duniya jise kahte hain jaadu ka khilauna hai mil jaae to mitti hai kho jaae to sona hai achchha sa koi mausam tanha sa koi aalam har vaqt ka rona to be-kar ka rona hai barsat ka badal to divana hai kya jaane kis raah se bachna hai kis chhat ko bhigona hai ye vaqt jo tera hai ye vaqt jo mera hai har gaam pe pahra hai phir bhi ise khona hai ghham ho ki khushi donon kuchh duur ke sathi hain phir rasta hi rasta hai hansna hai na rona hai avara-mizaji ne phaila diya angan ko akash ki chadar hai dharti ka bichhauna hai duniya jise kahte hain jadu ka khilauna hai mil jae to mitti hai kho jae to sona hai achchha sa koi mausam tanha sa koi aalam har waqt ka rona to be-kar ka rona hai barsat ka baadal to diwana hai kya jaane kis rah se bachna hai kis chhat ko bhigona hai ye waqt jo tera hai ye waqt jo mera hai har gam pe pahra hai phir bhi ise khona hai gham ho ki khushi donon kuchh dur ke sathi hain phir rasta hi rasta hai hansna hai na rona hai aawara-mizaji ne phaila diya aangan ko aakash ki chadar hai dharti ka bichhauna hai
Related Ghazal
کیا بادلوں ہے وہ ہے وہ سفر زندگی بھر ز ہے وہ ہے وہ ہے وہ پر بنایا لگ گھر زندگی بھر سبھی زندگی کے مزے لوٹتے ہیں لگ آیا ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ یہ ہنر زندگی بھر محبت رہی چار دن زندگی ہے وہ ہے وہ ہے وہ رہا چار دن کا اثر زندگی بھر
Anwar Shaoor
95 likes
ہاتھ خالی ہیں تری شہر سے جاتے جاتے جان ہوتی تو مری جان لٹاتے جاتے اب تو ہر ہاتھ کا پتھر ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ پہچانتا ہے عمر گزری ہے تری شہر ہے وہ ہے وہ آتے جاتے اب کے مایو سے ہوا یاروں کو رخصت کر کے جا رہے تھے تو کوئی زخم لگاتے جاتے رینگنے کی بھی اجازت نہیں ہم کو ور لگ ہم جدھر جاتے نئے پھول کھلاتے جاتے ہے وہ ہے وہ ہے وہ تو جلتے ہوئے صحراؤں کا اک پتھر تھا جاناں تو دریا تھے مری پیا سے بجھاتے جاتے مجھ کو رونے کا سلیقہ بھی نہیں ہے شاید لوگ ہنستے ہیں مجھے دیکھ کے آتے جاتے ہم سے پہلے بھی مسافر کئی گزرے ہوں گے کم سے کم راہ کے پتھر تو ہٹاتے جاتے
Rahat Indori
102 likes
ہم نے کب چاہا کہ حقیقت بے وجہ ہمارا ہوں جائے اتنا دکھ جائے کہ آنکھوں کا گزارا ہوں جائے ہم جسے پا سے بٹھا لیں حقیقت بچھڑ جاتا ہے جاناں جسے ہاتھ لگا دو حقیقت تمہارا ہوں جائے جاناں کو لگتا ہے کہ جاناں جیت گئے ہوں مجھ سے ہے یہی بات تو پھروں کھیل دوبارہ ہوں جائے ہے محبت بھی غضب طرز تجارت کہ ی ہاں ہر دکاں دار یہ چاہے کہ خسارہ ہوں جائے
Yasir Khan
92 likes
کسی لبا سے کی خوشبو جب اڑ کے آتی ہے تری بدن کی جدائی بے حد ستاتی ہے تری گلاب ترستے ہیں تیری خوشبو کو تیری سفید چمیلی تجھے بلاتی ہے تری بغیر مجھے چین کیسے پڑتا ہیں مری بغیر تجھے نیند کیسے آتی ہے
Jaun Elia
113 likes
حقیقت زما لگ گزر گیا تو کب کا تھا جو دیوا لگ مر گیا تو کب کا ڈھونڈتا تھا جو اک نئی دنیا لوٹ کے اپنے گھر گیا تو کب کا حقیقت جو لایا تھا ہم کو دریا تک پار اکیلے اتر گیا تو کب کا ا سے کا جو حال ہے وہی جانے اپنا تو زخم بھر گیا تو کب کا خواب در خواب تھا جو شیرازہ اب ک ہاں ہے بکھر گیا تو کب کا
Javed Akhtar
62 likes
More from Nida Fazli
گرجا ہے وہ ہے وہ مندروں ہے وہ ہے وہ اذانوں ہے وہ ہے وہ بٹ گیا تو ہوتے ہی صبح آدمی خانوں ہے وہ ہے وہ بٹ گیا تو اک عشق نام کا جو پرندہ خلا ہے وہ ہے وہ تھا اترا جو شہر ہے وہ ہے وہ تو دکانوں ہے وہ ہے وہ بٹ گیا تو پہلے تلاشا کھیت پھروں دریا کی کھوج کی باقی کا سمے گہیوں کے دانوں ہے وہ ہے وہ بٹ گیا تو جب تک تھا آسمان ہے وہ ہے وہ سورج سبھی کا تھا پھروں یوں ہوا حقیقت چند مکانوں ہے وہ ہے وہ بٹ گیا تو ہیں تاک ہے وہ ہے وہ شکاری نشا لگ ہیں بستیاں عالم تمام چند مچانوں ہے وہ ہے وہ بٹ گیا تو خبروں نے کی مصوری خبریں غزل بنیں زندہ لہو تو تیر کمانوں ہے وہ ہے وہ بٹ گیا تو
Nida Fazli
1 likes
دن سلیقے سے اگا رات ٹھکانے سے رہی دوستی اپنی بھی کچھ روز زمانے سے رہی چند لمحوں کو ہی بنتی ہیں مصور آنکھیں زندگی روز تو تصویر بنانے سے رہی ا سے اندھیرے ہے وہ ہے وہ تو ٹھوکر ہی اجالا دےگی رات جنگل ہے وہ ہے وہ کوئی شمع جلانے سے رہی فاصلہ چاند بنا دیتا ہے ہر پتھر کو دور کی روشنی نزدیک تو آنے سے رہی شہر ہے وہ ہے وہ سب کو ک ہاں ملتی ہے رونے کی جگہ اپنی عزت بھی ی ہاں ہنسنے ہنسانے سے رہی
Nida Fazli
0 likes
جانے والوں سے رابطہ رکھنا دوستو رسم فاتحہ رکھنا گھر کی تعمیر چاہے جیسی ہوں ا سے ہے وہ ہے وہ رونے کی کچھ جگہ رکھنا مسجدیں ہیں خارے کے لیے اپنے گھر ہے وہ ہے وہ کہی خدا رکھنا جسم ہے وہ ہے وہ پھیلنے لگا ہے شہر اپنی تنہائیاں بچا رکھنا ملنا جلنا ج ہاں ضروری ہے ملنے جلنے کا حوصلہ رکھنا عمر کرنے کو ہے پچا سے کو پار کون ہے ک سے جگہ پتا رکھنا
Nida Fazli
1 likes
कभी कभी यूँँ भी हम ने अपने जी को बहलाया है जिन बातों को ख़ुद नहीं समझे औरों को समझाया है हम से पूछो इज़्ज़त वालों की इज़्ज़त का हाल कभी हम ने भी इक शहर में रह कर थोड़ा नाम कमाया है उस को भूले बरसों गुज़रे लेकिन आज न जाने क्यूँँ आँगन में हँसते बच्चों को बे-कारन धमकाया है उस बस्ती से छुट कर यूँँ तो हर चेहरे को याद किया जिस से थोड़ी सी अन-बन थी वो अक्सर याद आया है कोई मिला तो हाथ मिलाया कहीं गए तो बातें कीं घर से बाहर जब भी निकले दिन भर बोझ उठाया है
Nida Fazli
1 likes
آنی جانی ہر محبت ہے چلو یوں ہی صحیح جب تلک ہے خوبصورت ہے چلو یوں ہی صحیح ہم ک ہاں کے دیوتا ہیں بےوفا حقیقت ہیں تو کیا گھر ہے وہ ہے وہ کوئی گھر کی ظفر ہے چلو یوں ہی صحیح حقیقت نہیں تو کوئی تو ہوگا کہی ا سے کی طرح جسم ہے وہ ہے وہ جب تک حرارت ہے چلو یوں ہی صحیح میلے ہوں جاتے ہیں رشتے بھی لباسوں کی طرح دوستی ہر دن کی محنت ہے چلو یوں ہی صحیح بھول تھی اپنی فرشتہ آدمی ہے وہ ہے وہ ڈھونڈنا آدمی ہے وہ ہے وہ آدمیت ہے چلو یوں ہی صحیح جیسی ہونی چاہیے تھی ویسی تو دنیا نہیں دنیا داری بھی ضرورت ہے چلو یوں ہی صحیح
Nida Fazli
4 likes
Similar Writers
Our suggestions based on Nida Fazli.
Similar Moods
More moods that pair well with Nida Fazli's ghazal.







