din kuchh aise guzarta hai koi jaise ehsan utarta hai koi dil men kuchh yuun sambhalta huun ghham jaise zevar sambhalta hai koi aaina dekh kar tasalli hui ham ko is ghar men janta hai koi ped par pak gaya hai phal shayad phir se patthar uchhalta hai koi der se gunjte hain sannate jaise ham ko pukarta hai koi din kuchh aise guzarta hai koi jaise ehsan utarta hai koi dil mein kuchh yun sambhaalta hun gham jaise zewar sambhaalta hai koi aaina dekh kar tasalli hui hum ko is ghar mein jaanta hai koi ped par pak gaya hai phal shayad phir se patthar uchhaalta hai koi der se gunjte hain sannate jaise hum ko pukarta hai koi
Related Ghazal
تمہیں ب سے یہ بتانا چاہتا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ جاناں سے کیا چھپانا چاہتا ہوں کبھی مجھ سے بھی کوئی جھوٹ بولو ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہاں ہے وہ ہے وہ ہاں ملانا چاہتا ہوں یہ جو کھڑکی ہے نقشے ہے وہ ہے وہ تمہارے ی ہاں ہے وہ ہے وہ در بنانا چاہتا ہوں اداکاری بے حد دکھ دے رہی ہے ہے وہ ہے وہ ہے وہ سچ مچ مسکرانا چاہتا ہوں پروں ہے وہ ہے وہ تیر ہے پنجوں ہے وہ ہے وہ تنکے ہے وہ ہے وہ ہے وہ یہ چڑیا اڑانا چاہتا ہوں لیے بیٹھا ہوں گھنگرو پھول اندھیرا ترا ہنسنا بنانا چاہتا ہوں بیگا لگ غم عشق کی جاناں کو مبارک ہے وہ ہے وہ ہے وہ ب سے خا لگ کمانا چاہتا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ سارے شہر کی بیساخیوں کو تری در پر نرم گوئی چاہتا ہوں مجھے جاناں سے اندھیرا ہی پڑےگا ہے وہ ہے وہ ہے وہ جاناں کو یاد آنا چاہتا ہوں
Fahmi Badayuni
249 likes
بیٹھے ہیں چین سے کہی جانا تو ہے نہیں ہم بے گھروں کا کوئی ہری تو ہے نہیں جاناں بھی ہوں بیتے سمے کے مانند ہوں بہو جاناں نے بھی یاد آنا ہے آنا تو ہے نہیں عہد وفا سے ک سے لیے خائف ہوں مری جان کر لو کہ جاناں نے عہد نبھانا تو ہے نہیں حقیقت جو ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ عزیز ہے کیسا ہے کون ہے کیوں پوچھتے ہوں ہم نے بتانا تو ہے نہیں دنیا ہم اہل عشق پہ کیوں پھینکتی ہے جال ہم نے تری فریب ہے وہ ہے وہ آنا تو ہے نہیں حقیقت عشق تو کرےگا م گر دیکھ بھال کے فار سے حقیقت تری جیسا دیوا لگ تو ہے نہیں
Rehman Faris
196 likes
اسی جگہ پر ج ہاں کئی راستے ملیںگے پلٹ کے آئی تو سب سے پہلے تجھے ملیںگے ا گر کبھی تری نام پر جنگ ہوں گئی تو ہم ایسے بزدل بھی پہلی صف ہے وہ ہے وہ کھڑے ملیںگے تجھے یہ سڑکیں مری توسط سے جانتی ہیں تجھے ہمیشہ یہ سب اشارے کھلے ملیںگے
Tehzeeb Hafi
465 likes
زبان تو کھول نظر تو ملا جواب تو دے ہے وہ ہے وہ ہے وہ کتنی بار لٹا ہوں مجھے حساب تو دے تری بدن کی ودھی ہے وہ ہے وہ ہے اتار لکھاوت ہے وہ ہے وہ ہے وہ تجھے کیسے چڑھاو مجھے کتاب تو دے تیرا سوال ہے ساقی کہ زندگی کیا ہے جواب دیتا ہوں پہلے مجھے شراب تو دے
Rahat Indori
190 likes
یہی اپنی کہانی تھی میاں پہلے بے حد پہلے حقیقت لڑکی جاں ہماری تھی میاں پہلے بے حد پہلے وہم مجھ کو یہ بھاتا ہے,अभी مری دیوانی ہے م گر مری دیوانی تھی میاں پہلے بے حد پہلے رقیب آ کر بتاتے ہیں ی ہاں تل ہے و ہاں تل ہے ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ یہ جانکاری تھی میاں پہلے بے حد پہلے ادب سے مانگ کر مافی بھری محفل یہ کہتا ہوں حقیقت لڑکی خاندانی تھی میاں پہلے بے حد پہلے
Anand Raj Singh
526 likes
More from Gulzar
ذکر آئی تو مری لب سے دعائیں نکلیں شمع جلتی ہے تو لازم ہے شعائیں نکلیں سمے کی قابو سے کٹ جاتے ہیں سب کے سینے چاند کا چھلکا اتر جائے تو قاشیں نکلیں دفن ہوں جائیں کہ زرخیز ز ہے وہ ہے وہ ہے وہ لگتی ہے کل اسی مٹی سے شاید مری شاخیں نکلیں چند امیدیں نچوڑی تھیں تو آہیں ٹپکیں دل کو پگھلائیں تو ہوں سکتا ہے سانسیں نکلیں غار کے منا پہ رکھا رہنے دو سنگ خورشید غار ہے وہ ہے وہ ہاتھ لگ ڈالو کہی راتیں نکلیں
Gulzar
2 likes
تجھ کو دیکھا ہے جو دریا نے ادھر آتے ہوئے کچھ بھنور ڈوب گئے پانی ہے وہ ہے وہ چھینا جھپٹی ہوئے ہم نے تو رات کو دانتوں سے پکڑ کر رکھا ہوںگا ہے وہ ہے وہ پیام عشق کھلتا گیا تو جاتے ہوئے ہے وہ ہے وہ ہے وہ لگ مرجھاتے تو اڑائے کیسے کٹےگی تیری شوخ پتے نے کہا شاخ سے بلکتی ہوئے حسرتیں اپنی یتیموں لگ داڑھیاں کی طرح ہم کو آواز ہی دے لیتے ذرا جاتے ہوئے سی لیے ہونٹ حقیقت پاکیزہ نگاہیں سن کر میلی ہوں جاتی ہے آواز بھی دہراتے ہوئے
Gulzar
1 likes
تنکہ تنکہ کانٹے گرفت ساری رات کٹائی کی کیوں اتنی لمبی ہوتی ہے چاندنی رات جدائی کی نیند ہے وہ ہے وہ کوئی اپنے آپ سے باتیں کرتا رہتا ہے کال کوئیں ہے وہ ہے وہ گونجتی ہے آواز کسی سودائی کی سینے ہے وہ ہے وہ دل کی آہٹ چنو کوئی جاسو سے چلے ہر سائے کا پیچھا کرنا عادت ہے ہر جائی کی آنکھوں اور کانوں ہے وہ ہے وہ کچھ سناٹے سے بھر جاتے ہیں کیا جاناں نے اڑتی دیکھی ہے ریت کبھی تنہائی کی تاروں کی روشن فصلیں اور چاند کی ایک درانتی تھی ساہو نے گروی رکھ لی تھی مری رات کٹائی کی
Gulzar
0 likes
ایک پرواز دکھائی دی ہے تیری آواز سنائی دی ہے صرف اک صفحہ پلٹ کر ا سے نے ساری باتوں کی صفائی دی ہے پھروں وہیں لوٹ کے جانا ہوگا یار نے کیسی رہائی دی ہے ج سے کی آنکھوں ہے وہ ہے وہ کٹی تھیں صدیاں ا سے نے صدیوں کی جدائی دی ہے زندگی پر بھی کوئی زور نہیں دل نے ہر چیز پرائی دی ہے آگ ہے وہ ہے وہ کیا کیا جلا ہے شب بھر کتنی سپید و سیاہ دکھائی دی ہے
Gulzar
2 likes
جب بھی آنکھوں ہے وہ ہے وہ خوشی بھر آئی لوگ کچھ ڈوبتے نظر آئی اپنا محور بدل چکی تھی ز ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہم خلا سے جو لوٹ کر آئی چاند جتنے بھی گم ہوئے شب کے سب کے الزام مری سر آئی چند لمحے جو لوٹ کر آئی رات کے آخری پہر آئی ایک گولی گئی تھی سو فلک اک پرندے کے بال و پر آئی کچھ چراغوں کی سان سے ٹوٹ گئی کچھ ب مشکل دم سحر آئی مجھ کو اپنا پتا ٹھکانا ملے حقیقت بھی اک بار مری گھر آئی
Gulzar
0 likes
Similar Writers
Our suggestions based on Gulzar.
Similar Moods
More moods that pair well with Gulzar's ghazal.







