حیرتوں کے سلسلے سوز ن ہاں تک آ گئے ہم نظر تک چاہتے تھے جاناں تو جاں تک آ گئے نامرا گرا اپنی قسمت گمراہی اپنا نصیب کارواں کی خیر ہوں ہم کارواں تک آ گئے ان کی پلکوں پر ستارے تم اپنے ہونٹوں پہ ہنسی قصہ غم کہتے کہتے ہم ک ہاں تک آ گئے زلف ہے وہ ہے وہ خوشبو لگ تھی یا رنگ آرِز ہے وہ ہے وہ لگ تھا آپ ک سے کی آرزو ہے وہ ہے وہ گلستاں تک آ گئے رفتہ رفتہ رنگ لایا جذبہ خاموش عشقوہ ت غافل کرتے کرتے امتحاں تک آ گئے خود تمہیں چاک گریباں کا شعور آ جائےگا جاناں و ہاں تک آ تو جاؤ ہم ج ہاں تک آ گئے آج قابل مختلف ہے وہ ہے وہ انقلاب آنے کو ہے اہل دل اندیشہ سود و زیاں تک آ گئے
Related Ghazal
تمہیں ب سے یہ بتانا چاہتا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ جاناں سے کیا چھپانا چاہتا ہوں کبھی مجھ سے بھی کوئی جھوٹ بولو ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہاں ہے وہ ہے وہ ہاں ملانا چاہتا ہوں یہ جو کھڑکی ہے نقشے ہے وہ ہے وہ تمہارے ی ہاں ہے وہ ہے وہ در بنانا چاہتا ہوں اداکاری بے حد دکھ دے رہی ہے ہے وہ ہے وہ ہے وہ سچ مچ مسکرانا چاہتا ہوں پروں ہے وہ ہے وہ تیر ہے پنجوں ہے وہ ہے وہ تنکے ہے وہ ہے وہ ہے وہ یہ چڑیا اڑانا چاہتا ہوں لیے بیٹھا ہوں گھنگرو پھول اندھیرا ترا ہنسنا بنانا چاہتا ہوں بیگا لگ غم عشق کی جاناں کو مبارک ہے وہ ہے وہ ہے وہ ب سے خا لگ کمانا چاہتا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ سارے شہر کی بیساخیوں کو تری در پر نرم گوئی چاہتا ہوں مجھے جاناں سے اندھیرا ہی پڑےگا ہے وہ ہے وہ ہے وہ جاناں کو یاد آنا چاہتا ہوں
Fahmi Badayuni
249 likes
جو تری ساتھ رہتے ہوئے سوگوار ہوں خواب ہوں ایسے بے وجہ پہ اور بےشمار ہوں اب اتنی دیر بھی نا لگا یہ ہوں نا کہی تو آ چکا ہوں اور تیرا انتظار ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ پھول ہوں تو پھروں تری بالو ہے وہ ہے وہ کیوں نہیں ہوں تو تیر ہے تو مری کلیجے کے پار ہوں ایک آستین چڑھانے کی عادت کو چھوڑ کر حافی جاناں آدمی تو بے حد شاندار ہوں
Tehzeeb Hafi
268 likes
بیٹھے ہیں چین سے کہی جانا تو ہے نہیں ہم بے گھروں کا کوئی ہری تو ہے نہیں جاناں بھی ہوں بیتے سمے کے مانند ہوں بہو جاناں نے بھی یاد آنا ہے آنا تو ہے نہیں عہد وفا سے ک سے لیے خائف ہوں مری جان کر لو کہ جاناں نے عہد نبھانا تو ہے نہیں حقیقت جو ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ عزیز ہے کیسا ہے کون ہے کیوں پوچھتے ہوں ہم نے بتانا تو ہے نہیں دنیا ہم اہل عشق پہ کیوں پھینکتی ہے جال ہم نے تری فریب ہے وہ ہے وہ آنا تو ہے نہیں حقیقت عشق تو کرےگا م گر دیکھ بھال کے فار سے حقیقت تری جیسا دیوا لگ تو ہے نہیں
Rehman Faris
196 likes
ستم ڈھاتے ہوئے سوچا کروگے ہمارے ساتھ جاناں ایسا کروگے انگوٹھی تو مجھے لوٹا رہے ہوں انگوٹھی کے نشان کا کیا کروگے ہے وہ ہے وہ ہے وہ جاناں سے اب تمنائیں بھی نہیں ہوں تو کیا ا سے بات پر جھگڑا کروگے میرا دامن تمہیں تھامے ہوئے ہوں میرا دامن تمہیں میلا کروگے بتاؤ وعدہ کر کے آوگے نا کے پچھلی بار کے جیسا کروگے حقیقت دلہن بن کے رخصت ہوں گئی ہے ک ہاں تک کار کا پیچھا کروگے مجھے ب سے یوں ہی جاناں سے پوچھنا تھا ا گر ہے وہ ہے وہ مر گیا تو تو کیا کروگے
Zubair Ali Tabish
140 likes
کبھی ملیںگے تو یہ قرض بھی اتاریںگے تمہارے چہرے کو پہروں تلک نہہاریںگے یہ کیا ستم کہ کھلاڑی بدل دیا ا سے نے ہم ا سے امید پہ بیٹھے تھے ہم ہی ہاریںگے ہمارے بعد تری عشق ہے وہ ہے وہ نئے لڑکے بدن تو چو ہے وہ ہے وہ ہے وہ گے زلفیں نہیں سنواریں گے
Vikram Gaur Vairagi
70 likes
More from Qabil Ajmeri
اب یہ عالم ہے کہ غم کی بھی خبر ہوتی نہیں اشک بہ جاتے ہیں لیکن آنکھ تر ہوتی نہیں پھروں کوئی کم بخت کشتی نظر طوفان ہو گئی ورنہ ساحل پر اداسی اس کا قدر ہوتی نہیں تیرا انداز تغافل ہے جنوں ہے وہ ہے وہ آج کل چاک کر لیتا ہوں دامن اور خبر ہوتی نہیں ہاں یہ کس عالم ہے وہ ہے وہ چھوڑا ہے تمہارے غم نے ساتھ جب قضا بھی زندگی کی چارہ گر ہوتی نہیں رنگ محفل چاہتا ہے اک مکمل انقلاب چند شمعوں کے بھڑکنے سے سحر ہوتی نہیں اضطراب دل سے قابل وہ نگاہ بے نیاز بے خبر معلوم ہوتی ہے مگر ہوتی نہیں
Qabil Ajmeri
0 likes
حقیقت کب آئیں خدا جانے ستارو جاناں تو سو جاؤ ہوئے ہیں ہم تو دیوانے ستارو جاناں تو سو جاؤ ک ہاں تک مجھ سے ہمدر گرا ک ہاں تک مری غم خواری ہزاروں غم ہیں انجانے ستارو جاناں تو سو جاؤ گزر جائے گی غم کی رات امیدو تو جاگ اٹھو سنبھل جائیں گے دیوانے ستارو جاناں تو سو جاؤ ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ روداد ہستی رات بھر ہے وہ ہے وہ ختم کرنی ہے لگ چھیڑو اور افسانے ستارو جاناں تو سو جاؤ ہمارے دیدہ بے خواب کو تسکین کیا دوگے ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ لوٹا ہے دنیا نے ستارو جاناں تو سو جاؤ اسے قابل کی چشم نم سے دیری لگ تعلق ہے شب غم جاناں کو کیا جانے ستارو جاناں تو سو جاؤ
Qabil Ajmeri
0 likes
جاناں لگ مانو م گر حقیقت ہے عشق انسان کی ضرورت ہے جی رہا ہوں ا سے اعتماد کے ساتھ زندگی کو مری ضرورت ہے حسن ہی حسن رکے ہی رکے صرف احسا سے کی ضرورت ہے ا سے کے وعدے پہ ناز تھے کیا کیا اب در و بام سے ندامت ہے ا سے کی محفل ہے وہ ہے وہ بیٹھ کر دیکھو زندگی کتنی خوبصورت ہے راستہ کٹ ہی جائےگا قابل شوق منزل ا گر سلامت ہے
Qabil Ajmeri
1 likes
Similar Writers
Our suggestions based on Qabil Ajmeri.
Similar Moods
More moods that pair well with Qabil Ajmeri's ghazal.







