ghazalKuch Alfaaz

تیرا چہرہ کتنا سہانا لگتا ہے تری آگے چاند پرانا لگتا ہے ترچھے ترچھے تیر نظر کے لگتے ہیں سیدھا سیدھا دل پہ نشا لگ لگتا ہے آگ کا کیا ہے پل دو پل ہے وہ ہے وہ لگتی ہے بجھتے بجھتے ایک زما لگ لگتا ہے پاؤں نا باندھا پنچھی کا پر باندھا آج کا بچہ کتنا سیانا لگتا ہے سچ تو یہ ہے پھول کا دل بھی چھلنی ہے ہنستا چہرہ ایک بہانا لگتا ہے سننے والے گھنٹوں سنتے رہتے ہیں میرا فسا لگ سب کا فسا لگ لگتا ہے کیف بتا کیا تیری غزل ہے وہ ہے وہ جادو ہے بچہ بچہ تیرا دیوا لگ لگتا ہے

Related Ghazal

بیٹھے ہیں چین سے کہی جانا تو ہے نہیں ہم بے گھروں کا کوئی ہری تو ہے نہیں جاناں بھی ہوں بیتے سمے کے مانند ہوں بہو جاناں نے بھی یاد آنا ہے آنا تو ہے نہیں عہد وفا سے ک سے لیے خائف ہوں مری جان کر لو کہ جاناں نے عہد نبھانا تو ہے نہیں حقیقت جو ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ عزیز ہے کیسا ہے کون ہے کیوں پوچھتے ہوں ہم نے بتانا تو ہے نہیں دنیا ہم اہل عشق پہ کیوں پھینکتی ہے جال ہم نے تری فریب ہے وہ ہے وہ آنا تو ہے نہیں حقیقت عشق تو کرےگا م گر دیکھ بھال کے فار سے حقیقت تری جیسا دیوا لگ تو ہے نہیں

Rehman Faris

196 likes

زبان تو کھول نظر تو ملا جواب تو دے ہے وہ ہے وہ ہے وہ کتنی بار لٹا ہوں مجھے حساب تو دے تری بدن کی ودھی ہے وہ ہے وہ ہے اتار لکھاوت ہے وہ ہے وہ ہے وہ تجھے کیسے چڑھاو مجھے کتاب تو دے تیرا سوال ہے ساقی کہ زندگی کیا ہے جواب دیتا ہوں پہلے مجھے شراب تو دے

Rahat Indori

190 likes

چلا ہے سلسلہ کیسا یہ راتوں کو منانے کا تمہیں حق دے دیا ک سے نے دیوں کے دل دکھانے کا ارادہ چھوڑیے اپنی حدوں سے دور جانے کا زما لگ ہے زمانے کی نگا ہوں ہے وہ ہے وہ لگ آنے کا ک ہاں کی دوستی کن دوستوں کی بات کرتے ہوں میاں دشمن نہیں ملتا کوئی اب تو ٹھکانے کا نگا ہوں ہے وہ ہے وہ کوئی بھی دوسرا چہرہ نہیں آیا بھروسا ہی کچھ ایسا تھا تمہارے لوٹ آنے کا یہ ہے وہ ہے وہ ہی تھا بچا کے خود کو لے آیا کنارے تک سمندر نے بے حد موقع دیا تھا ڈوب جانے کا

Waseem Barelvi

103 likes

جو تری ساتھ رہتے ہوئے سوگوار ہوں خواب ہوں ایسے بے وجہ پہ اور بےشمار ہوں اب اتنی دیر بھی نا لگا یہ ہوں نا کہی تو آ چکا ہوں اور تیرا انتظار ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ پھول ہوں تو پھروں تری بالو ہے وہ ہے وہ کیوں نہیں ہوں تو تیر ہے تو مری کلیجے کے پار ہوں ایک آستین چڑھانے کی عادت کو چھوڑ کر حافی جاناں آدمی تو بے حد شاندار ہوں

Tehzeeb Hafi

268 likes

مری دل ہے وہ ہے وہ یہ تری سوا کون ہے تو نہیں ہے تو تیری جگہ کون ہے ہم محبت ہے وہ ہے وہ ہارے ہوئے لوگ ہیں اور محبت ہے وہ ہے وہ جیتا ہوا کون ہے مری پہلو سے اٹھ کے گیا تو کون ہے تو نہیں ہے تو تیری جگہ کون ہے تو نے جاتے ہوئے یہ بتایا نہیں ہے وہ ہے وہ ہے وہ تیرا کون ہوں تو میرا کون ہے

Tehzeeb Hafi

145 likes

More from Kaif Bhopali

جاناں سے لگ مل کے خوش ہیں حقیقت دعویٰ کدھر گیا تو دو روز ہے وہ ہے وہ گلاب سا چہرہ اتر گیا تو جان بہار جاناں نے حقیقت کانٹے چبھائے ہیں ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہر گل شگفتہ کو چھونے سے ڈر گیا تو ا سے دل کے ٹوٹنے کا مجھے کوئی غم نہیں اچھا ہوا کہ پاپ کٹا درد سر گیا تو ہے وہ ہے وہ ہے وہ بھی سمجھ رہا ہوں کہ جاناں جاناں نہیں رہے جاناں بھی یہ سوچ لو کہ میرا کیف مر گیا تو

Kaif Bhopali

0 likes

خانقاہ ہے وہ ہے وہ صوفی منا چھپائے بیٹھا ہے غالباً زمانے سے مات کھائے بیٹھا ہے قتل تو نہیں بدلا قتل کی ادا جستجو دل شکستہ تیر کی جگہ قاتل ساز اٹھائے بیٹھا ہے ان کے چاہنے والے دھوپ دھوپ پھرتے ہیں غیر ان کے کوچے ہے وہ ہے وہ سائے سائے بیٹھا ہے وائے عاشق ناداں کائنات یہ تیری اک شکستہ شیشے کو دل بنائے بیٹھا ہے دور بارش اے گلچیں وا ہے دیدہ نرگ سے آج ہر گل نرگ سے بچھاؤ کھائے بیٹھا ہے

Kaif Bhopali

0 likes

سلام بخیر ا سے پر ا گر ایسا کوئی فنکار ہوں جائے سیاہی خون بن جائے تلوار ہوں جائے زمانے سے کہو کچھ سائقہ رفتار ہوں جائے ہمارے ساتھ چلنے کے لیے تیار ہوں جائے زمانے کو تمنا ہے ترا دیدار کرنے کی مجھے یہ فکر ہے مجھ کو میرا دیدار ہوں جائے حقیقت زلفیں سانپ ہیں بے شک ا گر زنجیر بن جائیں محبت زہر ہے بے شک ا گر آزار ہوں جائے محبت سے تمہیں سرکار کہتے ہیں وگر لگ ہم نگاہیں ڈال دیں ج سے پر وہی سرکار ہوں جائے

Kaif Bhopali

1 likes

ہاں یہ لوگوں کی کرم فرمائیاں تہمتیں بدنا میاں رسوائیاں زندگی شاید اسی کا نام ہے دوریاں مجبوریاں تنہائیاں کیا زمانے ہے وہ ہے وہ یوں ہی کٹتی ہے رات کروٹیں بے تا بیاں انگڑائیاں کیا یہی ہوتی ہے شام انتظار آہٹیں گھبراہٹیں پرچھائیاں ایک رند مست کی ٹھوکر ہے وہ ہے وہ ہیں شاہیاں سلطانیاں دارائیاں ایک پیکر ہے وہ ہے وہ سمٹ کر رہ گئیں خو بیاں زیبائیاں رعنائیاں رہ گئیں اک طفل مکتب کے حضور حکمتیں آگاہیاں دانائیاں زخم دل کے پھروں ہرے کرنے مے کش بدلیاں برکھا رتیں پروائیاں دیدہ و دانستہ ان کے سامنے لغزشیں ناکا میاں پسپائیاں مری دل کی دھڑکنوں ہے وہ ہے وہ ڈھل گئیں چوڑیاں موسیقیاں شہنائیاں ان سے مل کر اور بھی کچھ بڑھ گئیں الجھنیں فکرے قیا سے آرائیاں کیف پیدا کر سمندر کی طرح وسعتیں خاموشیاں گہرائیاں

Kaif Bhopali

2 likes

تن تنہا مقابل ہوں رہا ہوں ہے وہ ہے وہ ہزاروں سے حسینوں سے رقیبوں سے غموں سے غم گساروں سے ا نہیں ہے وہ ہے وہ چھین کر لایا ہوں کتنے دعویٰ داروں سے شفق سے چاندنی راتوں سے پھولوں سے ستاروں سے سنے کوئی تو اب بھی روشنی آواز دیتی ہے پہاڑوں سے غاروں سے بیابانوں سے غاروں سے ہمارے داغ دل زخم ج گر کچھ ملتے جلتے ہیں گلوں سے گل رخوں سے مہ وشوں سے ماہ پاروں سے کبھی ہوتا نہیں محسو سے حقیقت یوں قتل کرتے ہیں نگا ہوں سے کنکھیوں سے اداؤں سے اشاروں سے ہمیشہ ایک پیاسی روح کی آواز آتی ہے کؤں سے پنگھٹوں سے ندیوں سے آبشاروں سے لگ آئی پر لگ آئی حقیقت ا نہیں کیا کیا خبر بھیجی لفافوں سے خطوں سے دکھ بھرے پرچوں سے تاروں سے زمانے ہے وہ ہے وہ کبھی بھی قسمتیں بدلا نہیں کرتیں امیدوں سے بھروسوں سے دلاسوں سے سہاروں سے حقیقت دن بھی ہاں یہ کیا دن تھے جب اپنا بھی تعلق تھا دسہرے سے دیوالی سے بسنوں سے بہاروں سے کبھی پتھر کے دل اے کیف پگھلے ہیں لگ پگھلیں گے مناجاتوں سے فریادوں سے چیخوں سے پکاروں سے

Kaif Bhopali

1 likes

Similar Writers

View All ›

Our suggestions based on Kaif Bhopali.

Similar Moods

View All ›

More moods that pair well with Kaif Bhopali's ghazal.