ghazalKuch Alfaaz

ghhazlon ka hunar apni ankhon ko sikhaenge roenge bahut lekin aansu nahin aenge kah dena samundar se ham os ke moti hain dariya ki tarah tujh se milne nahin aenge vo dhuup ke chhappar hon ya chhanv ki divaren ab jo bhi uthaenge mil jul ke uthaenge jab saath na de koi avaz hamen dena ham phuul sahi lekin patthar bhi uthaenge ghazlon ka hunar apni aankhon ko sikhaenge roenge bahut lekin aansu nahin aaenge kah dena samundar se hum os ke moti hain dariya ki tarah tujh se milne nahin aaenge wo dhup ke chhappar hon ya chhanw ki diwaren ab jo bhi uthaenge mil jul ke uthaenge jab sath na de koi aawaz hamein dena hum phul sahi lekin patthar bhi uthaenge

Related Ghazal

اصولوں پر ج ہاں آنچ آئی ٹکرانا ضروری ہے جو زندہ ہوں تو پھروں زندہ نظر آنا ضروری ہے نئی عمروں کی خودمختاریوں کو کون سمجھائے ک ہاں سے بچ کے چلنا ہے ک ہاں جانا ضروری ہے تھکے ہارے پرندے جب بسیرے کے لیے لوٹیں سلیقہ مند شاخوں کا لچک جانا ضروری ہے بے حد بےباک آنکھوں ہے وہ ہے وہ تعلق ٹک نہیں پاتا محبت ہے وہ ہے وہ کشش رکھنے کو شرمانا ضروری ہے سلیقہ ہی نہیں شاید اسے محسو سے کرنے کا جو کہتا ہے خدا ہے تو نظر آنا ضروری ہے مری ہونٹوں پہ اپنی پیا سے رکھ دو اور پھروں سوچو کہ ا سے کے بعد بھی دنیا ہے وہ ہے وہ کچھ پانا ضروری ہے

Waseem Barelvi

107 likes

اپنی آنکھوں ہے وہ ہے وہ بھر کر لے جانے ہیں مجھ کو ا سے کے آنسو کام ہے وہ ہے وہ لانے ہے دیکھو ہم کوئی وحشی نہیں دیوانے ہیں جاناں سے بٹن کھلواتے نہیں لگواتے ہیں ہم جاناں اک دوجے کی سیڑھی ہے جاناں باقی دنیا تو سانپوں کے خانے ہیں پاکیزہ چیزوں کو پاکیزہ لکھو مت لکھو ا سے کی آنکھیں مے خانے ہیں

Varun Anand

63 likes

سو رہیں گے کے جاگتے رہیں گے ہم تری خواب دیکھتے رہیں گے تو کہی اور ہی ڈھونڈتا رہےگا ہم کہی اور ہی کھلے رہیں گے راہگیروں نے راہ بدلنی ہے پیڑ اپنی جگہ کھڑے رہیں گے سبھی موسم ہے دسترسی ہے وہ ہے وہ تیری تو نے چاہا تو ہم ہرے رہیں گے لوٹنا کب ہے تو نے پر تجھ کو عادتن ہی پکارتے رہیں گے تجھ کو پانے ہے وہ ہے وہ مسئلہ یہ ہے تجھ کو کھونے کے رلا رہیں گے تو ادھر دیکھ مجھ سے باتیں کر یار چشمے تو پھوٹتے رہیں گے ایک مدت ہوئی ہے تجھ سے ملے تو تو کہتا تھا رابطے رہیں گے

Tehzeeb Hafi

91 likes

عقل نے اچھے اچھوں کو بہکایا تھا شکر ہے ہم پر کچھ وحشت کا سایہ تھا جاناں نے اپنی گردن اونچی ہی رکھی ورنا ہے وہ ہے وہ تو جپا لے کر آیا تھا ہے وہ ہے وہ ہے وہ اب تک ا سے کے ہی رنگ ہے وہ ہے وہ رنگا ہوں ج سے نے سب سے پہلے رنگ لگایا تھا مری رائے سب سے پہلے لی جائے ہے وہ ہے وہ ہے وہ نے سب سے پہلے دھوکہ کھایا تھا سب کو علم ہے پھول اور خوشبو دونوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ سب سے پہلے ک سے نے ہاتھ چھڑایا تھا اک لڑکی نے پھروں مجھ کو بہکایا ہے اک لڑکی نے اچھے سے سمجھایا تھا

Zubair Ali Tabish

48 likes

سر جھکاؤگے تو پتھر دیوتا ہوں جائےگا اتنا مت چاہو اسے حقیقت بےوفا ہوں جائےگا ہم بھی دریا ہیں ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ اپنا ہنر معلوم ہے ج سے طرف بھی چل پڑیں گے راستہ ہوں جائےگا کتنی سچائی سے مجھ سے زندگی نے کہ دیا تو نہیں میرا تو کوئی دوسرا ہوں جائےگا ہے وہ ہے وہ ہے وہ خدا کا نام لے کر پی رہا ہوں دوستو زہر بھی ا سے ہے وہ ہے وہ ا گر ہوگا دوا ہوں جائےگا سب اسی کے ہیں ہوا خوشبو زمین و آ سماں ہے وہ ہے وہ ہے وہ ج ہاں بھی جاؤں گا ا سے کو پتا ہوں جائےگا

Bashir Badr

43 likes

More from Bashir Badr

مان موسم کا کہا چھائی گھٹا جام اٹھا آگ سے آگ بجھا پھول کھلا جام اٹھا پی مری یار تجھے اپنی قسم دیتا ہوں بھول جا شکوہ گلہ ہاتھ ملا جام اٹھا ہاتھ ہے وہ ہے وہ چاند ج ہاں آیا مقدر چمکا سب بدل جائےگا قسمت کا لکھا جام اٹھا ایک پل بھی کبھی ہوں جاتا ہے صدیوں جیسا دیر کیا کرنا ی ہاں ہاتھ بڑھا جام اٹھا پیار ہی پیار ہے سب لوگ برابر ہیں ی ہاں مختلف ہے وہ ہے وہ کوئی چھوٹا لگ بڑا جام اٹھا

Bashir Badr

1 likes

پھول برسے کہی شبنم کہی گوہر برسے اور ا سے دل کی طرف برسے تو پتھر برسے کوئی بادل ہوں تو تھم جائے م گر خوشی مری ایک رفتار سے دن رات برابر برسے برف کے پھولوں سے روشن ہوئی تاریک ز ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ رات کی شاخ سے چنو مہ و اندھیرا برسے پیار کا گیت اندھیروں پہ اجالوں کی فوار اور خوبصورت کی صدا شیشے پہ پتھر برسے بارشیں چھت پہ کھلی آبرو پہ ہوتی ہیں م گر غم حقیقت ساون ہے جو ان کمروں کے اندر برسے

Bashir Badr

4 likes

مری غزل کی طرح ا سے کی بھی حکومت ہے تمام ملک ہے وہ ہے وہ حقیقت سب سے خوبصورت ہے کبھی کبھی کوئی انسان ایسا لگتا ہے پرانی شہر ہے وہ ہے وہ چنو نئی عمارت ہے جمی ہے دیر سے کمرے ہے وہ ہے وہ غیبتوں کی نشست فضا ہے وہ ہے وہ گرد ہے ماحول ہے وہ ہے وہ کدورت ہے بے حد دنوں سے مری ساتھ تھی م گر کل شام مجھے پتا چلا حقیقت کتنی خوبصورت ہے یہ زائران علی گڑھ کا خاص تحفہ ہے مری غزل کا تبرک دلوں کی برکت ہے

Bashir Badr

4 likes

سو خلوص باتوں ہے وہ ہے وہ سب کرم خیالوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ ب سے ذرا وفا کم ہے تری شہر والوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ پہلی بار دی نے چاند بولتے دیکھا ہم جواب کیا دیتے کھو گئے سوالوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ رات تیری یادوں نے دل کو ا سے طرح چھیڑا چنو کوئی چٹکی لے نرم نرم گالوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ یوں کسی کی آنکھوں ہے وہ ہے وہ صبح تک ابھی تھے ہم ج سے طرح رہے شبنم پھول کے پیالوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ مری آنکھ کے تارے اب لگ دیکھ پاؤگے رات کے مسافر تھے کھو گئے اجالوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ چنو آدھی شب کے بعد چاند نیند ہے وہ ہے وہ چونکے حقیقت گلاب کی جنبش ان سیاہ بالوں ہے وہ ہے وہ

Bashir Badr

8 likes

جب سحر چپ ہوں ہنسا لو ہم کو جب اندھیرا ہوں جلا لو ہم کو ہم حقیقت ہیں نظر آتے ہیں داستانو ہے وہ ہے وہ چھپا لو ہم کو خون کا کام رواں رہنا ہے ج سے جگہ چاہو بہا لو ہم کو دن لگ پا جائے کہی شب کا راز صبح سے پہلے اٹھا لو ہم کو ہم زمانے کے ستائے ہیں بے حد اپنے سینے سے لگا لو ہم کو سمے کے ہونٹ ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ چھو لیںگے ان کہے بول ہیں گا لو ہم کو

Bashir Badr

1 likes

Similar Writers

View All ›

Our suggestions based on Bashir Badr.

Similar Moods

View All ›

More moods that pair well with Bashir Badr's ghazal.