ہاں یہ لوگوں کی کرم فرمائیاں تہمتیں بدنا میاں رسوائیاں زندگی شاید اسی کا نام ہے دوریاں مجبوریاں تنہائیاں کیا زمانے ہے وہ ہے وہ یوں ہی کٹتی ہے رات کروٹیں بے تا بیاں انگڑائیاں کیا یہی ہوتی ہے شام انتظار آہٹیں گھبراہٹیں پرچھائیاں ایک رند مست کی ٹھوکر ہے وہ ہے وہ ہیں شاہیاں سلطانیاں دارائیاں ایک پیکر ہے وہ ہے وہ سمٹ کر رہ گئیں خو بیاں زیبائیاں رعنائیاں رہ گئیں اک طفل مکتب کے حضور حکمتیں آگاہیاں دانائیاں زخم دل کے پھروں ہرے کرنے مے کش بدلیاں برکھا رتیں پروائیاں دیدہ و دانستہ ان کے سامنے لغزشیں ناکا میاں پسپائیاں مری دل کی دھڑکنوں ہے وہ ہے وہ ڈھل گئیں چوڑیاں موسیقیاں شہنائیاں ان سے مل کر اور بھی کچھ بڑھ گئیں الجھنیں فکرے قیا سے آرائیاں کیف پیدا کر سمندر کی طرح وسعتیں خاموشیاں گہرائیاں
Related Ghazal
کیسے ا سے نے یہ سب کچھ مجھ سے چھپ کر بدلا چہرہ بدلا رستہ بدلا بعد ہے وہ ہے وہ گھر بدلا ہے وہ ہے وہ ہے وہ ا سے کے بارے ہے وہ ہے وہ یہ کہتا تھا لوگوں سے میرا نام بدل دینا حقیقت بے وجہ ا گر بدلا حقیقت بھی خوش تھا ا سے نے دل دے کر دل مانگا ہے ہے وہ ہے وہ ہے وہ بھی خوش ہوں ہے وہ ہے وہ نے پتھر سے پتھر بدلا ہے وہ ہے وہ ہے وہ نے کہا کیا مری خاطر خود کو بدلوگے اور پھروں ا سے نے نظریں بدلیں اور نمبر بدلا
Tehzeeb Hafi
435 likes
अब के हम बिछड़े तो शायद कभी ख़्वाबों में मिलें जिस तरह सूखे हुए फूल किताबों में मिलें ढूँढ़ उजड़े हुए लोगों में वफ़ा के मोती ये ख़ज़ाने तुझे मुमकिन है ख़राबों में मिलें ग़म-ए-दुनिया भी ग़म-ए-यार में शामिल कर लो नशा बढ़ता है शराबें जो शराबों में मिलें तू ख़ुदा है न मिरा इश्क़ फ़रिश्तों जैसा दोनों इंसाँ हैं तो क्यूँँ इतने हिजाबों में मिलें आज हम दार पे खींचे गए जिन बातों पर क्या अजब कल वो ज़माने को निसाबों में मिलें अब न वो मैं न वो तू है न वो माज़ी है 'फ़राज़' जैसे दो शख़्स तमन्ना के सराबों में मिलें
Ahmad Faraz
130 likes
جاناں ثروت کو پڑھتی ہوں کتنی اچھی لڑکی ہوں بات نہیں سنتی ہوں کیوں غزلیں بھی تو سنتی ہوں کیا رشتہ ہے شاموں سے سورج کی کیا لگتی ہوں لوگ نہیں ڈرتے رب سے جاناں لوگوں سے ڈرتی ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ تو جیتا ہوں جاناں ہے وہ ہے وہ ہے وہ جاناں کیوں مجھ پہ مرتی ہوں آدم اور سدھر جائے جاناں بھی حد ہی کرتی ہوں ک سے نے جینز کری ممنوع پہنو اچھی لگتی ہوں
Ali Zaryoun
48 likes
گھر سے یہ سوچ کے نکلا ہوں کہ مر جانا ہے اب کوئی راہ دکھا دے کہ کدھر جانا ہے جسم سے ساتھ نبھانے کی مت امید رکھو ا سے مسافر کو تو رستے ہے وہ ہے وہ ٹھہر جانا ہے موت لمحے کی صدا زندگی عمروں کی پکار ہے وہ ہے وہ ہے وہ یہی سوچ کے زندہ ہوں کہ مر جانا ہے نشہ ایسا تھا کہ مے خانے کو دنیا سمجھا ہوش آیا تو خیال آیا کہ گھر جانا ہے مری جذبے کی بڑی دودمان ہے لوگوں ہے وہ ہے وہ م گر مری جذبے کو مری ساتھ ہی مر جانا ہے
Rahat Indori
17 likes
کام کی بات ہے وہ ہے وہ نے کی ہی نہیں یہ میرا طور زندگی ہی نہیں اے امید اے امید نو میدان مجھ سے میت تری اٹھی ہی نہیں ہے وہ ہے وہ ہے وہ جو تھا ا سے گلی کا مست خرام ا سے گلی ہے وہ ہے وہ مری چلی ہی نہیں یہ سنا ہے کہ مری کوچ کے بعد ا سے کی خوشبو کہی بسی ہی نہیں تھی جو اک نقش قدم ادا سے ادا سے صبح حقیقت شاخ سے اڑی ہی نہیں مجھ ہے وہ ہے وہ اب میرا جی نہیں لگتا اور ستم یہ کہ میرا جی ہی نہیں حقیقت جو رہتی تھی دل باندی ہے وہ ہے وہ ہے وہ پھروں حقیقت لڑکی مجھے ملی ہی نہیں جائیے اور خاک اڑائیے آپ اب حقیقت گھر کیا کہ حقیقت گلی ہی نہیں ہاں یہ حقیقت شوق جو نہیں تھا کبھی ہاں یہ حقیقت زندگی جو تھی ہی نہیں
Jaun Elia
15 likes
More from Kaif Bhopali
جاناں سے لگ مل کے خوش ہیں حقیقت دعویٰ کدھر گیا تو دو روز ہے وہ ہے وہ گلاب سا چہرہ اتر گیا تو جان بہار جاناں نے حقیقت کانٹے چبھائے ہیں ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہر گل شگفتہ کو چھونے سے ڈر گیا تو ا سے دل کے ٹوٹنے کا مجھے کوئی غم نہیں اچھا ہوا کہ پاپ کٹا درد سر گیا تو ہے وہ ہے وہ ہے وہ بھی سمجھ رہا ہوں کہ جاناں جاناں نہیں رہے جاناں بھی یہ سوچ لو کہ میرا کیف مر گیا تو
Kaif Bhopali
0 likes
خانقاہ ہے وہ ہے وہ صوفی منا چھپائے بیٹھا ہے غالباً زمانے سے مات کھائے بیٹھا ہے قتل تو نہیں بدلا قتل کی ادا جستجو دل شکستہ تیر کی جگہ قاتل ساز اٹھائے بیٹھا ہے ان کے چاہنے والے دھوپ دھوپ پھرتے ہیں غیر ان کے کوچے ہے وہ ہے وہ سائے سائے بیٹھا ہے وائے عاشق ناداں کائنات یہ تیری اک شکستہ شیشے کو دل بنائے بیٹھا ہے دور بارش اے گلچیں وا ہے دیدہ نرگ سے آج ہر گل نرگ سے بچھاؤ کھائے بیٹھا ہے
Kaif Bhopali
0 likes
سلام بخیر ا سے پر ا گر ایسا کوئی فنکار ہوں جائے سیاہی خون بن جائے تلوار ہوں جائے زمانے سے کہو کچھ سائقہ رفتار ہوں جائے ہمارے ساتھ چلنے کے لیے تیار ہوں جائے زمانے کو تمنا ہے ترا دیدار کرنے کی مجھے یہ فکر ہے مجھ کو میرا دیدار ہوں جائے حقیقت زلفیں سانپ ہیں بے شک ا گر زنجیر بن جائیں محبت زہر ہے بے شک ا گر آزار ہوں جائے محبت سے تمہیں سرکار کہتے ہیں وگر لگ ہم نگاہیں ڈال دیں ج سے پر وہی سرکار ہوں جائے
Kaif Bhopali
1 likes
تھوڑا سا عکس چاند کے پیکر ہے وہ ہے وہ ڈال دے تو آ کے جان رات کے منظر ہے وہ ہے وہ ڈال دے جس دن مری جبیں کسی دہلیز پر جھکے اس کا کا دن خدا شگاف مری سر ہے وہ ہے وہ ڈال دے اللہ تیرے ساتھ ہے ملاح کو نہ دیکھ یہ ٹوٹی فوٹی ناو سمندر ہے وہ ہے وہ ڈال دے آ تیرے مال و زر کو ہے وہ ہے وہ تقدیس بخش دوں لا اپنا مال و زر مری ٹھوکر ہے وہ ہے وہ ڈال دے بھاگ ایسے رہنما سے جو لگتا ہے خضر سا جانے یہ کس جگہ تجھے چکر ہے وہ ہے وہ ڈال دے اس کا کا سے تری مکان کا منظر ہے بد نما چنگاری میرے فوس کے چھپر ہے وہ ہے وہ ڈال دے ہے وہ ہے وہ ہے وہ نے پناہ دی تجھے بارش کی رات ہے وہ ہے وہ ہے وہ تو جاتے جاتے آگ مری گھر ہے وہ ہے وہ ڈال دے اے کیف جاگتے تجھے آواز صور پہر ہوا اب لاش چنو جسم کو بستر ہے وہ ہے وہ ڈال دے
Kaif Bhopali
2 likes
ہم ان کو چھین کر لائے ہیں کتنے دعویٰ داروں سے شفق سے نشہ محبت سے پھولوں سے ستاروں سے ہمارے زخم دل داغ ج گر کچھ ملتے جلتے ہیں گلوں سے گل رخوں سے مہوشوں سے ماہ پاروں سے زمانے ہے وہ ہے وہ کبھی بھی قسمتیں بدلا نہیں کرتیں امیدوں سے بھروسوں سے دلاسوں سے سہاروں سے سنے کوئی تو اب بھی روشنی آواز دیتی ہے غاروں سے پہاڑوں سے بیابانوں سے غاروں سے برابر ایک پیاسی روح کی آواز آتی ہے کؤں سے پن گھٹوں سے ندیوں سے آبشاروں سے کبھی پتھر کے دل اے کیف پگھلے ہیں لگ پگھلیں گے مناجاتوں سے فریادوں سے چیخوں سے پکاروں سے
Kaif Bhopali
1 likes
Similar Writers
Our suggestions based on Kaif Bhopali.
Similar Moods
More moods that pair well with Kaif Bhopali's ghazal.







