ghazalKuch Alfaaz

ایک تصویر کہ اول نہیں دیکھی جاتی دیکھ بھی لوں تو مسلسل نہیں دیکھی جاتی دیکھی جاتی ہے محبت ہے وہ ہے وہ ہر جنبش دل صرف سانسوں کی ریہرسل نہیں دیکھی جاتی اک تو ویسے بڑی تاریک ہے خواہش نگری پھروں طویل اتنی کہ پیدل نہیں دیکھی جاتی ایسا کچھ ہے بھی نہیں ج سے سے تجھے بہلاؤں یہ اداسی بھی مسلسل نہیں دیکھی جاتی ہے وہ ہے وہ ہے وہ نے اک عمر سے بٹوے ہے وہ ہے وہ سنبھالی ہوئی ہے وہی تصویر جو اک پل نہیں دیکھی جاتی اب میرا دھیان کہی اور چلا جاتا ہے اب کوئی فلم مکمل نہیں دیکھی جاتی

Related Ghazal

مری ب سے ہے وہ ہے وہ نہیں ورنا قدرت کا لکھا ہوا کاٹتا تری حصے ہے وہ ہے وہ آئی برے دن کوئی دوسرا کاٹتا لاریوں سے زیادہ بہاؤ تھا تری ہر اک لفظ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ اشارہ نہیں کاٹ سکتا تیری بات کیا کاٹتا ہے وہ ہے وہ ہے وہ نے بھی زندگی اور شب اے ہجر کاٹی ہے سب کی طرح ویسے بہتر تو یہ تھا کے ہے وہ ہے وہ کم سے کم کچھ نیا کاٹتا تری ہوتے ہوئے موم بتی بجھائی کسی اور نے کیا خوشی رہ گئی تھی جنم دن کی ہے وہ ہے وہ کیک کیا کاٹتا کوئی بھی تو نہیں جو مری بھوکے رہنے پہ ناراض ہوں جیل ہے وہ ہے وہ تیری تصویر ہوتی تو ہنسکر سزا کاٹتا

Tehzeeb Hafi

456 likes

چاند ستارے تم پھول پرندے شام سویرہ ایک طرف ساری دنیا ا سے کا چربہ ا سے کا چہرہ ایک طرف حقیقت لڑکر بھی سو جائے تو ا سے کا ماتھا چوموں ہے وہ ہے وہ ہے وہ ا سے سے محبت ایک طرف ہے ا سے سے جھگڑا ایک طرف ج سے اجازت پر حقیقت انگلی رکھ دے اس کا کو حقیقت دلوانی ہے ا سے کی خوشیاں سب سے اول سستا مہنگا ایک طرف زخموں پر مرہم لگواو لیکن ا سے کے ہاتھوں سے چارسازی ایک طرف ہے ا سے کا چھونا ایک طرف ساری دنیا جو بھی بولے سب کچھ شور شرابا ہے سب کا کہنا ایک طرف ہے ا سے کا کہنا ایک طرف ا سے نے ساری دنیا مانگی ہے وہ ہے وہ نے اس کا کو مانگا ہے ا سے کے سپنے ایک طرف ہے میرا سپنا ایک طرف

Varun Anand

406 likes

یہ غم کیا دل کی عادت ہے نہیں تو کسی سے کچھ شکایت ہے نہیں تو ہے حقیقت اک خواب بے تعبیر ا سے کو بھلا دینے کی نیت ہے نہیں تو کسی کے بن کسی کی یاد کے بن جیے جانے کی ہمت ہے نہیں تو کسی صورت بھی دل لگتا نہیں ہاں تو کچھ دن سے یہ حالت ہے نہیں تو تری ا سے حال پر ہے سب کو حیرت تجھے بھی ا سے پہ حیرت ہے نہیں تو ہم آہنگی نہیں دنیا سے تیری تجھے ا سے پر ندامت ہے نہیں تو ہوا جو کچھ یہی مقسوم تھا کیا یہی ساری مقسوم ہے نہیں تو اذیت ناک اذیت ناک سے تجھ کو اماں پانے کی حسرت ہے نہیں تو تو رہتا ہے خیال و خواب ہے وہ ہے وہ گم تو ا سے کی وجہ فرصت ہے نہیں تو سبب جو ا سے جدائی کا بنا ہے حقیقت مجھ سے خوبصورت ہے نہیں تو

Jaun Elia

355 likes

کیوں ڈریں زندگی ہے وہ ہے وہ کیا ہوگا کچھ لگ ہوگا تو غضب ہوگا ہنستی آنکھوں ہے وہ ہے وہ جھانک کر دیکھو کوئی آنسو کہی چھپا ہوگا ان دنوں نا امید سا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ شاید ا سے نے بھی یہ سنا ہوگا دیکھ کر جاناں کو سوچتا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ کیا کسی نے تمہیں چھوا ہوگا

Javed Akhtar

371 likes

تیری مشکل لگ چھپاؤں گا چلا جاؤں گا خوشی آنکھوں ہے وہ ہے وہ آؤں گا چلا جاؤں گا اپنی دہلیز پہ کچھ دیر پڑا رہنے دے چنو ہی ہوش ہے وہ ہے وہ لگاؤں گا چلا جاؤں گا خواب لینے کوئی آئی کہ لگ آئی کوئی ہے وہ ہے وہ ہے وہ تو آواز رلاؤں گا چلا جاؤں گا چند یادیں مجھے بچوں کی طرح پیاری ہیں ان کو سینے سے لگاؤں گا چلا جاؤں گا مدتوں بعد ہے وہ ہے وہ آیا ہوں پرانی گھر ہے وہ ہے وہ ہے وہ خود کو جی بھر کے نیت شوق چلا جاؤں گا ا سے جزیرے ہے وہ ہے وہ زیادہ نہیں رہنا اب تو آجکل ناو بناؤں گا چلا جاؤں گا تہذیب کی طرح لوٹ کے آؤںگا حسن ہر طرف پھول کھلاؤں گا چلا جاؤں گا

Hasan Abbasi

235 likes

More from Jawwad Sheikh

سب کو بچاؤ خود بھی بچو فاصلہ رکھو اب اور کچھ کروں لگ کروں فاصلہ رکھو خطرہ تو مفت ہے وہ ہے وہ بھی نہیں لینا چاہیے گھر سے نکل کے مول لگ لو فاصلہ رکھو فیلحال ا سے سے بچنے کا ہے ایک راستہ حقیقت یہ کہ ا سے سے بچ کے رہو فاصلہ رکھو دشمن ہے اور طرح کا جنگ اور طرح کی آگے بڑھو لگ پیچھے ہٹو فاصلہ رکھو

Jawwad Sheikh

7 likes

غم ج ہاں سے ہے وہ ہے وہ اکتا گیا تو تو کیا ہوگا خود اپنی فکر ہے وہ ہے وہ گھلنے لگا تو کیا ہوگا یہ ناگزیر ہے امید کی نمو کے لیے گزرتا سمے کہی تھم گیا تو تو کیا ہوگا یہی بے حد ہے کہ ہم کو سکون سے جینے دے کسی کے ہاتھوں ہمارا بھلا تو کیا ہوگا یہ لوگ مری خموشی پہ مجھ سے نالاں ہیں کوئی یہ پوچھے ہے وہ ہے وہ گویا ہوا تو کیا ہوگا ہے وہ ہے وہ ہے وہ ا سے لیے بھی بے حد مختلف ہوں لوگوں سے حقیقت سوچتے ہیں کہ ایسا ہوا تو کیا ہوگا جنوں کی راہ غضب ہے کہ پاؤں دھرنے کو زمین تک بھی نہیں نقش پا تو کیا ہوگا یہ ایک خوف بھی مری خوشی ہے وہ ہے وہ شامل ہے ترا بھی دھیان ا گر ہٹ گیا تو تو کیا ہوگا جو ہوں رہا ہے حقیقت ہوتا چلا گیا تو تو پھروں جو ہونے کو ہے وہی ہوں گیا تو تو کیا ہوگا

Jawwad Sheikh

9 likes

ہے وہ ہے وہ چاہتا ہوں کہ دل ہے وہ ہے وہ ترا خیال لگ ہوں غضب نہیں کہ مری زندگی وبال لگ ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ چاہتا ہوں تو یک دم ہی چھوڑ جائے مجھے یہ ہر گھڑی تری جانے کا احتمال لگ ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ چاہتا ہوں محبت پہ اب کی بار آئی زوال ایسا کہ ج سے کو کبھی زوال لگ ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ چاہتا ہوں محبت سرے سے مٹ جائے ہے وہ ہے وہ ہے وہ چاہتا ہوں اسے سوچنا محال لگ ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ چاہتا ہوں محبت مجھے فنا کر دے فنا بھی ایسا کہ ج سے کی کوئی مثال لگ ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ چاہتا ہوں محبت میرا حقیقت حال کرے کہ خواب ہے وہ ہے وہ بھی دوبارہ کبھی مجال لگ ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ چاہتا ہوں کہ اتنا ہی ربط رہ جائے حقیقت یاد آئی م گر بھول لگ محال لگ ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ چاہتا ہوں مری آنکھیں نوچ لی جائیں ترا خیال کسی طور پائمال لگ ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ چاہتا ہوں کہ ہے وہ ہے وہ زخم زخم ہوں جاؤں اور ا سے طرح کہ کبھی خوف اندمال لگ ہوں مری مثال ہوں سب کی نگاہ ہے وہ ہے وہ جواد ہے وہ ہے وہ ہے وہ چاہتا ہوں کسی اور ک

Jawwad Sheikh

20 likes

میرا خزانہ زمانے کے ہاتھ جا نہ لگے تجھے کسی کی کسی کو تیری ہوا نہ لگے ہے وہ ہے وہ ہے وہ ایک جسم کو چکھنا تو چاہتا ہوں مگر کچھ ا سے طرح کہ میرے منہ کو ذائقہ نہ لگے ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ لگا سو لگا خود عذیتی کا نشہ دعا کروں کہ تمہیں بد دعا دعا نہ لگے دعا کروں کہ کسی کا نہ دل لگے جاناں سے لگے تو اور کسی سے لگا ہوا نہ لگے حسد کیا ہوں تیرے رزق سے کبھی ہے وہ ہے وہ نے تو مجھ کو اپنی کمائی ہوئی غذا نہ لگے ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہی عشق کی تشہیر چاہیے ورنا پتا نہ لگنے دیا جائے تو پتا نہ لگے پڑا رہا ہے وہ ہے وہ کسی اور ہی بہلائیں گے ہے وہ ہے وہ ہے وہ بہت سے قیمتی جذبے کسی دشا نہ لگے بنا رہا ہوں تصور ہے وہ ہے وہ ایک مدت سے ایک ایسا شہر جسے کوئی راستہ نہ لگے ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ تو ا سے سے محبت ہے اور بے حد ہے اگر اسے نہیں لگتا تو کیا ہوا نہ لگے کسے خوشی نہیں ہوتی سراہا جانے کی مگر حقیقت دوست ہی کیا ہے جو آئینہ نہ لگے کبھی کبھیار جو رکھنے لگے زبان کا بھرم حقیقت اب بھی کیا نہیں لگتا مزید کیا نہ

Jawwad Sheikh

21 likes

ا سے نے کوئی تو دم پڑھا ہوا ہے ج سے نے دیکھا حقیقت مبتلا ہوا ہے اب تری راستے سے بچ نکلوں اک یہی راستہ بچا ہوا ہے آؤ تقریب رو نمائی کریں پاؤں ہے وہ ہے وہ ایک آبلا ہوا ہے پھروں وہی بحث چھیڑ دیتے ہوں اتنی مشکل سے رابطہ ہوا ہے رات کی واردات مت پوچھو واقعی ایک واقعہ ہوا ہے لگ رہا ہے یہ نرم لہجے سے پھروں تجھے کوئی مسئلہ ہوا ہے ہے وہ ہے وہ ہے وہ ک ہاں اور حقیقت فصیل ک ہاں فاصلے کا ہی فیصلہ ہوا ہے اتنا مصروف ہوں گیا تو ہوں کہ ب سے میر بھی اک طرف پڑا ہوا ہے آج کچھ بھی نہیں ہوا جواد ہاں م گر ایک سانحہ ہوا ہے

Jawwad Sheikh

7 likes

Similar Writers

View All ›

Our suggestions based on Jawwad Sheikh.

Similar Moods

View All ›

More moods that pair well with Jawwad Sheikh's ghazal.