ghazalKuch Alfaaz

ham bahar haal dil o jaan se tumhare hote tum bhi ik-adh ghadi kaash hamare hote aks paani men mohabbat ke utare hote ham jo baithe hue dariya ke kinare hote jo mah o saal guzare hain bichhad kar ham ne vo mah o saal agar saath guzare hote kya abhi biich men divar koi baaqi hai kaun sa ghham hai bhala tum ko hamare hote aap to aap hain khaliq bhi hamara hota ham zarurat men kisi ko na pukare hote saath ahbab ke hasid bhi zaruri hain 'adim' ham sukhan apna sunate jahan saare hote hum bahar haal dil o jaan se tumhaare hote tum bhi ik-adh ghadi kash hamare hote aks pani mein mohabbat ke utare hote hum jo baithe hue dariya ke kinare hote jo mah o sal guzare hain bichhad kar hum ne wo mah o sal agar sath guzare hote kya abhi bich mein diwar koi baqi hai kaun sa gham hai bhala tum ko hamare hote aap to aap hain khaliq bhi hamara hota hum zarurat mein kisi ko na pukare hote sath ahbab ke hasid bhi zaruri hain 'adim' hum sukhan apna sunate jahan sare hote

Related Ghazal

اسی جگہ پر ج ہاں کئی راستے ملیںگے پلٹ کے آئی تو سب سے پہلے تجھے ملیںگے ا گر کبھی تری نام پر جنگ ہوں گئی تو ہم ایسے بزدل بھی پہلی صف ہے وہ ہے وہ کھڑے ملیںگے تجھے یہ سڑکیں مری توسط سے جانتی ہیں تجھے ہمیشہ یہ سب اشارے کھلے ملیںگے

Tehzeeb Hafi

465 likes

یہی اپنی کہانی تھی میاں پہلے بے حد پہلے حقیقت لڑکی جاں ہماری تھی میاں پہلے بے حد پہلے وہم مجھ کو یہ بھاتا ہے,अभी مری دیوانی ہے م گر مری دیوانی تھی میاں پہلے بے حد پہلے رقیب آ کر بتاتے ہیں ی ہاں تل ہے و ہاں تل ہے ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ یہ جانکاری تھی میاں پہلے بے حد پہلے ادب سے مانگ کر مافی بھری محفل یہ کہتا ہوں حقیقت لڑکی خاندانی تھی میاں پہلے بے حد پہلے

Anand Raj Singh

526 likes

چلا ہے سلسلہ کیسا یہ راتوں کو منانے کا تمہیں حق دے دیا ک سے نے دیوں کے دل دکھانے کا ارادہ چھوڑیے اپنی حدوں سے دور جانے کا زما لگ ہے زمانے کی نگا ہوں ہے وہ ہے وہ لگ آنے کا ک ہاں کی دوستی کن دوستوں کی بات کرتے ہوں میاں دشمن نہیں ملتا کوئی اب تو ٹھکانے کا نگا ہوں ہے وہ ہے وہ کوئی بھی دوسرا چہرہ نہیں آیا بھروسا ہی کچھ ایسا تھا تمہارے لوٹ آنے کا یہ ہے وہ ہے وہ ہی تھا بچا کے خود کو لے آیا کنارے تک سمندر نے بے حد موقع دیا تھا ڈوب جانے کا

Waseem Barelvi

103 likes

چاند ستارے تم پھول پرندے شام سویرہ ایک طرف ساری دنیا ا سے کا چربہ ا سے کا چہرہ ایک طرف حقیقت لڑکر بھی سو جائے تو ا سے کا ماتھا چوموں ہے وہ ہے وہ ہے وہ ا سے سے محبت ایک طرف ہے ا سے سے جھگڑا ایک طرف ج سے اجازت پر حقیقت انگلی رکھ دے اس کا کو حقیقت دلوانی ہے ا سے کی خوشیاں سب سے اول سستا مہنگا ایک طرف زخموں پر مرہم لگواو لیکن ا سے کے ہاتھوں سے چارسازی ایک طرف ہے ا سے کا چھونا ایک طرف ساری دنیا جو بھی بولے سب کچھ شور شرابا ہے سب کا کہنا ایک طرف ہے ا سے کا کہنا ایک طرف ا سے نے ساری دنیا مانگی ہے وہ ہے وہ نے اس کا کو مانگا ہے ا سے کے سپنے ایک طرف ہے میرا سپنا ایک طرف

Varun Anand

406 likes

یہ غم کیا دل کی عادت ہے نہیں تو کسی سے کچھ شکایت ہے نہیں تو ہے حقیقت اک خواب بے تعبیر ا سے کو بھلا دینے کی نیت ہے نہیں تو کسی کے بن کسی کی یاد کے بن جیے جانے کی ہمت ہے نہیں تو کسی صورت بھی دل لگتا نہیں ہاں تو کچھ دن سے یہ حالت ہے نہیں تو تری ا سے حال پر ہے سب کو حیرت تجھے بھی ا سے پہ حیرت ہے نہیں تو ہم آہنگی نہیں دنیا سے تیری تجھے ا سے پر ندامت ہے نہیں تو ہوا جو کچھ یہی مقسوم تھا کیا یہی ساری مقسوم ہے نہیں تو اذیت ناک اذیت ناک سے تجھ کو اماں پانے کی حسرت ہے نہیں تو تو رہتا ہے خیال و خواب ہے وہ ہے وہ گم تو ا سے کی وجہ فرصت ہے نہیں تو سبب جو ا سے جدائی کا بنا ہے حقیقت مجھ سے خوبصورت ہے نہیں تو

Jaun Elia

355 likes

More from Adeem Hashmi

کسی جھوٹی وفا سے دل کو بہلانا نہیں آتا مجھے گھر کاغذی پھولوں سے مہکانا نہیں آتا ہے وہ ہے وہ ہے وہ جو کچھ ہوں وہی کچھ ہوں جو ظاہر ہے حقیقت باطن ہے مجھے جھوٹے در و دیوار شیوہ ارباب فن نہیں آتا ہے وہ ہے وہ ہے وہ دریا ہوں م گر بہتا ہوں ہے وہ ہے وہ کوہسار کی جانب مجھے دنیا کی پستی ہے وہ ہے وہ اتر جانا نہیں آتا زر و مال و جواہر لے بھی اور ٹھکرا بھی سکتا ہوں کوئی دل پیش کرتا ہوں تو ٹھکرانا نہیں آتا پرندہ جانب دانا ہمیشہ اڑ کے آتا ہے پرندے کی طرف اڑ کر کبھی دا لگ نہیں آتا ا گر صحرا ہے وہ ہے وہ ہیں تو آپ خود آئی ہیں صحرا ہے وہ ہے وہ ہے وہ کسی کے گھر تو چل کر کوئی ویرا لگ نہیں آتا ہوا ہے جو صدا ا سے کو نصیبوں کا لکھا سمجھا عدیم اپنے کیے پر مجھ کو پچھتانا نہیں آتا

Adeem Hashmi

2 likes

تری لیے چلے تھے ہم تری لیے ٹھہر گئے تو نے کہا تو جی اٹھے تو نے کہا تو مر گئے کٹ ہی گئی جدائی بھی کب یہ ہوا کہ مر گئے تری بھی دن گزر گئے مری بھی دن گزر گئے تو بھی کچھ اور اور ہے ہم بھی کچھ اور اور ہیں جانے حقیقت تو کدھر گیا تو جانے حقیقت ہم کدھر گئے را ہوں ہے وہ ہے وہ ہی ملے تھے ہم راہیں نصیب بن گئیں حقیقت بھی لگ اپنے گھر گیا تو ہم بھی لگ اپنے گھر گئے سمے ہی جدائی کا اتنا طویل ہوں گیا تو دل ہے وہ ہے وہ تری وصال کے جتنے تھے زخم بھر گئے ہوتا رہا مقابلہ پانی کا اور پیا سے کا صحرا امڈ امڈ پڑے دریا بفر بفر گئے حقیقت بھی غبار خواب تھا ہم بھی غبار خواب تھے حقیقت بھی کہی بکھر گیا تو ہم بھی کہی بکھر گئے کوئی کنار آبجو بیٹھا ہوا ہے سر نگوں کشتی کدھر چلی گئی جانے کدھر بھنور گئے آج بھی انتظار کا سمے حنوط ہوں گیا تو ایسا لگا کہ حشر تک سارے ہی پل ٹھہر گئے بارش وصل حقیقت ہوئی سارا غمدیدہ دھل گیا تو حقیقت بھی نکھر نکھر گیا تو ہم بھی نکھر نکھر گئے آب محیط عشق کا بہر عجیب بہر ہے تری تو غرق ہوں گئے ڈوبے

Adeem Hashmi

2 likes

Similar Writers

View All ›

Our suggestions based on Adeem Hashmi.

Similar Moods

View All ›

More moods that pair well with Adeem Hashmi's ghazal.