ghazalKuch Alfaaz

ایک پرواز دکھائی دی ہے تیری آواز سنائی دی ہے صرف اک صفحہ پلٹ کر ا سے نے ساری باتوں کی صفائی دی ہے پھروں وہیں لوٹ کے جانا ہوگا یار نے کیسی رہائی دی ہے ج سے کی آنکھوں ہے وہ ہے وہ کٹی تھیں صدیاں ا سے نے صدیوں کی جدائی دی ہے زندگی پر بھی کوئی زور نہیں دل نے ہر چیز پرائی دی ہے آگ ہے وہ ہے وہ کیا کیا جلا ہے شب بھر کتنی سپید و سیاہ دکھائی دی ہے

Gulzar2 Likes

Related Ghazal

کسی لبا سے کی خوشبو جب اڑ کے آتی ہے تری بدن کی جدائی بے حد ستاتی ہے تری گلاب ترستے ہیں تیری خوشبو کو تیری سفید چمیلی تجھے بلاتی ہے تری بغیر مجھے چین کیسے پڑتا ہیں مری بغیر تجھے نیند کیسے آتی ہے

Jaun Elia

113 likes

ا سے طرح سے لگ آزماؤ مجھے ا سے کی تصویر مت دکھاؤ مجھے عین ممکن ہے ہے وہ ہے وہ پلٹ آؤں ا سے کی آواز ہے وہ ہے وہ بلاؤ مجھے ہے وہ ہے وہ ہے وہ نے بولا تھا یاد مت آنا جھوٹ بولا تھا یاد آؤ مجھے

Ali Zaryoun

64 likes

بعد ہے وہ ہے وہ مجھ سے نا کہنا گھر پلٹنا ٹھیک ہے ویسے سننے ہے وہ ہے وہ یہی آیا ہے رستہ ٹھیک ہے شاخ سے پتہ گرے بارش گردشیں بادل چھٹے ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہی تو سب کچھ غلط کرتا ہوں اچھا ٹھیک ہے ذہن تک تسلیم کر لیتا ہے ا سے کی برتری آنکھ تک تصدیق کر دیتی ہے بندہ ٹھیک ہے ایک تیری آواز سننے کے لیے زندہ ہے ہم تو ہی جب خاموش ہوں جائے تو پھروں کیا ٹھیک ہے

Tehzeeb Hafi

182 likes

جام سگریٹ کش اور ب سے کچھ دھواں آخرش اور ب سے موت تک زندگی کا سفر رات دن کش مکش اور ب سے پی گیا تو پیڑ آندھی م گر گر پڑا کھا کے نور صفا اور ب سے زندگی جلتی سگریٹ ہے صرف دو چار کش اور ب سے سوختے پیڑ کی لکڑیاں آخری پیشکش اور ب سے

Sandeep Thakur

50 likes

بچھڑ کر ا سے کا دل لگ بھی گیا تو تو کیا لگے گا حقیقت تھک جائےگا اور مری گلے سے آ لگے گا ہے وہ ہے وہ ہے وہ مشکل ہے وہ ہے وہ تمہارے کام آؤں یا نا آؤں مجھے آواز دے لینا تمہیں اچھا لگے گا ہے وہ ہے وہ ہے وہ ج سے کوشش سے اس کا کو بھول جانے ہے وہ ہے وہ لگا ہوں زیادہ بھی ا گر لگ جائے تو ہفتہ لگے گا

Tehzeeb Hafi

174 likes

More from Gulzar

ऐसा ख़ामोश तो मंज़र न फ़ना का होता मेरी तस्वीर भी गिरती तो छनाका होता यूँँ भी इक बार तो होता कि समुंदर बहता कोई एहसास तो दरिया की अना का होता साँस मौसम की भी कुछ देर को चलने लगती कोई झोंका तिरी पलकों की हवा का होता काँच के पार तिरे हाथ नज़र आते हैं काश ख़ुशबू की तरह रंग हिना का होता क्यूँँ मिरी शक्ल पहन लेता है छुपने के लिए एक चेहरा कोई अपना भी ख़ुदा का होता

Gulzar

3 likes

تنکہ تنکہ کانٹے گرفت ساری رات کٹائی کی کیوں اتنی لمبی ہوتی ہے چاندنی رات جدائی کی نیند ہے وہ ہے وہ کوئی اپنے آپ سے باتیں کرتا رہتا ہے کال کوئیں ہے وہ ہے وہ گونجتی ہے آواز کسی سودائی کی سینے ہے وہ ہے وہ دل کی آہٹ چنو کوئی جاسو سے چلے ہر سائے کا پیچھا کرنا عادت ہے ہر جائی کی آنکھوں اور کانوں ہے وہ ہے وہ کچھ سناٹے سے بھر جاتے ہیں کیا جاناں نے اڑتی دیکھی ہے ریت کبھی تنہائی کی تاروں کی روشن فصلیں اور چاند کی ایک درانتی تھی ساہو نے گروی رکھ لی تھی مری رات کٹائی کی

Gulzar

0 likes

ذکر آئی تو مری لب سے دعائیں نکلیں شمع جلتی ہے تو لازم ہے شعائیں نکلیں سمے کی قابو سے کٹ جاتے ہیں سب کے سینے چاند کا چھلکا اتر جائے تو قاشیں نکلیں دفن ہوں جائیں کہ زرخیز ز ہے وہ ہے وہ ہے وہ لگتی ہے کل اسی مٹی سے شاید مری شاخیں نکلیں چند امیدیں نچوڑی تھیں تو آہیں ٹپکیں دل کو پگھلائیں تو ہوں سکتا ہے سانسیں نکلیں غار کے منا پہ رکھا رہنے دو سنگ خورشید غار ہے وہ ہے وہ ہاتھ لگ ڈالو کہی راتیں نکلیں

Gulzar

2 likes

ہر ایک غم نچوڑ کے ہر اک بر سے جیے دو دن کی زندگی ہے وہ ہے وہ ہزاروں بر سے جیے صدیوں پہ اختیار نہیں تھا ہمارا دوست دو چار لمحے ب سے ہے وہ ہے وہ تھے دو چار ب سے جیے صحرا کے ا سے طرف سے گئے سارے کارواں سن سن کے ہم تو صرف صدائے جر سے جیے ہونٹوں ہے وہ ہے وہ لے کے رات کے آنچل کا اک سرا آنکھوں پہ رکھ کے چاند کے ہونٹوں کا م سے جیے محدود ہیں دعائیں مری اختیار ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہر سان سے پر سکون ہوں تو سو بر سے جیے

Gulzar

3 likes

جب بھی آنکھوں ہے وہ ہے وہ خوشی بھر آئی لوگ کچھ ڈوبتے نظر آئی اپنا محور بدل چکی تھی ز ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہم خلا سے جو لوٹ کر آئی چاند جتنے بھی گم ہوئے شب کے سب کے الزام مری سر آئی چند لمحے جو لوٹ کر آئی رات کے آخری پہر آئی ایک گولی گئی تھی سو فلک اک پرندے کے بال و پر آئی کچھ چراغوں کی سان سے ٹوٹ گئی کچھ ب مشکل دم سحر آئی مجھ کو اپنا پتا ٹھکانا ملے حقیقت بھی اک بار مری گھر آئی

Gulzar

0 likes

Similar Writers

View All ›

Our suggestions based on Gulzar.

Similar Moods

View All ›

More moods that pair well with Gulzar's ghazal.