حیران لگ ہوں دیکھ ہے وہ ہے وہ کیا دیکھ رہا ہوں بندے تری صورت ہے وہ ہے وہ خدا دیکھ رہا ہوں حقیقت اپنی جفاؤں کا اثر دیکھ رہے ہیں ہے وہ ہے وہ ہے وہ معنی تسلیم و رضا دیکھ رہا ہوں دزدیدہ نگا ہوں سے کدھر دیکھ رہے ہوں کیا بات ہے یہ آج ہے وہ ہے وہ کیا دیکھ رہا ہوں ہے حسن یہی اجازت تو گماں اور لگ کیجے سودا نہیں مطلوب ذرا دیکھ رہا ہوں ک سے طرح لگ قائل ہوں دعا سحری کا ا سے لب پہ تبسم کی ضیا دیکھ رہا ہوں کیوں عرض وطن تنگ ہے یہ بات ہی کیا ہے اب تو فقط اک قبر کی جا دیکھ رہا ہوں مر جانے کی دھمکی ہوئی تمہید تماشا ہے وہ ہے وہ ہے وہ نے کہا دیکھ ا سے نے کہا دیکھ رہا ہوں
Related Ghazal
کیسے ا سے نے یہ سب کچھ مجھ سے چھپ کر بدلا چہرہ بدلا رستہ بدلا بعد ہے وہ ہے وہ گھر بدلا ہے وہ ہے وہ ہے وہ ا سے کے بارے ہے وہ ہے وہ یہ کہتا تھا لوگوں سے میرا نام بدل دینا حقیقت بے وجہ ا گر بدلا حقیقت بھی خوش تھا ا سے نے دل دے کر دل مانگا ہے ہے وہ ہے وہ ہے وہ بھی خوش ہوں ہے وہ ہے وہ نے پتھر سے پتھر بدلا ہے وہ ہے وہ ہے وہ نے کہا کیا مری خاطر خود کو بدلوگے اور پھروں ا سے نے نظریں بدلیں اور نمبر بدلا
Tehzeeb Hafi
435 likes
حقیقت بےوفا ہے تو کیا مت کہو برا اس کا کو کہ جو ہوا سو ہوا خوش رکھے خدا اس کا کو نظر لگ آئی تو ا سے کی تلاش ہے وہ ہے وہ رہنا کہی ملے تو پلٹ کر لگ دیکھنا اس کا کو حقیقت سادہ خوں تھا زمانے کے خم سمجھتا کیا ہوا کے ساتھ چلا لے اڑی ہوا اس کا کو حقیقت اپنے بارے ہے وہ ہے وہ کتنا ہے خوش گماں دیکھو جب اس کا کو ہے وہ ہے وہ بھی لگ دیکھوں تو دیکھنا اس کا کو
Naseer Turabi
244 likes
خاموش لب ہیں جھکی ہیں پلکیں دلوں ہے وہ ہے وہ الفت نئی نئی ہے ابھی تکلف ہے گفتگو ہے وہ ہے وہ ابھی محبت نئی نئی ہے ابھی لگ آئیںگی نیند جاناں کو ابھی لگ ہم کو سکون ملےگا ابھی تو دھڑکے گا دل زیادہ ابھی محبت نئی نئی ہے بہار کا آج پہلا دن ہے چلو چمن ہے وہ ہے وہ ٹہل کے آئیں فضا ہے وہ ہے وہ خوشبو نئی نئی ہے گلوں ہے وہ ہے وہ رنگت نئی نئی ہے جو خاندانی رئی سے ہیں حقیقت مزاج رکھتے ہیں نرم اپنا تمہارا لہجہ بتا رہا ہے تمہاری دولت نئی نئی ہے ذرا سا قدرت نے کیا نوازا کے آکے بیٹھے ہوں پہلی صف ہے وہ ہے وہ ہے وہ ابھی کیوں اڑنے لگے ہوا ہے وہ ہے وہ ابھی تو شہرت نئی نئی ہے بموں کی برسات ہوں رہی ہے پرانی جانباز سو رہے ہیں غلام دنیا کو کر رہا ہے حقیقت ج سے کی طاقت نئی نئی ہے
Shabeena Adeeb
232 likes
تمہیں ب سے یہ بتانا چاہتا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ جاناں سے کیا چھپانا چاہتا ہوں کبھی مجھ سے بھی کوئی جھوٹ بولو ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہاں ہے وہ ہے وہ ہاں ملانا چاہتا ہوں یہ جو کھڑکی ہے نقشے ہے وہ ہے وہ تمہارے ی ہاں ہے وہ ہے وہ در بنانا چاہتا ہوں اداکاری بے حد دکھ دے رہی ہے ہے وہ ہے وہ ہے وہ سچ مچ مسکرانا چاہتا ہوں پروں ہے وہ ہے وہ تیر ہے پنجوں ہے وہ ہے وہ تنکے ہے وہ ہے وہ ہے وہ یہ چڑیا اڑانا چاہتا ہوں لیے بیٹھا ہوں گھنگرو پھول اندھیرا ترا ہنسنا بنانا چاہتا ہوں بیگا لگ غم عشق کی جاناں کو مبارک ہے وہ ہے وہ ہے وہ ب سے خا لگ کمانا چاہتا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ سارے شہر کی بیساخیوں کو تری در پر نرم گوئی چاہتا ہوں مجھے جاناں سے اندھیرا ہی پڑےگا ہے وہ ہے وہ ہے وہ جاناں کو یاد آنا چاہتا ہوں
Fahmi Badayuni
249 likes
زبان تو کھول نظر تو ملا جواب تو دے ہے وہ ہے وہ ہے وہ کتنی بار لٹا ہوں مجھے حساب تو دے تری بدن کی ودھی ہے وہ ہے وہ ہے اتار لکھاوت ہے وہ ہے وہ ہے وہ تجھے کیسے چڑھاو مجھے کتاب تو دے تیرا سوال ہے ساقی کہ زندگی کیا ہے جواب دیتا ہوں پہلے مجھے شراب تو دے
Rahat Indori
190 likes
More from Hafeez Jalandhari
مٹنے والی حسرتیں ایجاد کر لیتا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ جب بھی چاہوں اک جہاں آباد کر لیتا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ مجھ کو ان مجبوریوں پر بھی ہے اتنا اختیار آہ بھر لیتا ہوں ہے وہ ہے وہ پڑنا کر لیتا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ حسن بے چارہ تو ہوں جاتا ہے 9 مہرباں پھروں اسے سراپا محبت کر لیتا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ تو نہیں کہتا مگر دیکھ و وفا نا آشنا اپنی ہستی کہ سے دودمان برباد کر لیتا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہاں یہ ویرانہ یہ دل یہ آرزوؤں کا مزار جاناں کہو تو پھروں اسے آباد کر لیتا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ جب کوئی تازہ مصیبت ٹوٹتی ہے اے عروس بہار ایک عادت ہے خدا کو یاد کر لیتا ہوں ہے وہ ہے وہ
Hafeez Jalandhari
0 likes
ہم ہی ہے وہ ہے وہ تھی لگ کوئی بات یاد لگ جاناں کو آ سکے جاناں نے ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ بھلا دیا ہم لگ تمہیں بھلا سکے جاناں ہی لگ سن سکے ا گر قصہ غم سنے گا کون ک سے کی زبان کھلےگی پھروں ہم لگ ا گر سنا سکے ہوش ہے وہ ہے وہ آ چکے تھے ہم خون تمنا ہے وہ ہے وہ آ چکے تھے ہم بزم کا رنگ دیکھ کر سر لگ م گر اٹھا سکے رونق بزم بن گئے لب پہ حکایتیں رہیں دل ہے وہ ہے وہ شکایتیں رہیں لب لگ م گر ہلا سکے شوق وصال ہے ی ہاں لب پہ سوال ہے ی ہاں ک سے کی مجال ہے ی ہاں ہم سے نظر ملا سکے ایسا ہوں کوئی نامہ بر بات پہ کان دھر سکے سن کے یقین کر سکے جا کے ا نہیں سنا سکے عزت سے اور بڑھ گئی برہمی مزاج دوست اب حقیقت کرے علاج دوست ج سے کی سمجھ ہے وہ ہے وہ آ سکے اہل زبان تو ہیں بے حد کوئی نہیں ہے اہل دل کون تری طرح عرو سے بہار درد کے گیت گا سکے
Hafeez Jalandhari
0 likes
کوئی دوا لگ دے سکے مشورہ دعا دیا چارگروں نے اور بھی غزلوں کا بڑھا دیا دونوں کو دے کے صورتیں ساتھ ہی آئی لگ دیا عشق بیسورنے لگا حسن نے مسکرا دیا ذوق نگاہ کے سوا شوق گناہ کے سوا مجھ کو بتوں سے کیا ملا مجھ کو خدا نے کیا دیا تھی لگ اڑائے کی روک تھام دامن اختیار ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہم نے بھری بہار ہے وہ ہے وہ اپنا چمن لٹا دیا حسن نظر کی رکھ صنعت برہمن سے ہے ج سے کو صنم بنا لیا ا سے کو خدا بنا دیا داغ ہے مجھ پہ عشق کا میرا گناہ بھی تو دیکھ ا سے کی نگاہ بھی تو دیکھ ج سے نے یہ گل کھلا دیا عشق کی مملکت ہے وہ ہے وہ ہے شورش عقل نا مراد ابھرا کہی جو یہ فساد دل نے وہیں دبا دیا نقش وفا تو ہے وہ ہے وہ ہی تھا اب مجھے ہوں کیا حرف غلط نظر پڑا جاناں نے مجھے مٹا دیا خوب سے دروں دکھا دیا ہر دہن غلیظ نے کچھ لگ کہا عرو سے بہار نے ہن سے دیا مسکرا دیا
Hafeez Jalandhari
1 likes
दिल से तिरा ख़याल न जाए तो क्या करूँँ मैं क्या करूँँ कोई न बताए तो क्या करूँँ उम्मीद-ए-दिल-नशीं सही दुनिया हसीं सही तेरे बग़ैर कुछ भी न भाए तो क्या करूँँ दिल को ख़ुदा की याद तले भी दबा चुका कम-बख़्त फिर भी चैन न पाए तो क्या करूँँ दिन हो कि रात एक मुलाक़ात की है बात इतनी सी बात भी न बन आए तो क्या करूँँ जो कुछ बना दिया है तिरे इंतिज़ार ने! अब सोचता हूँ तू इधर आए तो क्या करूँँ दीदा-वरान-ए-बुत-कदा इक मशवरा तो दो का'बा झलक यहाँ भी दिखाए तो क्या करूँँ अपनी नफ़ी तो फ़लसफ़ी-जी क़त्ल-ए-नफ़्स है कहिए कोई ये जुर्म सुझाए तो क्या करूँँ ये हाए हाए मज़्हका-अंगेज़ है तो हो दिल से उठे ज़बान जलाए तो क्या करूँँ मैं क्या करूँँ मैं क्या करूँँ गर्दान बन गई मैं क्या करूँँ कोई न बताए तो क्या करूँँ अख़बार से मिरी ख़बर-ए-मर्ग ऐ 'हफ़ीज़' मेरा ही दोस्त पढ़ के सुनाए तो क्या करूँँ
Hafeez Jalandhari
1 likes
ओ दिल तोड़ के जाने वाले दिल की बात बताता जा अब मैं दिल को क्या समझाऊँ मुझ को भी समझाता जा हाँ मेरे मजरूह तबस्सुम ख़ुश्क लबों तक आता जा फूल की हस्त-ओ-बूद यही है खिलता जा मुरझाता जा मेरी चुप रहने की आदत जिस कारन बद-नाम हुई अब वो हिकायत आम हुई है सुनता जा शरमाता जा ये दुख-दर्द की बरखा बंदे देन है तेरे दाता की शुक्र-ए-नेमत भी करता जा दामन भी फैलाता जा जीने का अरमान करूँँ या मरने का सामान करूँँ इश्क़ में क्या होता है नासेह अक़्ल की बात सुझाता जा तुझ को अब्र-आलूद दिनों से काम न चाँदनी रातों से बहलाता है बातों से बहलाता जा बहलाता जा दोनों संग-ए-राह-ए-तलब हैं राह-नुमा भी मंज़िल भी ज़ौक़-ए-तलब हर एक क़दम पर दोनों को ठुकराता जा नग़्में से जब फूल खिलेंगे चुनने वाले चुन लेंगे सुनने वाले सुन लेंगे तू अपनी धुन में गाता जा आख़िर तुझ को भी मौत आई ख़ैर 'हफ़ीज़' ख़ुदा-हाफ़िज़ लेकिन मरते मरते प्यारे वज्ह-ए-मर्ग बताता जा
Hafeez Jalandhari
0 likes
Similar Writers
Our suggestions based on Hafeez Jalandhari.
Similar Moods
More moods that pair well with Hafeez Jalandhari's ghazal.







