مجھے شاد رکھنا کہ ناشاد رکھنا مری دیدہ و دل کو آباد رکھنا بھلائی نہیں جا سکیںگی یہ باتیں تمہیں یاد آئیں گے ہم یاد رکھنا حقیقت ناشاد و برباد رکھتے ہیں مجھ کو الہی ا نہیں شاد و آباد رکھنا تمہیں بھی قسم ہے کہ جو سر جھکا دے اسی کو تہ تیغ بیداد رکھنا ملیںگے تمہیں راہ ہے وہ ہے وہ بت کدے بھی ذرا اپنے اللہ کو یاد رکھنا ج ہاں بھی نشے ہے وہ ہے وہ قدم لڑکھڑائیں وہیں ایک مسجد کی بنیاد رکھنا ستاروں پہ چلتے ہوئے ابن آدم نظر ہے وہ ہے وہ فرشتوں کی افتاد رکھنا عرو سے بہار اپنے افکار کی سادگی کو تکلف کی الجھن سے آزاد رکھنا
Related Ghazal
اب مری ساتھ نہیں ہے سمجھے نا سمجھانے کی بات نہیں ہے سمجھے نا جاناں مانگوگے اور تمہیں مل جائےگا پیار ہے یہ خیرات نہیں ہے سمجھے نا ہے وہ ہے وہ ہے وہ بادل ہوں ج سے پر چا ہوں برسوں گا مری کوئی ذات نہیں ہے سمجھے نا اپنا خالی ہاتھ مجھے مت دکھلاؤ ا سے ہے وہ ہے وہ ہے وہ میرا ہاتھ نہیں ہے سمجھے نا
Zubair Ali Tabish
66 likes
یہ ہے وہ ہے وہ نے کب کہا کہ مری حق ہے وہ ہے وہ فیصلہ کرے ا گر حقیقت مجھ سے خوش نہیں ہے تو مجھے جدا کرے ہے وہ ہے وہ ہے وہ ا سے کے ساتھ ج سے طرح گزارتا ہوں زندگی اسے تو چاہیے کہ میرا شکریہ ادا کرے مری دعا ہے اور اک طرح سے بد دعا بھی ہے خدا تمہیں تمہارے جیسی بیٹیاں عطا کرے بنا چکا ہوں ہے وہ ہے وہ محبتوں کے درد کی دوا ا گر کسی کو چاہیے تو مجھ سے رابطہ کرے
Tehzeeb Hafi
292 likes
حقیقت بےوفا ہے تو کیا مت کہو برا اس کا کو کہ جو ہوا سو ہوا خوش رکھے خدا اس کا کو نظر لگ آئی تو ا سے کی تلاش ہے وہ ہے وہ رہنا کہی ملے تو پلٹ کر لگ دیکھنا اس کا کو حقیقت سادہ خوں تھا زمانے کے خم سمجھتا کیا ہوا کے ساتھ چلا لے اڑی ہوا اس کا کو حقیقت اپنے بارے ہے وہ ہے وہ کتنا ہے خوش گماں دیکھو جب اس کا کو ہے وہ ہے وہ بھی لگ دیکھوں تو دیکھنا اس کا کو
Naseer Turabi
244 likes
غزل تو سب کو میٹھی لگ رہی تھی م گر نہاتک کو مرچی لگ رہی تھی تمہارے لب نہیں چومے تھے جب تک مجھے ہر چیز کڑوی لگ رہی تھی ہے وہ ہے وہ ہے وہ ج سے دن چھوڑنے والا تھا اس کا کو حقیقت ا سے دن سب سے پیاری لگ رہی تھی
Zubair Ali Tabish
80 likes
ہے وہ ہے وہ نے جو کچھ بھی سوچا ہوا ہے ہے وہ ہے وہ حقیقت سمے آنے پہ کر جاؤں گا جاناں مجھے زہر لگتے ہوں اور ہے وہ ہے وہ کسی دن تمہیں پی کے مر جاؤں گا تو تو بینائی ہے مری تری علاوہ مجھے کچھ بھی دکھتا نہیں ہے وہ ہے وہ ہے وہ نے تجھ کو ا گر تری گھر پہ اتارا تو ہے وہ ہے وہ کیسے گھر جاؤں گا چاہتا ہوں تمہیں اور بے حد چاہتا ہوں تمہیں خود بھی معلوم ہے ہاں ا گر مجھ سے پوچھا کسی نے تو ہے وہ ہے وہ سیدھا منا پر مکر جاؤں گا تری دل سے تری شہر سے تری گھر سے تیری آنکھ سے تری در سے تیری گلیوں سے تری وطن سے نکالا ہوا ہوں کدھر جاؤں گا
Tehzeeb Hafi
241 likes
More from Hafeez Jalandhari
مٹنے والی حسرتیں ایجاد کر لیتا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ جب بھی چاہوں اک جہاں آباد کر لیتا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ مجھ کو ان مجبوریوں پر بھی ہے اتنا اختیار آہ بھر لیتا ہوں ہے وہ ہے وہ پڑنا کر لیتا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ حسن بے چارہ تو ہوں جاتا ہے 9 مہرباں پھروں اسے سراپا محبت کر لیتا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ تو نہیں کہتا مگر دیکھ و وفا نا آشنا اپنی ہستی کہ سے دودمان برباد کر لیتا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہاں یہ ویرانہ یہ دل یہ آرزوؤں کا مزار جاناں کہو تو پھروں اسے آباد کر لیتا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ جب کوئی تازہ مصیبت ٹوٹتی ہے اے عروس بہار ایک عادت ہے خدا کو یاد کر لیتا ہوں ہے وہ ہے وہ
Hafeez Jalandhari
0 likes
ہم ہی ہے وہ ہے وہ تھی لگ کوئی بات یاد لگ جاناں کو آ سکے جاناں نے ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ بھلا دیا ہم لگ تمہیں بھلا سکے جاناں ہی لگ سن سکے ا گر قصہ غم سنے گا کون ک سے کی زبان کھلےگی پھروں ہم لگ ا گر سنا سکے ہوش ہے وہ ہے وہ آ چکے تھے ہم خون تمنا ہے وہ ہے وہ آ چکے تھے ہم بزم کا رنگ دیکھ کر سر لگ م گر اٹھا سکے رونق بزم بن گئے لب پہ حکایتیں رہیں دل ہے وہ ہے وہ شکایتیں رہیں لب لگ م گر ہلا سکے شوق وصال ہے ی ہاں لب پہ سوال ہے ی ہاں ک سے کی مجال ہے ی ہاں ہم سے نظر ملا سکے ایسا ہوں کوئی نامہ بر بات پہ کان دھر سکے سن کے یقین کر سکے جا کے ا نہیں سنا سکے عزت سے اور بڑھ گئی برہمی مزاج دوست اب حقیقت کرے علاج دوست ج سے کی سمجھ ہے وہ ہے وہ آ سکے اہل زبان تو ہیں بے حد کوئی نہیں ہے اہل دل کون تری طرح عرو سے بہار درد کے گیت گا سکے
Hafeez Jalandhari
0 likes
دوستی کا چلن رہا ہی نہیں اب زمانے کی حقیقت ہوا ہی نہیں سچ تو یہ ہے صنم کدے والو دل خدا نے تمہیں دیا ہی نہیں پلٹ آنے سے ہوں گیا تو ثابت نامہ بر تو و ہاں گیا تو ہی نہیں حال یہ ہے کہ ہم غریبوں کا حال جاناں نے کبھی سنا ہی نہیں کیا چلے زور دشت وحشت کا ہم نے دامن کبھی سیا ہی نہیں غیر بھی ایک دن مرینگے ضرور ان کے حصے ہے وہ ہے وہ کیا قضا ہی نہیں ا سے کی صورت کو دیکھتا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ مری سیرت حقیقت دیکھتا ہی نہیں عشق میرا ہے شہر ہے وہ ہے وہ مشہور اور جاناں نے ابھی سنا ہی نہیں قصہ قی سے سن کے فرمایا جھوٹ کی کوئی انتہا ہی نہیں واسطہ ک سے کا دیں عرو سے بہار ان کو ان بتوں کا کوئی خدا ہی نہیں
Hafeez Jalandhari
0 likes
آخر ایک دن شاد کروگے میرا گھر آباد کروگے پیار کی باتیں وصل کی راتیں یاد کروگے یاد کروگے ک سے دل سے آباد کیا تھا ک سے دل سے برباد کروگے ہے وہ ہے وہ ہے وہ نے اپنی قیمت کہ دی جاناں بھی کچھ ارشاد کروگے زر کے بندو عقل کے اندھو جاناں کیا مجھ کو شاد کروگے جب مجھ کو چپ لگ جائے گی پھروں جاناں بھی پڑنا کروگے اور تمہیں آتا ہی کیا ہے کوئی ستم ایجاد کروگے تنگ آ کر اے بندہ پرور بندے کو آزاد کروگے مری دل ہے وہ ہے وہ بسنے والو جاناں مجھ کو برباد کروگے حسن کو رسوا کر کے مرونہگا آخر جاناں کیا یاد کروگے حشر کے دن امید ہے ناصح جاناں مری امداد کروگے
Hafeez Jalandhari
1 likes
کوئی دوا لگ دے سکے مشورہ دعا دیا چارگروں نے اور بھی غزلوں کا بڑھا دیا دونوں کو دے کے صورتیں ساتھ ہی آئی لگ دیا عشق بیسورنے لگا حسن نے مسکرا دیا ذوق نگاہ کے سوا شوق گناہ کے سوا مجھ کو بتوں سے کیا ملا مجھ کو خدا نے کیا دیا تھی لگ اڑائے کی روک تھام دامن اختیار ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہم نے بھری بہار ہے وہ ہے وہ اپنا چمن لٹا دیا حسن نظر کی رکھ صنعت برہمن سے ہے ج سے کو صنم بنا لیا ا سے کو خدا بنا دیا داغ ہے مجھ پہ عشق کا میرا گناہ بھی تو دیکھ ا سے کی نگاہ بھی تو دیکھ ج سے نے یہ گل کھلا دیا عشق کی مملکت ہے وہ ہے وہ ہے شورش عقل نا مراد ابھرا کہی جو یہ فساد دل نے وہیں دبا دیا نقش وفا تو ہے وہ ہے وہ ہی تھا اب مجھے ہوں کیا حرف غلط نظر پڑا جاناں نے مجھے مٹا دیا خوب سے دروں دکھا دیا ہر دہن غلیظ نے کچھ لگ کہا عرو سے بہار نے ہن سے دیا مسکرا دیا
Hafeez Jalandhari
1 likes
Similar Writers
Our suggestions based on Hafeez Jalandhari.
Similar Moods
More moods that pair well with Hafeez Jalandhari's ghazal.







