ghazalKuch Alfaaz

شام سے آج سان سے بھاری ہے بے قراری سی بے قراری ہے آپ کے بعد ہر گھڑی ہم نے آپ کے ساتھ ہی گزاری ہے رات کو دے دو چاندنی کی ردا دن کی چادر ابھی اتاری ہے شاخ پر کوئی قہقہہ تو کھلے کیسی چپ سی چمن ہے وہ ہے وہ تاری ہے کل کا ہر واقعہ تمہارا تھا آج کی داستاں ہماری ہے

Gulzar2 Likes

Related Ghazal

زنے حسین تھی اور پھول چن کر لاتی تھی ہے وہ ہے وہ ہے وہ شعر کہتا تھا حقیقت داستان سناتی تھی عرب لہو تھا رگوں ہے وہ ہے وہ بدن سنہرا تھا حقیقت مسکراتی نہیں تھی دیے جلاتی تھی علی سے دور رہو لوگ ا سے سے کہتے تھے حقیقت میرا سچ ہے بے حد چیک کر بتاتی تھی علی یہ لوگ تمہیں جانتے نہیں ہیں ابھی گلے دیکھیں گے میرا حوصلہ بڑھاتی تھی یہ پھول دیکھ رہے ہوں یہ ا سے کا لہجہ تھا یہ جھیل دیکھ رہے ہوں ی ہاں حقیقت آتی تھی ہے وہ ہے وہ ہے وہ ا سے کے بعد کبھی ٹھیک سے نہیں جاگا حقیقت مجھ کو خواب نہیں نیند سے جگاتی تھی اسے کسی سے محبت تھی اور حقیقت ہے وہ ہے وہ نہیں تھا یہ بات مجھ سے زیادہ اسے رلاتی تھی ہے وہ ہے وہ ہے وہ کچھ بتا نہیں سکتا حقیقت مری کیا تھی علی کہ اس کا کو دیکھ کر ب سے اپنی یاد آتی تھی

Ali Zaryoun

102 likes

اشک ناداں سے کہو بعد میں اڑائیں گے آپ گرکر میری آنکھوں سے کدھر جائیں گے اپنے لفظوں کو تکلم سے گرا کر جانا اپنے لہجے کی تھکاوٹ میں بکھر جائیں گے اک تیرا گھر تھا میری حد مسافت لیکن اب یہ سوچا ہے کہ ہم حد سے گزر جائیں گے اپنے افکار جلا ڈالیںگے کاغذ کاغذ سوچ مر جائے گی تو ہم آپ بھی مر جائیں گے اس سے پہلے کہ جدائی کی خبر تم سے ملے ہم نے سوچا ہے کہ ہم تم سے بچھڑ جائیں گے

Khalil Ur Rehman Qamar

50 likes

بعد ہے وہ ہے وہ مجھ سے نا کہنا گھر پلٹنا ٹھیک ہے ویسے سننے ہے وہ ہے وہ یہی آیا ہے رستہ ٹھیک ہے شاخ سے پتہ گرے بارش گردشیں بادل چھٹے ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہی تو سب کچھ غلط کرتا ہوں اچھا ٹھیک ہے ذہن تک تسلیم کر لیتا ہے ا سے کی برتری آنکھ تک تصدیق کر دیتی ہے بندہ ٹھیک ہے ایک تیری آواز سننے کے لیے زندہ ہے ہم تو ہی جب خاموش ہوں جائے تو پھروں کیا ٹھیک ہے

Tehzeeb Hafi

182 likes

کتنے عیش سے رہتے ہوں گے کتنے اتراتے ہوں گے جانے کیسے لوگ حقیقت ہوں گے جو ا سے کو بھاتے ہوں گے شام ہوئے خوش باش ی ہاں کے مری پا سے آ جاتے ہیں مری بجھنے کا نہظارہ کرنے آ جاتے ہوں گے حقیقت جو لگ آنے والا ہے نا ا سے سے مجھ کو زار تھا آنے والوں سے کیا زار آتے ہیں آتے ہوں گے ا سے کی یاد کی باد صبا ہے وہ ہے وہ اور تو کیا ہوتا ہوگا یوںہی مری بال ہیں بکھرے اور بکھر جاتے ہوں گے یاروں کچھ تو ذکر کروں جاناں ا سے کی خوشگوار بان ہوں کا حقیقت جو سمٹتے ہوں گے ان ہے وہ ہے وہ حقیقت تو مر جاتے ہوں گے میرا سان سے اکھڑتے ہی سب بین کریںگے روئیںگے زبان مری بعد بھی زبان سان سے لیے جاتے ہوں گے

Jaun Elia

88 likes

مجھ ہے وہ ہے وہ کتنے راز ہیں بتلاؤں کیا بند ایک مدت سے ہوں کھل جاؤں کیا تاب غم منت خوشامد التجا اور ہے وہ ہے وہ کیا کیا کروں مر جاؤں کیا تری جلسے ہے وہ ہے وہ تیرا پرچم لیے سیکڑوں لاشیں بھی ہیں گنواؤں کیا کل ی ہاں ہے وہ ہے وہ تھا ج ہاں جاناں آج ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ تمہاری ہی طرح اتراوں کیا ایک پتھر ہے حقیقت مری راہ کا گر لگ ٹھکراؤں تو ٹھوکر کھاؤں کیا پھروں جگایا تو نے سوئے شعر کو پھروں وہی لہجہ درازی آؤں کیا

Rahat Indori

56 likes

More from Gulzar

ऐसा ख़ामोश तो मंज़र न फ़ना का होता मेरी तस्वीर भी गिरती तो छनाका होता यूँँ भी इक बार तो होता कि समुंदर बहता कोई एहसास तो दरिया की अना का होता साँस मौसम की भी कुछ देर को चलने लगती कोई झोंका तिरी पलकों की हवा का होता काँच के पार तिरे हाथ नज़र आते हैं काश ख़ुशबू की तरह रंग हिना का होता क्यूँँ मिरी शक्ल पहन लेता है छुपने के लिए एक चेहरा कोई अपना भी ख़ुदा का होता

Gulzar

3 likes

ذکر آئی تو مری لب سے دعائیں نکلیں شمع جلتی ہے تو لازم ہے شعائیں نکلیں سمے کی قابو سے کٹ جاتے ہیں سب کے سینے چاند کا چھلکا اتر جائے تو قاشیں نکلیں دفن ہوں جائیں کہ زرخیز ز ہے وہ ہے وہ ہے وہ لگتی ہے کل اسی مٹی سے شاید مری شاخیں نکلیں چند امیدیں نچوڑی تھیں تو آہیں ٹپکیں دل کو پگھلائیں تو ہوں سکتا ہے سانسیں نکلیں غار کے منا پہ رکھا رہنے دو سنگ خورشید غار ہے وہ ہے وہ ہاتھ لگ ڈالو کہی راتیں نکلیں

Gulzar

2 likes

ہر ایک غم نچوڑ کے ہر اک بر سے جیے دو دن کی زندگی ہے وہ ہے وہ ہزاروں بر سے جیے صدیوں پہ اختیار نہیں تھا ہمارا دوست دو چار لمحے ب سے ہے وہ ہے وہ تھے دو چار ب سے جیے صحرا کے ا سے طرف سے گئے سارے کارواں سن سن کے ہم تو صرف صدائے جر سے جیے ہونٹوں ہے وہ ہے وہ لے کے رات کے آنچل کا اک سرا آنکھوں پہ رکھ کے چاند کے ہونٹوں کا م سے جیے محدود ہیں دعائیں مری اختیار ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہر سان سے پر سکون ہوں تو سو بر سے جیے

Gulzar

3 likes

تنکہ تنکہ کانٹے گرفت ساری رات کٹائی کی کیوں اتنی لمبی ہوتی ہے چاندنی رات جدائی کی نیند ہے وہ ہے وہ کوئی اپنے آپ سے باتیں کرتا رہتا ہے کال کوئیں ہے وہ ہے وہ گونجتی ہے آواز کسی سودائی کی سینے ہے وہ ہے وہ دل کی آہٹ چنو کوئی جاسو سے چلے ہر سائے کا پیچھا کرنا عادت ہے ہر جائی کی آنکھوں اور کانوں ہے وہ ہے وہ کچھ سناٹے سے بھر جاتے ہیں کیا جاناں نے اڑتی دیکھی ہے ریت کبھی تنہائی کی تاروں کی روشن فصلیں اور چاند کی ایک درانتی تھی ساہو نے گروی رکھ لی تھی مری رات کٹائی کی

Gulzar

0 likes

ہاتھ چھوٹیں بھی تو رشتے نہیں چھوڑا کرتے سمے کی شاخ سے لمحے نہیں توڑا کرتے ج سے کی آواز ہے وہ ہے وہ سلوٹ ہوں نگا ہوں ہے وہ ہے وہ شکن ایسی تصویر کے ٹکڑے نہیں جوڑا کرتے لگ کے ساحل سے جو بہتا ہے اسے بہنے دو ایسے دریا کا کبھی رکھ نہیں موڑا کرتے جاگنے پر بھی نہیں آنکھ سے گرتیں کرچیں ا سے طرح خوابوں سے آنکھیں نہیں پھوڑا کرتے شہد جینے کا ملا کرتا ہے تھوڑا تھوڑا جانے والوں کے لیے دل نہیں تھوڑا کرتے جا کے کوہسار سے سر مارو کہ آواز تو ہوں خستہ دیواروں سے ماتھا نہیں پھوڑا کرتے

Gulzar

4 likes

Similar Writers

View All ›

Our suggestions based on Gulzar.

Similar Moods

View All ›

More moods that pair well with Gulzar's ghazal.