ghazalKuch Alfaaz

guftugu kyuun na karen dida-e-tar se badal laut aae hain sitaron ke safar se badal kya ghhazabnak thi suraj ki barahna shamshir kaale mujrim ki tarah nikle na ghar se badal raat ki kokh koi chand kahan se laae ye zamin banjh hai barse ki na barse badal barf se kahiye ki saughhat kare un ki qubul laae hain aag ke dastane safar se badal main ki huun dhuup ka azad parinda lekin baal kyuun noch rahe hain mire par se badal akhiri khat to likhunga main lahu se khud ko ab bhi mayus jo laute tire dar se badal na kisi jism ka jaadu na ghata gesu ki 'prem' kyuun ruuth gae prem-nagar se badal guftugu kyun na karen dida-e-tar se baadal laut aae hain sitaron ke safar se baadal kya ghazabnak thi suraj ki barahna shamshir kale mujrim ki tarah nikle na ghar se baadal raat ki kokh koi chand kahan se lae ye zamin banjh hai barse ki na barse baadal barf se kahiye ki saughat kare un ki qubul lae hain aag ke dastane safar se baadal main ki hun dhup ka aazad parinda lekin baal kyun noch rahe hain mere par se baadal aakhiri khat to likhunga main lahu se khud ko ab bhi mayus jo laute tere dar se baadal na kisi jism ka jadu na ghata gesu ki 'prem' kyun ruth gae prem-nagar se baadal

Related Ghazal

تیری مشکل لگ چھپاؤں گا چلا جاؤں گا خوشی آنکھوں ہے وہ ہے وہ آؤں گا چلا جاؤں گا اپنی دہلیز پہ کچھ دیر پڑا رہنے دے چنو ہی ہوش ہے وہ ہے وہ لگاؤں گا چلا جاؤں گا خواب لینے کوئی آئی کہ لگ آئی کوئی ہے وہ ہے وہ ہے وہ تو آواز رلاؤں گا چلا جاؤں گا چند یادیں مجھے بچوں کی طرح پیاری ہیں ان کو سینے سے لگاؤں گا چلا جاؤں گا مدتوں بعد ہے وہ ہے وہ آیا ہوں پرانی گھر ہے وہ ہے وہ ہے وہ خود کو جی بھر کے نیت شوق چلا جاؤں گا ا سے جزیرے ہے وہ ہے وہ زیادہ نہیں رہنا اب تو آجکل ناو بناؤں گا چلا جاؤں گا تہذیب کی طرح لوٹ کے آؤںگا حسن ہر طرف پھول کھلاؤں گا چلا جاؤں گا

Hasan Abbasi

235 likes

کیسے ا سے نے یہ سب کچھ مجھ سے چھپ کر بدلا چہرہ بدلا رستہ بدلا بعد ہے وہ ہے وہ گھر بدلا ہے وہ ہے وہ ہے وہ ا سے کے بارے ہے وہ ہے وہ یہ کہتا تھا لوگوں سے میرا نام بدل دینا حقیقت بے وجہ ا گر بدلا حقیقت بھی خوش تھا ا سے نے دل دے کر دل مانگا ہے ہے وہ ہے وہ ہے وہ بھی خوش ہوں ہے وہ ہے وہ نے پتھر سے پتھر بدلا ہے وہ ہے وہ ہے وہ نے کہا کیا مری خاطر خود کو بدلوگے اور پھروں ا سے نے نظریں بدلیں اور نمبر بدلا

Tehzeeb Hafi

435 likes

کبھی ملیںگے تو یہ قرض بھی اتاریںگے تمہارے چہرے کو پہروں تلک نہہاریںگے یہ کیا ستم کہ کھلاڑی بدل دیا ا سے نے ہم ا سے امید پہ بیٹھے تھے ہم ہی ہاریںگے ہمارے بعد تری عشق ہے وہ ہے وہ نئے لڑکے بدن تو چو ہے وہ ہے وہ ہے وہ گے زلفیں نہیں سنواریں گے

Vikram Gaur Vairagi

70 likes

اصولوں پر ج ہاں آنچ آئی ٹکرانا ضروری ہے جو زندہ ہوں تو پھروں زندہ نظر آنا ضروری ہے نئی عمروں کی خودمختاریوں کو کون سمجھائے ک ہاں سے بچ کے چلنا ہے ک ہاں جانا ضروری ہے تھکے ہارے پرندے جب بسیرے کے لیے لوٹیں سلیقہ مند شاخوں کا لچک جانا ضروری ہے بے حد بےباک آنکھوں ہے وہ ہے وہ تعلق ٹک نہیں پاتا محبت ہے وہ ہے وہ کشش رکھنے کو شرمانا ضروری ہے سلیقہ ہی نہیں شاید اسے محسو سے کرنے کا جو کہتا ہے خدا ہے تو نظر آنا ضروری ہے مری ہونٹوں پہ اپنی پیا سے رکھ دو اور پھروں سوچو کہ ا سے کے بعد بھی دنیا ہے وہ ہے وہ کچھ پانا ضروری ہے

Waseem Barelvi

107 likes

تو سمجھتا ہے تیرا ہجر بے شرط کر کے بیٹھ جائیں گے محبت سے کنارہ کر کے خود کشی کرنے نہیں دی تیری آنکھوں نے مجھے لوٹ آیا ہوں ہے وہ ہے وہ دریا کا نظارہ کر کے جی تو کرتا ہے اسے پاؤں تلے خیرو کو چھوڑ دیتا ہوں مقدر کا ستارہ کر کے کرنا ہوں ترک تعلق تو کچھ ایسے کرنا ہم کو تکلیف لگ ہوں ذکر تمہارا کر کے ا سے لیے اس کا کو دلاتا ہوں ہے وہ ہے وہ غصہ تابش تاکہ دیکھوں ہے وہ ہے وہ اسے اور بھی پیارا کر کے

Abbas Tabish

31 likes

Similar Writers

View All ›

Our suggestions based on Prem Warbartani.

Similar Moods

View All ›

More moods that pair well with Prem Warbartani's ghazal.