ghazalKuch Alfaaz

جاناں سے لگ مل کے خوش ہیں حقیقت دعویٰ کدھر گیا تو دو روز ہے وہ ہے وہ گلاب سا چہرہ اتر گیا تو جان بہار جاناں نے حقیقت کانٹے چبھائے ہیں ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہر گل شگفتہ کو چھونے سے ڈر گیا تو ا سے دل کے ٹوٹنے کا مجھے کوئی غم نہیں اچھا ہوا کہ پاپ کٹا درد سر گیا تو ہے وہ ہے وہ ہے وہ بھی سمجھ رہا ہوں کہ جاناں جاناں نہیں رہے جاناں بھی یہ سوچ لو کہ میرا کیف مر گیا تو

Related Ghazal

اسی جگہ پر ج ہاں کئی راستے ملیںگے پلٹ کے آئی تو سب سے پہلے تجھے ملیںگے ا گر کبھی تری نام پر جنگ ہوں گئی تو ہم ایسے بزدل بھی پہلی صف ہے وہ ہے وہ کھڑے ملیںگے تجھے یہ سڑکیں مری توسط سے جانتی ہیں تجھے ہمیشہ یہ سب اشارے کھلے ملیںگے

Tehzeeb Hafi

465 likes

یہی اپنی کہانی تھی میاں پہلے بے حد پہلے حقیقت لڑکی جاں ہماری تھی میاں پہلے بے حد پہلے وہم مجھ کو یہ بھاتا ہے,अभी مری دیوانی ہے م گر مری دیوانی تھی میاں پہلے بے حد پہلے رقیب آ کر بتاتے ہیں ی ہاں تل ہے و ہاں تل ہے ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ یہ جانکاری تھی میاں پہلے بے حد پہلے ادب سے مانگ کر مافی بھری محفل یہ کہتا ہوں حقیقت لڑکی خاندانی تھی میاں پہلے بے حد پہلے

Anand Raj Singh

526 likes

مری ب سے ہے وہ ہے وہ نہیں ورنا قدرت کا لکھا ہوا کاٹتا تری حصے ہے وہ ہے وہ آئی برے دن کوئی دوسرا کاٹتا لاریوں سے زیادہ بہاؤ تھا تری ہر اک لفظ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ اشارہ نہیں کاٹ سکتا تیری بات کیا کاٹتا ہے وہ ہے وہ ہے وہ نے بھی زندگی اور شب اے ہجر کاٹی ہے سب کی طرح ویسے بہتر تو یہ تھا کے ہے وہ ہے وہ کم سے کم کچھ نیا کاٹتا تری ہوتے ہوئے موم بتی بجھائی کسی اور نے کیا خوشی رہ گئی تھی جنم دن کی ہے وہ ہے وہ کیک کیا کاٹتا کوئی بھی تو نہیں جو مری بھوکے رہنے پہ ناراض ہوں جیل ہے وہ ہے وہ تیری تصویر ہوتی تو ہنسکر سزا کاٹتا

Tehzeeb Hafi

456 likes

چاند ستارے تم پھول پرندے شام سویرہ ایک طرف ساری دنیا ا سے کا چربہ ا سے کا چہرہ ایک طرف حقیقت لڑکر بھی سو جائے تو ا سے کا ماتھا چوموں ہے وہ ہے وہ ہے وہ ا سے سے محبت ایک طرف ہے ا سے سے جھگڑا ایک طرف ج سے اجازت پر حقیقت انگلی رکھ دے اس کا کو حقیقت دلوانی ہے ا سے کی خوشیاں سب سے اول سستا مہنگا ایک طرف زخموں پر مرہم لگواو لیکن ا سے کے ہاتھوں سے چارسازی ایک طرف ہے ا سے کا چھونا ایک طرف ساری دنیا جو بھی بولے سب کچھ شور شرابا ہے سب کا کہنا ایک طرف ہے ا سے کا کہنا ایک طرف ا سے نے ساری دنیا مانگی ہے وہ ہے وہ نے اس کا کو مانگا ہے ا سے کے سپنے ایک طرف ہے میرا سپنا ایک طرف

Varun Anand

406 likes

کیوں ڈریں زندگی ہے وہ ہے وہ کیا ہوگا کچھ لگ ہوگا تو غضب ہوگا ہنستی آنکھوں ہے وہ ہے وہ جھانک کر دیکھو کوئی آنسو کہی چھپا ہوگا ان دنوں نا امید سا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ شاید ا سے نے بھی یہ سنا ہوگا دیکھ کر جاناں کو سوچتا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ کیا کسی نے تمہیں چھوا ہوگا

Javed Akhtar

371 likes

More from Kaif Bhopali

سلام بخیر ا سے پر ا گر ایسا کوئی فنکار ہوں جائے سیاہی خون بن جائے تلوار ہوں جائے زمانے سے کہو کچھ سائقہ رفتار ہوں جائے ہمارے ساتھ چلنے کے لیے تیار ہوں جائے زمانے کو تمنا ہے ترا دیدار کرنے کی مجھے یہ فکر ہے مجھ کو میرا دیدار ہوں جائے حقیقت زلفیں سانپ ہیں بے شک ا گر زنجیر بن جائیں محبت زہر ہے بے شک ا گر آزار ہوں جائے محبت سے تمہیں سرکار کہتے ہیں وگر لگ ہم نگاہیں ڈال دیں ج سے پر وہی سرکار ہوں جائے

Kaif Bhopali

1 likes

ہاں یہ لوگوں کی کرم فرمائیاں تہمتیں بدنا میاں رسوائیاں زندگی شاید اسی کا نام ہے دوریاں مجبوریاں تنہائیاں کیا زمانے ہے وہ ہے وہ یوں ہی کٹتی ہے رات کروٹیں بے تا بیاں انگڑائیاں کیا یہی ہوتی ہے شام انتظار آہٹیں گھبراہٹیں پرچھائیاں ایک رند مست کی ٹھوکر ہے وہ ہے وہ ہیں شاہیاں سلطانیاں دارائیاں ایک پیکر ہے وہ ہے وہ سمٹ کر رہ گئیں خو بیاں زیبائیاں رعنائیاں رہ گئیں اک طفل مکتب کے حضور حکمتیں آگاہیاں دانائیاں زخم دل کے پھروں ہرے کرنے مے کش بدلیاں برکھا رتیں پروائیاں دیدہ و دانستہ ان کے سامنے لغزشیں ناکا میاں پسپائیاں مری دل کی دھڑکنوں ہے وہ ہے وہ ڈھل گئیں چوڑیاں موسیقیاں شہنائیاں ان سے مل کر اور بھی کچھ بڑھ گئیں الجھنیں فکرے قیا سے آرائیاں کیف پیدا کر سمندر کی طرح وسعتیں خاموشیاں گہرائیاں

Kaif Bhopali

2 likes

تیرا چہرہ کتنا سہانا لگتا ہے تری آگے چاند پرانا لگتا ہے ترچھے ترچھے تیر نظر کے لگتے ہیں سیدھا سیدھا دل پہ نشا لگ لگتا ہے آگ کا کیا ہے پل دو پل ہے وہ ہے وہ لگتی ہے بجھتے بجھتے ایک زما لگ لگتا ہے پاؤں نا باندھا پنچھی کا پر باندھا آج کا بچہ کتنا سیانا لگتا ہے سچ تو یہ ہے پھول کا دل بھی چھلنی ہے ہنستا چہرہ ایک بہانا لگتا ہے سننے والے گھنٹوں سنتے رہتے ہیں میرا فسا لگ سب کا فسا لگ لگتا ہے کیف بتا کیا تیری غزل ہے وہ ہے وہ جادو ہے بچہ بچہ تیرا دیوا لگ لگتا ہے

Kaif Bhopali

2 likes

ہم ان کو چھین کر لائے ہیں کتنے دعویٰ داروں سے شفق سے نشہ محبت سے پھولوں سے ستاروں سے ہمارے زخم دل داغ ج گر کچھ ملتے جلتے ہیں گلوں سے گل رخوں سے مہوشوں سے ماہ پاروں سے زمانے ہے وہ ہے وہ کبھی بھی قسمتیں بدلا نہیں کرتیں امیدوں سے بھروسوں سے دلاسوں سے سہاروں سے سنے کوئی تو اب بھی روشنی آواز دیتی ہے غاروں سے پہاڑوں سے بیابانوں سے غاروں سے برابر ایک پیاسی روح کی آواز آتی ہے کؤں سے پن گھٹوں سے ندیوں سے آبشاروں سے کبھی پتھر کے دل اے کیف پگھلے ہیں لگ پگھلیں گے مناجاتوں سے فریادوں سے چیخوں سے پکاروں سے

Kaif Bhopali

1 likes

تن تنہا مقابل ہوں رہا ہوں ہے وہ ہے وہ ہزاروں سے حسینوں سے رقیبوں سے غموں سے غم گساروں سے ا نہیں ہے وہ ہے وہ چھین کر لایا ہوں کتنے دعویٰ داروں سے شفق سے چاندنی راتوں سے پھولوں سے ستاروں سے سنے کوئی تو اب بھی روشنی آواز دیتی ہے پہاڑوں سے غاروں سے بیابانوں سے غاروں سے ہمارے داغ دل زخم ج گر کچھ ملتے جلتے ہیں گلوں سے گل رخوں سے مہ وشوں سے ماہ پاروں سے کبھی ہوتا نہیں محسو سے حقیقت یوں قتل کرتے ہیں نگا ہوں سے کنکھیوں سے اداؤں سے اشاروں سے ہمیشہ ایک پیاسی روح کی آواز آتی ہے کؤں سے پنگھٹوں سے ندیوں سے آبشاروں سے لگ آئی پر لگ آئی حقیقت ا نہیں کیا کیا خبر بھیجی لفافوں سے خطوں سے دکھ بھرے پرچوں سے تاروں سے زمانے ہے وہ ہے وہ کبھی بھی قسمتیں بدلا نہیں کرتیں امیدوں سے بھروسوں سے دلاسوں سے سہاروں سے حقیقت دن بھی ہاں یہ کیا دن تھے جب اپنا بھی تعلق تھا دسہرے سے دیوالی سے بسنوں سے بہاروں سے کبھی پتھر کے دل اے کیف پگھلے ہیں لگ پگھلیں گے مناجاتوں سے فریادوں سے چیخوں سے پکاروں سے

Kaif Bhopali

1 likes

Similar Writers

View All ›

Our suggestions based on Kaif Bhopali.

Similar Moods

View All ›

More moods that pair well with Kaif Bhopali's ghazal.