ghazalKuch Alfaaz

ا سے نئے ماحول ہے وہ ہے وہ جو بھی زیا بیمار ہے ج سے کسی سے بھی نیا پریچیہ کیا بیمار ہے ہن سے رہی ہے کانچ کے کپڑے پہن کر بجلیاں اس کا کا کو کیا معلوم مٹی کا دیا بیمار ہے آج شبدوں کی سبھا ہے وہ ہے وہ ایک یہ ہی شور تھا سرخ ہے کیوں سرخیاں جب ہاشیاں بیمار ہے کام ہے وہ ہے وہ آئی نہیں دھاگے سوئی مرہم دوا آج بھی ج سے زخم کو ہم نے سیا بیمار ہے روگ کچھ ایسے ملے ہے شہر کی جھیلوں کو اب ان کا پانی ج سے کسی نے بھی پیا بیمار ہے ایک بھی امید کی چٹھی ادھر آتی نہیں ہوں لگ ہوں اپنے سمے کا ڈاکیا بیمار ہے کل غزل ہے وہ ہے وہ پیار کے ہی قافیے کا زور تھا آج لیکن پیار کا ہی قافیہ بیمار ہے

Related Ghazal

یہی اپنی کہانی تھی میاں پہلے بے حد پہلے حقیقت لڑکی جاں ہماری تھی میاں پہلے بے حد پہلے وہم مجھ کو یہ بھاتا ہے,अभी مری دیوانی ہے م گر مری دیوانی تھی میاں پہلے بے حد پہلے رقیب آ کر بتاتے ہیں ی ہاں تل ہے و ہاں تل ہے ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ یہ جانکاری تھی میاں پہلے بے حد پہلے ادب سے مانگ کر مافی بھری محفل یہ کہتا ہوں حقیقت لڑکی خاندانی تھی میاں پہلے بے حد پہلے

Anand Raj Singh

526 likes

تمہیں ب سے یہ بتانا چاہتا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ جاناں سے کیا چھپانا چاہتا ہوں کبھی مجھ سے بھی کوئی جھوٹ بولو ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہاں ہے وہ ہے وہ ہاں ملانا چاہتا ہوں یہ جو کھڑکی ہے نقشے ہے وہ ہے وہ تمہارے ی ہاں ہے وہ ہے وہ در بنانا چاہتا ہوں اداکاری بے حد دکھ دے رہی ہے ہے وہ ہے وہ ہے وہ سچ مچ مسکرانا چاہتا ہوں پروں ہے وہ ہے وہ تیر ہے پنجوں ہے وہ ہے وہ تنکے ہے وہ ہے وہ ہے وہ یہ چڑیا اڑانا چاہتا ہوں لیے بیٹھا ہوں گھنگرو پھول اندھیرا ترا ہنسنا بنانا چاہتا ہوں بیگا لگ غم عشق کی جاناں کو مبارک ہے وہ ہے وہ ہے وہ ب سے خا لگ کمانا چاہتا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ سارے شہر کی بیساخیوں کو تری در پر نرم گوئی چاہتا ہوں مجھے جاناں سے اندھیرا ہی پڑےگا ہے وہ ہے وہ ہے وہ جاناں کو یاد آنا چاہتا ہوں

Fahmi Badayuni

249 likes

اسی جگہ پر ج ہاں کئی راستے ملیںگے پلٹ کے آئی تو سب سے پہلے تجھے ملیںگے ا گر کبھی تری نام پر جنگ ہوں گئی تو ہم ایسے بزدل بھی پہلی صف ہے وہ ہے وہ کھڑے ملیںگے تجھے یہ سڑکیں مری توسط سے جانتی ہیں تجھے ہمیشہ یہ سب اشارے کھلے ملیںگے

Tehzeeb Hafi

465 likes

کیوں ڈریں زندگی ہے وہ ہے وہ کیا ہوگا کچھ لگ ہوگا تو غضب ہوگا ہنستی آنکھوں ہے وہ ہے وہ جھانک کر دیکھو کوئی آنسو کہی چھپا ہوگا ان دنوں نا امید سا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ شاید ا سے نے بھی یہ سنا ہوگا دیکھ کر جاناں کو سوچتا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ کیا کسی نے تمہیں چھوا ہوگا

Javed Akhtar

371 likes

چاند ستارے تم پھول پرندے شام سویرہ ایک طرف ساری دنیا ا سے کا چربہ ا سے کا چہرہ ایک طرف حقیقت لڑکر بھی سو جائے تو ا سے کا ماتھا چوموں ہے وہ ہے وہ ہے وہ ا سے سے محبت ایک طرف ہے ا سے سے جھگڑا ایک طرف ج سے اجازت پر حقیقت انگلی رکھ دے اس کا کو حقیقت دلوانی ہے ا سے کی خوشیاں سب سے اول سستا مہنگا ایک طرف زخموں پر مرہم لگواو لیکن ا سے کے ہاتھوں سے چارسازی ایک طرف ہے ا سے کا چھونا ایک طرف ساری دنیا جو بھی بولے سب کچھ شور شرابا ہے سب کا کہنا ایک طرف ہے ا سے کا کہنا ایک طرف ا سے نے ساری دنیا مانگی ہے وہ ہے وہ نے اس کا کو مانگا ہے ا سے کے سپنے ایک طرف ہے میرا سپنا ایک طرف

Varun Anand

406 likes

More from Kunwar Bechain

سانچے ہے وہ ہے وہ ہم نے اور کے ڈھلنے نہیں دیا دل موم کا تھا پھروں بھی پگھلنے نہیں دیا ہاتھوں کی اوٹ دے کے جلا لیں ہتھیلیاں اے شمع تجھ کو ہم نے مچلنے نہیں دیا دنیا نے بہت چاہا کہ دل جانور بنے ہے وہ ہے وہ ہے وہ نے ہی اس کا کو جسم بدلنے نہیں دیا ضد یہ تھی حقیقت جلےگا تمہارے ہی ہاتھ سے اس کا کا ضد نے ایک چراغ کو جلنے نہیں دیا چہرے کو آج تک بھی تیرا انتظار ہے ہم نے گلال اور کو ملنے نہیں دیا باہر کی ٹھوکروں سے تو بچ کر نکل گئے پاؤں کو اپنی موچ نے چلنے نہیں دیا

Kunwar Bechain

5 likes

کوئی نہیں ہے دیکھنے والا تو کیا ہوا تیری طرف نہیں ہے اجالا تو کیا ہوا چاروں طرف ہواؤں ہے وہ ہے وہ ا سے کی مہک تو ہے مرجھا رہی ہے سان سے کی جپا تو کیا ہوا بدلے ہے وہ ہے وہ تجھ کو دے تو گئے بھوک اور پیا سے منا سے جو تری چھینا نوالا تو کیا ہوا آنکھوں سے پی رہا ہوں تری پیار کی شراب گر چھوٹ گیا تو ہے ہاتھ سے پیالا تو کیا ہوا دھرتی کو مری ذات سے کچھ تو نمی ملی پھوٹا ہے مری پاؤں کا چھالا تو کیا ہوا سارے ج ہاں نے مجھ پہ لگائی ہیں تہمتیں جاناں نے بھی میرا نام اچھالا تو کیا ہوا سر پر ہے ماں کے پیار کا آنچل پڑا ہوا مجھ پر نہیں ہے کوئی دوشالا تو کیا ہوا منچوں پہ چٹکلے ہیں کھنچائے ہیں آج کل منچوں پہ نے ہیں پنت نرالا تو کیا ہوا اے زندگی تو پا سے ہے وہ ہے وہ بیٹھی ہوئی تو ہے شیشے ہے وہ ہے وہ تجھ کو گر نہیں ڈھالا تو کیا ہوا آنکھوں کے گھر ہے وہ ہے وہ آئی نہیں روشنی کنور ٹوٹا ہے پھروں سے نیند کا تالا تو کیا ہوا

Kunwar Bechain

5 likes

دل پہ مشکل ہے بے حد دل کی کہانی لکھنا چنو بہتے ہوئے پانی پہ ہوں پانی لکھنا کوئی الجھن ہی رہی ہوں گی جو حقیقت بھول گیا تو مری حصے ہے وہ ہے وہ کوئی شام سہانی لکھنا آتے جاتے ہوئے موسم سے ا پیش رہ کے ذرا اب کے خط ہے وہ ہے وہ تو کوئی بات پرانی لکھنا کچھ بھی لکھنے کا ہنر تجھ کو ا گر مل جائے عشق کو اشکوں کے دریا کی روانی لکھنا ا سے اشارے کو حقیقت سمجھا تو م گر مدت بعد اپنے ہر خط ہے وہ ہے وہ اسے رات کی رانی لکھنا

Kunwar Bechain

4 likes

Similar Writers

View All ›

Our suggestions based on Kunwar Bechain.

Similar Moods

View All ›

More moods that pair well with Kunwar Bechain's ghazal.