے حساب تو دے تری بدن کی ودھی ہے وہ ہے وہ ہے اتار لکھاوت ہے وہ ہے وہ ہے وہ تجھے کیسے چڑھاو مجھے کتاب تو دے تیرا سوال ہے ساقی کہ زندگی کیا ہے جواب دیتا ہوں پہلے مجھے شراب تو دے

Rahat Indori

190 likes

ستم ڈھاتے ہوئے سوچا کروگے ہمارے ساتھ جاناں ایسا کروگے انگوٹھی تو مجھے لوٹا رہے ہوں انگوٹھی کے نشان کا کیا کروگے ہے وہ ہے وہ ہے وہ جاناں سے اب تمنائیں بھی نہیں ہوں تو کیا ا سے بات پر جھگڑا کروگے میرا دامن تمہیں تھامے ہوئے ہوں میرا دامن تمہیں میلا کروگے بتاؤ وعدہ کر کے آوگے نا کے پچھلی بار کے جیسا کروگے حقیقت دلہن بن کے رخصت ہوں گئی ہے ک ہاں تک کار کا پیچھا کروگے مجھے ب سے یوں ہی جاناں سے پوچھنا تھا ا گر ہے وہ ہے وہ مر گیا تو تو کیا کروگے

Zubair Ali Tabish

140 likes

سینا کچا رہا ہوں تو کیا چپ رہے کوئی کیوں چیخ چیخ کر لگ گلہ سروہا لے کوئی ثابت ہوا سکون دل و جاں کہی نہیں رشتوں ہے وہ ہے وہ ڈھونڈتا ہے تو ڈھونڈا کرے کوئی ترک تعلقات کوئی مسئلہ نہیں یہ تو حقیقت راستہ ہے کہ ب سے چل پڑے کوئی دیوار جانتا تھا جسے ہے وہ ہے وہ حقیقت دھول تھی اب مجھ کو اعتماد کی دعوت لگ دے کوئی ہے وہ ہے وہ ہے وہ خود یہ چاہتا ہوں کہ حالات ہوں خراب مری خلاف زہر اگلتا پھیرے کوئی اے بے وجہ اب تو مجھ کو سبھی کچھ قبول ہے یہ بھی قبول ہے کہ تجھے چھین لے کوئی ہاں ٹھیک ہے ہے وہ ہے وہ اپنی انا کا مریض ہوں آخر مری مزاج ہے وہ ہے وہ کیوں دخل دے کوئی اک بے وجہ کر رہا ہے ابھی تک وفا کا ذکر کاش ا سے زبان دراز کا منا نوچ لے کوئی

Jaun Elia

77 likes

More from Behzad Lakhnavi

اک بےوفا کو درد کا درماں بنا لیا ہم نے تو آہ کفر کو ایمان بنا لیا دل کی خلش پسندیاں ہیں کہ اللہ کی پناہ تیر نظر کو جان رگ جاں بنا لیا مجھ کو خبر نہیں مری دل کو خبر نہیں ک سے کی نظر نے بندہ احسان بنا لیا محسو سے کر کے ہم نے محبت کا ہر الم خواب سبک کو خواب پریشاں بنا لیا دست جنوں کی عقدہ کشائی تو دیکھیے دامن کو بے نیاز گریباں بنا لیا تسکین دل کی ہم نے بھی پرواہ چھوڑ دی ہر موج غم کو حاصل طوفان بنا لیا جب ان کا نام آ گیا تو ہم مضطرب ہوئے آ ہوں کو اپنی آب و زیست کا عنوان بنا لیا ہم نے تو اپنے دل ہے وہ ہے وہ حقیقت غم ہوں کہ ہوں الم جو کوئی آ گیا تو اسے مہمان بنا لیا آئی لگ دیکھنے کی ضرورت لگ تھی کوئی اپنے کو خود ہی آپ نے حیران بنا لیا اک بے وفا پہ کر کے تصدق دل و ج گر بہزاد ہم نے خود کو پریشاں بنا لیا

Behzad Lakhnavi

0 likes

محبت مستقل کیف آفرین معلوم ہوتی ہے خلش دل ہے وہ ہے وہ ج ہاں پر تھی وہیں معلوم ہوتی ہے تری جلووں سے ٹکرا کر نہیں معلوم ہوتی ہے نظر بھی ایک خا لگ ب جاں معلوم ہوتی ہے نقوش پا کے صدقے بندگی عشق کے قرباں مجھے ہر سمت اپنی ہی جبیں معلوم ہوتی ہے مری رگ رگ ہے وہ ہے وہ یوں تو دوڑتی ہے عشق کی بجلی کہی ظاہر نہیں ہوتی کہی معلوم ہوتی ہے یہ اعجاز نظر کب ہے یہ کب ہے حسن کی کاوش حسین جو چیز ہوتی ہے حسین معلوم ہوتی ہے نومی گرا توڑ دے مری دل مضطر خدا حافظ زبان حسن پر اب تک نہیں معلوم ہوتی ہے اسے کیوں مے کدہ کہتا ہے بتلا دے مری ساقی ی ہاں کی سر ز ہے وہ ہے وہ ہے وہ خلد بریں معلوم ہوتی ہے انتقامن اے چارہ گر ہاں ہاں خلش تو ج سے کو کہتا ہے یہ اجازت دل ہے وہ ہے وہ نہیں دل کے قریں معلوم ہوتی ہے کسی کے پا چھوؤں گا پر جھکی ہے اور نہیں اٹھتی مجھے بہزاد یہ اپنی جبیں معلوم ہوتی ہے

Behzad Lakhnavi

0 likes

ہے خرد من گرا یہی با ہوش دیوا لگ رہے ہے وہی اپنا کہ جو اپنے سے بیگا لگ رہے کفر سے یہ الت جائیں کر رہا ہوں بار بار جاؤں تو کعبہ م گر رکھ سو مے خا لگ رہے شمع سوزاں کچھ خبر بھی ہے تجھے و مست غم حسن محفل ہے جبیں جب تک کہ پروا لگ رہے زخم دل اے زخم دل ناسور کیوں بنتا نہیں لطف تو جب ہے کہ افسانے ہے وہ ہے وہ افسا لگ رہے ہم کو واعظ کا بھی دل رکھنا ہے ساقی کا بھی دل ہم تو توبہ کر کے بھی پابند مے خا لگ رہے آخرش کب تک رہیں گی حسن کی نادانیاں حسن سے پوچھو کہ کب تک عشق دیوا لگ رہے فیض راہ عشق ہے یا فیض جذب عشق ہے ہم تو منزل پا کے بھی منزل سے بیگا لگ رہے مختلف ہے وہ ہے وہ ہم دعائیں کر رہے ہیں بار بار ا سے طرف بھی چشم مست پیر مے خا لگ رہے آج تو ساقی سے یہ بہزاد نے باندھا ہے عہد لب پہ توبہ ہوں م گر ہاتھوں ہے وہ ہے وہ پیما لگ رہے

Behzad Lakhnavi

0 likes

دیوانہ بنانا ہے تو دیوانہ بنا دے ورنہ کہیں تقدیر تماشا نہ بنا دے اے دیکھنے والو مجھے ہنس ہنس کے نہ دیکھو تم کو بھی محبت کہیں مجھ سا نہ بنا دے میں ڈھونڈ رہا ہوں مری وہ شمع کہاں ہے جو بزم کی ہر چیز کو پروانہ بنا دے آخر کوئی صورت بھی تو ہو خانہ دل کی کعبہ نہیں بنتا ہے تو بت خانہ بنا دے بہزاد ہر اک گام پہ اک سجدہ مستی ہر ذرّے کو سنگ در جانانا بنا دے

Behzad Lakhnavi

32 likes

تجھ پر مری محبت قربان ہوں لگ جائے یہ کفر بڑھتے بڑھتے ایمان ہوں لگ جائے اللہ ری بے نقابی ا سے جان مدعا کی مری نگاہ حسرت حیران ہوں لگ جائے مری طرف لگ دیکھو اپنی نظر کو روکو دنیا کرنے والے ہے وہ ہے وہ ہیجان ہوں لگ جائے پلکوں پہ رک گیا تو ہے آ کر جو ایک آنسو یہ اللہ ری بڑھتے بڑھتے طوفان ہوں لگ جائے حد ستم تو ہے بھی حد وفا نہیں ہے ظالم ترا ستم بھی احسان ہوں لگ جائے ہوتی نہیں ہے وقعت ہوتی نہیں ہے عزت جب تک کہ کوئی انساں انسان ہوں لگ جائے ا سے سمے تک مکمل ہوتا نہیں ہے کوئی جب تک کہ خود کو اپنی پہچان ہوں لگ جائے بہزاد ا سے لیے ہے وہ ہے وہ کہتا نہیں ہوں دل کی ڈرتا ہوں سن کے دنیا حیران ہوں لگ جائے

Behzad Lakhnavi

0 likes

Similar Writers

View All ›

Our suggestions based on Behzad Lakhnavi.

Similar Moods

View All ›

More moods that pair well with Behzad Lakhnavi's ghazal.