ghazalKuch Alfaaz

دنیا جسے کہتے ہیں جادو کا کھلونا ہے مل جائے تو مٹی ہے کھو جائے تو سونا ہے اچھا سا کوئی موسم تنہا سا کوئی عالم ہر سمے کا رونا تو بے کار کا رونا ہے برسات کا بادل تو دیوا لگ ہے کیا جانے ک سے راہ سے بچنا ہے ک سے چھت کو بھیگو لگ ہے یہ سمے جو تیرا ہے یہ سمے جو میرا ہے ہر گام پہ پہرہ ہے پھروں بھی اسے کھونا ہے غم ہوں کہ خوشی دونوں کچھ دور کے ساتھی ہیں پھروں رستہ ہی رستہ ہے ہنسنا ہے لگ رونا ہے آوارہ مزاجی نے پھیلا دیا آنگن کو آکاش کی چادر ہے دھرتی کا بچھونا ہے

Nida Fazli30 Likes

Related Ghazal

یہی اپنی کہانی تھی میاں پہلے بے حد پہلے حقیقت لڑکی جاں ہماری تھی میاں پہلے بے حد پہلے وہم مجھ کو یہ بھاتا ہے,अभी مری دیوانی ہے م گر مری دیوانی تھی میاں پہلے بے حد پہلے رقیب آ کر بتاتے ہیں ی ہاں تل ہے و ہاں تل ہے ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ یہ جانکاری تھی میاں پہلے بے حد پہلے ادب سے مانگ کر مافی بھری محفل یہ کہتا ہوں حقیقت لڑکی خاندانی تھی میاں پہلے بے حد پہلے

Anand Raj Singh

526 likes

اسی جگہ پر ج ہاں کئی راستے ملیںگے پلٹ کے آئی تو سب سے پہلے تجھے ملیںگے ا گر کبھی تری نام پر جنگ ہوں گئی تو ہم ایسے بزدل بھی پہلی صف ہے وہ ہے وہ کھڑے ملیںگے تجھے یہ سڑکیں مری توسط سے جانتی ہیں تجھے ہمیشہ یہ سب اشارے کھلے ملیںگے

Tehzeeb Hafi

465 likes

چاند ستارے تم پھول پرندے شام سویرہ ایک طرف ساری دنیا ا سے کا چربہ ا سے کا چہرہ ایک طرف حقیقت لڑکر بھی سو جائے تو ا سے کا ماتھا چوموں ہے وہ ہے وہ ہے وہ ا سے سے محبت ایک طرف ہے ا سے سے جھگڑا ایک طرف ج سے اجازت پر حقیقت انگلی رکھ دے اس کا کو حقیقت دلوانی ہے ا سے کی خوشیاں سب سے اول سستا مہنگا ایک طرف زخموں پر مرہم لگواو لیکن ا سے کے ہاتھوں سے چارسازی ایک طرف ہے ا سے کا چھونا ایک طرف ساری دنیا جو بھی بولے سب کچھ شور شرابا ہے سب کا کہنا ایک طرف ہے ا سے کا کہنا ایک طرف ا سے نے ساری دنیا مانگی ہے وہ ہے وہ نے اس کا کو مانگا ہے ا سے کے سپنے ایک طرف ہے میرا سپنا ایک طرف

Varun Anand

406 likes

یہ غم کیا دل کی عادت ہے نہیں تو کسی سے کچھ شکایت ہے نہیں تو ہے حقیقت اک خواب بے تعبیر ا سے کو بھلا دینے کی نیت ہے نہیں تو کسی کے بن کسی کی یاد کے بن جیے جانے کی ہمت ہے نہیں تو کسی صورت بھی دل لگتا نہیں ہاں تو کچھ دن سے یہ حالت ہے نہیں تو تری ا سے حال پر ہے سب کو حیرت تجھے بھی ا سے پہ حیرت ہے نہیں تو ہم آہنگی نہیں دنیا سے تیری تجھے ا سے پر ندامت ہے نہیں تو ہوا جو کچھ یہی مقسوم تھا کیا یہی ساری مقسوم ہے نہیں تو اذیت ناک اذیت ناک سے تجھ کو اماں پانے کی حسرت ہے نہیں تو تو رہتا ہے خیال و خواب ہے وہ ہے وہ گم تو ا سے کی وجہ فرصت ہے نہیں تو سبب جو ا سے جدائی کا بنا ہے حقیقت مجھ سے خوبصورت ہے نہیں تو

Jaun Elia

355 likes

تیری مشکل لگ چھپاؤں گا چلا جاؤں گا خوشی آنکھوں ہے وہ ہے وہ آؤں گا چلا جاؤں گا اپنی دہلیز پہ کچھ دیر پڑا رہنے دے چنو ہی ہوش ہے وہ ہے وہ لگاؤں گا چلا جاؤں گا خواب لینے کوئی آئی کہ لگ آئی کوئی ہے وہ ہے وہ ہے وہ تو آواز رلاؤں گا چلا جاؤں گا چند یادیں مجھے بچوں کی طرح پیاری ہیں ان کو سینے سے لگاؤں گا چلا جاؤں گا مدتوں بعد ہے وہ ہے وہ آیا ہوں پرانی گھر ہے وہ ہے وہ ہے وہ خود کو جی بھر کے نیت شوق چلا جاؤں گا ا سے جزیرے ہے وہ ہے وہ زیادہ نہیں رہنا اب تو آجکل ناو بناؤں گا چلا جاؤں گا تہذیب کی طرح لوٹ کے آؤںگا حسن ہر طرف پھول کھلاؤں گا چلا جاؤں گا

Hasan Abbasi

235 likes

More from Nida Fazli

دن سلیقے سے اگا رات ٹھکانے سے رہی دوستی اپنی بھی کچھ روز زمانے سے رہی چند لمحوں کو ہی بنتی ہیں مصور آنکھیں زندگی روز تو تصویر بنانے سے رہی ا سے اندھیرے ہے وہ ہے وہ تو ٹھوکر ہی اجالا دےگی رات جنگل ہے وہ ہے وہ کوئی شمع جلانے سے رہی فاصلہ چاند بنا دیتا ہے ہر پتھر کو دور کی روشنی نزدیک تو آنے سے رہی شہر ہے وہ ہے وہ سب کو ک ہاں ملتی ہے رونے کی جگہ اپنی عزت بھی ی ہاں ہنسنے ہنسانے سے رہی

Nida Fazli

0 likes

ہر ایک گھر ہے وہ ہے وہ دیا بھی جلے اناج بھی ہوں ا گر لگ ہوں کہی ایسا تو احتجاج بھی ہوں رہےگی وعدوں ہے وہ ہے وہ کب تک ہم نوا خوش حالی ہر ایک بار ہی کل کیوں کبھی تو آج بھی ہوں لگ کرتے شور شرابا تو اور کیا کرتے تمہارے شہر ہے وہ ہے وہ کچھ اور کام کاج بھی ہوں حکومتوں کو بدلنا تو کچھ محال نہیں حکومتیں جو بدلتا ہے حقیقت سماج بھی ہوں بدل رہے ہیں کئی آدمی درندوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ مرض پرانا ہے ا سے کا نیا علاج بھی ہوں اکیلے غم سے نئی شاعری نہیں ہوتی زبان میر ہے وہ ہے وہ تاکتے کا امتزاج بھی ہوں

Nida Fazli

0 likes

ہر اک رستہ اندھیروں ہے وہ ہے وہ گھرا ہے محبت اک ضروری حادثہ ہے گرجتی آندھیاں ضائع ہوئی ہیں زمیں پہ ٹوٹ کے آنسو گرا ہے نکل آئی کدھر منزل کی دھن ہے وہ ہے وہ ہے وہ یہاں تو راستہ ہی راستہ ہے دعا کے ہاتھ پتھر ہوں گئے ہیں خدا ہر ذہن ہے وہ ہے وہ ٹوٹا پڑا ہے تمہارا غضب شاید الگ ہوں مجھے تو علم نے بھٹکا دیا ہے

Nida Fazli

2 likes

دکھ ہے وہ ہے وہ نیر بہا دیتے تھے سکھ ہے وہ ہے وہ ہنسنے لگتے تھے سیدھے سادے لوگ تھے لیکن کتنے اچھے لگتے تھے خوبصورت چڑھتی آندھی جیسی پیار چراغ دیر و کعبہ چشموں سا بیری ہوں یا سنگی ساتھی سارے اپنے لگتے تھے بہتے پانی دکھ سکھ بانٹیں پیڑ بڑے بوڑھوں چنو بچوں کی آہٹ سنتے ہی کھیت لہکنے لگتے تھے ندی پربت چاند نگاہیں جپا ایک کئی دانے چھوٹے چھوٹے سے آنگن بھی کوسوں پھیلے لگتے تھے

Nida Fazli

2 likes

کچھ دنوں تو شہر سارا اجنبی سا ہوں گیا تو پھروں ہوا یوں حقیقت کسی کی ہے وہ ہے وہ کسی کا ہوں گیا تو عشق کر کے دیکھیے اپنا تو یہ ہے غضب گھر محلہ شہر سب پہلے سے اچھا ہوں گیا تو قبر ہے وہ ہے وہ حق گوئی باہر منقبت قوالیاں آدمی کا آدمی ہونا تماشا ہوں گیا تو حقیقت ہی مورت حقیقت ہی صورت حقیقت ہی قدرت کی طرح ا سے کو ج سے نے جیسا سوچا حقیقت بھی ویسا ہوں گیا تو

Nida Fazli

3 likes

Similar Writers

View All ›

Our suggestions based on Nida Fazli.

Similar Moods

View All ›

More moods that pair well with Nida Fazli's ghazal.