اب یہ عالم ہے کہ غم کی بھی خبر ہوتی نہیں اشک بہ جاتے ہیں لیکن آنکھ تر ہوتی نہیں پھروں کوئی کم بخت کشتی نظر طوفان ہو گئی ورنہ ساحل پر اداسی اس کا قدر ہوتی نہیں تیرا انداز تغافل ہے جنوں ہے وہ ہے وہ آج کل چاک کر لیتا ہوں دامن اور خبر ہوتی نہیں ہاں یہ کس عالم ہے وہ ہے وہ چھوڑا ہے تمہارے غم نے ساتھ جب قضا بھی زندگی کی چارہ گر ہوتی نہیں رنگ محفل چاہتا ہے اک مکمل انقلاب چند شمعوں کے بھڑکنے سے سحر ہوتی نہیں اضطراب دل سے قابل وہ نگاہ بے نیاز بے خبر معلوم ہوتی ہے مگر ہوتی نہیں
Related Ghazal
مری ب سے ہے وہ ہے وہ نہیں ورنا قدرت کا لکھا ہوا کاٹتا تری حصے ہے وہ ہے وہ آئی برے دن کوئی دوسرا کاٹتا لاریوں سے زیادہ بہاؤ تھا تری ہر اک لفظ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ اشارہ نہیں کاٹ سکتا تیری بات کیا کاٹتا ہے وہ ہے وہ ہے وہ نے بھی زندگی اور شب اے ہجر کاٹی ہے سب کی طرح ویسے بہتر تو یہ تھا کے ہے وہ ہے وہ کم سے کم کچھ نیا کاٹتا تری ہوتے ہوئے موم بتی بجھائی کسی اور نے کیا خوشی رہ گئی تھی جنم دن کی ہے وہ ہے وہ کیک کیا کاٹتا کوئی بھی تو نہیں جو مری بھوکے رہنے پہ ناراض ہوں جیل ہے وہ ہے وہ تیری تصویر ہوتی تو ہنسکر سزا کاٹتا
Tehzeeb Hafi
456 likes
یہ غم کیا دل کی عادت ہے نہیں تو کسی سے کچھ شکایت ہے نہیں تو ہے حقیقت اک خواب بے تعبیر ا سے کو بھلا دینے کی نیت ہے نہیں تو کسی کے بن کسی کی یاد کے بن جیے جانے کی ہمت ہے نہیں تو کسی صورت بھی دل لگتا نہیں ہاں تو کچھ دن سے یہ حالت ہے نہیں تو تری ا سے حال پر ہے سب کو حیرت تجھے بھی ا سے پہ حیرت ہے نہیں تو ہم آہنگی نہیں دنیا سے تیری تجھے ا سے پر ندامت ہے نہیں تو ہوا جو کچھ یہی مقسوم تھا کیا یہی ساری مقسوم ہے نہیں تو اذیت ناک اذیت ناک سے تجھ کو اماں پانے کی حسرت ہے نہیں تو تو رہتا ہے خیال و خواب ہے وہ ہے وہ گم تو ا سے کی وجہ فرصت ہے نہیں تو سبب جو ا سے جدائی کا بنا ہے حقیقت مجھ سے خوبصورت ہے نہیں تو
Jaun Elia
355 likes
پوچھ لیتے حقیقت ب سے مزاج میرا کتنا آسان تھا علاج میرا چارہ گر کی نظر بتاتی ہے حال اچھا نہیں ہے آج میرا ہے وہ ہے وہ ہے وہ تو رہتا ہوں دشت ہے وہ ہے وہ مصروف قی سے کرتا ہے کام کاج میرا کوئی کاسا مدد کو بھیج اللہ مری ب سے ہے وہ ہے وہ نہیں ہے تاج میرا ہے وہ ہے وہ ہے وہ محبت کی بادشاہت ہوں مجھ پہ چلتا نہیں ہے راج میرا
Fahmi Badayuni
96 likes
تیری مشکل لگ چھپاؤں گا چلا جاؤں گا خوشی آنکھوں ہے وہ ہے وہ آؤں گا چلا جاؤں گا اپنی دہلیز پہ کچھ دیر پڑا رہنے دے چنو ہی ہوش ہے وہ ہے وہ لگاؤں گا چلا جاؤں گا خواب لینے کوئی آئی کہ لگ آئی کوئی ہے وہ ہے وہ ہے وہ تو آواز رلاؤں گا چلا جاؤں گا چند یادیں مجھے بچوں کی طرح پیاری ہیں ان کو سینے سے لگاؤں گا چلا جاؤں گا مدتوں بعد ہے وہ ہے وہ آیا ہوں پرانی گھر ہے وہ ہے وہ ہے وہ خود کو جی بھر کے نیت شوق چلا جاؤں گا ا سے جزیرے ہے وہ ہے وہ زیادہ نہیں رہنا اب تو آجکل ناو بناؤں گا چلا جاؤں گا تہذیب کی طرح لوٹ کے آؤںگا حسن ہر طرف پھول کھلاؤں گا چلا جاؤں گا
Hasan Abbasi
235 likes
تماشا دیر و حرم دیکھتے ہیں تجھے ہر بہانے سے ہم دیکھتے ہیں ہماری طرف اب حقیقت کم دیکھتے ہیں حقیقت نظریں نہیں جن کو ہم دیکھتے ہیں زمانے کے کیا کیا ستم دیکھتے ہیں ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ جانتے ہیں جو ہم دیکھتے ہیں
Dagh Dehlvi
84 likes
More from Qabil Ajmeri
حقیقت کب آئیں خدا جانے ستارو جاناں تو سو جاؤ ہوئے ہیں ہم تو دیوانے ستارو جاناں تو سو جاؤ ک ہاں تک مجھ سے ہمدر گرا ک ہاں تک مری غم خواری ہزاروں غم ہیں انجانے ستارو جاناں تو سو جاؤ گزر جائے گی غم کی رات امیدو تو جاگ اٹھو سنبھل جائیں گے دیوانے ستارو جاناں تو سو جاؤ ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ روداد ہستی رات بھر ہے وہ ہے وہ ختم کرنی ہے لگ چھیڑو اور افسانے ستارو جاناں تو سو جاؤ ہمارے دیدہ بے خواب کو تسکین کیا دوگے ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ لوٹا ہے دنیا نے ستارو جاناں تو سو جاؤ اسے قابل کی چشم نم سے دیری لگ تعلق ہے شب غم جاناں کو کیا جانے ستارو جاناں تو سو جاؤ
Qabil Ajmeri
0 likes
جاناں لگ مانو م گر حقیقت ہے عشق انسان کی ضرورت ہے جی رہا ہوں ا سے اعتماد کے ساتھ زندگی کو مری ضرورت ہے حسن ہی حسن رکے ہی رکے صرف احسا سے کی ضرورت ہے ا سے کے وعدے پہ ناز تھے کیا کیا اب در و بام سے ندامت ہے ا سے کی محفل ہے وہ ہے وہ بیٹھ کر دیکھو زندگی کتنی خوبصورت ہے راستہ کٹ ہی جائےگا قابل شوق منزل ا گر سلامت ہے
Qabil Ajmeri
1 likes
حیرتوں کے سلسلے سوز ن ہاں تک آ گئے ہم نظر تک چاہتے تھے جاناں تو جاں تک آ گئے نامرا گرا اپنی قسمت گمراہی اپنا نصیب کارواں کی خیر ہوں ہم کارواں تک آ گئے ان کی پلکوں پر ستارے تم اپنے ہونٹوں پہ ہنسی قصہ غم کہتے کہتے ہم ک ہاں تک آ گئے زلف ہے وہ ہے وہ خوشبو لگ تھی یا رنگ آرِز ہے وہ ہے وہ لگ تھا آپ ک سے کی آرزو ہے وہ ہے وہ گلستاں تک آ گئے رفتہ رفتہ رنگ لایا جذبہ خاموش عشقوہ ت غافل کرتے کرتے امتحاں تک آ گئے خود تمہیں چاک گریباں کا شعور آ جائےگا جاناں و ہاں تک آ تو جاؤ ہم ج ہاں تک آ گئے آج قابل مختلف ہے وہ ہے وہ انقلاب آنے کو ہے اہل دل اندیشہ سود و زیاں تک آ گئے
Qabil Ajmeri
0 likes
Similar Writers
Our suggestions based on Qabil Ajmeri.
Similar Moods
More moods that pair well with Qabil Ajmeri's ghazal.







