ghazalKuch Alfaaz

جاناں لگ مانو م گر حقیقت ہے عشق انسان کی ضرورت ہے جی رہا ہوں ا سے اعتماد کے ساتھ زندگی کو مری ضرورت ہے حسن ہی حسن رکے ہی رکے صرف احسا سے کی ضرورت ہے ا سے کے وعدے پہ ناز تھے کیا کیا اب در و بام سے ندامت ہے ا سے کی محفل ہے وہ ہے وہ بیٹھ کر دیکھو زندگی کتنی خوبصورت ہے راستہ کٹ ہی جائےگا قابل شوق منزل ا گر سلامت ہے

Related Ghazal

یہ ہے وہ ہے وہ نے کب کہا کہ مری حق ہے وہ ہے وہ فیصلہ کرے ا گر حقیقت مجھ سے خوش نہیں ہے تو مجھے جدا کرے ہے وہ ہے وہ ہے وہ ا سے کے ساتھ ج سے طرح گزارتا ہوں زندگی اسے تو چاہیے کہ میرا شکریہ ادا کرے مری دعا ہے اور اک طرح سے بد دعا بھی ہے خدا تمہیں تمہارے جیسی بیٹیاں عطا کرے بنا چکا ہوں ہے وہ ہے وہ محبتوں کے درد کی دوا ا گر کسی کو چاہیے تو مجھ سے رابطہ کرے

Tehzeeb Hafi

292 likes

غزل تو سب کو میٹھی لگ رہی تھی م گر نہاتک کو مرچی لگ رہی تھی تمہارے لب نہیں چومے تھے جب تک مجھے ہر چیز کڑوی لگ رہی تھی ہے وہ ہے وہ ہے وہ ج سے دن چھوڑنے والا تھا اس کا کو حقیقت ا سے دن سب سے پیاری لگ رہی تھی

Zubair Ali Tabish

80 likes

خاموش لب ہیں جھکی ہیں پلکیں دلوں ہے وہ ہے وہ الفت نئی نئی ہے ابھی تکلف ہے گفتگو ہے وہ ہے وہ ابھی محبت نئی نئی ہے ابھی لگ آئیںگی نیند جاناں کو ابھی لگ ہم کو سکون ملےگا ابھی تو دھڑکے گا دل زیادہ ابھی محبت نئی نئی ہے بہار کا آج پہلا دن ہے چلو چمن ہے وہ ہے وہ ٹہل کے آئیں فضا ہے وہ ہے وہ خوشبو نئی نئی ہے گلوں ہے وہ ہے وہ رنگت نئی نئی ہے جو خاندانی رئی سے ہیں حقیقت مزاج رکھتے ہیں نرم اپنا تمہارا لہجہ بتا رہا ہے تمہاری دولت نئی نئی ہے ذرا سا قدرت نے کیا نوازا کے آکے بیٹھے ہوں پہلی صف ہے وہ ہے وہ ہے وہ ابھی کیوں اڑنے لگے ہوا ہے وہ ہے وہ ابھی تو شہرت نئی نئی ہے بموں کی برسات ہوں رہی ہے پرانی جانباز سو رہے ہیں غلام دنیا کو کر رہا ہے حقیقت ج سے کی طاقت نئی نئی ہے

Shabeena Adeeb

232 likes

چادر کی عزت کرتا ہوں اور پردے کو مانتا ہوں ہر پردہ پردہ نہیں ہوتا اتنا ہے وہ ہے وہ بھی جانتا ہوں سارے مرد ایک چنو ہیں جاناں نے کیسے کہ ڈالا ہے وہ ہے وہ ہے وہ بھی تو ایک مرد ہوں جاناں کو خود سے بہتر مانتا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ نے ا سے سے پیار کیا ہے ملکیت کا دعویٰ نہیں حقیقت ج سے کے بھی ساتھ ہے ہے وہ ہے وہ اس کا کو بھی اپنا مانتا ہوں چادر کی عزت کرتا ہوں اور پردے کو مانتا ہوں ہر پردہ پردہ نہیں ہوتا اتنا ہے وہ ہے وہ بھی جانتا ہوں

Ali Zaryoun

105 likes

अब के हम बिछड़े तो शायद कभी ख़्वाबों में मिलें जिस तरह सूखे हुए फूल किताबों में मिलें ढूँढ़ उजड़े हुए लोगों में वफ़ा के मोती ये ख़ज़ाने तुझे मुमकिन है ख़राबों में मिलें ग़म-ए-दुनिया भी ग़म-ए-यार में शामिल कर लो नशा बढ़ता है शराबें जो शराबों में मिलें तू ख़ुदा है न मिरा इश्क़ फ़रिश्तों जैसा दोनों इंसाँ हैं तो क्यूँँ इतने हिजाबों में मिलें आज हम दार पे खींचे गए जिन बातों पर क्या अजब कल वो ज़माने को निसाबों में मिलें अब न वो मैं न वो तू है न वो माज़ी है 'फ़राज़' जैसे दो शख़्स तमन्ना के सराबों में मिलें

Ahmad Faraz

130 likes

More from Qabil Ajmeri

اب یہ عالم ہے کہ غم کی بھی خبر ہوتی نہیں اشک بہ جاتے ہیں لیکن آنکھ تر ہوتی نہیں پھروں کوئی کم بخت کشتی نظر طوفان ہو گئی ورنہ ساحل پر اداسی اس کا قدر ہوتی نہیں تیرا انداز تغافل ہے جنوں ہے وہ ہے وہ آج کل چاک کر لیتا ہوں دامن اور خبر ہوتی نہیں ہاں یہ کس عالم ہے وہ ہے وہ چھوڑا ہے تمہارے غم نے ساتھ جب قضا بھی زندگی کی چارہ گر ہوتی نہیں رنگ محفل چاہتا ہے اک مکمل انقلاب چند شمعوں کے بھڑکنے سے سحر ہوتی نہیں اضطراب دل سے قابل وہ نگاہ بے نیاز بے خبر معلوم ہوتی ہے مگر ہوتی نہیں

Qabil Ajmeri

0 likes

حقیقت کب آئیں خدا جانے ستارو جاناں تو سو جاؤ ہوئے ہیں ہم تو دیوانے ستارو جاناں تو سو جاؤ ک ہاں تک مجھ سے ہمدر گرا ک ہاں تک مری غم خواری ہزاروں غم ہیں انجانے ستارو جاناں تو سو جاؤ گزر جائے گی غم کی رات امیدو تو جاگ اٹھو سنبھل جائیں گے دیوانے ستارو جاناں تو سو جاؤ ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ روداد ہستی رات بھر ہے وہ ہے وہ ختم کرنی ہے لگ چھیڑو اور افسانے ستارو جاناں تو سو جاؤ ہمارے دیدہ بے خواب کو تسکین کیا دوگے ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ لوٹا ہے دنیا نے ستارو جاناں تو سو جاؤ اسے قابل کی چشم نم سے دیری لگ تعلق ہے شب غم جاناں کو کیا جانے ستارو جاناں تو سو جاؤ

Qabil Ajmeri

0 likes

حیرتوں کے سلسلے سوز ن ہاں تک آ گئے ہم نظر تک چاہتے تھے جاناں تو جاں تک آ گئے نامرا گرا اپنی قسمت گمراہی اپنا نصیب کارواں کی خیر ہوں ہم کارواں تک آ گئے ان کی پلکوں پر ستارے تم اپنے ہونٹوں پہ ہنسی قصہ غم کہتے کہتے ہم ک ہاں تک آ گئے زلف ہے وہ ہے وہ خوشبو لگ تھی یا رنگ آرِز ہے وہ ہے وہ لگ تھا آپ ک سے کی آرزو ہے وہ ہے وہ گلستاں تک آ گئے رفتہ رفتہ رنگ لایا جذبہ خاموش عشقوہ ت غافل کرتے کرتے امتحاں تک آ گئے خود تمہیں چاک گریباں کا شعور آ جائےگا جاناں و ہاں تک آ تو جاؤ ہم ج ہاں تک آ گئے آج قابل مختلف ہے وہ ہے وہ انقلاب آنے کو ہے اہل دل اندیشہ سود و زیاں تک آ گئے

Qabil Ajmeri

0 likes

Similar Writers

View All ›

Our suggestions based on Qabil Ajmeri.

Similar Moods

View All ›

More moods that pair well with Qabil Ajmeri's ghazal.