ghazalKuch Alfaaz

کوئی نہیں ہے دیکھنے والا تو کیا ہوا تیری طرف نہیں ہے اجالا تو کیا ہوا چاروں طرف ہواؤں ہے وہ ہے وہ ا سے کی مہک تو ہے مرجھا رہی ہے سان سے کی جپا تو کیا ہوا بدلے ہے وہ ہے وہ تجھ کو دے تو گئے بھوک اور پیا سے منا سے جو تری چھینا نوالا تو کیا ہوا آنکھوں سے پی رہا ہوں تری پیار کی شراب گر چھوٹ گیا تو ہے ہاتھ سے پیالا تو کیا ہوا دھرتی کو مری ذات سے کچھ تو نمی ملی پھوٹا ہے مری پاؤں کا چھالا تو کیا ہوا سارے ج ہاں نے مجھ پہ لگائی ہیں تہمتیں جاناں نے بھی میرا نام اچھالا تو کیا ہوا سر پر ہے ماں کے پیار کا آنچل پڑا ہوا مجھ پر نہیں ہے کوئی دوشالا تو کیا ہوا منچوں پہ چٹکلے ہیں کھنچائے ہیں آج کل منچوں پہ نے ہیں پنت نرالا تو کیا ہوا اے زندگی تو پا سے ہے وہ ہے وہ بیٹھی ہوئی تو ہے شیشے ہے وہ ہے وہ تجھ کو گر نہیں ڈھالا تو کیا ہوا آنکھوں کے گھر ہے وہ ہے وہ آئی نہیں روشنی کنور ٹوٹا ہے پھروں سے نیند کا تالا تو کیا ہوا

Related Ghazal

تمہیں ب سے یہ بتانا چاہتا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ جاناں سے کیا چھپانا چاہتا ہوں کبھی مجھ سے بھی کوئی جھوٹ بولو ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہاں ہے وہ ہے وہ ہاں ملانا چاہتا ہوں یہ جو کھڑکی ہے نقشے ہے وہ ہے وہ تمہارے ی ہاں ہے وہ ہے وہ در بنانا چاہتا ہوں اداکاری بے حد دکھ دے رہی ہے ہے وہ ہے وہ ہے وہ سچ مچ مسکرانا چاہتا ہوں پروں ہے وہ ہے وہ تیر ہے پنجوں ہے وہ ہے وہ تنکے ہے وہ ہے وہ ہے وہ یہ چڑیا اڑانا چاہتا ہوں لیے بیٹھا ہوں گھنگرو پھول اندھیرا ترا ہنسنا بنانا چاہتا ہوں بیگا لگ غم عشق کی جاناں کو مبارک ہے وہ ہے وہ ہے وہ ب سے خا لگ کمانا چاہتا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ سارے شہر کی بیساخیوں کو تری در پر نرم گوئی چاہتا ہوں مجھے جاناں سے اندھیرا ہی پڑےگا ہے وہ ہے وہ ہے وہ جاناں کو یاد آنا چاہتا ہوں

Fahmi Badayuni

249 likes

بیٹھے ہیں چین سے کہی جانا تو ہے نہیں ہم بے گھروں کا کوئی ہری تو ہے نہیں جاناں بھی ہوں بیتے سمے کے مانند ہوں بہو جاناں نے بھی یاد آنا ہے آنا تو ہے نہیں عہد وفا سے ک سے لیے خائف ہوں مری جان کر لو کہ جاناں نے عہد نبھانا تو ہے نہیں حقیقت جو ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ عزیز ہے کیسا ہے کون ہے کیوں پوچھتے ہوں ہم نے بتانا تو ہے نہیں دنیا ہم اہل عشق پہ کیوں پھینکتی ہے جال ہم نے تری فریب ہے وہ ہے وہ آنا تو ہے نہیں حقیقت عشق تو کرےگا م گر دیکھ بھال کے فار سے حقیقت تری جیسا دیوا لگ تو ہے نہیں

Rehman Faris

196 likes

زبان تو کھول نظر تو ملا جواب تو دے ہے وہ ہے وہ ہے وہ کتنی بار لٹا ہوں مجھے حساب تو دے تری بدن کی ودھی ہے وہ ہے وہ ہے اتار لکھاوت ہے وہ ہے وہ ہے وہ تجھے کیسے چڑھاو مجھے کتاب تو دے تیرا سوال ہے ساقی کہ زندگی کیا ہے جواب دیتا ہوں پہلے مجھے شراب تو دے

Rahat Indori

190 likes

ستم ڈھاتے ہوئے سوچا کروگے ہمارے ساتھ جاناں ایسا کروگے انگوٹھی تو مجھے لوٹا رہے ہوں انگوٹھی کے نشان کا کیا کروگے ہے وہ ہے وہ ہے وہ جاناں سے اب تمنائیں بھی نہیں ہوں تو کیا ا سے بات پر جھگڑا کروگے میرا دامن تمہیں تھامے ہوئے ہوں میرا دامن تمہیں میلا کروگے بتاؤ وعدہ کر کے آوگے نا کے پچھلی بار کے جیسا کروگے حقیقت دلہن بن کے رخصت ہوں گئی ہے ک ہاں تک کار کا پیچھا کروگے مجھے ب سے یوں ہی جاناں سے پوچھنا تھا ا گر ہے وہ ہے وہ مر گیا تو تو کیا کروگے

Zubair Ali Tabish

140 likes

جو تری ساتھ رہتے ہوئے سوگوار ہوں خواب ہوں ایسے بے وجہ پہ اور بےشمار ہوں اب اتنی دیر بھی نا لگا یہ ہوں نا کہی تو آ چکا ہوں اور تیرا انتظار ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ پھول ہوں تو پھروں تری بالو ہے وہ ہے وہ کیوں نہیں ہوں تو تیر ہے تو مری کلیجے کے پار ہوں ایک آستین چڑھانے کی عادت کو چھوڑ کر حافی جاناں آدمی تو بے حد شاندار ہوں

Tehzeeb Hafi

268 likes

More from Kunwar Bechain

سانچے ہے وہ ہے وہ ہم نے اور کے ڈھلنے نہیں دیا دل موم کا تھا پھروں بھی پگھلنے نہیں دیا ہاتھوں کی اوٹ دے کے جلا لیں ہتھیلیاں اے شمع تجھ کو ہم نے مچلنے نہیں دیا دنیا نے بہت چاہا کہ دل جانور بنے ہے وہ ہے وہ ہے وہ نے ہی اس کا کو جسم بدلنے نہیں دیا ضد یہ تھی حقیقت جلےگا تمہارے ہی ہاتھ سے اس کا کا ضد نے ایک چراغ کو جلنے نہیں دیا چہرے کو آج تک بھی تیرا انتظار ہے ہم نے گلال اور کو ملنے نہیں دیا باہر کی ٹھوکروں سے تو بچ کر نکل گئے پاؤں کو اپنی موچ نے چلنے نہیں دیا

Kunwar Bechain

5 likes

ا سے نئے ماحول ہے وہ ہے وہ جو بھی زیا بیمار ہے ج سے کسی سے بھی نیا پریچیہ کیا بیمار ہے ہن سے رہی ہے کانچ کے کپڑے پہن کر بجلیاں اس کا کا کو کیا معلوم مٹی کا دیا بیمار ہے آج شبدوں کی سبھا ہے وہ ہے وہ ایک یہ ہی شور تھا سرخ ہے کیوں سرخیاں جب ہاشیاں بیمار ہے کام ہے وہ ہے وہ آئی نہیں دھاگے سوئی مرہم دوا آج بھی ج سے زخم کو ہم نے سیا بیمار ہے روگ کچھ ایسے ملے ہے شہر کی جھیلوں کو اب ان کا پانی ج سے کسی نے بھی پیا بیمار ہے ایک بھی امید کی چٹھی ادھر آتی نہیں ہوں لگ ہوں اپنے سمے کا ڈاکیا بیمار ہے کل غزل ہے وہ ہے وہ پیار کے ہی قافیے کا زور تھا آج لیکن پیار کا ہی قافیہ بیمار ہے

Kunwar Bechain

7 likes

دل پہ مشکل ہے بے حد دل کی کہانی لکھنا چنو بہتے ہوئے پانی پہ ہوں پانی لکھنا کوئی الجھن ہی رہی ہوں گی جو حقیقت بھول گیا تو مری حصے ہے وہ ہے وہ کوئی شام سہانی لکھنا آتے جاتے ہوئے موسم سے ا پیش رہ کے ذرا اب کے خط ہے وہ ہے وہ تو کوئی بات پرانی لکھنا کچھ بھی لکھنے کا ہنر تجھ کو ا گر مل جائے عشق کو اشکوں کے دریا کی روانی لکھنا ا سے اشارے کو حقیقت سمجھا تو م گر مدت بعد اپنے ہر خط ہے وہ ہے وہ اسے رات کی رانی لکھنا

Kunwar Bechain

4 likes

Similar Writers

View All ›

Our suggestions based on Kunwar Bechain.

Similar Moods

View All ›

More moods that pair well with Kunwar Bechain's ghazal.