दिल से तिरा ख़याल न जाए तो क्या करूँँ मैं क्या करूँँ कोई न बताए तो क्या करूँँ उम्मीद-ए-दिल-नशीं सही दुनिया हसीं सही तेरे बग़ैर कुछ भी न भाए तो क्या करूँँ दिल को ख़ुदा की याद तले भी दबा चुका कम-बख़्त फिर भी चैन न पाए तो क्या करूँँ दिन हो कि रात एक मुलाक़ात की है बात इतनी सी बात भी न बन आए तो क्या करूँँ जो कुछ बना दिया है तिरे इंतिज़ार ने! अब सोचता हूँ तू इधर आए तो क्या करूँँ दीदा-वरान-ए-बुत-कदा इक मशवरा तो दो का'बा झलक यहाँ भी दिखाए तो क्या करूँँ अपनी नफ़ी तो फ़लसफ़ी-जी क़त्ल-ए-नफ़्स है कहिए कोई ये जुर्म सुझाए तो क्या करूँँ ये हाए हाए मज़्हका-अंगेज़ है तो हो दिल से उठे ज़बान जलाए तो क्या करूँँ मैं क्या करूँँ मैं क्या करूँँ गर्दान बन गई मैं क्या करूँँ कोई न बताए तो क्या करूँँ अख़बार से मिरी ख़बर-ए-मर्ग ऐ 'हफ़ीज़' मेरा ही दोस्त पढ़ के सुनाए तो क्या करूँँ
Related Ghazal
تمہیں ب سے یہ بتانا چاہتا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ جاناں سے کیا چھپانا چاہتا ہوں کبھی مجھ سے بھی کوئی جھوٹ بولو ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہاں ہے وہ ہے وہ ہاں ملانا چاہتا ہوں یہ جو کھڑکی ہے نقشے ہے وہ ہے وہ تمہارے ی ہاں ہے وہ ہے وہ در بنانا چاہتا ہوں اداکاری بے حد دکھ دے رہی ہے ہے وہ ہے وہ ہے وہ سچ مچ مسکرانا چاہتا ہوں پروں ہے وہ ہے وہ تیر ہے پنجوں ہے وہ ہے وہ تنکے ہے وہ ہے وہ ہے وہ یہ چڑیا اڑانا چاہتا ہوں لیے بیٹھا ہوں گھنگرو پھول اندھیرا ترا ہنسنا بنانا چاہتا ہوں بیگا لگ غم عشق کی جاناں کو مبارک ہے وہ ہے وہ ہے وہ ب سے خا لگ کمانا چاہتا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ سارے شہر کی بیساخیوں کو تری در پر نرم گوئی چاہتا ہوں مجھے جاناں سے اندھیرا ہی پڑےگا ہے وہ ہے وہ ہے وہ جاناں کو یاد آنا چاہتا ہوں
Fahmi Badayuni
249 likes
ستم ڈھاتے ہوئے سوچا کروگے ہمارے ساتھ جاناں ایسا کروگے انگوٹھی تو مجھے لوٹا رہے ہوں انگوٹھی کے نشان کا کیا کروگے ہے وہ ہے وہ ہے وہ جاناں سے اب تمنائیں بھی نہیں ہوں تو کیا ا سے بات پر جھگڑا کروگے میرا دامن تمہیں تھامے ہوئے ہوں میرا دامن تمہیں میلا کروگے بتاؤ وعدہ کر کے آوگے نا کے پچھلی بار کے جیسا کروگے حقیقت دلہن بن کے رخصت ہوں گئی ہے ک ہاں تک کار کا پیچھا کروگے مجھے ب سے یوں ہی جاناں سے پوچھنا تھا ا گر ہے وہ ہے وہ مر گیا تو تو کیا کروگے
Zubair Ali Tabish
140 likes
زبان تو کھول نظر تو ملا جواب تو دے ہے وہ ہے وہ ہے وہ کتنی بار لٹا ہوں مجھے حساب تو دے تری بدن کی ودھی ہے وہ ہے وہ ہے اتار لکھاوت ہے وہ ہے وہ ہے وہ تجھے کیسے چڑھاو مجھے کتاب تو دے تیرا سوال ہے ساقی کہ زندگی کیا ہے جواب دیتا ہوں پہلے مجھے شراب تو دے
Rahat Indori
190 likes
زنے حسین تھی اور پھول چن کر لاتی تھی ہے وہ ہے وہ ہے وہ شعر کہتا تھا حقیقت داستان سناتی تھی عرب لہو تھا رگوں ہے وہ ہے وہ بدن سنہرا تھا حقیقت مسکراتی نہیں تھی دیے جلاتی تھی علی سے دور رہو لوگ ا سے سے کہتے تھے حقیقت میرا سچ ہے بے حد چیک کر بتاتی تھی علی یہ لوگ تمہیں جانتے نہیں ہیں ابھی گلے دیکھیں گے میرا حوصلہ بڑھاتی تھی یہ پھول دیکھ رہے ہوں یہ ا سے کا لہجہ تھا یہ جھیل دیکھ رہے ہوں ی ہاں حقیقت آتی تھی ہے وہ ہے وہ ہے وہ ا سے کے بعد کبھی ٹھیک سے نہیں جاگا حقیقت مجھ کو خواب نہیں نیند سے جگاتی تھی اسے کسی سے محبت تھی اور حقیقت ہے وہ ہے وہ نہیں تھا یہ بات مجھ سے زیادہ اسے رلاتی تھی ہے وہ ہے وہ ہے وہ کچھ بتا نہیں سکتا حقیقت مری کیا تھی علی کہ اس کا کو دیکھ کر ب سے اپنی یاد آتی تھی
Ali Zaryoun
102 likes
ہم نے کب چاہا کہ حقیقت بے وجہ ہمارا ہوں جائے اتنا دکھ جائے کہ آنکھوں کا گزارا ہوں جائے ہم جسے پا سے بٹھا لیں حقیقت بچھڑ جاتا ہے جاناں جسے ہاتھ لگا دو حقیقت تمہارا ہوں جائے جاناں کو لگتا ہے کہ جاناں جیت گئے ہوں مجھ سے ہے یہی بات تو پھروں کھیل دوبارہ ہوں جائے ہے محبت بھی غضب طرز تجارت کہ ی ہاں ہر دکاں دار یہ چاہے کہ خسارہ ہوں جائے
Yasir Khan
92 likes
More from Hafeez Jalandhari
آخر ایک دن شاد کروگے میرا گھر آباد کروگے پیار کی باتیں وصل کی راتیں یاد کروگے یاد کروگے ک سے دل سے آباد کیا تھا ک سے دل سے برباد کروگے ہے وہ ہے وہ ہے وہ نے اپنی قیمت کہ دی جاناں بھی کچھ ارشاد کروگے زر کے بندو عقل کے اندھو جاناں کیا مجھ کو شاد کروگے جب مجھ کو چپ لگ جائے گی پھروں جاناں بھی پڑنا کروگے اور تمہیں آتا ہی کیا ہے کوئی ستم ایجاد کروگے تنگ آ کر اے بندہ پرور بندے کو آزاد کروگے مری دل ہے وہ ہے وہ بسنے والو جاناں مجھ کو برباد کروگے حسن کو رسوا کر کے مرونہگا آخر جاناں کیا یاد کروگے حشر کے دن امید ہے ناصح جاناں مری امداد کروگے
Hafeez Jalandhari
1 likes
مٹنے والی حسرتیں ایجاد کر لیتا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ جب بھی چاہوں اک جہاں آباد کر لیتا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ مجھ کو ان مجبوریوں پر بھی ہے اتنا اختیار آہ بھر لیتا ہوں ہے وہ ہے وہ پڑنا کر لیتا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ حسن بے چارہ تو ہوں جاتا ہے 9 مہرباں پھروں اسے سراپا محبت کر لیتا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ تو نہیں کہتا مگر دیکھ و وفا نا آشنا اپنی ہستی کہ سے دودمان برباد کر لیتا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہاں یہ ویرانہ یہ دل یہ آرزوؤں کا مزار جاناں کہو تو پھروں اسے آباد کر لیتا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ جب کوئی تازہ مصیبت ٹوٹتی ہے اے عروس بہار ایک عادت ہے خدا کو یاد کر لیتا ہوں ہے وہ ہے وہ
Hafeez Jalandhari
0 likes
ہم ہی ہے وہ ہے وہ تھی لگ کوئی بات یاد لگ جاناں کو آ سکے جاناں نے ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ بھلا دیا ہم لگ تمہیں بھلا سکے جاناں ہی لگ سن سکے ا گر قصہ غم سنے گا کون ک سے کی زبان کھلےگی پھروں ہم لگ ا گر سنا سکے ہوش ہے وہ ہے وہ آ چکے تھے ہم خون تمنا ہے وہ ہے وہ آ چکے تھے ہم بزم کا رنگ دیکھ کر سر لگ م گر اٹھا سکے رونق بزم بن گئے لب پہ حکایتیں رہیں دل ہے وہ ہے وہ شکایتیں رہیں لب لگ م گر ہلا سکے شوق وصال ہے ی ہاں لب پہ سوال ہے ی ہاں ک سے کی مجال ہے ی ہاں ہم سے نظر ملا سکے ایسا ہوں کوئی نامہ بر بات پہ کان دھر سکے سن کے یقین کر سکے جا کے ا نہیں سنا سکے عزت سے اور بڑھ گئی برہمی مزاج دوست اب حقیقت کرے علاج دوست ج سے کی سمجھ ہے وہ ہے وہ آ سکے اہل زبان تو ہیں بے حد کوئی نہیں ہے اہل دل کون تری طرح عرو سے بہار درد کے گیت گا سکے
Hafeez Jalandhari
0 likes
مجھے شاد رکھنا کہ ناشاد رکھنا مری دیدہ و دل کو آباد رکھنا بھلائی نہیں جا سکیںگی یہ باتیں تمہیں یاد آئیں گے ہم یاد رکھنا حقیقت ناشاد و برباد رکھتے ہیں مجھ کو الہی ا نہیں شاد و آباد رکھنا تمہیں بھی قسم ہے کہ جو سر جھکا دے اسی کو تہ تیغ بیداد رکھنا ملیںگے تمہیں راہ ہے وہ ہے وہ بت کدے بھی ذرا اپنے اللہ کو یاد رکھنا ج ہاں بھی نشے ہے وہ ہے وہ قدم لڑکھڑائیں وہیں ایک مسجد کی بنیاد رکھنا ستاروں پہ چلتے ہوئے ابن آدم نظر ہے وہ ہے وہ فرشتوں کی افتاد رکھنا عرو سے بہار اپنے افکار کی سادگی کو تکلف کی الجھن سے آزاد رکھنا
Hafeez Jalandhari
0 likes
آنے والے جانے والے ہر زمانے کے لیے آدمی مزدور ہے راہیں بنانے کے لیے زندگی سجدہ بیتاب کو پا سکتی نہیں موت ہی آتی ہے یہ منزل دکھانے کے لیے مری پیشانی پہ اک سجدہ تو ہے لکھا ہوا یہ نہیں معلوم ہے ک سے آستانے کے لیے ان کا وعدہ اور مجھے ا سے پر یقین اے ہم نشین اک بہانا ہے تڑپنے تلمیلانے کے لیے جب سے پہرہ ضبط کا ہے آنسوؤں کی توڑے پر ہوں گئیں محتاج آنکھیں دانے دانے کے لیے آخری امید سمے نزع ان کی دید تھی موت کو بھی مل گیا تو فقرہ لگ آنے کے لیے اللہ اللہ دوست کو مری تباہی پر یہ ناز سو دشمن دیکھتا ہے داد پانے کے لیے نعمت غم میرا حصہ مجھ کو دے دے اے خدا جمع رکھ مری خوشی سارے زمانے کے لیے نسخہ ہستی ہے وہ ہے وہ عبرت کے سوا کیا تھا عرو سے بہار سرخیاں کچھ مل گئیں اپنے فسانے کے لیے
Hafeez Jalandhari
0 likes
Similar Writers
Our suggestions based on Hafeez Jalandhari.
Similar Moods
More moods that pair well with Hafeez Jalandhari's ghazal.







