غم ا سے کا کچھ نہیں ہے کہ ہے وہ ہے وہ کام آ گیا تو غم یہ ہے قاتلوں ہے وہ ہے وہ ترا نام آ گیا تو جگنو جلے بجھے مری پلکوں پہ صبح تک جب بھی ترا خیال سر شام آ گیا تو محسو سے کر رہا ہوں ہے وہ ہے وہ خوشبو کی بازگشت شاید تری لبوں پہ میرا نام آ گیا تو کچھ دوستوں نے پوچھا بتاؤ غزل ہے کیا بے ساختہ لبوں پہ ترا نام آ گیا تو ہے وہ ہے وہ ہے وہ نے تو ایک لاش کی دی تھی خبر فراز الٹا مجھہی پہ قتل کا الزام آ گیا تو
Related Ghazal
مری ب سے ہے وہ ہے وہ نہیں ورنا قدرت کا لکھا ہوا کاٹتا تری حصے ہے وہ ہے وہ آئی برے دن کوئی دوسرا کاٹتا لاریوں سے زیادہ بہاؤ تھا تری ہر اک لفظ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ اشارہ نہیں کاٹ سکتا تیری بات کیا کاٹتا ہے وہ ہے وہ ہے وہ نے بھی زندگی اور شب اے ہجر کاٹی ہے سب کی طرح ویسے بہتر تو یہ تھا کے ہے وہ ہے وہ کم سے کم کچھ نیا کاٹتا تری ہوتے ہوئے موم بتی بجھائی کسی اور نے کیا خوشی رہ گئی تھی جنم دن کی ہے وہ ہے وہ کیک کیا کاٹتا کوئی بھی تو نہیں جو مری بھوکے رہنے پہ ناراض ہوں جیل ہے وہ ہے وہ تیری تصویر ہوتی تو ہنسکر سزا کاٹتا
Tehzeeb Hafi
456 likes
کیوں ڈریں زندگی ہے وہ ہے وہ کیا ہوگا کچھ لگ ہوگا تو غضب ہوگا ہنستی آنکھوں ہے وہ ہے وہ جھانک کر دیکھو کوئی آنسو کہی چھپا ہوگا ان دنوں نا امید سا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ شاید ا سے نے بھی یہ سنا ہوگا دیکھ کر جاناں کو سوچتا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ کیا کسی نے تمہیں چھوا ہوگا
Javed Akhtar
371 likes
چاند ستارے تم پھول پرندے شام سویرہ ایک طرف ساری دنیا ا سے کا چربہ ا سے کا چہرہ ایک طرف حقیقت لڑکر بھی سو جائے تو ا سے کا ماتھا چوموں ہے وہ ہے وہ ہے وہ ا سے سے محبت ایک طرف ہے ا سے سے جھگڑا ایک طرف ج سے اجازت پر حقیقت انگلی رکھ دے اس کا کو حقیقت دلوانی ہے ا سے کی خوشیاں سب سے اول سستا مہنگا ایک طرف زخموں پر مرہم لگواو لیکن ا سے کے ہاتھوں سے چارسازی ایک طرف ہے ا سے کا چھونا ایک طرف ساری دنیا جو بھی بولے سب کچھ شور شرابا ہے سب کا کہنا ایک طرف ہے ا سے کا کہنا ایک طرف ا سے نے ساری دنیا مانگی ہے وہ ہے وہ نے اس کا کو مانگا ہے ا سے کے سپنے ایک طرف ہے میرا سپنا ایک طرف
Varun Anand
406 likes
یہ غم کیا دل کی عادت ہے نہیں تو کسی سے کچھ شکایت ہے نہیں تو ہے حقیقت اک خواب بے تعبیر ا سے کو بھلا دینے کی نیت ہے نہیں تو کسی کے بن کسی کی یاد کے بن جیے جانے کی ہمت ہے نہیں تو کسی صورت بھی دل لگتا نہیں ہاں تو کچھ دن سے یہ حالت ہے نہیں تو تری ا سے حال پر ہے سب کو حیرت تجھے بھی ا سے پہ حیرت ہے نہیں تو ہم آہنگی نہیں دنیا سے تیری تجھے ا سے پر ندامت ہے نہیں تو ہوا جو کچھ یہی مقسوم تھا کیا یہی ساری مقسوم ہے نہیں تو اذیت ناک اذیت ناک سے تجھ کو اماں پانے کی حسرت ہے نہیں تو تو رہتا ہے خیال و خواب ہے وہ ہے وہ گم تو ا سے کی وجہ فرصت ہے نہیں تو سبب جو ا سے جدائی کا بنا ہے حقیقت مجھ سے خوبصورت ہے نہیں تو
Jaun Elia
355 likes
کیسے ا سے نے یہ سب کچھ مجھ سے چھپ کر بدلا چہرہ بدلا رستہ بدلا بعد ہے وہ ہے وہ گھر بدلا ہے وہ ہے وہ ہے وہ ا سے کے بارے ہے وہ ہے وہ یہ کہتا تھا لوگوں سے میرا نام بدل دینا حقیقت بے وجہ ا گر بدلا حقیقت بھی خوش تھا ا سے نے دل دے کر دل مانگا ہے ہے وہ ہے وہ ہے وہ بھی خوش ہوں ہے وہ ہے وہ نے پتھر سے پتھر بدلا ہے وہ ہے وہ ہے وہ نے کہا کیا مری خاطر خود کو بدلوگے اور پھروں ا سے نے نظریں بدلیں اور نمبر بدلا
Tehzeeb Hafi
435 likes
More from Tahir Faraz
اب کے بر سے ہونٹوں سے مری تش لگ لبی بھی ختم ہوئی تجھ سے ملنے کی اے دریا مجبوری بھی ختم ہوئی کیسا پیار ک ہاں کی الفت عشق کی بات تو جانے دو مری لیے اب ا سے کے دل سے ہمدر گرا بھی ختم ہوئی سامنے والی بلڈنگ ہے وہ ہے وہ اب کام ہے ب سے آرائش کا کل تک جو ملتی تھی ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ حقیقت مزدوری بھی ختم ہوئی جیل سے واپ سے آ کر ا سے نے پانچوں سمے نماز پڑھی منا بھی بند ہوئے سب کے اور بدنامی بھی ختم ہوئی ج سے کی جل دھارا سے بستی والے جیون پاتے تھے رستہ بدلتے ہی ن گرا کے حقیقت بستی بھی ختم ہوئی
Tahir Faraz
1 likes
جب مری ہونٹوں پہ میری تشنہ لبی رہ جائے گی تیری آنکھوں ہے وہ ہے وہ بھی تھوڑی سی نمی رہ جائے گی سر پھرہ جھونکا ہوا کا توڑ دےگا شاخ کو پھول بننے کی تمنا ہے وہ ہے وہ کلی رہ جائے گی ختم ہوں جائےگا جس دن بھی تمہارا انتظار گھر کے دروازے پہ دستک چیختی رہ جائے گی کیا خبر تھی آئےگا اک روز ایسا وقت بھی میری گویائی ترا منہ دیکھتی رہ جائے گی وقت رخصت آئےگا اور ختم ہوگا یہ سفر میرے دل کی بات میرے دل ہے وہ ہے وہ ہی رہ جائے گی
Tahir Faraz
1 likes
کوئی حسین منظر آنکھوں سے جب اوجھل ہوں جائےگا مجھ کو پاگل کہنے والا خود ہی پاگل ہوں جائےگا پلکوں پہ ا سے کی جلے بجھیں گے جگنو جب مری یادوں کے کمرے ہے وہ ہے وہ ہوںگی برساتیں گھر جنگل ہوں جائےگا ج سے دن ا سے کی زلفیں ا سے کے شانے پر کھل جائیں گی ا سے دن شرم سے پانی پانی خود بادل ہوں جائےگا جب بھی حقیقت پاکیزہ دامن آ جائےگا ہاتھ مری آنکھوں کا یہ میلا پانی گنگا جل ہوں جائےگا ا سے کی یادیں ا سے کی باتیں ا سے کی وفائیں ا سے کا پیار ک سے کو خبر تھی جینا مشکل ایک اک پل ہوں جائےگا مت نزدیک تر اے پیاسے دریا سورج آنے والا ہے برف پہاڑوں سے پگھلی تو جل ہی جل ہوں جائےگا
Tahir Faraz
0 likes
آپ ہمارے ساتھ نہیں چ لیے کوئی بات نہیں آپ کسی کے ہوں جائیں آپ کے ب سے کی بات نہیں اب ہم کو آواز لگ دو اب ایسے حالات نہیں ا سے دنیا کے نقشے ہے وہ ہے وہ ہے وہ شہر تو ہیں دیہات نہیں سب ہے بے شرط ہم کو م گر توہین جذبات نہیں ہم کو مٹانا مشکل ہے صدیاں ہیں لمحات نہیں ظالم سے ڈر لگ والے کیا تری دو ہاتھ نہیں
Tahir Faraz
2 likes
ہے وہ ہے وہ لگ کہتا تھا کہ شہروں ہے وہ ہے وہ لگ جا یار مری سوندھی مٹی ہی ہے وہ ہے وہ ہوتی ہے وفا یار مری کوئی ٹوٹے ہوئے خوابوں سے ک ہاں ملتا ہے ہر جگہ درد کا بستر لگ لگا یار مری سلسلہ پھروں سے جڑا ہے تو جڑا رہنے دے دل کے رشتوں کو تماشا لگ بنا یار مری اپنی چاہت کے شب و روز مکمل کر لے جا یہ سورج بھی تری نام کیا یار مری تجھ سے ملتا ہوں تو رشتہ کوئی یاد آتا ہے سلسلہ مجھ سے زیادہ لگ بڑھا یار مری ایسا لگتا ہے کہ کچھ ٹوٹ رہا ہے مجھ ہے وہ ہے وہ ہے وہ چھوڑ کے تو مجھے ا سے سمے لگ جا یار مری خوش نصیبی سے یہ ساعت تری ہاتھ آئی ہے آ سماں جھکنے لگا ہاتھ بڑھا یار مری
Tahir Faraz
0 likes
Similar Writers
Our suggestions based on Tahir Faraz.
Similar Moods
More moods that pair well with Tahir Faraz's ghazal.







