ٹھیک ہے خود کو ہم بدلتے ہیں شکریہ مشورہ کا چلتے ہیں ہوں رہا ہوں ہے وہ ہے وہ ک سے طرح برباد دیکھنے والے ہاتھ ملتے ہیں ہے حقیقت جان اب ہر ایک محفل کی ہم بھی اب گھر سے کم نکلتے ہیں کیا تکلف کریں یہ کہنے ہے وہ ہے وہ ہے وہ جو بھی خوش ہے ہم ا سے سے جلتے ہیں ہے اسے دور کا سفر در سانحے ہم سنبھالے نہیں سنبھلتے ہیں جاناں بنو رنگ جاناں بنو خوشبو ہم تو اپنے سخن ہے وہ ہے وہ ڈھلتے ہیں ہے وہ ہے وہ ہے وہ اسی طرح تو بہلتا ہوں اور سب ج سے طرح بہلتے ہیں ہے غضب فیصلے کا صحرا بھی چل لگ پڑیے تو پاؤں جلتے ہیں
Related Ghazal
سینا کچا رہا ہوں تو کیا چپ رہے کوئی کیوں چیخ چیخ کر لگ گلہ سروہا لے کوئی ثابت ہوا سکون دل و جاں کہی نہیں رشتوں ہے وہ ہے وہ ڈھونڈتا ہے تو ڈھونڈا کرے کوئی ترک تعلقات کوئی مسئلہ نہیں یہ تو حقیقت راستہ ہے کہ ب سے چل پڑے کوئی دیوار جانتا تھا جسے ہے وہ ہے وہ حقیقت دھول تھی اب مجھ کو اعتماد کی دعوت لگ دے کوئی ہے وہ ہے وہ ہے وہ خود یہ چاہتا ہوں کہ حالات ہوں خراب مری خلاف زہر اگلتا پھیرے کوئی اے بے وجہ اب تو مجھ کو سبھی کچھ قبول ہے یہ بھی قبول ہے کہ تجھے چھین لے کوئی ہاں ٹھیک ہے ہے وہ ہے وہ اپنی انا کا مریض ہوں آخر مری مزاج ہے وہ ہے وہ کیوں دخل دے کوئی اک بے وجہ کر رہا ہے ابھی تک وفا کا ذکر کاش ا سے زبان دراز کا منا نوچ لے کوئی
Jaun Elia
77 likes
کیسے ا سے نے یہ سب کچھ مجھ سے چھپ کر بدلا چہرہ بدلا رستہ بدلا بعد ہے وہ ہے وہ گھر بدلا ہے وہ ہے وہ ہے وہ ا سے کے بارے ہے وہ ہے وہ یہ کہتا تھا لوگوں سے میرا نام بدل دینا حقیقت بے وجہ ا گر بدلا حقیقت بھی خوش تھا ا سے نے دل دے کر دل مانگا ہے ہے وہ ہے وہ ہے وہ بھی خوش ہوں ہے وہ ہے وہ نے پتھر سے پتھر بدلا ہے وہ ہے وہ ہے وہ نے کہا کیا مری خاطر خود کو بدلوگے اور پھروں ا سے نے نظریں بدلیں اور نمبر بدلا
Tehzeeb Hafi
435 likes
حقیقت بےوفا ہے تو کیا مت کہو برا اس کا کو کہ جو ہوا سو ہوا خوش رکھے خدا اس کا کو نظر لگ آئی تو ا سے کی تلاش ہے وہ ہے وہ رہنا کہی ملے تو پلٹ کر لگ دیکھنا اس کا کو حقیقت سادہ خوں تھا زمانے کے خم سمجھتا کیا ہوا کے ساتھ چلا لے اڑی ہوا اس کا کو حقیقت اپنے بارے ہے وہ ہے وہ کتنا ہے خوش گماں دیکھو جب اس کا کو ہے وہ ہے وہ بھی لگ دیکھوں تو دیکھنا اس کا کو
Naseer Turabi
244 likes
پاگل کیسے ہوں جاتے ہیں دیکھو ایسے ہوں جاتے ہیں خوابوں کا دھندہ کرتی ہوں کتنے پیسے ہوں جاتے ہیں دنیا سا ہونا مشکل ہے تری چنو ہوں جاتے ہیں مری کام خدا کرتا ہے تری ویسے ہوں جاتے ہیں
Ali Zaryoun
158 likes
خاموش لب ہیں جھکی ہیں پلکیں دلوں ہے وہ ہے وہ الفت نئی نئی ہے ابھی تکلف ہے گفتگو ہے وہ ہے وہ ابھی محبت نئی نئی ہے ابھی لگ آئیںگی نیند جاناں کو ابھی لگ ہم کو سکون ملےگا ابھی تو دھڑکے گا دل زیادہ ابھی محبت نئی نئی ہے بہار کا آج پہلا دن ہے چلو چمن ہے وہ ہے وہ ٹہل کے آئیں فضا ہے وہ ہے وہ خوشبو نئی نئی ہے گلوں ہے وہ ہے وہ رنگت نئی نئی ہے جو خاندانی رئی سے ہیں حقیقت مزاج رکھتے ہیں نرم اپنا تمہارا لہجہ بتا رہا ہے تمہاری دولت نئی نئی ہے ذرا سا قدرت نے کیا نوازا کے آکے بیٹھے ہوں پہلی صف ہے وہ ہے وہ ہے وہ ابھی کیوں اڑنے لگے ہوا ہے وہ ہے وہ ابھی تو شہرت نئی نئی ہے بموں کی برسات ہوں رہی ہے پرانی جانباز سو رہے ہیں غلام دنیا کو کر رہا ہے حقیقت ج سے کی طاقت نئی نئی ہے
Shabeena Adeeb
232 likes
More from Jaun Elia
کوئی دم بھی ہے وہ ہے وہ کب اندر رہا ہوں لیے ہیں سان سے اور باہر رہا ہوں دھوئیں ہے وہ ہے وہ سان سے ہیں سانسوں ہے وہ ہے وہ پل ہیں ہے وہ ہے وہ ہے وہ روشن دان تک ب سے مر رہا ہوں فنا ہر دم مجھے گنتی رہی ہے ہے وہ ہے وہ ہے وہ اک دم کا تھا اور دن بھر رہا ہوں ذرا اک سان سے روکا تو لگا یوں کہ اتنی دیر اپنے گھر رہا ہوں بجز اپنے میسر ہے مجھے کیا سو خود سے اپنی جیبیں بھر رہا ہوں ہمیشہ زخم پہنچے ہیں مجھہی کو ہمیشہ ہے وہ ہے وہ پ سے لشکر رہا ہوں لٹا دے نیند کے بستر پہ اے رات ہے وہ ہے وہ ہے وہ دن بھر اپنی پلکوں پر رہا ہوں
Jaun Elia
19 likes
اپنی منزل کا راستہ بھیجو جان ہم کو و ہاں بلا بھیجو کیا ہمارا نہیں رہا ساون زلف یاں بھی کوئی گھٹا بھیجو نئی مصروف جو اب کھیلی ہیں و ہاں ان کی خوشبو کو اک ذرا بھیجو ہم لگ جیتے ہیں اور لگ مرتے ہیں درد بھیجو لگ جاناں دوا بھیجو دھول اڑتی ہے جو ا سے آنگن ہے وہ ہے وہ ہے وہ ا سے کو بھیجو صبا صبا بھیجو اے فقیرو گلی کے ا سے گل کی جاناں ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ اپنی خاک پا بھیجو شفقت شام ہجر کے ہاتھوں اپنی اتری ہوئی قباء بھیجو کچھ تو رشتہ ہے جاناں سے کم بختوں کچھ نہیں کوئی بد دعا بھیجو
Jaun Elia
13 likes
تجھ ہے وہ ہے وہ پڑا ہوا ہوں حرکت نہیں ہے مجھ ہے وہ ہے وہ ہے وہ حالت لگ پوچھ یوں تو حالت نہیں ہے مجھ ہے وہ ہے وہ ہے وہ اب تو نظر ہے وہ ہے وہ آ جا بان ہوں کے گھر ہے وہ ہے وہ آ جا اے جان تیری کوئی صورت نہیں ہے مجھ ہے وہ ہے وہ ہے وہ اے رنگ رنگ ہے وہ ہے وہ آ آغوش تنگ ہے وہ ہے وہ آ باتیں ہی رنگ کی ہیں رنگت نہیں ہے مجھ ہے وہ ہے وہ ہے وہ اپنے ہے وہ ہے وہ ہی کسی کی ہوں رو بروئی مجھ کو ہوں خود سے رو برو ہوں ہمت نہیں ہے مجھ ہے وہ ہے وہ ہے وہ اب تو سمٹ کے آ جا اور روح ہے وہ ہے وہ سما جا ویسے کسی کی پیاری وسعت نہیں ہے مجھ ہے وہ ہے وہ ہے وہ شیشے کے ا سے طرف سے ہے وہ ہے وہ سب کو تک رہا ہوں مرنے کی بھی کسی کو فرصت نہیں ہے مجھ ہے وہ ہے وہ ہے وہ جاناں مجھ کو اپنے رم ہے وہ ہے وہ لے جاؤ ساتھ اپنے اپنے سے اے ساعت دیدار وحشت نہیں ہے مجھ ہے وہ ہے وہ
Jaun Elia
21 likes
کوئی حالت نہیں یہ حالت ہے یہ تو آشوب ناک صورت ہے صورت آشنا ہے وہ ہے وہ یہ مری خموشی بردباری نہیں ہے وحشت ہے تجھ سے یہ گاہ گاہ کا شکوہ جب تلک ہے بسا غنیمت ہے خواہشیں دل کا ساتھ چھوڑ گئیں یہ اذیت بڑی اذیت ہے لوگ مصروف جانتے ہیں مجھے یاں میرا غم ہی مری فرصت ہے طنز پیرایہ تبسم ہے وہ ہے وہ ہے وہ ا سے تکلف کی کیا ضرورت ہے ہم نے دیکھا تو ہم نے یہ دیکھا جو نہیں ہے حقیقت خوبصورت ہے وار کرنے کو چشم بد بین آئیں یہ تو ایثار ہے عنایت ہے گرم جوشی اور ا سے دودمان کیا بات کیا تمہیں مجھ سے کچھ شکایت ہے اب نکل آؤ اپنے اندر سے گھر ہے وہ ہے وہ سامان کی ضرورت ہے آج کا دن بھی عیش سے گزرا سر سے پا تک بدن سلامت ہے
Jaun Elia
14 likes
ک سے سے اظہار مدعا کیجے آپ ملتے نہیں ہیں کیا کیجے ہوں لگ پایا یہ فیصلہ اب تک آپ کیجے تو کیا کیا کیجے آپ تھے ج سے کے چارہ گر حقیقت جواں سخت بیمار ہے دعا کیجے ایک ہی فن تو ہم نے سیکھا ہے ج سے سے م لیے اسے خفا کیجے ہے تقاضا مری طبیعت کا ہر کسی کو چراغ پا کیجے ہے تو بارے یہ عالم اسباب بے سبب سیجیے لگا کیجے آج ہم کیا گلہ کریں ا سے سے گلہ تنگی قبا کیجے نطق ہیوان پر گراں ہے ابھی گفتگو کم سے کم کیا کیجے حضرت زلف غالب افشاں نام اپنا صبا صبا کیجے زندگی کا غضب معاملہ ہے ایک لمحے ہے وہ ہے وہ فیصلہ کیجے مجھ کو عادت ہے روٹھ جانے کی آپ مجھ کو منا لیا کیجے ملتے رہیے اسی تپاک کے ساتھ بے وفائی کی انتہا کیجے کوہکن کو ہے خود کشی خواہش شاہ بانو سے التجا کیجے مجھ سے کہتی تھیں حقیقت شراب آنکھیں آپ حقیقت زہر مت پیا کیجے رنگ ہر رنگ ہے وہ ہے وہ ہے داد طلب خون تھوکوں تو واہ وا کیجے
Jaun Elia
29 likes
Similar Writers
Our suggestions based on Jaun Elia.
Similar Moods
More moods that pair well with Jaun Elia's ghazal.







