دل پہ مشکل ہے بے حد دل کی کہانی لکھنا چنو بہتے ہوئے پانی پہ ہوں پانی لکھنا کوئی الجھن ہی رہی ہوں گی جو حقیقت بھول گیا تو مری حصے ہے وہ ہے وہ کوئی شام سہانی لکھنا آتے جاتے ہوئے موسم سے ا پیش رہ کے ذرا اب کے خط ہے وہ ہے وہ تو کوئی بات پرانی لکھنا کچھ بھی لکھنے کا ہنر تجھ کو ا گر مل جائے عشق کو اشکوں کے دریا کی روانی لکھنا ا سے اشارے کو حقیقت سمجھا تو م گر مدت بعد اپنے ہر خط ہے وہ ہے وہ اسے رات کی رانی لکھنا
Related Ghazal
اسی جگہ پر ج ہاں کئی راستے ملیںگے پلٹ کے آئی تو سب سے پہلے تجھے ملیںگے ا گر کبھی تری نام پر جنگ ہوں گئی تو ہم ایسے بزدل بھی پہلی صف ہے وہ ہے وہ کھڑے ملیںگے تجھے یہ سڑکیں مری توسط سے جانتی ہیں تجھے ہمیشہ یہ سب اشارے کھلے ملیںگے
Tehzeeb Hafi
465 likes
یہی اپنی کہانی تھی میاں پہلے بے حد پہلے حقیقت لڑکی جاں ہماری تھی میاں پہلے بے حد پہلے وہم مجھ کو یہ بھاتا ہے,अभी مری دیوانی ہے م گر مری دیوانی تھی میاں پہلے بے حد پہلے رقیب آ کر بتاتے ہیں ی ہاں تل ہے و ہاں تل ہے ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ یہ جانکاری تھی میاں پہلے بے حد پہلے ادب سے مانگ کر مافی بھری محفل یہ کہتا ہوں حقیقت لڑکی خاندانی تھی میاں پہلے بے حد پہلے
Anand Raj Singh
526 likes
چاند ستارے تم پھول پرندے شام سویرہ ایک طرف ساری دنیا ا سے کا چربہ ا سے کا چہرہ ایک طرف حقیقت لڑکر بھی سو جائے تو ا سے کا ماتھا چوموں ہے وہ ہے وہ ہے وہ ا سے سے محبت ایک طرف ہے ا سے سے جھگڑا ایک طرف ج سے اجازت پر حقیقت انگلی رکھ دے اس کا کو حقیقت دلوانی ہے ا سے کی خوشیاں سب سے اول سستا مہنگا ایک طرف زخموں پر مرہم لگواو لیکن ا سے کے ہاتھوں سے چارسازی ایک طرف ہے ا سے کا چھونا ایک طرف ساری دنیا جو بھی بولے سب کچھ شور شرابا ہے سب کا کہنا ایک طرف ہے ا سے کا کہنا ایک طرف ا سے نے ساری دنیا مانگی ہے وہ ہے وہ نے اس کا کو مانگا ہے ا سے کے سپنے ایک طرف ہے میرا سپنا ایک طرف
Varun Anand
406 likes
یہ غم کیا دل کی عادت ہے نہیں تو کسی سے کچھ شکایت ہے نہیں تو ہے حقیقت اک خواب بے تعبیر ا سے کو بھلا دینے کی نیت ہے نہیں تو کسی کے بن کسی کی یاد کے بن جیے جانے کی ہمت ہے نہیں تو کسی صورت بھی دل لگتا نہیں ہاں تو کچھ دن سے یہ حالت ہے نہیں تو تری ا سے حال پر ہے سب کو حیرت تجھے بھی ا سے پہ حیرت ہے نہیں تو ہم آہنگی نہیں دنیا سے تیری تجھے ا سے پر ندامت ہے نہیں تو ہوا جو کچھ یہی مقسوم تھا کیا یہی ساری مقسوم ہے نہیں تو اذیت ناک اذیت ناک سے تجھ کو اماں پانے کی حسرت ہے نہیں تو تو رہتا ہے خیال و خواب ہے وہ ہے وہ گم تو ا سے کی وجہ فرصت ہے نہیں تو سبب جو ا سے جدائی کا بنا ہے حقیقت مجھ سے خوبصورت ہے نہیں تو
Jaun Elia
355 likes
پاگل کیسے ہوں جاتے ہیں دیکھو ایسے ہوں جاتے ہیں خوابوں کا دھندہ کرتی ہوں کتنے پیسے ہوں جاتے ہیں دنیا سا ہونا مشکل ہے تری چنو ہوں جاتے ہیں مری کام خدا کرتا ہے تری ویسے ہوں جاتے ہیں
Ali Zaryoun
158 likes
More from Kunwar Bechain
سانچے ہے وہ ہے وہ ہم نے اور کے ڈھلنے نہیں دیا دل موم کا تھا پھروں بھی پگھلنے نہیں دیا ہاتھوں کی اوٹ دے کے جلا لیں ہتھیلیاں اے شمع تجھ کو ہم نے مچلنے نہیں دیا دنیا نے بہت چاہا کہ دل جانور بنے ہے وہ ہے وہ ہے وہ نے ہی اس کا کو جسم بدلنے نہیں دیا ضد یہ تھی حقیقت جلےگا تمہارے ہی ہاتھ سے اس کا کا ضد نے ایک چراغ کو جلنے نہیں دیا چہرے کو آج تک بھی تیرا انتظار ہے ہم نے گلال اور کو ملنے نہیں دیا باہر کی ٹھوکروں سے تو بچ کر نکل گئے پاؤں کو اپنی موچ نے چلنے نہیں دیا
Kunwar Bechain
5 likes
ا سے نئے ماحول ہے وہ ہے وہ جو بھی زیا بیمار ہے ج سے کسی سے بھی نیا پریچیہ کیا بیمار ہے ہن سے رہی ہے کانچ کے کپڑے پہن کر بجلیاں اس کا کا کو کیا معلوم مٹی کا دیا بیمار ہے آج شبدوں کی سبھا ہے وہ ہے وہ ایک یہ ہی شور تھا سرخ ہے کیوں سرخیاں جب ہاشیاں بیمار ہے کام ہے وہ ہے وہ آئی نہیں دھاگے سوئی مرہم دوا آج بھی ج سے زخم کو ہم نے سیا بیمار ہے روگ کچھ ایسے ملے ہے شہر کی جھیلوں کو اب ان کا پانی ج سے کسی نے بھی پیا بیمار ہے ایک بھی امید کی چٹھی ادھر آتی نہیں ہوں لگ ہوں اپنے سمے کا ڈاکیا بیمار ہے کل غزل ہے وہ ہے وہ پیار کے ہی قافیے کا زور تھا آج لیکن پیار کا ہی قافیہ بیمار ہے
Kunwar Bechain
7 likes
کوئی نہیں ہے دیکھنے والا تو کیا ہوا تیری طرف نہیں ہے اجالا تو کیا ہوا چاروں طرف ہواؤں ہے وہ ہے وہ ا سے کی مہک تو ہے مرجھا رہی ہے سان سے کی جپا تو کیا ہوا بدلے ہے وہ ہے وہ تجھ کو دے تو گئے بھوک اور پیا سے منا سے جو تری چھینا نوالا تو کیا ہوا آنکھوں سے پی رہا ہوں تری پیار کی شراب گر چھوٹ گیا تو ہے ہاتھ سے پیالا تو کیا ہوا دھرتی کو مری ذات سے کچھ تو نمی ملی پھوٹا ہے مری پاؤں کا چھالا تو کیا ہوا سارے ج ہاں نے مجھ پہ لگائی ہیں تہمتیں جاناں نے بھی میرا نام اچھالا تو کیا ہوا سر پر ہے ماں کے پیار کا آنچل پڑا ہوا مجھ پر نہیں ہے کوئی دوشالا تو کیا ہوا منچوں پہ چٹکلے ہیں کھنچائے ہیں آج کل منچوں پہ نے ہیں پنت نرالا تو کیا ہوا اے زندگی تو پا سے ہے وہ ہے وہ بیٹھی ہوئی تو ہے شیشے ہے وہ ہے وہ تجھ کو گر نہیں ڈھالا تو کیا ہوا آنکھوں کے گھر ہے وہ ہے وہ آئی نہیں روشنی کنور ٹوٹا ہے پھروں سے نیند کا تالا تو کیا ہوا
Kunwar Bechain
5 likes
Similar Writers
Our suggestions based on Kunwar Bechain.
Similar Moods
More moods that pair well with Kunwar Bechain's ghazal.







