حال دل میر کا رو رو کے سب اے تنخواہ سنا شب کو القصہ عجب قصہ جاں کاہ سنا رو کشی ہوں کے رہ عشق ہے وہ ہے وہ پہنچوں تو کہیں ہمرا خضر کو یاں کہتے ہیں گمراہ سنا کوئی ان طوروں سے گزرے ہے تری غم ہے وہ ہے وہ مری گاہ تو نے نہ سنا حال میرا گاہ سنا خواب غفلت ہے وہ ہے وہ ہیں یاں سب تو عبث جاگا میر بے خبر دیکھا انہیں ہے وہ ہے وہ جنہیں آگاہ سنا
Related Ghazal
ہے وہ ہے وہ راہ جنت کا اصل نقشہ چرا رہا تھا سو انگلیوں کو تری لبوں پر پھرا رہا تھا ہے وہ ہے وہ ہے وہ ا سے لیے بھی سر اپنا ہاں ہے وہ ہے وہ ہلا رہا تھا مجھے پتا ہے تو صرف باتیں بنا رہا تھا بچھڑ کے ہم سے ہماری غلطی گنا رہا تھا ہمارا غم تھا ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ کو آنکھیں دکھا رہا تھا حقیقت خود کو دنیا کا ایک حصہ بنا چکی تھی ہے وہ ہے وہ ہے وہ اپنے حصے کا پیار ج سے پر لٹا رہا تھا تمہیں نے جانے کو کہ دیا ہے تمہیں کہوگے اسے بلاؤ حقیقت شعر اچھے سنا رہا تھا
Vikram Gaur Vairagi
29 likes
ٹھیک ہے خود کو ہم بدلتے ہیں شکریہ مشورہ کا چلتے ہیں ہوں رہا ہوں ہے وہ ہے وہ ک سے طرح برباد دیکھنے والے ہاتھ ملتے ہیں ہے حقیقت جان اب ہر ایک محفل کی ہم بھی اب گھر سے کم نکلتے ہیں کیا تکلف کریں یہ کہنے ہے وہ ہے وہ ہے وہ جو بھی خوش ہے ہم ا سے سے جلتے ہیں ہے اسے دور کا سفر در سانحے ہم سنبھالے نہیں سنبھلتے ہیں جاناں بنو رنگ جاناں بنو خوشبو ہم تو اپنے سخن ہے وہ ہے وہ ڈھلتے ہیں ہے وہ ہے وہ ہے وہ اسی طرح تو بہلتا ہوں اور سب ج سے طرح بہلتے ہیں ہے غضب فیصلے کا صحرا بھی چل لگ پڑیے تو پاؤں جلتے ہیں
Jaun Elia
38 likes
درد سینے ہے وہ ہے وہ چھپائے رکھا ہم نے ماحول بنائے رکھا موت آئی تھی کئی دن پہلے اس کا کا کو باتوں ہے وہ ہے وہ لگائے رکھا دشت ہے وہ ہے وہ آئی بلا ٹلنے تک شور چڑیوں نے مچائے رکھا ورنا تاروں کو شکایت ہوتی ہم نے ہر زخم چھپائے رکھا کام دشوار تھا پھروں بھی دانش خود کو آسان بنائے رکھا
Madan Mohan Danish
31 likes
کیوں ڈریں زندگی ہے وہ ہے وہ کیا ہوگا کچھ لگ ہوگا تو غضب ہوگا ہنستی آنکھوں ہے وہ ہے وہ جھانک کر دیکھو کوئی آنسو کہی چھپا ہوگا ان دنوں نا امید سا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ شاید ا سے نے بھی یہ سنا ہوگا دیکھ کر جاناں کو سوچتا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ کیا کسی نے تمہیں چھوا ہوگا
Javed Akhtar
371 likes
دل پھروں اس کا کوچے ہے وہ ہے وہ جانے والا ہے بیٹھے بٹھائے ٹھوکر خانے والا ہے ترک تعلق کا دھڑکا سا ہے دل کو حقیقت مجھ کو اک بات بتانے والا ہے کتنے ادب سے بیٹھے ہیں سوکھے پودے چنو بادل شعر سنہانے والا ہے یہ مت سوچ سرائے پر کیا بیتےگی تو تو بس اک رات بتانے والا ہے اینٹوں کو آپس ہے وہ ہے وہ ملانے والا بے وجہ اصل ہے وہ ہے وہ اک دیوار اٹھانے والا ہے گاڑی کی رفتار ہے وہ ہے وہ آئی ہے سستی شاید اب اسٹیشن آنے والا ہے آخری ہچکی لینی ہے اب آ جاؤ بعد ہے وہ ہے وہ جاناں کو کون بلانے والا ہے
Zubair Ali Tabish
33 likes
More from Meer Taqi Meer
خرابی کچھ نہ پوچھو ملکت دل کی عمارت کی غموں نے آج کل سنیو وہ آبادی ہی غارت کی نگاہ مست سے جب چشم نے اس کا کی اشارت کی حلاوت مے کی اور بنیاد مےخانے کی غارت کی سحر گہ میں نے پوچھا گل سے حال زار بلبل کا پڑے تھے باغ میں یک مشت پر ادھر اشارت کی جلایا جس تجلی جلوہ گر نے طور کو ہم دم اسی آتش کے پر کالے نے ہم سے بھی شرارت کی نزاکت کیا کہوں خورشید رو کی کل شب ماہ میں گیا تھا سائے سائے باغ تک تس پر حرارت کی نظر سے جس کی یوسف سا گیا پھروں اس کا کو کیا سوچھے حقیقت کچھ نہ پوچھو بو پیرہن کی بصارت کی تری کوچے کے شوق توف میں جیسے بگولا تھا شایاں میں غبار میر کی ہم نے زیارت کی
Meer Taqi Meer
0 likes
مہر کی تجھ سے توقع تھی ستم گر نکلا موم سمجھے تھے تری دل کو سو پتھر نکلا داغ ہوں رشک محبت سے کہ اتنا بیتاب ک سے کی تسکین کے لیے گھر سے تو باہر نکلا جیتے جی آہ تری کوچے سے کوئی لگ پھرا جو ستم دیدہ رہا جا کے سو مر کر نکلا دل کی آبا گرا کی ا سے حد ہے خرابی کہ لگ پوچھ جانا جاتا ہے کہ ا سے راہ سے لشکر نکلا خوشی تر قطرہ خوں لخت ج گر پارہ دل ایک سے ایک عدد آنکھ سے بہ کر نکلا کنج کاوی جو کی سینے کی غم ہجراں نے ا سے دفینے ہے وہ ہے وہ سے اقسام جواہر نکلا ہم نے جانا تھا لکھے گا تو کوئی حرف اے میر پر ترا نامہ تو اک شوق کا دفترون نکلا
Meer Taqi Meer
0 likes
یوں ہی حیران و خفا جو باد سبک شاہد مقصود ہوں عمر گزری پر لگ جانا ہے وہ ہے وہ کہ کیوں کانپتا ہوں اتنی باتیں مت بنا مجھ شیفتے سے ناصحا مفسر کے جائیں گے نہیں ہے وہ ہے وہ قابل زنجیر ہوں سرخ رہتی ہیں مری آنکھیں لہو رونے سے شیخ مے ا گر ثابت ہوں مجھ پر واجب ال تعزیر ہوں نے فلک پر راہ مجھ کو نے ز ہے وہ ہے وہ ہے وہ پر رو مجھے ایسے ک سے محروم کا ہے وہ ہے وہ شور بے تاثیر ہوں جو باد سبک کماں گرچہ خمیدہ ہوں پہ چھوٹا اور وہیں ا سے کے کوچے کی طرف چلنے کو یاروں تیر ہوں جو مری حصے ہے وہ ہے وہ آوے تیغ جمدھر سیل و کارد یہ تماشا کردنی ہے کہ ہے وہ ہے وہ ہی کشتہ شمشیر ہوں کھول کر دیوان میرا دیکھ قدرت مدعی گرچہ ہوں ہے وہ ہے وہ نوجوان پر شاعروں کا پیر ہوں یوں سعادت ایک جمدھر مجھ کو بھی گزاریے خزاں کیجے تو ہے وہ ہے وہ تو قاف یوں بے تقصیر ہوں ا سے دودمان بے ننگ خبتوں کو نصیحت شیخ جی باز آؤ ور لگ اپنے نام کو ہے وہ ہے وہ میر ہوں
Meer Taqi Meer
0 likes
कब से नज़र लगी थी दरवाज़ा-ए-हरम से पर्दा उठा तो लड़ियाँ आँखें हमारी हम से सूरत-गर-ए-अजल का क्या हाथ था कहे तो खींची वो तेग़-ए-अबरू फ़ौलाद के क़लम से सोज़िश गई न दिल की रोने से रोज़-ओ-शब के जलता हूँ और दरिया बहते हैं चश्म-ए-नम से ताअ'त का वक़्त गुज़रा मस्ती में आब रज़ की अब चश्म-दाश्त उस के याँ है फ़क़त करम से कुढि़ए न रोइए तो औक़ात क्यूँँके गुज़रे रहता है मश्ग़ला सा बार-ए-ग़म-ओ-अलम से मशहूर है समाजत मेरी कि तेग़ बरसी पर मैं न सर उठाया हरगिज़ तिरे क़दम से बात एहतियात से कर ज़ाएअ'' न कर नफ़स को बालीदगी-ए-दिल है मानिंद-ए-शीशा दम से क्या क्या तअब उठाए क्या क्या अज़ाब देखे तब दिल हुआ है उतना ख़ूगर तिरे सितम से हस्ती में हम ने आ कर आसूदगी न देखी खुलतीं न काश आँखें ख़्वाब ख़ुश अदम से पामाल कर के हम को पछताओगे बहुत तुम कमयाब हैं जहाँ में सर देने वाले हम से दिल दो हो 'मीर' साहब उस बद-मआ'श को तुम ख़ातिर तो जम्अ'' कर लो टक क़ौल से क़सम से
Meer Taqi Meer
0 likes
ग़म्ज़े ने उस के चोरी में दिल की हुनर किया उस ख़ानुमाँ-ख़राब ने आँखों में घर किया रंग उड़ चला चमन में गुलों का तो क्या नसीम हम को तो रोज़गार ने बे-बाल-ओ-पर किया नाफ़े जो थीं मिज़ाज को अव्वल सो इश्क़ में आख़िर उन्हीं दवाओं ने हम को ज़रर किया मरता हूँ जान दें हैं वतन-दारीयों पे लोग और सुनते जाते हैं कि हर इक ने सफ़र किया क्या जानूँ बज़्म-ए-ऐश कि साक़ी की चश्म देख मैं सोहबत-ए-शराब से आगे सफ़र किया जिस दम कि तेग़-ए-इश्क़ खिंची बुल-हवस कहाँ सुन लीजियो कि हम ही ने सीना-सिपर किया दिल ज़ख़्मी हो के तुझ तईं पहुँचा तो कम नहीं इस नीम-कुश्ता ने भी क़यामत जिगर किया है कौन आप में जो मिले तुझ से मस्त नाज़ ज़ौक़-ए-ख़बर ही ने तो हमें बे-ख़बर क्या वो दश्त-ए-ख़ौफ़-नाक रहा है मिरा वतन सुन कर जिसे ख़िज़्र ने सफ़र से हज़र किया कुछ कम नहीं हैं शोबदा-बाज़ों से मय-गुसार दारू पिला के शैख़ को आदम से ख़र किया हैं चारों तरफ़ खे़ में खड़े गर्द-बाद के क्या जानिए जुनूँ ने इरादा किधर किया लुक्नत तिरी ज़बान की है सहर जिस से शोख़ यक हर्फ़-ए-नीम-गुफ़्ता ने दिल पर असर किया बे-शर्म महज़ है वो गुनहगार जिन ने 'मीर' अब्र-ए-करम के सामने दामाँ तर किया
Meer Taqi Meer
1 likes
Similar Writers
Our suggestions based on Meer Taqi Meer.
Similar Moods
More moods that pair well with Meer Taqi Meer's ghazal.







