گلوں کو سننا ذرا جاناں صدائیں بھیجی ہیں گلوں کے ہاتھ بے حد سی دعائیں بھیجی ہیں جو آفتاب کبھی بھی غروب ہوتا نہیں ہمارا دل ہے اسی کی شعائیں بھیجی ہیں ا گر جلائے تمہیں بھی شفا ملے شاید اک ایسے درد کی جاناں کو شعائیں بھیجی ہیں تمہاری خشک سی آنکھیں بھلی نہیں لگتیں حقیقت ساری چیزیں جو جاناں کو رولائیں بھیجی ہیں سیاہ رنگ چمکتی ہوئی ہوئی کناری ہے پہن لو اچھی لگیںگی گھٹائیں بھیجی ہیں تمہارے خواب سے ہر شب لپٹ کے سوتے ہیں سزائیں بھیج دو ہم نے خطائیں بھیجی ہیں اکیلا پتہ ہوا ہے وہ ہے وہ بے حد بلند ق سے ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ز ہے وہ ہے وہ ہے وہ سے پاؤں اٹھاؤ ہوائیں بھیجی ہیں
Related Ghazal
یہ ہے وہ ہے وہ نے کب کہا کہ مری حق ہے وہ ہے وہ فیصلہ کرے ا گر حقیقت مجھ سے خوش نہیں ہے تو مجھے جدا کرے ہے وہ ہے وہ ہے وہ ا سے کے ساتھ ج سے طرح گزارتا ہوں زندگی اسے تو چاہیے کہ میرا شکریہ ادا کرے مری دعا ہے اور اک طرح سے بد دعا بھی ہے خدا تمہیں تمہارے جیسی بیٹیاں عطا کرے بنا چکا ہوں ہے وہ ہے وہ محبتوں کے درد کی دوا ا گر کسی کو چاہیے تو مجھ سے رابطہ کرے
Tehzeeb Hafi
292 likes
تمہیں ب سے یہ بتانا چاہتا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ جاناں سے کیا چھپانا چاہتا ہوں کبھی مجھ سے بھی کوئی جھوٹ بولو ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہاں ہے وہ ہے وہ ہاں ملانا چاہتا ہوں یہ جو کھڑکی ہے نقشے ہے وہ ہے وہ تمہارے ی ہاں ہے وہ ہے وہ در بنانا چاہتا ہوں اداکاری بے حد دکھ دے رہی ہے ہے وہ ہے وہ ہے وہ سچ مچ مسکرانا چاہتا ہوں پروں ہے وہ ہے وہ تیر ہے پنجوں ہے وہ ہے وہ تنکے ہے وہ ہے وہ ہے وہ یہ چڑیا اڑانا چاہتا ہوں لیے بیٹھا ہوں گھنگرو پھول اندھیرا ترا ہنسنا بنانا چاہتا ہوں بیگا لگ غم عشق کی جاناں کو مبارک ہے وہ ہے وہ ہے وہ ب سے خا لگ کمانا چاہتا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ سارے شہر کی بیساخیوں کو تری در پر نرم گوئی چاہتا ہوں مجھے جاناں سے اندھیرا ہی پڑےگا ہے وہ ہے وہ ہے وہ جاناں کو یاد آنا چاہتا ہوں
Fahmi Badayuni
249 likes
کیوں ڈریں زندگی ہے وہ ہے وہ کیا ہوگا کچھ لگ ہوگا تو غضب ہوگا ہنستی آنکھوں ہے وہ ہے وہ جھانک کر دیکھو کوئی آنسو کہی چھپا ہوگا ان دنوں نا امید سا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ شاید ا سے نے بھی یہ سنا ہوگا دیکھ کر جاناں کو سوچتا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ کیا کسی نے تمہیں چھوا ہوگا
Javed Akhtar
371 likes
جاناں حقیقت نہیں ہوں حسرت ہوں جو ملے خواب ہے وہ ہے وہ حقیقت دولت ہوں جاناں ہوں خوشبو کے خواب کی خوشبو اور اتنے ہی بے مروت ہوں ک سے طرح چھوڑ دوں تمہیں جاناں جاناں مری زندگی کی عادت ہوں ک سے لیے دیکھتے ہوں آئی لگ جاناں تو خود سے بھی خوبصورت ہوں داستان ختم ہونے والی ہے جاناں مری آخری محبت ہوں
Jaun Elia
315 likes
بیٹھے ہیں چین سے کہی جانا تو ہے نہیں ہم بے گھروں کا کوئی ہری تو ہے نہیں جاناں بھی ہوں بیتے سمے کے مانند ہوں بہو جاناں نے بھی یاد آنا ہے آنا تو ہے نہیں عہد وفا سے ک سے لیے خائف ہوں مری جان کر لو کہ جاناں نے عہد نبھانا تو ہے نہیں حقیقت جو ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ عزیز ہے کیسا ہے کون ہے کیوں پوچھتے ہوں ہم نے بتانا تو ہے نہیں دنیا ہم اہل عشق پہ کیوں پھینکتی ہے جال ہم نے تری فریب ہے وہ ہے وہ آنا تو ہے نہیں حقیقت عشق تو کرےگا م گر دیکھ بھال کے فار سے حقیقت تری جیسا دیوا لگ تو ہے نہیں
Rehman Faris
196 likes
More from Gulzar
ऐसा ख़ामोश तो मंज़र न फ़ना का होता मेरी तस्वीर भी गिरती तो छनाका होता यूँँ भी इक बार तो होता कि समुंदर बहता कोई एहसास तो दरिया की अना का होता साँस मौसम की भी कुछ देर को चलने लगती कोई झोंका तिरी पलकों की हवा का होता काँच के पार तिरे हाथ नज़र आते हैं काश ख़ुशबू की तरह रंग हिना का होता क्यूँँ मिरी शक्ल पहन लेता है छुपने के लिए एक चेहरा कोई अपना भी ख़ुदा का होता
Gulzar
3 likes
او سے پڑی تھی رات بے حد اور کہرا تھا گرمائش پر سیلی سی خموشی ہے وہ ہے وہ آواز سنی فرمائش پر فاصلے ہیں بھی اور نہیں بھی ناپا تولا کچھ بھی نہیں لوگ ب زید رہتے ہیں پھروں بھی رشتوں کی پیمائش پر منا موڑا اور دیکھا کتنی دور کھڑے تھے ہم دونوں آپ بےخوف تھے ہم سے ب سے اک کروٹ کی گنجائش پر کاغذ کا اک چاند لگا کر رات اندھیری کھڑکی پر دل ہے وہ ہے وہ کتنے خوش تھے اپنی فرقت کی آرائش پر دل کا حجرہ کتنی بار اجڑا بھی اور بسایا بھی ساری عمر ک ہاں ٹھہرا ہے کوئی ایک رہائش پر دھوپ اور چھاؤں بانٹ کے جاناں نے آنگن ہے وہ ہے وہ دیوار چنی کیا اتنا آسان ہے زندہ رہنا ا سے آسائش پر شاید تین نجومی مری موت پہ آ کر پہنچیں گے ایسا ہی اک بار ہوا تھا عیسی کی پیدائش پر
Gulzar
1 likes
کوئی اٹکا ہوا ہے پل شاید سمے ہے وہ ہے وہ پڑ گیا تو ہے بل شاید لب پہ آئی مری غزل شاید حقیقت اکیلے ہیں آج کل شاید دل ا گر ہے تو درد بھی ہوگا ا سے کا کوئی نہیں ہے حل شاید جانتے ہیں ثواب رحم و کرم ان سے ہوتا نہیں عمل شاید آ رہی ہے جو چاپ قدموں کی کھیل رہے ہیں کہی کنول شاید راکھ کو بھی کورید کر دیکھو ابھی جلتا ہوں کوئی پل شاید چاند ڈوبے تو چاند ہی نکلے آپ کے پا سے ہوگا حل شاید
Gulzar
9 likes
شام سے آج سان سے بھاری ہے بے قراری سی بے قراری ہے آپ کے بعد ہر گھڑی ہم نے آپ کے ساتھ ہی گزاری ہے رات کو دے دو چاندنی کی ردا دن کی چادر ابھی اتاری ہے شاخ پر کوئی قہقہہ تو کھلے کیسی چپ سی چمن ہے وہ ہے وہ تاری ہے کل کا ہر واقعہ تمہارا تھا آج کی داستاں ہماری ہے
Gulzar
2 likes
ذکر آئی تو مری لب سے دعائیں نکلیں شمع جلتی ہے تو لازم ہے شعائیں نکلیں سمے کی قابو سے کٹ جاتے ہیں سب کے سینے چاند کا چھلکا اتر جائے تو قاشیں نکلیں دفن ہوں جائیں کہ زرخیز ز ہے وہ ہے وہ ہے وہ لگتی ہے کل اسی مٹی سے شاید مری شاخیں نکلیں چند امیدیں نچوڑی تھیں تو آہیں ٹپکیں دل کو پگھلائیں تو ہوں سکتا ہے سانسیں نکلیں غار کے منا پہ رکھا رہنے دو سنگ خورشید غار ہے وہ ہے وہ ہاتھ لگ ڈالو کہی راتیں نکلیں
Gulzar
2 likes
Similar Writers
Our suggestions based on Gulzar.
Similar Moods
More moods that pair well with Gulzar's ghazal.







